بچوں کی تربیت 👇
بچوں کی تربیت کے معاملے میں مہینے یا ہفتے میں ایک یا دو دن یا گھنٹا آدھا مختص مت کریں۔
گھنٹے آدھے گھنٹے میں اکٹھی تبلیغ کرکے ساری باتیں ایک ہی بار ان کے دماغوں میں مت ٹھونس دیں۔
تربیت روز مرہ زندگی کا فطرتی اور تسلسل کے ساتھ کرنے والا مشقی عمل ہے۔
1)
جوکہ🏠 گھر کے ہرفرد کی ہروقت ذمہ داری میں آتاہے۔
گھر میں اخلاقیات و اقدار کامعمول بنایا جائے کیونکہ بچےماحول کی عکاسی کرتےہیں۔
گھر میں نماز، تلاوت، ذکر و اذکار کی پابندی کی جائے۔
غیرشرعی، غیرفطری اور غیراخلاقی حرکات نہ کی جائیں۔
جھوٹ، گالی گلوچ، غیبت سے اجتناب کیا جائے
2)
چوری، فراڈ، قسم، چغلی، بغض و عناد، عداوت، حسد، بخل اور گلہ وغیرہ جیسے عمل سے آگاہی دی جائے۔
ماں باپ بچوں کے سامنے غصے، غیض و غضب اور لڑائی جھگڑے یا ناچاقی سے پرہیز کریں۔
ماں باپ کے علاوہ یہی ذمہ داری بڑے بہن بھائیوں پے بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ بھی اسی عمل کو دہرائیں
3)
گھر کے ذمہ داران ایکدوسرے پر غیر ضروری ہاتھ چلانے سے اجتناب کریں۔
فحاشی، لغو و لعب اور بے حیائی جیسے عمل سے حتی الوسع بچا جائے۔
اول تو گھر میں غیر اخلاقی فلم یا ڈرامہ دیکھنے سے پرہیز کیا جائے، نہیں تو کم از کم بچوں کو اس سے دور رکھا جائے۔
4)
جوکہتے ہیں کہ فلموں اور ڈراموں سے نصیحت حاصل ہوتی ہے، یکسر غلط ہے،
میں کہتا ہوں جنکو احکامات خداوندی اور سیرتِ طیبہ سے نصیحت حاصل نہیں ہوتی انکو فلموں یا ڈرامےسے بھی نہیں ہوتی۔
گھروں میں دینی ماحول اپنائیں۔
گھر سےنکلتے وقت اور داخل ہوتے وقت سلام اور دعاؤں کامعمول بنائیں
5)
گھروں میں فرقہ ورایت پھیلانے والی باتوں سے اجتناب کیاجائے۔
محبت بانٹنے والی اور نفرتیں مٹانے والی گفتگو کی جائے۔
گفتگو نرمی اور شائستگی کےساتھ کی جائے۔
اپنی آواز کو پست رکھاجائے کہ پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچے۔
بڑے چھوٹوں پے شفقت اور بڑوں سے ادب سےپیش آئیں، ایکدوسرے کوعزت دیں
6)
صدقہ و خیرات بچوں کے ہاتھوں سے دلوایا جائے۔
گھر میں پکی ہوئی چیز بچوں کے ہاتھوں پڑوسی کے گھر میں بھیجی جائے۔
یہ سب عمل بچوں سے کروایا جائے تاکہ انکے اندر قربانی اور ایثار کاجذبہ پیدا ہو، دل میں دوسروں کا احساس پیدا ہو۔
گھر کےکام کاج مل جل کر انجام دیں، ایکدوسرے کی مدد کریں
7)
خاوند گھر کے کاموں میں بیوی کا ہاتھ بٹائے اور بڑے بہن بھائی بھی ماں باپ کی مدد کریں۔
ایکدوسرے سے بات کرتے وقت یوں کہا جائے کہ اللّٰہ نے فرمایا یا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تاکہ بچوں کو پتہ چلے کہ دنیا و آخرت کا محور اللّٰہ تعالیٰ اور محمد صلی اللّٰہ ہی ہیں۔
8)
خدمت خلق کا جذبہ اور بھائی چارےکی فضا پیدا کی جائے
معاشرے کی بنیاد افراد ی تربیت پے استوار ہوتی ہے
بچوں کی تربیت کے معاملے میں اگر ہر گھر میں اسطرح کا ماحول ترتیب دیاجائے یا رائج ہوجائے تو معاشرتی برائیوں کا جڑ سے صفایا ہوسکتاہے۔
آج کے بچے کل کے معاشرے کےمعمار☝️
#خضراعوان
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
