گورنمنٹ پالیسیوں سے لاکھ اختلاف کریں تنقید براے اصلاح کریں
نہ کہ اپنی گندی سوچ اور گھٹیا زبان سے کسی کی ذات کو بغیر ثبوت الزاموں سے بھر دیں پہلے خود کے گریبان جھانک کر خود کی اصلاح کریں کیونکہ اس معاشرے کا ناسور اس قوم کی رگوں میں خون کی طرح شامل کر دیا گیا ہے👇🏻
اس لیے خود کو سدھارنے کی کوشش کریں اور اپنے قریبی ساتھیوں معاشرے کی اصلاحات کریں تا کہ ہم میں برایوں کی جگہ آنے والی نسل میں اچھائی پیدا ہو سکے
لنڈے کے دانشور نہ بنیں حقیقت کو دیکھ کر جیئں کیونکہ کی پچھلے بہت سے گزرے ہوے سالوں سے ہم نیند میں تھے اگر اب جاگ گئے ہیں👇🏻
تو بلا وجہ غلط بیانی سے بہتر ہے اپنے گزرے وقت کو یار کریں اور اس کی تلافی کے لیے صبر کریں اکثر کہتی ہوں کہ جو تبدیلیاں پچھلے 30 سال میں ناآئی ہیں وہ جادو کی چھڑی سے نا آئیگی جہاں در در ہر درو دیوار ایک رشوت خور مفاد پرست ناسور بیٹھا ہے👇🏻
خان صاحب کے دعوے اس سمندر میں اترنے سے پہلے کہ تھے اترے ہیں تو انکو پتہ چلا اور دوڑے اٹکانے والے اور انکے خیر خواہ اپنی کوششوں پر ہی آپکو نظر آتے ہیں لیکن دیر ہے اندھیر نہیں جو لوگ سسٹم بدلنا چاہتے ہیں حوصلہ مند ده کر گزارا کریں خان صاحب کے سوا اب چوائس نہیں امید نہیں ہے👇🏻
دینے خان صاحب کو ہی انشاء الله وسیلہ بنانا ہے ملکی ترقی کا
انشاءاللہ بہت جلد اچھا اور بہت اچھا وقت آے گا
چھوٹی سی اس تحریر کے آخر میں صرف ایک بات قوم بنے1 تھے تب قوم کو ایک ملک کی ضرورت تھی ملکی ترقی استحکام کیلئے آج اس ملک کو ایک قوم کی ضرورت ہے جزاک الله
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
