سلطنت عثمانیہ کے وفادار عجمی پاشا السعدونی
جسے برطانوی استعمار نے ملتِ اسلامیہ سے غداری کے بدلے تین_لاکھ_پاؤنڈ جو آج کی قیمت میں تقریباً ۸۸ ملین پاؤنڈز بنتے ہیں کی پیشکش کی, جو عجمی پاشا نے یکسر ٹھکرا دئیے, حالانکہ رشوت کی پیش کش کرنے والا برطانوی
جاسوس_پرسی_کاکس تھا جو #آلِ_سعود, #غدار_شریف_حسین اور تمام عرب شیخوں کے ساتھ بیٹھا تھا سوائے اس ہیرو کے جس نے فخر سے انکار کیا.
جب نوآبادیاتی ممالک کے لشکر اپنی طاقت ور فوجوں جاسوسوں اور مقامی ایجنٹوں کے ساتھ آگے بڑھے اور ملتِ اسلامیہ کو دو
حصوں میں تقسیم کیا تو شیخ عجمی پاشا السعدون عرب اشرافیہ کی سربراہی میں ملتِ اسلامیہ کی جو محبت کی ان کی رگوں میں دوڑ رہی تھی اس کی خاطر برطانوی استعمار کے سامنے کھڑے ہو گئے.
اس کے علاوہ مشہور برطانوی ایجنٹ #تھامس_ایڈورڈ_لارنس المعروف لارنس آف
عریبیہ نے بھی "عجمی پاشا" کو تُرکوں سے غداری کے بدلے میں عراق کے گورنری کے عہدے کی پیش کش کی.
لیکن "عجمی پاشا" جو کہ اپنے قبیلے میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے اور عراق کے سیاست میں بھی اِن کا کافی اثر و رسوخ تھا, اسکے علاوہ وہ #اتحاد_قبائل_المنتفق
کے امیر بھی تھے نے انگریزوں کے مقابلے مین اپنے مسلمان ترک بھائیوں سے غداری کو اسلامی روایات کے خلاف سمجھا, اور ایک موقع پر کہا کہ میں نے خلافت کے ساتھ وفاداری کے لئے قرآن سے بیعت کی ہے.
محقق_محمد_خلیف_التونیان کہتے ہیں:
برطانوی جاسوس #پرسی_کاکس نے عجمی پاشا کو بے شمار پیغامات بھیجے جس میں کہا گیا, ہم آپ کے سعدونی اور ہاشمی نسب ہونے پر عزت کرتے ہیں, ہم ترکوں کے ساتھ آپ کی والہانہ محبت و عقیدت کا بھی احترام کرتے ہیں, لیکن ان سب کے باوجود ہم اس سرزمین پر آپ کو
#بادشاہ بننے کی پیش کش کرتے ہیں, اور ہم یہ چاہتے ہیں آپ اپنے لئے اور اپنے قبیلے کے اس قیمتی موقع کو ضائع نہ کریں, ہم سمجھتے ہیں کہ آپ اس سے کے زیادہ مستحق ہیں.
لیکن یہ جھوٹ وعدے شیخ عجمی پاشا کو دھوکہ نہ دے سکے, لہذا کاکس نے شیخ
عجمی کو ایک خط بھیجا جس میں اس نے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا.
شیخ عجمی نے خط پڑھ کر جوابی خط میں تاریخی الفاظ لکھے.
"جواپنا ملک بیچتا ہے درحقیقت وہ اپنی قوم کو بیچ دیتاہے"
بصرہ سے عثمانی افواج کے انخلا کے بعد بھی عجمی پاشا نے خلافتِ عثمانیہ کی حمائیت جاری رکھی.
الشعیبہ اور کٹ العمارہ کے محاصرے میں بھی ان کی حمایت کی اور عثمانی افواج کو امداد اور اسلحہ فراہم کرتے رہے, خلافتِ عثمانیہ کی شکست کے بعد بھی عجمی پاشا السعدون نے اس معاہدہ پر دستخط نہیں کیے.
جس کی پاداش انگریز افواج نے انہیں ١۹١۸
میں عراق سے جلا وطن کردیا.
اس کے باوجود اس محب وطن اور خلافت سے عہد وفا کرنے والے اس عظیم راہنما نے اپنے وقار , فخر اور وفاداری کو نہ چھوڑا.
ترکوں نے عجمی پاشا کو اس کی وفاداری کے صلے میں ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں #عرفہ شہر کے گاؤں #قرموش
کی سرداری عطا کردی.
١٩٢١ میں عام معافی کے باوجود شیخ عجمی پاشا عراق واپس نہ گئے اور ١۹۶٠ میں وفات پا گئے.
المراجع:
حسام واصف المعلومات التاريخيه عن الشيخ عجمی پاشا ص ٣۴
القبائل والبيوتات العراقية الهاشمية فی العراق - للشيخ يونس ابراهيم السامرائی.
مختصر معلوماتی اسلامی اور تاریخی اردو تحریریں پڑھنے کیلئے فیس بک گروپ جوائن کریں 👇🏻👇🏻
bit.ly/2FNSbwa
دوسرا اکاؤنٹ فالو کریں 👇🏻
@AliBhattiTP
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
