Solana Guy Profile picture
Crypto top Influencer 💹 Help reaching crypto projects with new heights.Reach us via inbox.DYOR - NFA #BTC #BNB #ETH #SOL

Sep 24, 2020, 12 tweets

جانوروں کی ایک عظیم ہجرت۔

افریقہ وسیع جنگلات، میدانوں، دریاؤں، صحراؤں اور پہاڑوں کی سرزمین ہے افریقی ملک تنزانیہ میں دنیا کا سب سے بڑا میدان سیرینگیٹی ( Serengeti) پایا جاتا ہے۔ گائو ہرن اور زیبرا لاکھوں کی تعداد میں یہاں گھاس پھوس چرنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق 20 لاکھ گائو ہرن اور 50000 سے زائد زیبرے ایک ساتھ ہجرت کرتے ہیں۔ ان کی ہجرت کا مقصد تازہ گھاس اور پانی کا حصول ہے اور یہ ہمیشہ بارشوں کا پیچھا کرتے ہیں یعنی جہاں جہاں بارشیں برستی ہیں یہ جانور لاکھوں کی تعداد میں اس مقام کا رخ کرتے

ہیں۔ ہمیں یہ تو سمجھ آگئی کہ ہجرت کس لیے کی جاتی ہے مگر آگے چل کر آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ ہجرت کتنی پر خطر اور صدموں سے بھرپور ہے۔ تنزانیہ سے لیکر کینیا تک ہر سال یہ جانور بھاگتے رکتے چلتے 500 کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہیں اور اس سفر کے دوران یہ مختلف جنگلوں

میدانوں اور دریاؤں سے گزرتے ہیں۔ تعداد میں لاکھوں ہونے کی وجہ سے شکاری جانوروں کے لیے بھی یہ نادر موقع ہوتا ہے جو ہر سال اس ہجرت کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ اگر بات کی جاہے شیروں کی تو ان کا مخصوص علاقہ ہوتا ہے جس میں شیرنیاں گھات لگا کر آنے والے مہمانوں

کا استقبال کرتی ہیں۔

انگریزی میں ایک فقرہ بڑا مشہور ہے (safety in numbers) مطلب جتنی تعداد زیادہ ہوگی بچنے کا موقع بھی زیادہ ہوگا۔ یہ جانور برسات کے مہینے میں کسی ایسے میدان میں اکٹھے ہوتے ہیں جہاں وافر چارہ اور پانی دستیاب ہوتا ہے۔ موقعے کی نزاکت کے

تحت یہ جگہ ملاپ کے لیے بہترین ہے۔ قدرت کا کرشمہ ہے کہ لاکھوں مادہ گائو ہرن ایک ساتھ ملاپ کرتی ہیں اور عین ایک ساتھ بچے جنتی ہیں۔

ہجرت کرتے بچتے بچاتے یہ جانور تنزانیہ اور کینیا کی سرحد پر بہتے دریا مارا (Mara) پر پہنچتے ہیں جس کا بہاؤ کافی

تیز ہوتا ہے اور کنارہ کافی ڈھلوان نما ہوتا ہے اس دریا کو خونی دریا بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس دریا میں سینکڑوں دریائے نیل کے مگرمچھ ( Nile crocodile) پہلے سے گھات لگاہے ہوتے ہیں۔

دریا کے دھانے پر پہنچ کر پہلا جانور ہمت کر کے پانی میں چھلانگ لگاتا ہے تو پھر

سارا ریوڑ اس کی دیکھا دیکھی پانی میں کود پڑتا ہے اتنی تعداد میں جانوروں کے کودنے سے جانور ایک دوسرے کے اوپر گرنے سے زخمی ہو جاتے ہیں اور جو تیرتے ہیں ان میں سے کچھ مگر مچھوں کا شکار اور جو دریا عبور کرتے ہیں ان کے لیے آگے ( surprise) شیر موجود ہوتے ہیں۔ ان سب

خطروں کے برعکس اس قدر زیادہ تعداد میں یہ جانور کچھ ہی جانیں گنوا کر اپنی منزل کینیا کے میدانوں میں پہنچتے ہیں۔

مارا دریا میں ان کی لاشیں پھیل جاتی ہیں جن کو مگر مچھ کھاتے ہیں مگر ہزاروں کی تعداد کو ٹھکانے لگاتے ہیں قدرت کے چمار ( گدھ)۔

ذندہ بچنے والے جانور میدان میں اکٹھے ہوتے ہیں اور جو مادائیں حمل سے ہوتی ہیں وہ لاکھوں کی تعداد میں ایک ہفتے کے اندر بچے پیدا کر دیتی ہیں اس کا فاہدہ یہ ہوتا ہے کہ کم سے کم بچے شکاریوں کے ہاتھ لگتے ہیں اور ان کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہوتا ہے۔ یہ جانور کچھ مہینے

اسی میدان میں رہتے ہیں جب تک بچے مکمل طور پر خود کفیل نہ ہو جاہیں پھر دوبارہ سے ان کی ہجرت تنزانیہ سیرینگیٹی کی طرف ہوتی ہے جہاں سے ان جانوروں نے آغاز لیا تھا۔ یہ عظیم ہجرت ہزاروں سالوں سے ایسے ہی جاری ہے اس میں کوہی فرق نہیں آیا اپنی نسل کو بڑھانے اور

گوشت خور جانوروں کو خوراک کی فراہمی کے لیے اللہ نے یہ قانون بنایا ہے۔
سبحان اللہ

مختصر معلوماتی اسلامی اور تاریخی اردو تحریریں پڑھنے کیلئے
دوسرا اکاؤنٹ فالو کریں 👈 @Pyara_PAK

ہمارا فیس بک گروپ جوائن کریں ⁦👇👇
facebook.com/groups/7591466…

Share this Scrolly Tale with your friends.

A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.

Keep scrolling