urdu. Profile picture
سیاست پر دلچسپ تبصرے اسلامی اور تاریخی واقعات حقائق جنرل نالج سائنسی تحقیق اور سبق اموز تحریریں

Sep 18, 2020, 11 tweets

حضرت عبداﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ

عبداﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ یہود کے جلیل القدر عالم اور حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد سے تھے۔ ان کا اصل نام حصین تھا اور وہ یہود بنی قینقاع سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک دن انہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم

کے یہ کلمات سنے:" افشو السلام واطعموا لطعام وصلوالارحام وصلو بالیل والناس نیام"ترجمہ:"اپنے بیگانے سب کوسلام کیا کرو، بھوکوں ، محتاجوں کو، کھانا کھلایا کرو اور خونی رشتوں کو جوڑے رکھو، قطع رحمی نہ کرو، اور رات کو نماز پڑھو جب لو گ سو رہے ہو"۔یہ ہدایت آموز کلمات

سن کر حضرت عبد اﷲ بن سلامؓ کا دل نورایمان سے جگمگا اٹھا۔ انہیں یقین ہوگیا کہ یہ وہی نبی آخر الزمان صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں جن کی بعثت کی پیشین گوئی صحائف قدیمہ میں درج ہیں۔ دوسرے دن رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؐ سے چند

پیچیدہ مسائل دریافت کیے۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کا اطمینان بخش جواب دیا، تو عرض کی: یا رسول اﷲؐ ! میں شہادت دیتا ہوں کہ آپؐ اﷲ کے سچے رسول ہیں۔حضور صلی اﷲ علیہ وسم نے ان کے قبول اسلام پر مسرت کا اظہار فرمایا اور ان کا اسلامی نام عبداﷲؓ رکھا۔

حضرت عبد اﷲؓ نے عرض کی۔ یا رسول اﷲ میری قوم بڑی بدطینت ہے ۔ انھوں نے یہ سن لیا کہ حلقہ بگوش اسلام ہوگیاہوں تو مجھ پر طرح طرح کے بہتان باندھیں گے۔ اس لیے میرے اسلام کی خبر کے اظہار سے پہلے ان سے دریافت کرلیں کہ ان کی میرے متعلق کیا رائے ہے۔ حضور صلی اﷲ

علیہ وسلم نے یہود کے اکابر کو بلابھیجا۔ جب وہ آئے تو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: تم توریت میں نبی آخر الزمان ؐ کی نشانیاں پڑھتے ہو اور جانتے ہو کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ میں تمہارے سامنے دین حق پیش کرتا ہوں۔ اسے قبول کرکے فلاح دارین حاصل کرو۔ یہودیوں نے جواب دیا

ہم نہیں جانتے کہ آپ اﷲ کے رسول ہیں۔ سرور عالم نے فرمایا :" حصین بن سلام تمہاری قوم میں کیسے ہیں ؟"۔ سب یہودیوں نے بیک آواز جواب دیا :" وہ ہمارے سردار اور سردار کے بیٹے ہیں۔ وہ ہمارے عالم کے بیٹے ہیں وہ ہم میں سب سے اچھے اور سب سے اچھے کے فرند ہیں"۔

حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو کیا تم بھی مسلمان ہوجاؤ گے۔ یہودی ناک بھوں چڑھا کر بولے اﷲ انہیں آپ کی حلقہ بگوشی سے محفوظ رکھے۔ ایسا ہونا ناممکن ہے۔ اب حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عبداﷲؓ بن سلام کو سامنے آنے کا حکم دیا۔

وہ کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے باہر نکلے اور یہودیوں سے مخاطب ہوکر فرمایا:" اے اعیان قوم ! اﷲ واحد سے ڈرو اور محمدؐ پر ایمان لاؤ ، بلاشبہ وہ اﷲ کے سچے رسول ہیں"۔
حضرت عبد اﷲؓ کا قبول اسلام یہود پر برق خاطف بن کر گرا اور غم وغصہ سے

دیوانے ہوگئے۔ اور چیخ چیخ کر کہنے لگے۔ یہ شخص (عبداﷲؓ بن سلام)ہم میں سب سے برا اور سب سے برے کا بیٹا ہے۔ ذلیل بن ذلیل اور جاہل بن جاہل ہے۔ حضرت عبداﷲؓ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آپ نے یہود کی اخلاقی

پستی دیکھ لی مجھے ان سے اسی افتراء پردازی کا اندیشہ تھا۔
(سیرت ابن ہشام ، جلد 2)
( "صحیح اسلامی واقعات "، صفحہ نمبر 33-31)

مختصر معلوماتی اسلامی اور تاریخی اردو تحریریں پڑھنے کیلئے فیسبک گروپ جوائن کریں 👇👇👇

facebook.com/groups/7591466…

Share this Scrolly Tale with your friends.

A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.

Keep scrolling