*غربت دی چس* 🤔

ایک گاؤں میں غریب نائی رہا کرتا تھا جو ایک درخت کے نیچے کرسی لگا کے لوگوں کی حجامت کرتا ۔
مشکل سے گزر بسر ہورہی تھی۔ اس کے پاس رہنے کو نہ گھر تھا۔ نہ بیوی تھی نہ بچے تھے۔ صرف ایک چادر اور ایک تکیہ اس کی ملکیت تھی ۔
تھریڈ 👇
جب رات ہوتی تو وہ ایک بند سکول کے باہر چادر بچھاتا، تکیہ رکھتا اور سو جاتا.
ایک دن صبح کے وقت گاوں میں سیلاب آ گیا۔
اس کی آنکھ کھلی تو ہر طرف شور و غل تھا۔
وہ اٹھا اور سکول کے ساتھ بنی ٹینکی پر چڑھ گیا. چادر بچھائی، دیوار کے ساتھ تکیہ لگایا اور لیٹ کر لوگوں کو دیکھنے لگا ۔
لوگ اپنا سامان، گھر کی قیمتی اشیا لے کر بھاگ رہے تھے. کوئی نقدی لے کر بھاگ رہا ہے، کوئی زیور کوئی بکریاں تو کوئی کچھ قیمتی اشیا لے کر بھاگ رہا ہے۔
اسی دوران ایک شخص بھاگتا آ رہا تھا اس نے سونے کے زیور پیسے اور کپڑے اٹھا رکھے تھے۔
جب وہ شخص اس نائی کے پاس سے گزرا اوراسے سکون سے لیٹے ہوئے دیکھا توغصے سے بولا اوئے ساڈی ہر چیز اجڑ گئی اے۔
ساڈی جان تے بنی اے، تے تو ایتھے سکون نال لما پیا ہویا اییہ سن کرنائی بولا !
لالے اج ای تے غربت دی چس آئی اے
جب میں نے یہ کہانی سنی تو ہنس پڑا مگر پھر ایک خیال آیا کہ شاید روز محشر کا منظر بھی کچھ ایسا ہی ہوگا۔
جب تمام انسانوں سے حساب لیا جائے گا۔
ایک طرف غریبوں کا حساب ہو رہا ہو گا ۔
دو وقت کی روٹی، کپڑا ۔حقوق اللہ اور حقوق العباد
ایک طرف امیروں کا حساب ہو رہا ہو گا ۔
پلازے، دکانیں، فیکٹریاں، گاڑیاں، بنگلے، سونا اور زیوارات ملازم ۔ پیسہ ۔ حلال حرام ۔ عیش و آرام ۔ زکوۃ ۔ حقوق اللہ۔ حقوق العباد
اتنی چیزوں کا حساب کتاب دیتے ہوئے پسینے سے شرابور اور خوف سے تھر تھر کانپ رہے ہوں گے۔
تب شاید اسی نائی کی طرح غریب ان امیروں کو دیکھ رہے ہو گے۔
چہرے پر ایک عجیب سا سکون اور شاید دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں گےاج ای تے غربت دی چس آئی اے
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ہر ہر نعمت کا شکر ادا کرنے کی اور اللہ کی رضا کے مطابق استعمال اور تقسیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with درویش بابا

درویش بابا Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @Dervish_9

7 Sep
جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ رض كو دودھ پلايا گيا جو پسليوں كى طرف سے نكل گيا۔ طبيب نے كہا:
اے امير المؤمنين! وصيت كر ديجيے اسليے كہ آپ مزيد زندہ نہيں رہ سكتے۔
سيدنا عمر رضى اللہ عنہ نے اپنے بيٹے عبداللہ كو بلايا اور كہا:
تھریڈ 👇
ميرےپاس حذيفہ بن يمان كو لاؤ حذيفہ بن يمان وہ صحابى تھے جن كو رسول اللہﷺ نے منافقين كےناموں كى لسٹ بتائى تھى جس كو اللہ اللہ كے رسول اور حذيفہ كےعلاوہ كوئى نہ جانتا تھا حذيفہ رضى اللہ عنہ حاضر ہوئےتو امير المؤمنين سيدنا عمر رضى اللہ عنہ گويا ہوئےجبكہ خون آپكى پسليوں سےرس رہا تھا
حذيفہ! ميں تجھے اللہ كى قسم ديتا ہوں ، كيا رسول اللہﷺ نے ميرا نام منافقين ميں ليا ہے كہ نہيں؟
حذيفہ رضى اللہ عنہ روتے ہوئے كہنے لگے :
اے امير المؤمنين! يہ ميرے پاس رسول اللہﷺ كا راز ہے، ميں اس كو مرتے دم تك كسى كو نہيں بتا سكتا
Read 14 tweets
6 Sep
" پُرسرار بندے "
مسجِد نبوی میں جمعہ کے لیے لوگ جمع تھے امام نے منبر پر چڑھ کر خُطبہ پڑھنا شروع کیا اچانک خطبہ کے دوران امام چند لمحہ رُکا پھر پکارا
" یا ساریتہ الجبل " یا ساریتہ الجبل "
( اے ساریہ پہاڑ کی طرف , اے ساریہ پہاڑ کی طرف )
تھریڈ 👇
عین جس وقت امام یہ الفاظ پُکار رہا تھا ٹھیک اُسی وقت عراق کے شہر نہاوند میں اہلِ ایمان اور کفر کے درمیان معرکہ آخری مراحل میں تھا مسلم سپہ سالار ساریہ اور اس کی فوج دشمن کے نرغے میں آنی والی تھی کہ سپہ سالار ساریہ کے کانوں میں یہ الفاظ پڑے...
ساریہ پہاڑ کی طرف سپہ سالار نے پلٹ کر پہاڑ کی طرف دیکھا تو دشمن کا ایک دستہ انہیں نرغے میں لینے کے لیے آ رہا تھا سپہ سالار نے فوراً فوج کو دو حصوں میں تقسیم کر کے دشمن کی چال کو ناکام بنا دیا مسجدِ نبویؐ کے منبر پر بیٹھ کر عراق کے شہر نہاوند میں فوج کی کمانڈ کرنے
Read 4 tweets
7 Aug
کرم دین چوکیدار اپنی سائیکل کے ہینڈل سے گوشت کی چند تھیلیاں لٹکائے تیز تیز پیڈل مارتا ہوا اپنی دھن میں چلا جا رہا تھا اس کے چہرے پہ ایک انوکھی سی مسرت اور طمانیت کے آثار نظر آ رہے تھے ایک انتہائی غریب سے محلے میں پہنچ کر اس نے ایک گھر کے سامنے سائیکل روکی
جاری👇
اور گھر کا دروازہ بجا دیا کچھ دیر بعد اندر سے ایک نسوانی آواز آئی کہ جی کون؟ باجی میں ہوں کرم دین چوکیدار۔۔۔! اس کے بلند آواز سے جواب دیتے ہی دروازہ کھلا اور دوپٹے کے پلو سے چہرہ ڈھانپے ایک عورت نظر آئی!
کرم دین نے نگاہیں جھکاتے ہوئے اس خاتون کو بڑے احترام سے سلام کیا
جاری 👇
حال احوال پوچھا عید کی مبارک باد دی اور گوشت کی ایک تھیلی اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ لیں باجی یہ آپ کا حصہ ہے۔ اس عورت نے تھیلی لیتے ہوئے بڑے گلوگیر لہجے میں کرم دین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کرم دین میں تیرا شکریہ ادا نہیں کر سکتی بس اللہ
جاری 👇
Read 23 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!