اسد عمر صاحد، کچھ فیکٹس درست کر لیں۔
پہلی سٹیٹمنٹ لکھنے والوں نے کوئی غلطی کی، نا مانی۔ اس پیٹیشن کو جن صحافیوں نے لکھا اور انڈورس کیا، ان کو پاکستان تحریک انصاف کے لوگوں نے، یا پاکستان تحریک انصاف کے نام پر ٹارگٹ کیا گیا۔ اس موقف پر آج بھی سب قائم ہیں۔
حال میں جارئ ہونے والا بیان، پہلے بیان کی تردید نہیں، تائید کرتا ہے۔
ہاں، نئے بیان میں شامل ہونے والے دیگر صحافیوں نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ، ساتھ دیگر سیاسی جماعتوں کے کردار کے حوالے سے بھی بات کی ہے، یہ سیاست نہیں، اس موومنٹ میں مزید لوگوں کے تجربات کو شامل کرنے کی سعی ہے
پہلے بیان، اور حالیہ بیان، کسی میں بھی تحریک انصاف کو کلین چٹ نہیں دی گئی۔ بلکہ، حالیہ بیان میں بھی، یہ ہراسگی کے کلچر کو ختم کرنے کے لئے، حکومت کو دیگر جماعتوں سے زیادہ ذمہ دار ٹہرایا گیا ہے۔ گزارش ہے کہ بیان کو غور سے پڑھیں، پھر تبصرہ کریں۔
یہ بیان آپکی جماعت، آپکی حکومت، اور آپ کے سیاسی بھائی بندوں کے اس کردار کو ہائی لائٹ کرتئ ہے، جس کے سبب خواتین صحافیوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، دھمکیاں دی جاتی ہیں اور ان کی صحافت کو متاثر اور ڈسکریڈیٹ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہمیں آپ کے دستخظ نہیں، اس مسئلے کا حل چاہئے۔
اگر صحافیوں کو، پی ٹی آئی سمیت، تمام سیاسی جماعتوں سے ہراسگی میں ملوث ہونے کی شکایات ہیں، تو آپ کو اس بات پر خوش ہونے کی ضرورت نہیں کہ اوروں کا بھی نام آیا، بلکہ اس بات پر افسردہ ہونے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں، غیراخلاقی روویوں کو روکنے سے قاصر ہیں۔ @Asad_Umar
افسوس کہ، حکومتی جماعت کی جانب سے اور یگر جماعتوں کی جانب سےہ خواتین صحافیوں کے دونون بیانات کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش، صرف اس بات کو واضح کرتئ ہے کہ اب بھی اس معاملے میں اپنی ذمہ داری قبول کرنے اور حالات کو بہتر بنانے میں سنجیدگی نظر نہیں آ رہی۔
#AttacksWontSilenceUs
@Asad_Umar گزارش ہے کہ ہمارے اوپر سیاست کے الزام لگانے کے بجائے، خود اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے پرہیز کریں۔
#AttacksWontSilenceUs #TogetherAgainstAbuse
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
