1) #شہادت_امام_سجادع
#قلمکار
#تعمیرکردار
🔴 25 محرم شہادت امام سجاد علیہ السلام 🔴

آپ بتاریخ 15 جمادی الثانی 38 ھجری یوم جمعہ بمقام مدینہ منورہ پیدا ہوئے.
(اعلام الوری ص ۱۵۱ ومناقب جلد ۴ ص ۱۳۱)

علامہ مجلسی تحریر فرماتے ہیں کہ جب جناب شہربانو ایران سے مدینہ کے لیے روانہ ہو رہی
2) تھیں توجناب رسالت مآب نے عالم خواب میں ان کا عقدحضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ پڑھ دیا تھا (جلاء العیون ص ۲۵۶) ۔ اورجب آپ وارد مدینہ ہوئیں توحضرت علی علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام کے سپرد کرکے فرمایا کہ یہ وہ عصمت پرور بیبی ہے کہ جس کے بطن سے تمہارے بعد افضل اوصیاء
3) اور افضل کائنات ہونے والا بچہ پیدا ہو گا چنانچہ حضرت امام زین العابدین متولد ہوئے لیکن افسوس یہ ہے کہ آپ اپنی ماں کی آغوش میں پرورش پانے کا لطف نہ اٹھا سکے "" ماتت فی نفاسہابہ"" آپ کے پیدا ہوتے ہی ""مدت نفاس"" میں جناب شہربانو کی وفات ہو گئی.
(قمقام جلاء العیون).(عیون اخبار
4) رضا دمعة ساکبة جلد ۱ ص ۴۲۶)

کامل مبرد میں ہے کہ جناب شہربانو، بادشاہ ایران یزدجرد بن شہریار بن شیرویہ ابن پرویز بن ہرمز بن نوشیرواں عادل ""کسری"" کی بیٹی تھیں.
(ارشاد مفید ص ۳۹۱، فصل الخطاب)

علامہ طریحی تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے شہربانو سے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے
5) توانہوں نے کہا "شاہ جہاں" حضرت نے فرمایا نہیں اب "شہربانو" ہے.
(مجمع البحرین ص ۵۷۰)

↕نام، کنیت، القاب:
آپ کا اسم گرامی "علی"، کنیت ابومحمد، ابوالحسن اور ابوالقاسم تھی.
آپ کے القاب بےشمار تھے جن میں زین العابدین، سیدالساجدین، ذوالثفنات، اور سجاد و عابد زیادہ مشہور ہیں.
6) (مطالب السؤل ص ۲۶۱،شواہدالنبوت ص ۱۷۶،نورالابصار ص ۱۲۶،الفرع النامی نواب صدیق حسن ص ۱۵۸) ۔

↕لقب زین العابدین کی توجیہ:
علامہ شبلنجی کا بیان ہے کہ امام مالک کا کہنا ہے کہ آپ کو زین العابدین کثرت عبادت کی وجہ سے کہا جاتا ہے. (نورالابصار ص ۱۲۶)

علماء فریقین کا ارشاد ہے کہ حضرت
7) امام زین العابدین علیہ السلام ایک شب نماز تہجد میں مشغول تھے کہ شیطان اژدھے کی شکل میں آپ کے قریب آ گیا اور اس نے آپ کے پائے مبارک کے انگوٹھے کو منہ میں لےکر کاٹنا شروع کیا، امام جو ہمہ تن مشغول عبادت تھے اورآپ کا رجحان کامل بارگاہ ایزدی کی طرف تھا، ذرا بھی اس کے اس عمل سے
8) متاثر نہ ہوئے اور بدستور نماز میں منہمک و مصروف و مشغول رہے بالآخر وہ عاجز آ گیا اور امام نے اپنی نماز بھی تمام کر لی اس کے بعد آپ نے اس شیطان ملعون کو طمانچہ مار کر دور ہٹا دیا اس وقت ہاتف غیبی نے "انت زین العابدین" کی تین بارصدا دی اورکہا بے شک تم عبادت گزاروں کی زینت ہو،
9) اسی وقت آپ کا یہ لقب ہو گیا.
(مطالب السؤل ص ۲۶۲،شواہدالنبوت ص ۱۷۷)

علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ اژدھے کے دس سر تھے اور اس کے دانت بہت تیز اور اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور وہ مصلے کے قریب سے زمین پھاڑ کر نکلا تھا.
(مناقب جلد ۴ ص ۱۰۸)
ایک روایت میں اس کی وجہ یہ بھی بیان کی گئی
10) ہے کہ قیامت میں آپ کو اسی نام سے پکاراجائے گا.
(دمعة ساکبة ص ۴۲۶)

↕لقب سجاد کی توجیہ:
ذہبی نے طبقات الحفاظ میں بحوالہ امام محمد باقرعلیہ السلام لکھا ہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کو "سجاد" اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ تقریبا ہر کارخیر پر سجدہ فرمایا کرتے تھے. جب آپ
11) خدا کی کسی نعمت کا ذکر کرتے توسجدہ کرتے، جب کلام خدا کی آیت "سجدہ" پڑھتے تو سجدہ کرتے، جب دو شخصوں میں صلح کراتے توسجدہ کرتے اسی کا نتیجہ تھا کہ آپ کے مواضع سجود پر اونٹ کے گھٹوں کی طرح گھٹے پڑ جاتے تھے پھر انہیں کٹوانا پڑتا تھا.

↕آپ کا حلیہ مبارک:
امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ
12) آپ کا رنگ گندم گوں (سانولا) اور قد میانہ تھا آپ نحیف اور لاغر قسم کے انسان تھے.
(نورالابصار ص ۱۲۶، اخبارالاول ص ۱۰۹)

ملا مبین تحریر فرماتے ہیں کہ آپ حسن وجمال، صورت وکمال میں نہایت ہی ممتاز تھے. آپ کے چہرہ مبارک پرجب کسی کی نظر پڑتی تھی تو وہ آپ کا احترام کرنے اور آپ کی
13) تعظیم کرنے پر مجبور ہو جاتا تھا.
(وسیلة النجات ص ۲۱۹)
محمد بن طلحہ شافعی رقمطراز ہیں کہ آپ صاف کپڑے پہنتے تھے اورجب راستہ چلتے تھے تو نہایت خشوع کے ساتھ راہ روی میں آپ کے ہاتھ زانو سے باہرنہیں جاتے تھے.
(مطالب السؤل ص ۲۲۶،۲۶۴)

↕شان عبادت:
جس طرح آپ کی عبادت گزاری میں پیروی
14) ناممکن ہے اسی طرح آپ کی شان عبادت کی رقم طرازی بھی دشوار ہے. ایک وہ ہستی جس کا مطمع نظر معبود کی عبادت اورخالق کی معرفت میں استغراق کامل ہو اورجو اپنی حیات کا مقصد اطاعت خداوندی ہی کوسمجھتا ہو اورعلم ومعرفت میں حد درجہ کمال رکھتا ہو اس کی شان عبادت کی سطح کو قرطاس پر کیونکر
15) لایاجا سکتا ہے اور زبان قلم میں کس طرح کامیابی حاصل کر سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ علماء کی بے انتہا کاہش وکاوش کے باوجود آپ کی شان عبادت کا مظاہرہ نہیں ہوسکا.
"قد بلغ من العبادة مالم یبلغہ احد."
آپ عبادت کی اس منزل پر فائز تھے جس پرکوئی بھی فائز نہیں ہوا.
(دمعہ ساکبہ ص ۴۳۹)

اس
16) سلسلہ میں ارباب علم اورصاحبان قلم جو کچھ کہہ اورلکھ سکے ہیں ان میں سے بعض واقعات وحالات یہ ہیں:

🔷آپ کی حالت وضو کے وقت:
وضو نماز کے لئے مقدمہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی پر نماز کا دارومدار ہوتا ہے. امام زین العابدین علیہ السلام جس وقت مقدمہ نماز یعنی وضو کا ارادہ فرماتے تھے
17) آپ کے رگ و پے میں خوف خدا کے اثرات نمایاں ہوجاتے تھے،
علامہ محمد بن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جب آپ وضو کا قصد فرماتے تھے اور وضوکے لیے بیٹھتے تھے تو آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ زرد ہو جایا کرتا تھا یہ حالت بار بار دیکھنے کے بعد ان کے گھر والوں نے پوچھا کہ بوقت وضو آپ کے چہرہ کا
18) رنگ زرد کیوں پڑجایا کرتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ اس وقت میرا تصور کامل اپنے خالق ومعبود کی طرف ہوتا ہے اس لیے اس کی جلالت کے رعب سے میرا یہ حال ہو جایا کرتا ہے.
(مطالب السؤل ص ۲۶۲)

🔷عالم نمازمیں آپ کی حالت:
علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ آپ کو عبادت گزاری میں امتیاز کامل حاصل تھا.
19) رات بھر جاگنے کی وجہ سے آپ کا سارا بدن زرد رہا کرتا تھا اورخوف خدا میں روتے روتے آپ کی آنکھیں پھول جایا کرتی تھیں اور نماز میں کھڑے کھڑے آپ کے پاؤں سوج جایا کرتے تھے.
(اعلام الوری ص ۱۵۳)
اور پیشانی پرگھٹے رہا کرتے تھے اور آپ کی ناک کا سرا زخمی رہا کرتا تھا.
(دمعہ ساکبہ ص
20) ۴۳۹)
علامہ محمد بن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جب آپ نماز کے لۓ مصلی پر کھڑے ہوا کرتے تھے تو لرزہ براندام ہو جایا کرتے تھے لوگوں نے بدن میں کپکپی اور جسم میں تھرتھری کا سبب پوچھا تو ارشاد فرمایا کہ میں اس وقت خدا کی بارگاہ میں ہوتا ہوں اور اس کی جلالت مجھے ازخود رفتہ کر دیتی ہے
21) اور مجھ پر ایسی حالت طاری کر دیتی ہے.
(مطالب السؤل ص ۲۲۶)

ایک مرتبہ آپ کے گھر میں آگ لگ گئی اور آپ نماز میں مشغول تھے اہل محلہ اورگھر والوں نے بے حد شورمچایا اور حضرت کو پکارا حضور آگ لگی ہوئی ہے مگر آپ نے سر نیاز، سجدہ بے نیاز سے نہ اٹھایا. آگ بجھا دی گئی. اختتام نماز پر
22) لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ حضور آگ کا معاملہ تھا ہم نے اتنا شور مچایا لیکن آپ نے کوئی توجہ نہ فرمائی.
آپ نے ارشاد فرمایا "ہاں" مگرجہنم کی آگ کے ڈر سے نماز توڑ کر اس آگ کی طرف متوجہ نہ ہوسکا.
(شواہدالنبوت ص ۱۷۷)

ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ حضرت زین العابدین علیہ السلام نمازشب
23) سفر وحضر دونوں میں پڑھا کرتے تھے. اورکبھی اسے قضا نہیں ہونے دیتے تھے.
(مطالب السؤل ص ۲۶۳)

علامہ محمد باقر بحوالہ بحارالانوار تحریر فرماتے ہیں کہ امام علیہ السلام ایک دن نماز میں مصروف ومشغول تھے کہ امام محمد باقرعلیہ السلام کنوئیں میں گر پڑے. بچہ کے گہرے کنویں میں گرنے سے
24) ان کی ماں بے چین ہو کر رونے لگیں اور کنویں کے گرد پیٹ پیٹ کر چکر لگانے لگیں اورکہنے لگیں. ابن رسول اللہ محمد باقر غرق ہو گئے.
امام زین العابدین علیہ السلام نے بچے کے کنویں میں گرنے کی کوئی پرواہ نہ کی اور اطمینان سے نماز تمام فرمائی اس کے بعد آپ کنویں کے قریب آئے اور پانی کی
25) طرف دیکھا پھر ہاتھ بڑھا کر بلا رسی کے گہرے کنوئیں سے بچے کو نکال لیا بچہ ہنستا ہوا برآمد ہوا، قدرت خداوندی دیکھیے اس وقت نہ بچے کے کپڑے بھیگے تھے اورنہ بدن تر تھا.
(دمعہ ساکبہ ص ۴۳۰،مناقب جلد ۴ ص ۱۰۹)

امام شبلنجی تحریرفرماتے ہیں کہ طاؤس راوی کا بیان ہے کہ میں نے ایک شب
26) حجر اسود کے قریب جا کر دیکھا کہ امام زین العابدین بارگاہ خالق میں سجدہ ریزی کر رہے ہیں. میں اسی جگہ کھڑا ہو گیا. میں نے دیکھا کہ آپ نے ایک سجدہ کو بےحد طول دے دیا ہے. یہ دیکھ کر میں نے کان لگایا تو سنا کہ آپ سجدہ میں فرماتے ہیں:
"عبدک بفنائک مسکینک بفنائک سائلک بفنائک فقیرک
27) بفنائک."
یہ سن کر میں نے بھی انہیں کلمات کے ذریعہ سے دعا مانگی فورا قبول ہوئ
(نورالابصار ص ۱۲۶ طبع مصر، ارشادمفید ص ۲۹۶)

↕شبانہ روز ایک ہزار رکعت:
علماء کا بیان ہے کہ آپ شب وروز میں ایک ہزار رکعتیں ادا فرمایا کرتے تھے.
(صواعق محرقہ ص ۱۱۹، مطالب السؤل ۲۶۷)

چونکہ آپ کے
28) سجدوں کا کوئی شمار نہ تھا اسی لیے آپ کے اعضائے سجود"ثغنہ بعیر" کے گھٹے کی طرح ہو جایا کرتے تھے اورسال میں کئی مرتبہ کاٹے جاتے تھے.
(الفرع النامی ص ۱۵۸،دمعہ ساکبہ کشف الغمہ ص ۹۰)

علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ آپ کے مقامات سجود کے گھٹے سال میں دو بار کاٹے جاتے تھے اور ہرمرتبہ
29) پانچ تہ نکلتی تھی.
(بحارالانوارجلد ۲ ص ۳)
علامہ دمیری مؤرخ ابن عساکر کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ دمشق میں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے نام سے موسوم ایک مسجد ہے جسے"جامع دمشق" کہتے ہیں.
(حیواة الحیوان جلد ۱ ص ۱۲۱)

↕واقعہ کربلا اور کردار امام:
28 رجب 60 ھ کو آپ حضرت
30) امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ مدینہ سے روانہ ہو کر مکہ معظمہ پہنچے. چار ماہ قیام کے بعد وہاں سے روانہ ہوکر 2 محرم الحرام کو وارد کربلا ہوئے. وہاں پہنچتے ہی یا پہنچنے سے پہلے آپ علیل ہوگئے اور آپ کی علالت نے اتنی شدت اختیار کی کہ آپ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے وقت تک
31) اس قابل نہ ہوسکے کہ میدان میں جا کر درجہ شہادت حاصل کرتے. تاہم فراہم موقع پر آپ نے جذبات نصرت کو بروئے کار لانے کی سعی کی جب کوئی آواز استغاثہ کان میں آئی آپ اٹھ بیٹھے اورمیدان کار زار میں شدت مرض کے باوجود جا پہنچنے کی سعی بلیغ کی. امام کے استغاثہ پر تو آپ خیمہ سے بھی نکل
32) آئے اور ایک چوب خیمہ لے کر میدان کا عزم کر دیا. ناگاہ امام حسین کی نظر آپ پر پڑ گئی اور انہوں نے جنگاہ سے بقولے حضرت زینب کو آواز دی "بہن سید سجاد کو روکو ورنہ نسل رسول کا خاتمہ ہو جائے گا" حکم امام سے زینب نے سید سجاد کو میدان میں جانے سے روک لیا یہی وجہ ہے کہ سیدوں کا وجود
33) نظر آ رہا ہے اگر امام زین العابدین علیہ السلام علیل ہوکر شہید ہونے سے نہ بچ جاتے تو نسل رسول صرف امام محمد باقر میں محدود رہ جاتی، امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ مرض اور علالت کی وجہ سے آپ درجہ شہادت پر فائز نہ ہوسکے.
(نورالابصار ص ۱۲۶)

شہادت امام حسین کے بعدجب خیموں میں آگ
34) لگائی گئی تو آپ انہیں خیموں میں سے ایک خیمہ میں بدستور پڑے ہوئے تھے، ہماری ہزارجانیں قربان ہو جائیں، حضرت زینب سلام اللہ علیہا پر کہ انہوں نے اہم فرائض کی ادائیگی کے سلسلہ میں سب سے پہلا فریضہ امام زین العابدین علیہ السلام کے تحفظ کا ادا فرمایا اور امام کو بچا لیا.
الغرض رات
35) گزاری اورصبح نمودار ہوئی، دشمنوں نے امام زین العابدین کو اس طرح جھنجوڑا کہ آپ اپنی بیماری بھول گئے. آپ سے کہا گیا کہ ناقوں پرسب کو سوار کرو اور ابن زیاد کے دربار میں چلو، سب کو سوار کرنے کے بعد آل محمد کا ساربان پھوپھیوں، بہنوں اور تمام مخدرات کو لئے ہوئے داخل دربار ہوا.
36) حالت یہ تھی کہ عورتیں اور بچے رسیوں میں بندھے ہوئے اور امام لوہے میں جکڑے ہوئے دربارمیں پہنچ گئے. آپ چونکہ ناقہ کی برہنہ پشت پرسنبھل نہ سکتے تھے اس لیے آپ کے پیروں کوناقہ کی پشت سے باندھ دیا گیا تھا. دربارکوفہ میں داخل ہونے کے بعد آپ اورمخدرات عصمت قیدخانہ میں بند کر دئیے
37) گئے، سات روز کے بعد آپ سب کو لئے ہوئے شام کی طرف روانہ ہوئے اور 19 منزلیں طے کر کے تقریبا 36 یوم میں وہاں پہنچے.
کامل بہائی میں ہے کہ 16 ربیع الاول 61 هجری کو بدھ کے دن آپ دمشق پہنچے ہیں.
اللہ رے صبر امام زین العابدین بہنوں اور پھوپھیوں کا ساتھ اور لب شکوہ پر سکوت کی مہر.
38) حدود شام کا ایک واقعہ یہ ہے کہ آپ کے ہاتھوں میں ہتھکڑی، پیروں میں بیڑی اور گلے میں خاردار طوق آہنی پڑا ہوا تھا اس پرمستزاد یہ کو لوگ آپ برسا رہے تھے اسی لیے آپ نے بعد واقعہ کربلا ایک سوال کے جواب میں "الشام الشام الشام" فرمایا تھا.
(تحفہ حسینہ علامہ بسطامی)

شام پہنچنے کے
39) کئی گھنٹوں یا دنوں کے بعد آپ آل محمد کو لئے ہوۓ سرہائے شہداء سمیت داخل دربار ہوئے پھر قیدخانہ میں بند کر دیئے گئے تقریبا ایک سال قید کی مشقتیں جھیلیں.

قیدخانہ بھی ایسا تھا کہ جس میں تمازت آفتابی کی وجہ سے ان لوگوں کے چہروں کی کھالیں متغیر ہو گئی تھیں.
(لہوف)
مدت قید کے بعد
40) آپ سب کو لئے ہوئے 20 صفر 62 هجری کو وارد ہوئے آپ کے ہمراہ سرحسین بھی کر دیا گیا تھا، آپ نے اسے اپنے پدربزرگوار کے جسم مبارک سے ملحق کیا.
(ناسخ تواریخ)

8 ربیع الاول 62 ھجری کو آپ امام حسین کا لٹا ہوا قافلہ لئے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے، وہاں کے لوگوں نے آہ وزاری اور کمال رنج
41) وغم سے آپ کا استقبال کیا. 15 شبانہ و روز نوحہ و ماتم ہوتا رہا.
(تفصیلی واقعات کے لیے کتب مقاتل و سیر ملاحظہ کی جائیں)

اس عظیم واقعہ کا اثر یہ ہوا کہ زینب کے بال اس طرح سفید ہوگئے تھے کہ جاننے والے انہیں پہچان نہ سکے.
(احسن القصص ص ۱۸۲ طبع نجف)

رباب نے سایہ میں بیٹھنا چھوڑ
42) دیا.
امام زین العابدین تاحیات گریہ فرماتے رہے.
(جلاء العیون ص ۲۵۶)

اہل مدینہ یزید کی بیعت سے علیحدہ ہو کر باغی ہو گئے بالآخر واقعہ حرہ کی نوبت آ گئی.

↕معرکہ کربلا کی غمگین داستان تاریخ اسلام ہی کی نہیں بلکہ تاریخ عالم کا افسوسناک سانحہ ہے حضرت امام زین العابدین علیہ
43) السلام اول سے آخر تک اس ہوش ربا اور روح فرسا واقعہ میں اپنے باپ کے ساتھ رہے اور باپ کی شہادت کے بعد خود اس المیہ کے ہیرو بنے اور پھر جب تک زندہ رہے اس سانحہ کا ماتم کرتے رہے.

10 محرم 61هجری کا واقعہ، یہ اندوہناک حادثہ جس میں اٹهارہ (18) بنی ہاشم اور بہتر (72) اصحاب و انصار
44) کام آئے، حضرت امام زین العابدین کی مدت العمر گھلاتا رہا اور مرتے دم تک اس کی یاد فراموش نہ ہوئی اور اس کاصدمہ جانکاہ دور نہ ہوا، آپ یوں تو اس واقعہ کے بعد تقریبا چالیس سال زندہ رہے مگر لطف زندگی سے محروم رہے اور کسی نے آپ کو بشاش اور فرحناک نہ دیکھا، اس جانکاہ واقعہ کربلا
45) کے سلسلہ میں آپ نے جابجا خطبات ارشاد فرمائے ہیں جو پوسٹ کے طولانی ہو جانے کی وجہ سے نہیں لکھے جا رہے.

↕شہادت اور بادشاہان وقت:
آپ کی ولادت بادشاہ دین و ایمان حضرت علی علیہ السلام کے عہد عصمت مہد میں ہوئی پھر امام حسن علیہ السلام کا زمانہ رہا، پھر بنی امیہ کی خالص دنیاوی
46) حکومت ہو گئی. صلح امام حسن کے بعد سے 60 ھ تک معاویہ بن ابی سفیان بادشاہ رہا. اس کے بعد اس کا فاسق و فاجر بیٹا یزید 64 ھ تک حکمران رہا. 64 ھ میں معاویہ بن یزید ابن معاویہ اور مروان بن حکم حاکم رہے. 65 ھ سے 86 ھ تک عبدالملک بن مروان حاکم اور بادشاہ رہا پھر 86 ھ سے 96 ھ تک
47) ولید بن عبدالملک نے حکمرانی کی اور اسی نے 95ھ میں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کو زہر دغا سے شہید کر دیا.
(تاریخ آئمہ ۳۹۲،وصواعق محرقہ ص ۱۲،نورالابصار ص ۱۲۸)

#شہادت_امام_سجادع
#قلمکار
#تعمیرکردار

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with ‏🇵🇰افتخــــار نقـــــوی🇵🇰

‏🇵🇰افتخــــار نقـــــوی🇵🇰 Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @Iftikhar_hyder

18 Sep
1) #قلمکار
#تعمیرکردار
★سلطان صلاح الدین ایوبی کا سنہرہ قول★
اگر تم نے کسی قوم کو تباہ کرنا ہے تو اس کی نوجوان نسل میں بے حیائی پھیلا دو۔۔۔

سلطان کا یہ عظیم قول تاریخ کے آئینے میں۔۔!!

یہ تاریخ کا وہ منظر ہے ،جب جولائی 1187ء کو حطین کے میدان میں سات صلیبی حکمرانوں کی متحدہ
2) فوج کو جو مکہ اور مدینے پر قبضہ کرنے آئی تھی ، ایوبی سپاہ نے عبرتناک شکست دے کر مکہ اور مدینہ کی جانب بری نظر سے دیکھنے کا انتقام لے لیا تھا اور اب وہ حطین سے پچیس میل دور عکرہ پر حملہ آور تھا، سلطان صلاح الدین ایوبی نے یہ فیصلہ اِس لیے کیا تھا کہ عکرہ صلیبیوں کا مکہ تھا،
3) سلطان اُسے تہہ تیغ کرکے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کا انتقام لینا چاہتا تھا، دوسرے بیت المقدس سے پہلے سلطان عکرہ پر اِس لیے بھی قبضہ چاہتا تھا کہ صلیبیوں کے حوصلے پست ہو جائیں اور وہ جلد ہتھیار ڈال دیں، چنانچہ اُس نے مضبوط دفاع کے باوجود عکرہ پر حملہ کردیا
اور 8جولائی 1187ء کو
Read 15 tweets
16 Sep
1) #قلمکار
#تعمیرکردار
اس واقعہ کو غور سے پڑھیں۔

خاک ڈالنے والے ڈالتے رہیں
مگر پرعزم انسان اپنا راستہ کبھی نہیں بدلتا۔۔۔۔۔
ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے گڑھے میں جا گرا اور زور زور سے آوازیں نکالنےلگا
گھوڑے کا مالک کسان تھا جو کنارے پہ کھڑا اسے بچانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا
جب
2) اسے کوئی طریقہ نہیں سوجھا تو ہار مان کر دل کو تسلی دینے لگا کہ گھوڑا تو اب بوڑھا ہو چکا ہے
وہ اب میرے کام کا بھی نہیں رہا چلو اسے یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں اور گڑھے کو بھی آخر کسی دن بند کرنا ہی پڑے گا اس لیے اسے بچا کر بھی کوئی خاص فائدہ نہیں
یہ سوچ کر اس نے اپنے
اپنے پڑوسیوں کی
3) مدد لی اور گڑھا بند کرنا شروع کر دیا
سب کے ہاتھ میں ایک ایک بیلچہ تھا جس سے وہ مٹی بجری اور کوڑا کرکٹ گڑھےمیں ڈال رہے تھے
گھوڑا اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا
اس نے اور تیز آواز نکالنی شروع کر دی
کچھ ہی لمحے بعد گھوڑا بالکل خاموش سا ہو گیا
جب کسان نے جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران
Read 10 tweets
30 Aug
1) #لبيك_ياحسين_ع
#قلمکار
#تعمیرکردار
«اِنّى ما خَرَجتُ اَشراً و لا بَطراً و لا مُفسداً و لا ظالماً، اِنّما خرجتُ لِطلَبِ الاِصلاح فى اُمَّهِ جدّى، اُريدُ اَن آمُرَ بالمعروفِ و اَنهى عن المنكر و اُسير بسيرهِ جدّى و اَبى علىّ بن اَبيطالب »؛میں سرکشی اور مقام طلبی کی خاطر یا ظلم و
2) فساد پھیلانے کی خاطر نہیں چلا ہوں بلکہ میرا مقصد صرف نانا کی امت کی اصلاح کرنا، اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا اور بابا کی سیرت پر عمل پیرا ہونا ہے۔ 
کربلا ایک ایسی عظیم درسگاہ ہے جس نے بشریت کو زندگی کے ہر گوشہ میں درس انسانیت دیا ہے اور ہر صاحب فکر کو اپنی
3) عظمت کے سامنے جھکنے پر مجبور کردیا ہے۔ روز عاشورکی تعلیمات ہر انسان کے لیے ابدی زندگی کا سرمایا ہیں کہ جن میں سے چند ایک کی طرف ذیل میں اشارہ کیا جاتا ہے:
۱: حریت اور آزادی
تحریک کربلاکا سب سے اہم درس آزادی، حریت اور ظلم و استبداد کے آگے نہ جھکنا ہے۔
Read 46 tweets
28 Aug
1) #قلمکار
#تعمیرکردار
کربلا میں شہید ھونے والے امام حسین کے رُفقاء کی مکمل فہرست اور اُنکا مختصر تعارف.
1. حضرت حر ابن یزید الریاحی
2. علی ابن حر الریاحی
3۔ نعیم بن العجلا الانصاری
4۔عمران بن کعب الاشجعی
5۔ حنظلہ ابن عمر الشیبانی
6۔ قاسط بن زہیر التغلبی
7۔ کردوس بن زہیر التغلبی
2) 8۔ کنانہ بن عتیق التغلبی
9۔ عمر بن صبیقی الضبعی
10.ضرغامہ ابن مالک التغلبی
11.غامر بن مسلم العبدی
12.سیف ابن مالک العبدی
13۔عبد الرحمان الارجبی
14.مجمع بن عبداللہ العامذی
15.حیان بن حارث السلمانی
16۔عمرو بن عبداللہ الجندعی
17۔حلاس بن عمر الراسبی
18 ۔نعمان بن عمرالراسبی
3) 19۔سوار ابن ابی عمیر الہمدانی
20۔ عمار ابن سلامتہ الدالانی
21۔ زاہر بن عمر الکندی
22۔ جبلہ ابن علی الشیبانی
23. مسعود بن حجاج التیمی
24. حجاح ابن بدر التیمیمی السعدی
25. عبداللہ ابن بشر الخثعمی
26۔ عمار ابن حسان الطائی
27۔عبداللہ ابن عمیر الکلبی
28۔ مسلم ابن کشیر الازدی
Read 115 tweets
18 Aug
#قلمکار
#تعمیرکردار

سقراط کی درس گاہ کا صرف ایک اصول تھا، اور وہ تھا

🍁برداشت🍁
یہ لوگ ایک دوسرے کے خیالات تحمل کے ساتھ سُنتے تھے، یہ بڑے سے بڑے اختلاف پر بھی ایک دوسرے سے الجھتے نہیں تھے، سقراط کی درسگاہ کا اصول تھا اس کا جو شاگرد ایک خاص حد سے اونچی آواز میں بات کرتا تھا۔۔👇
یا پھر دوسرے کو گالی دے دیتا تھا یا دھمکی دیتا تھا یا جسمانی لڑائی کی کوشش کرتا تھا اس طالب علم کو فوراً اس درسگاہ سے نکال دیا جاتا تھا۔
سقراط کا کہنا تھا برداشت سوسائٹی کی روح ہوتی ھے،
سوسائٹی میں جب برداشت کم ہوجاتی ہے تو مکالمہ کم ہوجاتا ھے اور جب مکالمہ کم ہوتا ہے تو۔۔۔
👇👇
معاشرے میں وحشت بڑھ جاتی ھے۔
اس کا کہنا تھا اختلاف، دلائل اور منطق، پڑھے لکھے لوگوں کا کام ہے، یہ فن جب تک پڑھے لکھے عالم اور فاضل لوگوں کے پاس رہتا ہے اُس وقت تک معاشرہ ترقی کرتا ھے۔
لیکن جب مکالمہ یا اختلاف جاہل لوگوں کے ہاتھ آجاتا ہے تو پھر معاشرہ انارکی کا شکار ہوجاتا ھے۔۔
👇
Read 4 tweets
15 Aug
#قلمکار
#تعمیرکردار
السلام علیکم دوستو!
پچھلے دنوں میں ایک عجیب بات دیکھی، بعض احباب نے مجھے پیغام دیا کہ "کیوں بعض دوست درود کو آدھا لکھتے ہیں؟" میں حیران ہوا کہ ایسا تو دیکھا نہیں۔
تب تحقیقا" پوچھا،کہاں؟
جواب میں فرمایا، اللَّهُمَّ صَلِ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ"
👇👇
تب فیصلہ کیا کہ اس پر تفصیل لکھوں تاکہ ذہن سے شبہات کو دور کیا جاسکے۔
درود ابراھیمی ع یوں ہے۔

اللَّهُمَّ صَلِ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍكَمَاصَلَّیْتَ عَلَى إِبْرَاهِیمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِیمَ إِنَّكَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ
اے ﷲ!رحمتیں نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ
👇
علیہ وآلہ وسلم پر اور ان کی آل پر،جس طرح تونے رحمتیں نازل کیں حضرت ابراہیم ع پر اور انکی آل پر،بے شک تو تعریف کا مستحق بڑی بزرگی والا ہے

اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍكَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِیمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِیمَ إِنَّكَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ
👇
Read 7 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!