صرف بیکن ہاؤس ہی نہیں، اقوام متحدہ بھی ہمارے بچوں کو “اینٹی پاکستان” اور “پرو انڈیا” تعلیم دے رہاہے
اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان میں موجود افغان بچوں کو پاکستان دشمنی پر مبنی نصاب پڑھانے جانے کا انکشاف جنوری 2018 میں ہوا تھا👇🏻
لیکن نواز شریف نے بطور وزیراعظم کوئی ایکشن لینے کے بجائے مٹی پاؤ پالیسی پر عمل کیا۔
صیہونی کبھی بھی ایک طرف سے نہیں کھیلتے، یہ بیک وقت کئی سمتوں سے حملہ آور ہوتے ہیں۔ ایک طرف بیکن ہاوس اور ایجوکیٹرز جیسے سکولز میں سرمایہ کاری کرکے نصاب بدل ڈالا تو دوسری طرف افغان👇🏻
مہاجرین کے بچوں کو بھی وہی کچھ پڑھانا شروع کیا جو بیکن ہاوس جیسے لبرل سکولز میں پہلے ہی پڑھانا شروع ہوچکا تھا۔
جن دنوں “دی ایجوکیٹرز” نے چپکے سے اپنے نصاب میں موجود پاکستان کے نقشے سے کشمیر کو غائب کرکے انڈیا کا حصہ قرار دیا،👇🏻
ٹھیک انہی دنوں اقوام متحدہ نے بھی اپنے ذیلی تعلیمی ادارے UNHCR کےزیر انتظام چلنے والے سکولز کے نصاب میں ویسی ہی تبدیلیاں کیں۔
بیکن ہاؤس اور اس کے ذیلی تعلیمی ادارے “دی ایجوکیٹرز” نے اپنے نصاب میں حکومت پاکستان کو بتائے بغیر جو تبدیلیاں کی وہ یہ تھیں👇🏻
✔ پاکستان کے نقشے سے کشمیر نکال کر انڈیا کا حصہ دکھایا گیا
✔ گلگت بلستان کو بھی پاکستانی نقشے سے نکال دیا
✔ بچوں کو پڑھایا کہ 65 کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان انڈیا سے بری طرح ہارا تھا۔ (یاد رہے 65 کی جنگ کی فتح پر پاکستانی قوم ہر سال 6 ستمبر کو “یوم دفاع” بھی مناتی ہے👇🏻
لیکن بیکن نے ہندوستانی موقف پڑھانا شروع کیا)۔
✔ سن 1971 کی جنگ کے مطلق پڑھایا کہ بنگال میں پاک فوج نے ظلم کیا اور پاک فوج ڈرپوک تھی اس لیے پاکستان جنگ ہار اور بنگلایش الگ ہوگیا۔ (یاد رہے بنگال میں پاک فوج نے کوئی ظلم نہیں کیا تھا،👇🏻
یہ بلکل ہندوستانی موقف تھا جس کو بیکن ہاوس اور ایجوکیٹرز بچوں کو پڑھاتے رہے)
✔ نصاب میں اسلامی مضامین محض رسمی اور آٹے میں نمک برابر کرکے لبرل ازم پر مبنی مضامین کی بھرمار کردی گئی۔
جبکہ “اقوام متحدہ” کے زیر انتظام چلنے والے سکولز میں افغان مہاجرین کے بچوں کے نصاب میں👇🏻
حکومت پاکستان کو بتائے بغیر جو تبدیلیاں کی گئیں وہ یہ تھیں۔
✔ انگلش کی تمام کتابوں کے ہر صفحے پر “افغانستان” کا پرچم لگایا گیا
✔ انڈیا کو افغانستان کا دوست ملک لکھا گیا جبکہ پاکستان کو مشکوک قرار دیا گیا
✔ پاک افغان بارڈر کو ایک “متنازعہ ڈیورنڈ لائن بارڈر” لکھا گیا۔👇🏻
(یعنی پاک افغان بارڈر کی حیثیت پر سوالیہ نشان لگادیا)
✔ کلاس 6 کے ‘سوشل اسٹڈیز’ کی کتاب میں “کشمیر اور گلگت بلتستان” کو پاکستان کے نقشے سے نکال انڈیا کا حصہ دکھایا گیا
بیکن ہاؤس اور دی ایجوکیٹرز کے ریاست اور اسلام مخالف نصاب پر کورٹ میں کیس چلایا گیا،👇🏻
عدالت نے بیکن ہاوس سکولز کو فورا اپنا نصاب تبدیل کرنے کا حکم دیا، ہاوس نے کہا کہ ہم نصاب تبدیل کردیں گے لیکن آج تک انہوں نے نصاب میں کوئی تبدیلی نہیں کی کیونکہ حکومت میں بیٹھے صیہونیوں کے لیے کام کرنے والے ہرکارے ان کے سرپرست بنے ہوئے تھے👇🏻
جبکہ نواز شریف خود بھی بیکن ہاؤس جیسے لبرل اسکولز کا سب سے بڑا سرپرست تھا۔
(جنہیں کورٹ کے فیصلے کے مطلق نہیں معلوم وہ تحریر کے ساتھ منسلک عدالتی حکم نامہ کی کاپی دیکھ سکتے ہیں)
اب بیکن کی اس عدالتی حکم عدولی پر دوبارہ کورٹ میں اپیل دائر کی جارہی ہے،👇🏻
عوام جلد ہی بیکن کی اصلیت پہچان جائے گی۔
اب آتے ہیں اقوام متحدہ کے زیر انتظام چلنے والے سکولز کی اینٹی پاکستان اور پرو انڈین و پرو افغان مواد کی طرف :
اقوام متحدہ کے زیر انتظام چلنے والے افغان مہاجرین سکولز کے متنازعہ نصاب پر پرویز خٹک حکومت نے سخت ایکشن لیتے ہوئے فورا کمشنر👇🏻
افغان مہاجرین اور اقوام متحدہ کے ادارے (UNHCR) کو نصاب تبدیل کرنے کا حکم دیا لیکن اقوام متحدہ نے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ نصاب میں کسی بھی تبدیلی کا سرے سے انکار کردیا اور بیان جاری کیا کہ ہم نے نصاب میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔👇🏻
(یہ واقعہ جنوری 2018 کا ہے اس کی کاپی بھی ساتھ منسلک کی ہے جنہیں یقین نہیں وہ دیکھ لیں)
یاد رہے اس دوران ملک میں میاں نواز شریف کی حکومت تھی، میاں نواز شریف نے اقتدار میں آتے ہی اعلان کیا تھا کہ پاکستان کو “لبرل ریاست” بنائیں گے، یہ بیان آج بھی رکارڈ پر موجود ہے،👇🏻
اس اعلان کے بعد ہی بیکن ہاؤس یونیورسٹی نے لڑکیوں کو استعمال کرکے خون آلود “زیر جامہ ماہواری پیڈز” دیواروں پر آویزاں کرواکے ‘اسلامی ریاست پاکستان’ کو ‘لبرل ریاست پاکستان’ بنانے کی جانب ‘پہلا قدم’ اٹھایا۔
بیکن ہاؤس کے بعد نواز حکومت کے ہی ایماء پر پشاوریونیورسٹی اور کئی اور 👇🏻
دوسری یونیورسٹیز میں لڑکیوں کے حجاب یا گاؤں پہننے پر مکمل پابندی لگائی گئی جبکہ پینٹ شرٹ یا جینز پہننے پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ پھر یہ سلسلہ چلتا رہا اور لبرل ازم کے فروغ کا یہ سلسلہ آج تک لبرل سکولز، کالیجز اور یونیورسٹیز میں جاری ہے۔👇🏻
یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ صیہونی ایک طرف سے حملہ نہیں کرتے بلکہ مختلف سمتوں اور زاویوں سے حملہ آور ہوتے ہیں۔
تعلیمی نظام میں ہمارے بچوں کو یہ پڑھانا کہ کشمیر اور گلگت بلتستان انڈیا کے حصے ہیں ملک دشمنی نہیں تو کیا ہے؟ یہ وہ نظریاتی جنگ ہے👇🏻
جس سے دشمن ہمارے بچوں کے ذہن بدل رہا ہے تاکہ آگے چل کر ہمارا ملک ایک ایسی نسل کے ہاتھ میں ہو جن کے نزدیک مغربی معاشرہ سب سے بہترین اور پاکستانی تنگ نظر شدت پسند لوگ کہلائیں، جن کے نزدیک آزاد خیال لبرل و ملحد لوگ بہترین انسان سمجھے جائیں،👇🏻
جن کے نزدیک علماء اور مولوی جاہل، تنگ نظر، شدت پسند جبکہ صیہونی سب سے ذہین قوم سمجھے جائیں، جنہیں نماز روزے کے فرائض تک پتا نہ ہوں لیکن انگریزی معاشرے کی ایک ایک چیز کا علم ہو۔ جو آزاد خیال ہوں، جنہیں انڈیا اپنا دوست نظر آئے، اسرائیل امریکہ اپنے بھائی لگنے لگیں👇🏻
جبکہ پاک فوج اور آئی ایس آئی پاکستان کی دشمن محسوس ہو۔
آج عمران خان کی حکومت ہے، عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کو مدینے جیسے ریاست بنانے کا اعلان کیا تھا۔ ہم خان صاحب کی توجہ تعلیم کے نام پر کفار کی اس نظریاتی جنگ کی طرف کروانا چاہتے ہیں۔👇🏻
اگر خان صاحب واقعی اس قوم کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو یاد رکھیں کہ “قومیں تعلیم سے بنتی ہیں” ،جب تعلیم ہی ملک دشمنی پر مبنی پڑھائی جارہی ہو تو پھر لاکھ کوشش کی جائے، آگے چل کر جب یہ برین واشڈ نسل بڑی ہوکر اس ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالے گی تو یہ ریاست پاکستان کو “👇🏻
مدینے جیسے ریاست” بنانا تو دور، مغربی ممالک جیسا آزاد خیال، لبرل بےغیرت ملک بنادیں گے جہاں ہر منٹ میں سینکڑوں ریپ ہوتے ہوں، جہاں خاندانی نظام کے بجائے گرل فرینڈ بوائے فرینڈ بناکر زندگی گزارنا بہترین سمجھا جائے۔
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
