Mohammad Asif Profile picture

May 2, 2023, 5 tweets

#copied
میں دبئی میں ایک ائیر کنڈیشن فٹنگ اینڈ رئپیرنگ کمپنی میں ٹیکنیشن کا کام کرتا تھا۔ رات بارہ بجے قریبی ہسپتال سے کال آ گئی کہ مردہ خانے میں ٹھنڈک کا نظام رک گیا ہے جلد از جلد ٹھیک نہ کیا تو شدید گرمی کی وجہ سے لاشیں خراب ہو جائیں گی، میں نے ساتھ والے بندے کو کال کی تو اس نے

کال نہیں اٹھائی، میں نے حالات کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے موبائل وین نکالی اور دئیے گئے پتے پر پہنچ گیا۔
وہاں جاکر چیک کیا تو پتہ چلا فیوز اڑ گیا ہوا تھا۔ جلدی جلدی فیوز بدلا اور مشینیں دوبارہ کولنگ کرنے لگ گئیں، لیکن وہاں موجود نگران نے کہا کہ پچھلے تین گھنٹے سے یہ نظام بند پڑا

تو تم باری باری سارے سرد خانے کھول کر چیک کر دو کہ آیا سب میں یکساں کولنگ ہو رہی یا نہیں، اب وہ یہ کہہ کر چلا گیا اور رات کے اس پہر لاشوں سے بھرے سرد خانے چیک کرتے ہوئے مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا،
خیر میں نے ایک ایک سرد خانہ کھول کر کولنگ کا نظام چیک کرنا شروع کیا، وہاں کچھ لاشیں

کافی پرانی بھی سٹور تھیں۔ جب میں نے پندرویں خانے کو کھولا تو اس میں ایک باریش بزرگ کی لاش تھی، انکا چہرہ دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے ابھی سو رہے ہوں اور اٹھ کر بیٹھ جائیں گے، پتہ نہیں کیوں کسی نادیدہ طاقت نے مجھے انکے چہرے پر غور کرنے کو مجبور کر دیا، میں قریب ہوتے ہوتے بلکل لاش کے

چہرے کے اوپر پہنچ گیا، پھر اچانک وہ ہو گیا جس کا میں نے گمان بھی نہیں کیا تھا،
بزرگ نے آنکھیں کھولیں اور مجھے گریبان سے پکڑ لیا اور میری حالت تو ایسی تھی کہ چھوو تو جان نہیں کاٹو تو لہو نہیں پھر انہوں

Share this Scrolly Tale with your friends.

A Scrolly Tale is a new way to read Twitter threads with a more visually immersive experience.
Discover more beautiful Scrolly Tales like this.

Keep scrolling