ڈھائی ہزار برس قدیم الیکٹرک بیٹری
بغداد کے قریب ڈھائی ہزار سال پرانی تہذیب کے کھنڈرات سے الیکٹرک بیٹری کی دریافت ہوئی۔ یہ بیڑی دراصل پیلے رنگ کی مٹی سے بنے 6 انچ لمبے ایک گلدان کی صورت میں تھی۔ یہ گلدان 1933ء میں بغداد کے قریب جنوب مشرق میں خوجت رابہ Khujut Rabu کے
مقام سے کھدائی کے دوران ایک بڑی تعداد میں برآمد ہوئے،جنہیں آثارقدیمہ کے ماہرنے اسے عام گلدان سمجھ کر بغداد میوزیم میں رکھ دیا۔
1936ء میں بغداد میں ہی آثارِ قدیمہ کے جرمن ماہر انجینیر ولہیم کونِگ Wilhelm Konig نے جب اس کا بغور مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ کوئی
عام گلدان نہیں بلکہ الیکٹرک بیڑی ہے، جس میں 60 فیصد قلعی کا آمیزہ Asphalt کی تہہ کے ساتھ تانبے کا سلنڈر بھی موجود تھا جس پر تیزاب کی ملمع کاری کی گئی تھی اور ایک لوہے کی سلاخ گزار کر تانبے کے سلنڈر میں پہنچائی گئی تھی۔ ولہیم کونِگ نے اسے بغداد بیٹری کا نام دیا
بعد میں ولہیم کونِگ
کو بغداد کے قریب سے مزید بیٹریاں بھی ملیں۔ یوں اس دریافت کی تعداد میں اضافہ ہوا، اسی طرح کی مٹی کے چار مزید گلدان تل عمر Tel’Omar (سیلوکیہ) میں پائے گئے جو کہ خوجت رابہ کے گلدان جیسے ہی تھے۔ کچھ بیٹریاں بغداد کے کھنڈرات میں بھی پائی گئیں جو کسی حد تک ان گلدانوں
سے مماثلت رکھتی تھیں۔ جن میں سے ایک آج کل برلن کے عجائب گھر میں موجود ہے۔ ایک پروفیسر ڈاکٹرای کویہنل E. Kuehnel، جو اب برلن میں اسٹاٹلیچ Staatliches میوزیم کے ڈائریکٹر ہیں، کی سربراہی میں ایک مہم بغداد کے قریب تسیفون Ctesiphonجسے آج المدائن کہا جاتا ہے، کے علاقے
میں تانبے اور لوہے کے حصوں کے ساتھ بہت سے گلدان دریافت ہوچکے ہیں۔
اندازہ ہے کہ یہ پارتھین کی آخری سلطنت جو 250 قبل مسیح سے لے کر 224 عیسوی تک تھی، کے درمیان پایا جاتا ہوگا۔ بعض گلدان ساسانی سلطنت کے عہد کے بھی ہیں جو کہ 224ء سے 651ء تک تھی۔
1940ء میں ولہیم
کونِگ نے مکمل تحقیق کے بعد اس پر ریسرچ پیپر شایع کیا، جس میں انہوں نے بغداد بیٹری کے متعلق تفصیل دی کہ یہ مٹی کے بنائےگئے ایک گلدان کی طرح ہے، جو تقریباً 14 سینٹی میٹر لمبا اور اس کا سب سے بڑا قطر 8 سینٹی میٹر ہے۔ گلدان کے سب سے اوپر کھلا حصہ 33 ملی میٹر قطر کا ہے،
اس گلدان کے اندر اعلیٰ معیار کی تانبے کی شیٹ کا بنا ہوا سلنڈر پایا گیا، یہ سلنڈر 10 سینٹی میٹر لمبا اور 26 ملی میٹر قطر چوڑا ہے۔تانبے سلنڈر کے نچلے آخر میں،وہی موٹائی اور معیار کا ایک تانبے کا سلنڈر شامل کیا گیا تھا۔ اس گول شیٹ کے اندر کھوکھلی جگہ میں قلعی کا آمیزہ Asphalt کی ایک
پرت، موٹائی میں 3 ملی میٹرتک موجود ہے۔ اسی قلعی کے آمیزے کی ایک موٹی پرت، سلنڈر کے اوپری سرے پر بھی ہے، جبکہ اس کے مرکز میں خالص لوہے کا 75 ملی میٹر لمبا اور ایک یا دو سینٹی میٹر قطر کا ایک ٹھوس ٹکڑا لگا ہوا ہے۔ گلدان میں اس قسم کی اشیاء کی تنصیب گلوانی اصول پر
بنی الیکٹرک بیڑی کی طرح ہے ، جس سے کم وولٹ کا برقی بہاؤ پیدا کیا جاسکتا ہے، اس گلدان نما بیٹری کا کرنٹ پیدا کرنے کے سوا کوئی دوسرا مقصد نہیں ہوسکتا ہے۔
ولہیم کونِگ نے یہ نظریہ پیش کیا کہ شاید یہ بیٹریاں اس دور میں دھاتی اشیاء، برتنوں اور زیورات پر سونے یا چاندی کا پانی چڑھانے
ملمع کاری electroplating کرنے کے کام آتی ہوں….ولہیم کوِنگ نے تجویز پیش کی کہ اگر بغداد بیٹری، کو تیزاب یا الکلی کے ساتھ بھرا جائے تو وہ ایک وولٹ کے قریب بجلی پیدا کرسکتی ہے۔
1970ء میں مصری آثارِ قدیمہ کے جرمن ماہر ارنے ایگبرخت Arne Eggebrecht نے بھی ثابت کیا کہ 2000
برس قبل ان بیٹریوں کا استعمال برقی ملمع کاری کے لیے ہوا کرتا تھا۔ اس خیال کی تصدیق کے لیے انہوں نے سونا، نمک اور انگور کاسرکہ لیا، سرکہ یا شراب ایک تیزابی محلول ہے، جو ان کے گمان میں قدیم لوگ بآسانی استعمال کرسکتے ہوں گے۔ پھر چند گھنٹوں میں اس کی مدد سے مصر کے
اوسائرس دیوتا کی قدیم مورتی کے آدھے حصّہ پر ملمّع کاری سے سونے کی ایک باریک پرت چڑھاکر دکھائی۔
لیکن یہ سوال اب بھی قائم تھا کہ کیا دھاتوں کی ملمع کاری کے علاوہ قدیم دور کے انسان بجلی کے دیگر استعمال سے بھی واقف تھے….؟
اٹھارہویں صدی میں ایجاد ہونے والی کم
وولٹ کی گلوانی galvanic بیٹریاں دھاتوں کی ملمّع کاری میں بہت اچھی طرح استعمال ہوتی تھیں۔
چند لوگوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ہوسکتا ہے کہ قدیم بغداد کے جادو کی جو قصّہ کہانیاں مشہور ہیں، وہ صرف جادوئی علم نہ ہو، بلکہ چند کیمیاگروں (جنہیں لوگ جادوگرسمجھتے تھے)کی ہی کارستانی ہو۔
ڈاکٹر پال کریڈک Paul Craddockجو کہ برٹش میوزیم میں قدیم مشرق وسطی میں ہونے والی دھات کاری metallurgyکے علم میں ماہر ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ یہ بیٹریاں شاید اس دور کے جادو گر اور پروہت اپنے مفاد میں استعمال کرتے ہوں گے۔ وہ اپنے دیوتاؤں کی آہنی مورتیوں میں ایسی کئی
بیٹریاں رکھ دیتے ہوں گے اور جب کوئی شخص اس مورتی کو چھوتا ہوگا تو اُسے ایک معمولی وولٹ کا بجلی کا جھٹکا لگتا ہوگا، یوں وہ چالاک پروہت اس طرح کم عقل اور سادہ لوح افراد پر اپنی ماورائیت کی دھاک بٹھاتے ہوں گے۔ جیسا کہ یونانی دیومالائی قصّوں میں مشہور ہے کہ راڈان اور
ہفس ٹس Hephaestus نامی دیوتا کے قابو میں بجلی تھی، اسی طرح ڈیلفی کے مندر میں بغیر آگ کے روشنی رہتی تھی۔ مصر کے علاقے دیندرا سے دریافت ہونے والے مقبروں کی دیواروں پر قدیم مصریوں کو بلب کے جیسا اوزار لیے دکھایا گیا ہے، جو توانائی یا بجلی کا منبع ہے
شاید اِن واقعات اور
روایات میں بھی اسی طرح کی بیٹری کا ہی کردار موجود ہو ….
کچھ سائنسدانوں نے خیال پیش کیا کہ شاید ان بیٹریوں کا طبّی علاج میں استعمال کیا جاتا ہوگا۔ قدیم یونانی برقی مچھلی electric fish کو پین کلر کے طور پر استعمال کرتے تھے اور درد سے نجات کے لیے اس مچھلی کو
اپنے پاؤں کے تلووں سے مس کرتے تھے۔ چینی طریقۂ علاج ایکوپنکچر بہت قدیم ہے اور وہ علاج کے لیے اب بھی ایک برقی کرنٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ان نظریات پر تمام سائنسدان متفق نہیں ہیں….
بغداد بیٹری پر تحقیق کرنے والے تقریباً تمام سائنسدانوں کا خیال ہے کہ بیٹریاں دھاتوں
کی برقی ملمع کاری electroplating کے لیے ہی استعمال کی جاتی ہوں گی۔ اس طرح کا استعمال آج بھی اور ایک عام کلاس روم کے پریکٹیکلز میں ہوتا ہے۔ جس میں ایک دھات کی سطح پر دوسری دھات کی پتلی لیئر چڑھائی جاتی ہے۔
ایک سوال ہمارے ذہن میں یہ بھی اُبھرتا ہے
کہ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ میسوپوٹیمیا (عراق) کی وہ عظیم تہذیب جس نے انسان کو سب کی بڑی ایجاد یعنی ‘‘تحریر’’ اور ‘‘پہیہ’’ دیا ،تو کیا وہ بجلی کے سیل بنانے پر قادر نہیں ہوسکتےتھے….؟؟
Share this Scrolly Tale with your friends.
A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.
