Zafar Mahmood Profile picture
AI Tools Nerd - Daily tweets on AI, tech, and practical systems that upgrade your business and personal workflow , DM for Collab

Aug 10, 2020, 10 tweets

کچرے کا شہر - سونے کی کان
کراچی 6 اگست 2020
پہلے زمانے میں کےایم سی کی گاڑیاں گھروں سے کچرا اٹھا کر شہر سے باھر تلف کرتی تھیں تھیں جمعدار گلی محلوں اور سڑکوں کی جھاڑو لگاتے تھے کافی عرصے سے ایک نیا سسٹم آ گیا صبح صبح افغانی کچرے والا فی گھر دو سو روپے لے کر👇🏻

گھروں سے کچرا اٹھاتا ھے اس میں سے لوھا پلاسٹک شیشہ لکڑی نکال کر کچرا کسی روڈ کے کنارے یا کسی نالے میں پھینک اپنی دھاڑی سیدھی کر کے دوپہر ایک بجے تک فارغ ھو جاتایہ ھی وہ وقت جو کے ایم سی کے افسران اور گریجویٹ خاکروب سمیت ھزاروں ملازمین کے نیند سے اٹھنے کا ھوتا ھے وہ لنچ👇🏻

کے بعد آفس پہنچ کر کچرا گاڑیوں کے ڈیزل کی پرچیاں مرمت اور دیگر اخراجات کے کے بل بناتے ہیں اس طرح ان کی بھی دھاڑی پکی ھو جاتی ھے اور دن بھی کٹ جاتا ھے افغانی کی دھاڑی پکی
افسران کی دھاڑی پکی
نچلے اسٹاف کی تنخواہیں پکی
گھروں کا کچرا بھی اٹھ گیا👇🏻

اب شہر کچرا کنڈی بنے نالے کچرے سے بھریں گلی محلوں کے روڈ ٹوٹیں اس سے کسی کا کیا لینا دینا یہ تو سیاسی امور ہیں متحدہ اور پی پی کا اختیارات کا جھگڑا ھے وفاق سے فنڈز کا مسلہ ھے کے ایم سی واٹر بورڈ کے پچاس ھزار ملازمین کی تنخواہوں کے ھی لالے پڑے رھتے ہیں تو شہر پر کہاں سے خرچ کریں👇🏻

اب رہ گیا کام تو کے ایم سی واٹر بورڈ کے ملازمین ھی کیوں کام کریں پی آئی اے اسٹیل ملز پورٹ قاسم محکمہ صحت اور تعلیم کے بھی تو لاکھوں ملازمین بھی تو بغیر کام کے تنخواہیں لے رہیں وہ کسی کو دکھائی نہیں دیتے لیکن جس پوسٹ پر رشوت کا آسرا ھو وھاں افسر سے لے چپراسی تک 15 گھنٹے کام کرنے👇🏻

کے لئے تیار ہیں اب رہ گیا کراچی تو اس کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھے آنکھیں نکال دیں مرسوں مرسوں کراچی نہ ڈیسوں یہ دھرتی ماں کا اٹوٹ انگ ھے ھماری ماں ھے ھماری حرام کی کمائی کا ذریعہ اور عیاشیوں کا مرکز ھے اسے ھم خود تباہ کریں گے ٹھکانے لگائیں گے لیکن نہ مرکز کے حوالے کریں گے👇🏻

نہ کراچی والوں کے رہ گئے کراچی والے تو جو بولے گا اجازت سے بولے گا ورنہ بولتی بند کر دی جائے گی
کراچی تو وہ سونے کی کان ھے جہاں مقامیوں کو دبا کر غیر مقامی سرکاری اور غیر سرکاری لوگ سونا نکال کر اور مرنے کے بعد اپنی میتیں اپنے اپنے شہروں کو روانہ کر دیتے ہیں👇🏻

اور مقامی لوگ اپنی زندہ لاشیں اسی شہر میں گھسیٹتے پھر رھے ہیں نہ روزگار نہ صحت نہ تعلیم اس پر کچرا کنڈی بجلی پانی ناپید انہیں مہنگی بجلی پانی تعلیم صحت قبر ھر قسم کا سرٹیفکٹ سب خریدنا پڑتا ہے اور سرکار کے علاوہ پولیس سرکاری افسران کو بھی روز کی بنیاد پر ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے👇🏻

کیوں ان کی اکثریت غیر مقامی ھے اور بھی گھروں سے دور پردیس میں کمانے کے لئے آئیں ھیں کوئی سماج سیوا کرنے تھوڑا ھی آئے ہیں
ان تمام حقائق کو جانتے بوجھتے ھوئے بھی ھم کراچی والوں نے فیصلہ کیا ھے کہ ھم ان مظالم کے خلاف کوئی عملی جد وجہد نہیں کریں گے نہ سرکار کے👇🏻

خلاف نہ لٹیروں کے خلاف نہ کراچی کے غداروں کے خلاف کیوں ھم ڈرتے ہیں کہ ھمارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اب بھلے وہ بچے بعد میں بھیک مانگے یا کٹ مریں اس سے ھمیں کیا ھم نے بھی تو ان حالات میں زندگی گذاری ھے وہ بھی گذار لیں گے
زندہ باد

#عشق_محمد ﷺ ♥️

Share this Scrolly Tale with your friends.

A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.

Keep scrolling