#ابن_انشاء
جمیل الدین عالی اخبار جنگ میں کالم لکھا کرتے تھے #نقار_خانے میں
ایک دفعہ ابنِ انشاء کا ایک واقعہ لکھا-

انشاء جی کے آخری ایام میں کینسر کے مرض کے سلسلے میں ان کے ساتھ راولپنڈی کے CMH میں گیا تو انہیں وہاں داخل کر لیا اور ٹیسٹوں کے بعد ہمیں
++++
بتایا کہ کینسر پھیل گیا ہے اور تھوڑے دن کی بات رھ گئی ہے کیوں کہ علاج کافی وقت سے چل رہا تھا ہم کئی بار یہاں آ چکے تھے
شام کے وقت ہم دونوں ہسپتال کے اپنے کمرے میں باتیں کر رہے تھے کہ کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی میں نے دروازہ کھولا تو میرے سامنے ایک بہت خوبصورت تیس سالہ عورت
++++
ہاتھوں میں پھولوں کا گلدستہ لئے کھڑی مُسکرا رہی تھی میں اُسے کمرے میں لے آیا
محترمہ نے گلدستہ انشاء جی کے ہاتھ میں دیا اور رونا شروع کر دیا اور کہا کہ انشاء جی میں آپ کی فین ہوں اور آپ میرے آئیڈیل ہیں مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ کا کینسر پھیل گیا ہے اور آخری اسٹیج پر ہے
++++
میں اللّٰہ سے دُعا کرتی ہوں کہ وہ میری زندگی کے پانچ سال آپ کو دے دے
میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں میں اپنی ساری زندگی آپ کو دے دیتی لیکن میری مجبوری یہ ہے کہ میرے چھوٹے چھوٹے دو بچے ہیں جن کو مجھے پالنا ہے میں پھر بھی سچے دل سے پانچ سال آپ کو دے رہی ہوں
انشاء جی اُس کی اس
++++
بات پر زور سے ہنسے اور کہا ایسی کوئی بات نہیں ہے میں ٹھیک ہوں
خاتون تقریباً ایک گھنٹہ بیٹھنے کے بعد چلی گئی
تھوڑی دیر بعد انشاء جی رونے لگے اور کہا کہ دیکھو جمیل الدین یہ میری فین ہے اور دو بچوں کی ماں بھی ہے اور مجھے اپنی زندگی کے پانچ سال دینا چاہتی ہے اس کو کیا پتہ کہ
++++
ایک دن بھی کتنا قیمتی ہوتا ہے میرا تو وقت آ گیا ہے اللّٰہ اسے اپنے بچوں میں خوش وخرم رکھے میں اُس رات انشاء کے ساتھ ہسپتال میں رہا اور اگلے روز میں نے دو دن کی اجازت لی کہ میں اپنے عزیزوں سے مل آؤں جو کہ پنڈی میں رہتے تھے
میں دو روز بعد واپس آیا تو انشاء نے مجھے اپنی
++++
اپنی تازہ نظم
اب عمر کی نقدی ختم ہوئی اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے رو رو کر سنائی جس میں اُس خاتون کے پانچ سالوں کا ذکر بھی کیا،
انشاء جی پچاس سال کی عمر میں اللّٰہ کو پیارے ہو گئے تھے-
اُن کے لئے اور جمیل الدین عالی کے لئے دعا کی درخواست ہے
#أقتباس
#سبن_انشاء

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Shuaib Rehman Ⓜ

Shuaib Rehman Ⓜ Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @ShuaibRaahman

4 Aug
#سر_محمد_اقبال اور پاکستان کا #علامہ_اقبال دو مختلف شخصیات ہیں:

پاکستان سے پہلے والے اقبال ایک شاعر اور عام انسانوں کی صفات رکھنے والی شخصیت ہے, جس نےمختلف موضوعات شاعری بھی کی اور بادشاہوں کے قصیدے بھی لکھے اور محبت بھی.
اقبال نے عشق بھی کیا اور اس بازار جاکر گانے بھی سنے,
++++
عطیہ فیضی اور Emma Wegenast کو عشقیہ خطوط میں اپنے لطیف جزبات سے آگاہ بھی کیا, اور سچی محبت نہ ملنے کے دکھڑے بھی بیان کئے. یہ سب ایک نارمل انسان کا رویہ ہے کوئی بری یا اچھنبے کی بات نہیں.
اب آئیں پاکستانی علامہ اقبال کی طرف, یہ ایک دیومالائی کردار ہے جسے سیاسی ٹھگوں,
++++
منافق دینی حلقوں اور سب سے بڑھ کر اسٹیبلشمنٹ نے گھڑا. ان حلقوں کو اپنے مفادات پانے کے لئے ایک بت تراشنا تھا تو انکے ہتھے اقبال چڑھ گیا.
مختلف مذموم مقاصد کے حصول کی خاطر اقبال کے بارے میں ایسی دروغ گوئی کی کہ انکی زندگی کے بارے میں ایک عام انسان کو سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا
++++
Read 10 tweets
9 Jul
#محمد_علی
"محمد علی کے ماضی سے ایک ورق"
اداکار محمد علی نے مصیبت زدہ شخص کو پچاس ہزار روپے قرض تو دے دیا
لیکن پہلے اس سے تین روپے مانگ لئے۔

کوٹھی کے خوبصورت لان میں سردی کی ایک دوپہر، میں اور علی بھائی بیٹھے گفتگو کر رہے تھے۔ ملازم نے علی بھائی سے آ کر کہا کہ باہر
++++
کوئی آدمی آپ سے ملنے آیا ہے۔ یہ اس کا چوتھا چکر ہے۔ علی بھائی نے اسے بلوا لیا۔ کاروباری سا آدمی تھا۔
لباس صاف ستھرا مگر چہرے پر پریشانی سے جھلک رہی تھی۔ شیو بڑھی ہوئی ، سرخ آنکھیں اور بال قدرے سفید لیکن پریشان۔ وہ سلام کرکے کرسی پر بیٹھہ گیا تو علی بھائی نے کہا۔"جی فرمایئے"
++++
’’ فرمانے کے قابل کہاں ہوں صاحب جی ! کچھہ عرض کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
اس آدمی نے بڑی گھمبیر آواز میں کہا اور میری طرف دیکھا جیسے وہ علی بھائی سے کچھہ تنہائی میں کہنا چاہتا تھا۔ علی بھائی نے اس سے کہا:
’’آپ ان کی فکر نہ کیجئے جو کہنا ہے کہیے‘‘
اس آدمی نے کہا ’’ چوبرجی میں میری برف
++++
Read 12 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!