آخر کب تک ؟ 💁🏻♀️
شیخوپورہ میں اپنے محرم یعنی اپنے شوہر کے ساتھ جانے والی خاتون کے ساتھ پانچ لوگوں نے شوہر کے ہی سامنے باری باری اجتماعی زیادتی کی.
گن پوائنٹ پر پانچ افراد نے روکا اور اور شوہر کے سامنے ہی بیوی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا, کہ مسئلہ اکیلے نکلنے یا👇🏻
محرم کے ساتھ باہر جانے کا نہیں مسئلہ اس غلاظت کا ہے جو دماغ میں بھر چکی ہے.
مسئلہ اس بے راہ روی اور فرسٹریشن کا ہے جو انسان کو شیطان اور وحشی درندہ بنا رہی ہے.
مسئلہ ہمارے نظام کا ہے جس کی وجہ سے مجرم کو جرم کرتے وقت قانون یا سزا کا خوف لاحق نہیں ہوتا.👇🏻
مسئلہ دین سے دوری کا ہے جس کی وجہ سے اتنا گھٹیا فعل کرتے وقت ہمیں خدا، جنت دوزخ اور روز محشر یاد نہیں رہتا....
مسئلہ ان اداروں اور حکمرانوں کا ہے جو قانون پر عمل درآمد کروانے میں ناکام ہیں.
مسئلہ اس قاضی اور منصف کا ہے جو اس معاشرے میں بروقت انصاف کی فراہمی نہیں کر رہا.👇🏻
مسئلہ اس صحافی کا ہے جو بلیک میلر ہے ورنہ جس معاشرے کا صحافی ایماندار، بہادر اور نڈر ہو اس معاشرے کا منصف بھی کبھی غیر منصفانہ فیصلہ کرنے کی جرآت نہیں کرتا..........
مسئلہ اس تربیت کا ہے جس میں کمی ہے، مسئلہ اس اخلاقیات کا ہے جو تباہ ہو چکی ہے.
مسئلہ ان رسم و رواج کا ہے👇🏻
جن کی وجہ سے شادی اور نکاح مشکل بن چکے ہیں.
مسئلہ اس تعلیم کا ہے جو اس نسل کو تربیت کی بجائے صرف اور صرف بے حیائی سکھا رہی ہے.
مسئلہ اس استاد کا ہے جو تربیت کی جگہ کاغذ کے ٹکڑے پڑھانے اور یاد کروانے پر زور دے رہا ہے...
کرسی ہے یہ تمہارا جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کر نہیں سکتے👇🏻
تو اتر کیوں نہیں جاتے
2🤬بہاولپور میں لقمان نامی شخص نے ایک بچی سے ذیادتی کی،
بچی کے والدین کو خبر ہوئی تو وہ انپڑھ ناخواندہ سسٹم سے بے بہرہ قریبی چوکی پر رپورٹ درج کرانے پہنچ گئے۔۔ چوکی والوں نے کہا کہ آپ کی رپورٹ تھانے میں درج ہوگی۔۔
وہ غم کے مارے پریشان حال بیٹی کو لے کر👇🏻
تھانے پہنچے جہاں طرح طرح کے سوالات کے بعد انہیں درخواست لکھنے کو کہا گیا۔۔ دو گھنٹے کی ذلالت کے بعد انکی درخواست لکھی گئی۔۔۔ درخواست لکھنے بعد تھانے والوں نے کہا آپ واپس اسی چوکی پر جائیں آپ کی درخواست وہیں جمع ہوگی۔۔
جب وہ دوبارہ چوکی پر گئے تو چوکی والوں نے کہا دو دن بعد آنا۔👇🏻
دو دن بعد بڑے افسر آئینگے تو پھر آپ کو اور دوسری پارٹی کو بلا کر بات کرینگے۔۔
پولیس با اثر وڈیرے کے بیٹے کو بچانے کے لیئے بات کو صلح کی طرف لے جانے کے موڈ میں تھی۔
بچی باپ کو در در کی ٹھوکریں کھاتا دیکھتی رہی اور شاید دل ہی دل میں خود کو کوستی رہی کے میں بیٹی پیدا ہی کیوں ہوئی۔👇🏻
۔ رات کو سب مایوسی، بے بسی اور دکھ کی حالت میں گھر پہنچے۔۔۔
تو بیٹی نے واش روم میں جا کر جراثیم کش اسپرے پی کر خود کشی کرلی۔۔۔ اور خود کشی سے پہلے اس کے اپنے ابا کو کہے گئے آخری الفاظ تھے۔۔۔
"ابا آپ کل سر اٹھا کر جیوگے"😢😢😢👇🏻
یہ سارے سانحہ اچانک سے زور پکڑ رہے ہیں حالیہ دنوں ڈسکہ ساہیوال سانحہ موٹر وے ایسے واقعات ہورہے ہیں وقتاً فقتا یہ امر سمجھنے لائق ہوگا کہ پولیس کی دادی میں موجود کالی بھیڑیں خود اپنی طرف سے مدد دیئے جارہا ہے کیونکہ ہر مافیہ جس جگہ بھی بیٹھا ہے سانس پھول چکی ہے اسکی وه اس جمہوری👇🏻
حکومت سے خائف ہے کہ یہ ہمیں ایکسپوزڈ کردے گی ہر مافیہ اپنی جگہ مدد کرنے پر بخوبی عمل پیرا ہے کہ کی طرح پرانے نظام کی طرف لوٹا جائے اس حکومت کی ڈائریکشن سست روی پر ڈالنے کا اختیار انکے پاس ہے لیکن ڈائریکشن بدلنے کا نہیں اللّه پاک مدد فرمائیں ہر سمت میں کالی بھیڑیں انجام کو پہنچیں
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
