محــــــــمد ولیــــــد Profile picture
‏جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے
17 Nov
اس کہانی کی راویہ ایک خاتون مبلغہ ہیں جو کہ قصیم شہر میں غسل میت ڈیپارٹمنٹ کی بھی رکن ہیں
وہ کہتی ہیں
کسی مدرسے کی مڈل لیول کی ایک طالبہ کا انتقال ہوگیا
کسی مدرسے کی مڈل لیول کی ایک طالبہ کا انتقال ہوگیا
اس بچی کی عمر ابھی تھوڑی ہی تھی اور وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہی تھی
اس کا نام نوف تھا
جب اس کی وفات ہو گئی تو اس ماں اور بہنیں اسے میرے پاس لائیں تاکہ میں اسے غسل دوں اور کفن پہناؤں شدت غم سے اس کی ماں کا
رو روکر برا حال تھا
وہ اپنی بیٹی سے چمٹی ہوئی تھی اور اس سے جدا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھی
میں نے بڑی مشکل سے اسے علیحدہ کیا اور غسل خانے کا دروازہ بند کردیا تاکہ اسے اچھے طریقے سے غسل دے سکوں
میں نے جب اس کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو میں ششدر رہ گئی
اللہ کی قسم
اس کے چہرے سے
Read 18 tweets
17 Nov
آگے کی تیاری کیجیے
🔹 جب موت آئے گی تو یقین جانیں کہ کچھ بھی کام نہ آئے گا
• آپ کے دنیا سے جانے پر کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا،
• اور اس دنیا کے سب کام کاج جاری رہیں گے،
• آپ کی ذمہ داریاں کوئی اور لے لے گا
• آپ کا مال وارثوں کی طرف چلا جائے گا
• اور آپ کو اس مال کا حساب دینا ہوگا
🔹 موت کے وقت سب سے پہلی چیز جو آپ سے چلی جائے گی وہ نام ہوگا
• لوگ کہیں گے کہ dead body کہاں ہے؟
• جب وہ جنازہ پڑھنا چاہیں گے تو کہیں گے کہ جنازہ لائیں
• جب دفن کرنا شروع کریں گے تو کہیں گے کہ میت کو قریب کر دیں
• آپ کا نام ہرگز نہ لیا جائے گا
🔹 مال، حسب و نسب، منصب اور اولاد کے دھوکے میں نہ آئیں۔
🔹 یہ دنیا کس قدر زیادہ حقیر ہے اور جس کی طرف ہم جا رہے ہیں وہ کس قدر
Read 13 tweets
15 Nov
*سورہ فاتحہ*❤️❤️
کسی اللہ والے نے بتایا کہ تم الحمدللہ شریف یعنی سورۂ فاتحہ سے دوستی کرلو اور یہ بات مخلوق خدا کو بتاؤ کہ ہر جگہ بیماریوں نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے۔ علاج اتنے مہنگے کہ ’’اللہ کی پناہ‘‘ کیوں نہ دوستو ہم سورۂ فاتحہ سے دوستی کرلیں 🌹
کیونکہ یہ سورۂ *سورۂ شفاء* کہلاتی ہے۔ اس سورت میں تمام بیماریوں کا علاج ہے‘ اس سورت کو اپنے ساتھ جوڑ لیں ۔ مگر وہ کیسے؟؟؟
*وہ ایسے کہ جب بھی ہم پانی پئیں سورۂ فاتحہ دم کرکے پئیں۔ جیسے ہی گلاس بھرنے کیلئے نلکے کا نل کھولیں گلاس بھرنے تک ہم ایک مرتبہ سورۂ فاتحہ پڑھ لیں اور اس پر
دم کرکے پئیں۔ اللہ کے حکم سے بڑی سے بڑی بیماریاں آپ کو چھو نہ سکیں گی۔*
بس آپ سورۂ فاتحہ سے جڑ جائیں ، چائے پئیں یا کافی پئیں کچھ بھی پی رہے ہوں ، ان سب پر سورہ فاتحہ کا دم کر کے پئیں 🌿
اپنے بچوں کو بھی اس عمل کی عادت ڈالیں تاکہ وہ بچپن سے ہی بیماریوں سے محفوظ رہیں۔
Read 4 tweets
16 Oct
یعقوب بن جعفر بن سلیمان بیان کرتے ہیں کہ عموریہ کی جنگ میں وہ معتصم کے ساتھ تھے. عموریہ کی جنگ کا پس منظر بھی انتہائی دلچسپ ہے. ایک پردہ دار مسلمان خاتوں عموریہ کے بازار میں خریداری کے لیے گئی. ایک عیسائی دوکاندار نے اسے بے پردہ کرنے کی کوشش کی اور خاتوں کو ایک تھپڑ رسید کیا
لونڈی نے بے بسی کے عالم میں پکارا.’’وا معتصما !!!! ‘‘ہائے معتصم ! میری مدد کے لیے پہنچو. سب دکاندار ہنسنے لگے،اسکا مذاق اڑانے لگے کہ سینکڑوں میل دور سے معتصم تمہاری آواز کیسے سنے گا؟ ایک مسلمان یہ منظر دیکھ رہا نے خود کلامی کے انداز میں کہا:
میں اس کی آواز کو معتصم تک پہنچاؤں گا، وہ بغیر رکے دن رات سفر کرتا ہوا معتصم تک پہنچ گیا اور اسے یہ ماجرا سنایا۔
یہ سننا تھا کہ معتصم کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا. وہ بے چینی سے چکر چلانے لگا اور اپنی تلوار ہاتھ میں لے کر اونچی آواز میں چلانے لگا:
Read 10 tweets
16 Oct
دلیر ترین جاسوس.
کیا آپ نے تاریخ کے اس سے دلیر ترین جاسوس کے بارے میں سن رکھا ہے؟
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی للہ عنہ نے 7 افراد لشکر فارس کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کیلئے بھیجے اور انھیں حکم دیا کہ اگر ممکن ہو سکے تو اس لشکر کے ای آدمی
کو گرفتار کر کے لے آئیں...!!
یہ ساتوں آدمی ابھی نکلے ہی تھے کہ اچانک انھوں نے دشمن کے لشکر کو سامنے پایا.
جبکہ ان کا گمان یہ تھا کہ لشکر ابھی دور ہے. انھوں نے آپس میں مشورہ کر کے واپس پلٹنے کا فیصلہ کیا. مگر ان میں سے ایک آدمی نے امیر لشکر سعد کی جانب سے ذمہ لگائی گئی مہم کو سرانجام دئیے بغیر واپس لوٹنے سے
انکار کر دیا اور یہ چھ افراد مسلمانوں کے لشکر کی جانب واپس لوٹ آئے.
جبکہ ہمارا یہ بطل اپنی مہم کی ادائیگی کیلئے فارسیوں کے لشکر کی جانب تنہا بڑھتا چلاگیا!! انھوں نے لشکر کے گرد ایک چکر لگایا اور اور اندر داخل ہونے کیلئے پانی کے نالوں کا انتخاب کیا اورا س میں سے گزرتا ہوا
Read 14 tweets
14 Oct
درود لکھی کی بھی اپنی ہی شان ہے۔ پڑھنے کی تاثیر اور معانی کی توقیر تو لاجواب ہے ہی، لیکن شان کریمی کی عطا کا واقعہ بھی کچھ کم بے مثال نہیں۔
حضرت محمود غزنویؒ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر روزانہ ایک لاکھ بار درود شریف پڑھا کرتے تھے۔
اسی شغف و محبت میں امور سلطنت سر انجام دینے میں خلل آ جاتا۔
فخر موجودات، سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بھلا اپنی امت کو مشقت میں دیکھنا کب گوارا فرماتے ہیں۔ ایک شب حضرت محمود غزنویؒ کو خواب میں زیارت مرحمت فرمائی، اور درود لکھی کا تحفہ عطا فرمایا۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ درود لکھی کو ہر صبح ایک بار پڑھنے سے ایک لاکھ درود شریف کا ثواب عطا ہو گا، اور مداومت پر قربت کاملہ نصیب ہو گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کیوں نہ ہو،
ذرا درود لکھی کی خوبصورتی اور محبت تو ملاحظہ فرمائیں:
یا اللہ ہمارے آقا و مولی محمد صلی اللہ علیہ
Read 8 tweets
14 Oct
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جب ولادت شریفہ ہوئی اس وقت حضور کے دادا جان حضرت عبدالمطلب کعبہ شریف کی دیوار کی تعمیر میں مشغول تھے
عبدالمطلب فرماتے ہیں کہ میں کعبہ شریف کا طواف کر رہا تھا کہ اچانک کعبہ شریف چاروں طرف جھکتا نظر آیا اور پھر مقام ابراہیم میں سجدہ میں گر گیا اور اس سے
تکبرو تہلیل کی آوازیں آنے لگیں
پھر وہ سیدھا کھڑا ہو گیا اور اس سے آواز آئی
الحمد للہ الذی خصیی بمحمد المصطفٰی"
سب تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے مجھے محمد مُصطفٰی
( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ محصوص فرمایا
اور پھر ارکان کعبہ آپس میں ایک دوسرے پر سلام بھیجنے لگے۔ حضرت عبدالمطلب فرماتے ہیں کہ میں باب صفا سے باہر نکلا تو زمین کی ہر چیز مجھے تکبیر و تہلیل میں مشغول نظر آئی اور میں ان کی آواز سن رہا تھا۔ پھر یہ آواز سنی کہ:
"قد جاءَ کم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم"
Read 7 tweets
13 Oct
*سچی توبہ*
کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں ایسے گوہر
قادسیہ کا میدان جنگ ہے ایک آدمی شراب پی لیتا ہے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جومسلمان فوج کے سپہ سالار ہیں ان کو خبر ہوتی ہے،
فرمایا اس کو زنجیروں میں جکڑ دو،؛ اور میدان جنگ سے واپس بلا لو، ایک کمانڈر نے کہا :سپہ سالار میدان جنگ ہے، غلطی ہو گئی اس سے ، دلیر آدمی ہے بہادر آدمی ہے، چھوڑ دیجیے اللہ کی راہ میں جنگ کرے گا، یا
کسی کو مارے گا یا مر جائے گا، اس کو زنجیروں میں جکڑنے کی ضرورت کیا ہے؟
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم کا صحابی تلواروں اور بازؤں پر بھروسہ نہیں کرتا، اللہ کی رحمت پر بھروسہ کرتا ہے
Read 15 tweets
12 Oct
مسلمانوں کی ذمہ داری
🔸 حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ کی رستم سے ایمان افروز گفتگو 🔸
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی امارت و سرکردگی میں ایک لشکر ایرانیوں سے مقابلے کے لیے گیا ، ایرانی لشکر کا سپہ سالار مشہور زمانہ پہلوان و بہادر ’’ رستم ‘‘ تھا ،
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے رستم کی درخواست پر حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ کو اس سے بات چیت کے لیے بھیجا ، ایرانیوں نے رستم کا دربار خوب سجا رکھا تھا ، ریشم وحریر کے گدے ، بہترین قالین ، سونے و چاندی کی اشیا اور دیگر اسبابِ زینت سے آراستہ پیراستہ کردیا تھا ، حضرت ربعی بن
عامر رضی اللہ عنہ گھوڑے پر سوار ، ہتھیارات سے لیس ، پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ، اس شان کے ساتھ رستم کے دربار میں پہنچے ، کہ ننگی تلوار آپ کے ہاتھ میں تھی ۔ دربار میں رستم کا فرش بچھاہوا تھا ، آپ گھوڑے کو اسی پر چلاتے ہوئے اندر جانے لگے ،
Read 8 tweets
12 Oct
ایک انسان تھا جسے دنیا "ضرار بن ازور ؓ " کے نام سے جانتی تھی!
۔ ۔ ۔
یہ ایک ایسے انسان تھے کہ اس دور میں دشمن ان کے نام سے کانپ اٹھتے تھے اور انکی راہ میں آنے سے کتراتے تھے۔ جنگ ہوتی تھی تو سارے دشمن اور فوجیں زرہ اور جنگی لباس پہن کر جنگ لڑتے تھے۔
لیکن آفریں حضرت ضرار ؓ پر, زرہ تو درکنار اپنا کرتا بھی اتار دیتے تھے۔
لمبے بال لہراتے چمکتے بدن کے ساتھ جب میدان میں اترتے تھے تو ان کے پیچھے دھول نظر آتی تھی اور انکے آگے لاشیں۔ اتنی پھرتی، تیزی اور بہادری سے لڑتے تھے کہ دشمن کے صفیں چیر کر نکل جاتے تھے۔ ا
ان کی بہادری نے بےشمار مرتبہ حضرت خالد بن ولید ؓ کو تعریف کرنے اور انعام و کرام دینے پر مجبور کیا۔
دشمنوں میں وہ "ننگے بدن والا" کے نام سے مشہور تھے۔
رومیوں کے لاکھوں کی تعداد پر مشتمل لشکر سے جنگِ اجنادین جاری تھی۔ حضرت ضرارؓ حسب معمول میدان میں اترے
Read 12 tweets
12 Oct
ایک دن امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی' عنہ کھانا کھا رہے تھے کھانے کے بعد آپ کا دل کسی میٹھی چیز کھانے کو چاہا.. آپ نے اپنی زوجہ صاحبہ سے پوچھا.. " کیا کوئی میٹھی چیز نہیں ہے..؟
" انہوں نے جواب دیا.. "بیت المال سے جو راشن آتا ہے اس میں میٹھی کوئی چیز نہیں ہوتی.."
آپ سن کر چپ ہو گئے..
چند دن بعد آپ رضی اللہ تعالی' عنہ نے دیکھا کہ دسترخوان پر کھانے کے ساتھ حلوہ بھی موجود ہے.. آپ نے اپنی زوجہ صاحبہ سے فرمایا..
" تم نے تو کہا تھا کہ ہمارے راشن میں میٹھی کوئی چیز نہیں آتی تو پھر آج یہ حلوہ کیسے بن گیا..؟ "
آپ کی زوجہ محترمہ نے جواب میں فرمایا.. " میں نے جو اس دن محسوس کیا کہ آپ کو میٹھی چیز کی خواھش ھے تو میں نے یوں کیا کہ راشن میں جتنا آٹا روزانہ آتا تھا اس میں سے مٹھی بھر آٹا الگ
Read 6 tweets
12 Oct
خلیفہ الرسول حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کو ایک دفعہ پینے کے لیے پانی دیا گیا جس میں تھوڑا سا شہد ڈالا ہوا تھا
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جونہی پیالہ اپنے منہ کے قریب کیا تو رونے لگ گئے
اور اس قدر روئے کہ آس پاس والے بھی رونے لگ گئے لیکن کسی کو سبب پوچھنے کی جراءت نہ ہوئی ۔ آخر جب کافی دیر رونے کے بعد طبیعت ہلکی ہوئی تو کسی نے پوچھا ، اے خلیفہ الرسول آپ اتنا کیوں روئے
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا شہد ملے پانی کو دیکھ کر مجھے ایک بات یاد آگئی ، میں اپنے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ہاتھوں سے کسی چیز کو پرے ہٹا رہے ہیں ،
Read 7 tweets
12 Oct
👈 *جیسا باپ ویسا بیٹا* 👉
امیرالمومنین حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ ابھی اپنے بستر پر پہلو کے بل لیٹے ہی تھے کہ ان کا سترہ سالہ بیٹا عبدالملک کمرے میں داخل ہوا ۔ اس نے کہا : امیرالمومنین آپ کیا کرنا چاہتے ہیں ؟
فرمایا : بیٹا میں تھوڑی دیر سونا چاہتا ہوں ، اس لیے کہ اب میرے جسم میں طاقت نہیں ہے ، میں بہت تھک چکا ہوں ۔ بیٹے نے کہا :
امیرالمومنین ! کیا آپ مظلوم لوگوں کی فریاد سنے بغیر ہی سونا چاہتے ہیں ؟ ان کا وہ مال جو ظلم سے چھینا گیا ہے
نھیں واپس کون دلائے گا؟ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے فرمایا : بیٹا ! چونکہ میں تمھارے چچا خلیفہ سلیمان کی وفات کی وجہ سے گزشتہ ساری رات جاگتا رہا ، تھکاوٹ کی وجہ سے میرے جسم میں طاقت نہیں ۔
Read 9 tweets
12 Oct
حضرت آدم علیہ السلام کا قد کتنا تھا؟ حیرت انگیز اسلامی معلومات
قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام میں سب سے پہلا تذکرہ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کا ہے۔ نو سورتوں میں کوئی ۲۵ مختلف آیتوں میں آپ علیہ السلام کا نام آیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر دس صحائف نازل فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی عظیم صفت ’’علم‘‘ سے اشیاء کا علم عطا فرمایا۔ آئندہ زندگی میں کیونکہ انسان کو ان اشیا سے واسطہ پڑنا تھا اس لیے یہ علم اس کی ایک فطری ضرورت تھی۔
حضرت آدم علیہ السلام کا خمیر ایسی مٹی سے گوندھا گیا جو نت نئی تبدیلیوں کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
حضرت آدم علیہ السلام جنت میں ایک عرصہ تک تنہا زندگی بسر کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بائیں پسلی سے ایک عورت کو پیدا کیا۔
Read 7 tweets
11 Oct
غسل دینے والی عورت نے جب یه کها تو قدرت کی طرف سے گرفت آ گئی اس کا هاتھ ران سے چمٹ گیا جتنا کھنچتی هے وه وه جدا نهیں هوتا زور لگاتی هے مگر ران ساتھ هی آتی هے دیر لگ گئی,,میت کے ورثاء کهنے لگے بی بی
جلدی غسل دو,شام هونے والی هے هم کو جنازه پڑھ کر اسے دفنانا بھی هے. وه کهنے لگی که میں تو تمهارے مردے کو چھوڑتی هوں مگر وه مجھے نهیں چهوڑتا,رات پڑ گئی,مگر هاتھ یونهی چمٹا رها,
دن آ گیا پر هاتھ چمٹا رها اب مشکل بنی تو اس کے ورثاء علماء تک پهنچ گئے. ایک مولوی سے پو چھتے هیں ,مولوی صاحب!ایک عورت دوسری کو غسل دے رهی تھی تو اس کا هاتھ اس میت کی ران کے ساتھ چمٹا رها اب کیا کیا جاۓ??
Read 14 tweets
10 Oct
ایک جنازے سے فارغ ہوتے ہی ایک بابا جی قبر کے قریب آ کر کھڑے ہو گئے اور پوچھنے لگے..
بیٹا بتاؤ اگر یہ شخص ابھی دنیا میں واپس آ جائے تو کیا کرے گا..؟
بابا جی کے اس سوال پر ایک دفعہ تو سب کو جھٹکا لگا کہ کیا بات بابا جی کہنے والے ہیں....
بابا جی مسکرائے اور بولے میں انسان ہی ہوں.
سوال کا جواب کوئی دینا چاہے گا.....
ایک دو شخص ہم آواز ہو کر بولے نیک کام کرے گا اچھائی کے کام کرے گا... اتنے میں پیچھے سے آوازیں گونجنے لگ گئیں جیسے عموماً ہوتا ہے کہ ایک آدمی بولا تو سب ہی اپنی اپنی رائے...
ایک آواز بابا جی کہ کان میں پہنچی دین کا کام شروع کر دے گا... ایک آواز آئی قرآن و سنت کو پکڑ لے گا....
ابھی یہ سلسلہ چل رہا تھا کہ بابا جی کہنے لگے ساری باتوں کا خلاصہ ایک ہی ہے کہ یہ اللہ کی نافرمانی سے دور ہو کر اللہ اور اس کے رسول کا فرمانبردار بن جائے گا....
Read 5 tweets
10 Oct
جنت میں جانے والوں کی بنیادی طور پر چار اقسام بنتی ہیں:
پہلی قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ احادیث میں ان کی تعداد ستر ہزار بتائی گئی ہے۔
دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو حساب دینے کے بعد جنت میں داخل ہوں گے۔
تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جنہیں جہنم میں داخل تو نہیں کیا جائے گا البتہ ایک وقت تک کے لیے جنت میں جانے سے روک دیا جائے گا۔ یہ اصحاب الاعراف ہیں۔
جن کا تذکرہ سورۃ الاعراف میں بالتفصیل موجود ہے۔
چوتھی قسم ان اہل ایمان کی ہے جو گناہوں کی کثرت کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوں گے اور بالآخر اپنے اعمال کی سزا بھگت کر اپنے ایمان کی وجہ سے جنت میں داخل کیے جائیں گے۔
Read 15 tweets
10 Oct
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: حضور ﷺ کا روئے منور (چودھویں کے) چاند کے دائرہ کی مانند دکھائی دیتا تھا۔
.
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (آپ ﷺ کے) چہرۂ مبارک میں قدرے گولائی تھی۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نہایت حسین و وجیہہ اور نکھرے ہوئے شگفتہ و شاداب چہرے والے تھے۔ میں نے آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ جیسا حسین کوئی نہیں دیکھا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے دنیا میں کوئی شے رسول اللہ ﷺ سے حسین نہیں دیکھی۔ (آپ ﷺ کا چہرہ اس طرح چمکتا تھا)گویا چہرۂ اَنور میں سورج (جیسی تابانی و رخشندگی موج زن اور) رواں ہے۔
Read 13 tweets
9 Oct
ختم نبوت
مولاناشمس الحق افغانی رحمہ اللہ سے ایک قادیانی جج نے پوچھا نبوت کیا چیز ہے افغانی رحمہ اللہ فرمانے لگے نبوت اعلی منصب ہے اللہ جل شانہ جِسے چاہے دے دیتاہے قادیانی بولا جب اتنا اچھا منصب ہے
تو اِسے عام کرنا چاہئے مولنا شمس الحق افغانی نے 100 روپے کا نوٹ نکال کر فرمایا یہ نوٹ کیساہے؟؟ اُسی زمانے میں سو روپے کا نوٹ بڑا نوٹ تھا قادیانی بولا یہ تو اعلی چیز ہے مولانا صاحب نے فرمایا
جب اتنی اعلی چیز ہے تو اِسے عام کرنا چاہئے ایک مُہر میں اپنی طرف سے بناونگا اور جعلی نوٹ تیارکرکے عام کرتارہونگا قادیانی جج بولا یہ کام اگر آپ نے کیا تو آپ مجرم ہونگے
Read 5 tweets
9 Oct
ایک ہیڈ ماسٹر کے بارے میں ایک واقعہ مشہور ہے جب وہ کسی سکول میں استاد تعینات تھے تو انہوں نے اپنی کلاس کا ٹیسٹ لیا۔
ٹیسٹ کے خاتمے پر انہوں نے سب کی کاپیاں چیک کیں اور ہر بچے کو اپنی اپنی کاپی اپنے ہاتھ میں پکڑکر ایک قطار میں کھڑا ہوجانے کو کہا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جس کی جتنی غلطیاں ہوں گی، اس کے ہاتھ پر اتنی ہی چھڑیاں ماری جائیں گی۔
اگرچہ وہ نرم دل ہونے کے باعث بہت ہی آہستگی سے بچوں کو چھڑی کی سزا دیتے تھے تاکہ ایذا کی بجائے صرف نصیحت ہو، مگر سزا کا خوف اپنی جگہ تھا
تمام بچے کھڑے ہوگئے۔
ہیڈ ماسٹر سب بچوں سے ان کی غلطیوں کی تعداد پوچھتے جاتے اور اس کے مطابق ان کے ہاتھوں پر چھڑیاں رسید کرتے جاتے۔
ایک بچہ بہت گھبرایا ہوا تھا۔
Read 6 tweets
9 Oct
حضرت عمر: مچھلی کی خواہش۔غلام کا رونا
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کبھی کوئی خواہش نہیں کی
ایک دن مچھلی کھانے کو دل چاہا تو اپنے غلام یرکا سے اظہار فرمایا۔۔
یرکا آپ کا بڑا وفادار غلام تھا ایک دن آپ نے فرمایا
یرکا آج مچھلی کھانے کو دل کرتا ہے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے آٹھ میل دور جانا پڑے گا دریا کے پاس مچھلی لینے اور آٹھ میل واپس آنا پڑے گا مچھلی لے کے ۔۔
پھر آپ نے فرمایا رہنے دو کھاتے ہی نہیں ایک چھوٹی سی خواہش کیلئے
اپنے آپ کو اتنی مشقت میں ڈالنا اچھا نہیں لگتا کہ اٹھ میل جانا اور اٹھ میل واپس آنا صرف میری مچھلی کے لئے؟
چھوڑو یرکا۔۔۔۔۔۔۔ اگر قریب سے ملتی تو اور بات تھی۔
Read 18 tweets