اگر کوئی بچہ 1100 میں سے 950 نمبر لے کر ڈیپریشن اور مایوسی کا شکار ہو کر چارپائی پر اوندھا پڑا ہو تو سمجھ لیں کہ ہمارا تعلیمی نظام بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ اگر کوئی بچی 1100 میں سے 960 نمبر لے کر سر پکڑے رو رہی ہو تو سمجھ لیں ہمارے تعلیمی ادارے بری طرح فلاپ ہو چکے ہیں۔👇🏻
ہمارے تعلیمی نظام نے ہمارے بچوں کو نمبرز کی چرس پر لگا دیا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں نے ہمارے بچوں کو پوزیشنز کی ہیروئن پر لگا دیا ہے۔ ہماری تعلیم منشیات کا دھندا بن چکی ہے اور ہمارے بچے نمبرز اور پوزیشنز کے نشے پر لگا دئیے گئے ہیں۔👇🏻
جگہ جگہ نمبرز کی چرس اور پوزیشنز کی ہیروئن کی مارکیٹنگ کی جا رہی ہے اور دن بدن اس نشے کے عادی بچوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ بچوں کی فطری اور تخلیقی صلاحیتیں اس نشے کے دھوئیں میں اڑائی جا رہی ہیں۔
میری تعلیمی اداروں سے ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے کہ منشیات فروشی کا یہ دھندا بند کریں👇🏻
اور ہمارے بچوں کو نشے کی اس لعنت سے نجات دلائیں۔ گھر گھر جا کر زیادہ نمبرز والے بچوں کو انعامات کا لالچ دے کر انہیں اپنے اداروں کی منشیات بیچنے کا ذریعہ نہ بنائیں۔ قدرت نے ہر بچے کو ایک مخصوص ذہانت کے ساتھ پیدا کیا ہے تو ہر بچے کی اس ذہانت کی نشوونما میں ہر بچے کی رہنمائی کریں۔👇🏻
بچے کو تعلیم دیں اور اسے جہاں فٹ ہونے کیلئے پیدا کیا گیا ہے اسے وہاں فٹ ہونے میں اس کی مدد کریں۔
نمبرز کی چرس اور پوزیشنز کی ہیروئن ہمارے بچوں کو ناکارہ بنا دے گی۔ والدین کو بھی صدائے احتجاج بلند کرنی چاہیے کہ ان کے بچوں کو اس نشے کا عادی نہ بنایا جائے..👇🏻
اور یہاں والدین کو بھی بچوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے انہیں سکول کوچنگ سینٹرز کے رحم و کرم پر نار کھیں خود بھی گاہے بگاہے انکی پروگریس چیک کریں اور حوصلہ شوق بنائیں کیونکہ بعض اوقات ان نمبروں کی جنگ میں زندگیاں ہار گئے اسٹوڈنٹس اپنی شرمندگی کے خوف سے تھو مس👇🏻
ایڈیسن کا اک 👇🏻مشہور واقعہ آپکی قارئین کی نظر کرتی ہوں اور اس نقطہ کو سب ملنے جلنے والوں سے التماس کہ شیئر ضرور کریں
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
