“مبینہ” صحافی ہراسمینٹ کا الزام کیوں لگاتے ھیں؟
ھوتا یوں تھا کہ سوشل میڈیا آنے سے پہلے یہ “مبینہ” صحافی صبح ایک بات کرتے تھے اور شام کو اس کے اُلٹ دوسری بات کر دیتے۔ ایک سیاہ ست دان کو پیر، ولی اور حتی کہ فرشتہ بتاتے اور اس سیاہ ست دان کی حکومت ختم ھونے کے
#صافی_کی_بی_آرٹیاں
بعداُسی سیاہ ست دان کو چور، لُٹیرا اور شیطان بنا دیتے۔ عوام بیچاری ان کے کالم پڑھ کر اور ٹی وی پروگرامز دیکھ کر کُڑھتے رھتے لیکن ان کو جواب نہ دے پاتے۔
پھر ھوا یوں کے سوشل میڈیا کا دور آیا اب عوام ان کی ہر بات نوٹ کرتی رھتی ھے جب ان کو اپنی بات سے تھوڑا سا بھی انحراف کرتے ھوئے
دیکھتی ھے تو فوراً جواب دیتی ھے حتی کہ ان جھوٹوں اور نوسر بازوں کو ان کے گھر چھوڑ کر آتی ھے یہ بات ان “مبینہ” صحافیوں کو گراں گزرتی ھے ان کو عادت نہیں تھی کہ کوئی ان کی بات کو جُھٹلائے بس انہوں نے جو کہہ دیا بس کہہ دیا!
لیکن عوام اب جھوٹ کہاں سہتی ھے۔ ادھر جھوٹی بات/خبر کہی اور
عوام کی طرف سے چھترول شروع!
پھر چیخ و پُکار شروع ھائے لُٹے گئے، ھائے ٹرولنگ ھو گئی، ھائے آزادی صحافت رُل گئی وغیرہ وغیرہ
پاکستان میں ان “مبینہ” صحافیوں کے علاوہ بھی صحافی موجود ھیں جو ڈٹ کر تنقید بھی کرتے ھیں اور اچھے کام کی تعریف بھی کرتے ھیں اور ایجنڈے پر کام کرنے کو غلط
سمجھتے ھیں کیا کسی ایسے صحافی کی چھترول یا ٹرولنگ ھوئی؟
نہیں!
کیونکہ یہی صحافت ھے اور صحافی کو صرف اور صرف صحافت کرنی چاھئیے
اب ایک مثال دیکھ لیجئیے
اب یہ صاحب پہلے کیا لکھتے تھے اور اب کیا لکھتے ھیں کیا مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں ھونا چاھئیے؟
یعنی سیاہ ست دان سے منفعت نہ ملے تو ایک نظریہ اور منفعت مل جائے تو اس کے بالکل برعکس نظریہ!
اب ان صاحب کو دیکھیں کیا ان صاحب کو بھی صحافی مانیں؟
ایسی بے شمار مثالیں دی جا سکتی ھیں
نہیں، یہ صحافت نہیں ھے یہ منفعت حاصل کرنے کا کھیل ھے اور بدقسمتی سے اس کھیل میں مرد اور خواتین، دونوں قسم کے “مبینہ” صحافی شامل ھیں ان میں ہر ایک کا کوئی نہ کوئی ذاتی مفاد ھے ان کیلیئے صحافت صرف زینہ ھے
اب ان “مبینہ” صحافیوں کے پاس صرف ایک ھی
راستہ ھے کہ وہ “صحافت” کریں اگر یہ “مبینہ” صحافی ایجنڈوں پر کام کریں گے یا سیاہ ست دانوں کے ساتھ مل کر کھیلیں گے اور جھوٹ پھیلائیں گے تو عوام کی طرف سے رد عمل آنا فطری عمل ھوگا۔ اب ان “مبینہ” صحافیوں کی ایک ایک تحریر، ٹویٹ اور وڈیو کلپ عوام کے موبائلز میں محفوظ ھوتا ھے اور بوقت
ضرورت بطور ثبوت استعمال کیا جاتا ھے۔
اب “مبینہ” صحافی یا تو صحافت کریں یا ٹرولنگ برداشت کریں، رویں مت!
کیونکہ عوام، عوام ھوتی ھے یہ حراسمینٹ نہیں کرتی یہ آئینہ دکھاتی ھے
@_NadeemZaidi @roymukhtar @ansaarmy @Aam_Aadmi12345 @NooraPatwari @CH_HAMZA_CH @SdqJaan @Intl_Mediatior @Obviously_Shia @Iftikhar_hyder @alikhan221022 @WazirAh95630866 @Nafees4217
@AnwarLodhi @Amalqahay @DrFiza_khan @Ghayoor88026162 @p4pakipower @Ajmalkh05094068 @MashwaniAzhar @Saimamasood27 @bangash0786 @BabajaniP @usmansaeedbasra @DRBASMA12128243 @Baloch4362 @Bakhtawar_Ik @bntebaloch @5abi_ @shahidc019 @wazarat_chatrol @fawadchaudhry @pak_2662
@zaidchattha @chacha_geee @SHABAZGIL @Obviously_Shia @DrArbeelaKhan @AnasDhillon @1doc_rv @Jooookeeeerrrr @Farhan_Speaks_ @Pk_FakeNews @gulemurshid @noshigilani @Gem12r @syeda_shahbano @PAK_Gladiator @Ghummans @U_HRao1 @hijabzahra_ @Maleeha_hashmey @Miss_Hamilt @Imrankhan423
@Ispvf @Ijazbhuttaa @ImanFatma3 @iVeenaKhan @syedaliimran4 @imam_afrough110 @IamYasif @fans_khan @ABBASJAFREE @Peer_Kamil_ @LalBukhari @Zarka54 @law4all3 @Lelliyz @mustpakistan @MeTalatK @No1Waila @dtnoorkhan @NaikRooh @No1WaiIa @mirzawaismughal @PakDefender123 @hafizazeem2222 @
@RangRassia @SyedaWadia @AFLa_ToooooN @uzm55a @RakWar31 @WWahanvi @Sanatkhan391 @NaQvi_XyeD1 @Yxr01 @Zarka54 @Aayat_zahra14 @Hasantayebzaib @Zafri_11 @Zari_12_14 @ZakariaKomeili @zaildarsab @ZEW007 @Zimal23_K
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
