BinGhazi Profile picture
15 Sep, 53 tweets, 11 min read
"نزول سیدنا عیسیؑ پر قرآنی دلائل"

پچھلے سبق میں ہم نے سیدنا عیسیؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے قرآنی دلائل پیش کئے تھے اور جن مفسرین کی مرزاقادیانی نے تعریف کی ہوئی ہے ان کے تفسیری حوالہ جات بھی لکھے تھے۔

اس سبق میں ہم سیدنا عیسیؑ کے دوبارہ نزول پر قرآنی دلائل کا جائزہ لیں گے۔
اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں سیدنا عیسیؑ کو قیامت کی نشانیوں میں سے بتایا ہے۔یعنی جب سیدنا عیسیؑ کا دوبارہ آسمان سے نزول ہوگا اس کے بعد قیامت نزدیک ہوگی۔جیسا کہ مندرجہ ذیل آیت میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ
"وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ"

اور یقین رکھو کہ وہ (یعنی عیسیٰؑ) قیامت کی ایک نشانی ہیں۔اس لئے تم اس میں شک نہ کرو،اور میری بات مانو،یہی سیدھا راستہ ہے۔

(سورۃ الزخرف آیت نمبر 61)
اس آیت میں اللہ تعالٰی سیدنا عیسیؑ کو قیامت کی نشانیوں میں سے قرار دے رہے ہیں۔ یعنی جب وہ نازل ہوں گے وہ وقت قیامت کے بہت قریب ہوگا۔

قرآن مجید میں ایک اور آیت میں اللہ تعالٰی سیدنا عیسیؑ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ
"وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا"

اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو اس(عیسیٰؑ) کی موت سے پہلے اس (عیسیٰؑ) پر ایمان نہ لائے،اور قیامت کے دن وہ ان لوگوں کے خلاف گواہ بنیں گے۔
(سورۃ النساء آیت نمبر 159)

اس آیت کی تشریح میں 2 قسم کے تفسیری اقوال ملتے ہیں۔

پہلا قول

پہلا قول یہ ہے کہ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ سیدنا عیسیؑ جب دوبارہ زمین پر تشریف لائیں گے تو ہر اہل کتاب سیدنا عیسیؑ کی وفات سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے
دوسرا قول

دوسرا قول یہ ہے کہ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ہر اہل کتاب اپنی موت سے پہلے سیدنا عیسیؑ ایمان لے آتاہے۔

مفسرین نے دونوں قسم کے اقوال کو اپنی تفاسیر میں نقل کیا ہے۔لیکن زیادہ راجح پہلا قول ہی ہے۔

دونوں اقوال میں تطبیق یہ ہے کہ جب تک سیدنا عیسیؑ کا نزول نہیں ہوتا اس
وقت تک ہر اہل کتاب اپنی موت سے پہلے سیدنا عیسیؑ پر ایمان لے آتا ہے۔اور جب سیدنا عیسیؑ کا نزول ہوجائے گا اس وقت تمام اہل کتاب سیدنا عیسیؑ کی وفات سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔

اس آیت سے پتہ چلا کہ سیدنا عیسیؑ کی ابھی وفات نہیں ہوئی اور قرب قیامت جب وہ واپس تشریف لایئں گے تو
اہل کتاب سیدنا عیسیؑ پر ایمان لے آئیں گے۔

اس آیت کی تشریح درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے۔

"عَنْ أَبی هُرَيْرَةَ ؓ،قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلًا فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ
وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ حَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ثُمَّ، يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا
لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا۔سورة النساء آية 159"

"حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،وہ زمانہ قریب ہے کہ عیسیٰ ابن مریمؑ تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی
حیثیت سے نازل ہوں گے۔وہ صلیب کو توڑ دیں گے، سور کو مار ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے۔ اس وقت مال کی اتنی کثرت ہو جائے گی کہ کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا۔اس وقت کا ایک سجدہ «دنيا وما فيها» سے بڑھ کر ہو گا۔پھر ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو۔
«وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا»
"اور کوئی اہل کتاب ایسا نہیں ہو گا جو عیسیٰؑ کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوں گے۔"

(بخاری حدیث نمبر 3448، باب نزول عیسیٰ بن مریمؑ)
لیجئے قرآن مجید کی ان آیات سے سیدنا عیسیؑ کا دوبارہ نزول بھی ثابت ہوگیا۔

اب ان آیات کی تفسیر ان مفسرین سے دیکھتے ہیں جن مفسرین کی مرزا غلام احمد قادیانی نے تعریف کی ہے یا ان کو مجدد تسلیم کیا ہے۔

1)امام جلال الدین سیوطیؒ:

مرزاقادیانی نے امام جلال الدین سیوطیؒ کو نویں صدی کا
مجدد تسلیم کیا ہے۔

(عسل مصفی جلد 1 صفحہ 162)

اور مرزا صاحب نے امام جلال الدین سیوطیؒ کی تعریف میں یوں لکھا ہے۔

"امام سیوطی کا مرتبہ اس قدر بلند تھا کہ انہیں جب ضرورت پیش آتی وہ حضورﷺ کی بالمشافہ زیارت کرکے ان سے حدیث
دریافت کرلیا کرتے تھے۔"

(ازالہ اوہام صفحہ 151 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 177)
آیت نمبر 1

"وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ"

ہماری پیش کردہ پہلی آیت کی تشریح میں امام جلال الدین سیوطیؒ،امام فریابیؒ،سعید بن منصورؒ،مسددؒ،عبد بن حمیدؒ،ابن ابی حاتمؒ اور طبرانیؒ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ
انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ کی یہ تفسیر نقل کی ہے کہ

"اللہ تعالٰی کے فرمان "وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ" سے مراد سیدنا عیسیؑ کا قیامت سے پہلے تشریف لانا ہے۔"

اس کے علاوہ امام سیوطیؒ نے امام عبد بن حمیدؒ کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ تفسیر نقل کی ہے کہ
اس سے مراد سیدنا عیسیؑ کا تشریف لانا ہے۔ آپ چالیس سال زمین میں زندہ رہیں گے۔"

(تفسیر در منثور،تفسیر سورۃ الزخرف آیت نمبر 61)

آیت نمبر 2

"وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا"
ہماری پیش کردہ دوسری آیت کی تشریح میں امام جلال الدین سیوطیؒ نے امام عبدالرزاقؒ، عبد بن حمیدؒ اور ابن منذرؒ کے حوالے سے حضرت ابوقتادہؒ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ

"جب حضرت عیسیؑ آسمان سے اتریں گے تو تمام دینوں کے پیروکار آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ اور ان پر گواہ ہونے کا مفہوم یہ ہے
کہ حضرت عیسیؑ نے اپنے رب کے پیغام کو پہنچایا اور اپنے بارے میں اللہ کا بندہ ہونے کا اقرار کیا۔"

اس کے علاوہ امام سیوطیؒ نے امام ابن ابی شیبہؒ،عبد بن حمیدؒ،امام مسلمؒ اور امام بخاریؒ کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ

"رسول اللہﷺ نے فرمایا:
"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ زمانہ قریب ہے کہ عیسیٰ ابن مریمؑ تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ وہ صلیب کو توڑ دیں گے، سور کو مار ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے۔ اس وقت مال کی اتنی کثرت ہو جائے گی کہ کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا۔
اس وقت کا ایک سجدہ «دنيا وما فيها» سے بڑھ کر ہو گا۔ پھر ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو۔
«وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا»
"اور کوئی اہل کتاب ایسا نہیں ہو گا جو عیسیٰؑ کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے اور قیامت
کے دن وہ ان پر گواہ ہوں گے۔"

(تفسیر در منثور،تفسیر سورۃ النساء آیت نمبر 159)

مرزا صاحب نے جن کی اس قدر تعریف کی ہے ان کا درج ذیل عقیدہ ان کی تفسیر سے ثابت ہوا۔

1)سیدنا عیسیؑ کا دوبارہ زمین پر تشریف لانا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔
2)سیدنا عیسیؑ جب قرب قیامت دوبارہ تشریف لائیں گے تو اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔

2)حافظ ابن کثیرؒ:

مرزا صاحب نے حافظ ابن کثیرؒ کو چھٹی صدی کا مجدد تسلیم کیا ہے۔

(عسل مصفی جلد 1 صفحہ 162)
اس کے علاوہ مرزا صاحب نے حافظ ابن کثیرؒ کو ان اکابر ومحققین میں سے تسلیم کیا ہے۔ جن کی آنکھوں کو خداتعالیٰ نے نور معرفت عطا کیا تھا۔

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 168 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 168)
آیت نمبر 1

"وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ"

ہماری پیش کردہ پہلی آیت کی تشریح میں ابن کثیر لکھتے ہیں کہ

واضح رہے کہ مراد یہاں حضرت عیسیٰؑ کا قیامت سے پہلے کا نازل ہونا ہے جیسے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے
فرمایا۔
وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا
(النسآء:159)

یعنی ان کی موت سے پہلے ایک ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا۔یعنی حضرت عیسیٰؑ کی موت سے پہلے قیامت کے دن یہ ان پر گواہ ہوں گے۔
اس مطلب کی پوری وضاحت اسی آیت کی دوسری قرأت سے ہوتی ہے جس میں ہے۔

وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ
(الزخرف:61)

یعنی جناب روح اللہؑ قیامت کے قائم ہونے کا نشان اور علامت ہیں۔

حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں یہ نشان ہیں
قیامت کے لئے حضرت عیسیٰ بن مریمؑ کا قیامت سے پہلے آنا۔اسی طرح روایت کی گئی ہے۔

حضرت ابو ہریرة ؓ سے اور حضرت عباس سے اور یہی مروی ہے ابولعالیہؒ،ابو مالکؒ،عکرمہؒ، حسنؒ،قتادہؒ،ضحاکؒ وغیرہ سے۔اور متواتر احادیث میں رسول اللہﷺ نے خبر دی ہے کہ قیامت کے دن سے پہلے حضرت عیسیٰؑ امام عادل
عادل اور حاکم باانصاف ہو کر نازل ہوں گے۔

(تفسیر ابن کثیر،تفسیر سورۃ الزخرف آیت نمبر 61)

آیت نمبر 2

"وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا"
ہماری پیش کردہ دوسری آیت کی تشریح میں ابن کثیرؒ لکھتے ہیں کہ

"جناب روح اللہؑ کی موت سے پہلے جملہ اہل کتاب آپ پر ایمان لائیں گے اور قیامت تک آپ ان کے گواہ ہوں گے۔

امام ابن جریرؒ فرماتے ہیں اس کی تفسیر میں کئی قول ہیں ایک تو یہ کہ عیسیٰؑ موت سے پہلے یعنی جب آپ دجال کو قتل کرنے
کے لئے دوبارہ زمین پر آئیں گے اس وقت تمام مذاہب ختم ہو چکے ہوں گے اور صرف ملت اسلامیہ جو دراصل ابراہیم حنیف کی ملت ہے رہ جائے گی۔

ابن عباس ؓ فرماتے ہیں (موتہ) سے مراد موت عیسیٰؑ ہے ابو مالک فرماتے ہیں جب جناب مسیح اتریں گے،اس وقت کل اہل کتاب آپ پر ایمان لائیں گے۔ابن عباس ؓ سے
اور روایت میں ہے خصوصاً یہودی ایک بھی باقی نہیں رہے گا۔

حسن بصریؒ فرماتے ہیں یعنی نجاشی اور ان کے ساتھی آپ سے مروی ہے کہ قسم اللہ کی حضرت عیسیٰؑ اللہ کے پاس اب زندہ موجود ہیں۔جب آپ زمین پر نازل ہوں گے،اس وقت اہل کتاب میں سے ایک بھی ایسا نہ ہو گا جو آپ پر ایمان نہ لائے۔آپ سے جب
اس آیت کی تفسیر پوچھی جاتی ہے تو آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسیحؑ کو اپنے پاس اٹھا لیا ہے اور قیامت سے پہلے آپ کو دوبارہ زمین پر اس حیثیت سے بھیجے گا کہ ہر نیک و بد آپ پر ایمان لائے گا۔

حضرت قتادہؒ،حضرت عبدالرحمٰنؒ وغیرہ بہت سے مفسرین کا یہی فیصلہ ہے اور یہی قول حق ہے اور یہی
ہے،انشاء اللہ العظیم اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی توفیق سے ہم اسے بادلائل ثابت کریں گے۔"

اس کے علاوہ اسی آیت کی تشریح میں مزید لکھتے ہیں کہ

"صحیح بخاری جسے ساری امت نے قبول کیا ہے اس میں امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ علیہ رحمتہ و الرضوان کتاب ذکر انبیاء میں یہ حدیث لائے ہیں کہ
رسول اللہﷺ نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ عنقریب تم میں ابن مریمؑ نازل ہوں گے۔ عادل منصف بن کر صلیب کو توڑیں گے،خنزیر کو قتل کریں گے۔جزیہ ہٹا دیں گے۔مال اس قدر بڑھ جائے گا کہ اسے لینا کوئی منظور نہ کرے گا،ایک سجدہ کر لینا دنیا اور دنیا کی سب چیزوں سے محبوب تر
ہو گا۔اس حدیث کو بیان فرما کر راوی حدیث حضرت ابو ہریرة ؓ نے بطور شہادت قرآنی کے اسی آیت (وان من) کی آخر تک تلاوت کی۔

صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث ہے اور سند سے یہی روایت بخاری و مسلم میں مروی ہے اس میں ہے کہ سجدہ اس وقت فقط اللہ رب العالمین کے لئے ہی ہو گا۔اور اس آیت کی تلاوت میں
میں قبل موتہ کے بعد یہ فرمان بھی ہے کہ قبل موت عیسیٰ بن مریمؑ پھر اسے حضرت ابو ہریرة ؓ کا تین مرتبہ دوہرانا بھی ہے۔"

(تفسیر ابن کثیر تفسیر سورۃ النساء آیت نمبر 159)

مرزا صاحب نے جن کی اس قدر تعریف کی ہے ان کا درج ذیل عقیدہ ان کی تفسیر سے ثابت ہوا۔
سیدنا عیسیؑ کا دوبارہ زمین پر تشریف لانا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔

2)سیدنا عیسیؑ جب قرب قیامت دوبارہ تشریف لائیں گے تو اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔

3) امام ابن جریرؒ:

مرزا صاحب نے امام ابن جریرؒ کے بارے میں
لکھا ہے کہ
"ابن جریر رئیس المفسرین ہیں۔"

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 168 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 168)
اس کے علاوہ ایک اور جگہ مرزا صاحب نے امام ابن جریرؒ کے بارے میں لکھا ہے کہ

"ابن جریر نہایت معتبر اور آئمہ حدیث میں سے ہے۔"

(چشمہ معرفت صفحہ 251 روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 261)
آیت نمبر 1

"وَاِنَّهٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ"

ہماری پیش کردہ پہلی آیت کی تشریح میں ابن جریرؒ،حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ

"اس سے مراد سیدنا عیسیؑ کا آسمانوں سے اترنا ہے۔"
اس کے علاوہ ابن جریرؒ نے حضرت قتادہؒ سے یہ تفسیر نقل کی ہے کہ

"حضرت عیسیؑ کا آسمانوں سے اترنا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔"

(تفسیر طبری،تفسیر سورۃ الزخرف آیت نمبر 61)

آیت نمبر 2

"وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ
یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا"

ہماری پیش کردہ دوسری آیت کی تشریح میں ابن جریرؒ،حضرت حسنؒ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ

"اہل کتاب حضرت عیسیؑ کی وفات سے پہلے آپ پر ایمان لے آئیں گے۔اللہ کی قسم اس وقت وہ اللہ تعالٰی کے ہاں زندہ ہیں۔لیکن جب وہ آسمان سے اتریں گے تو سب لوگ آپؑ پر
ایمان لے آئیں گے۔"

(تفسیر طبری،تفسیر سورۃ النساء آیت نمبر 159)

مرزا صاحب نے جن کی اس قدر تعریف کی ہے ان کا درج ذیل عقیدہ ان کی تفسیر سے ثابت ہوا۔

1)سیدنا عیسیؑ کا دوبارہ زمین پر تشریف لانا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔

2)سیدنا عیسیؑ جب قرب قیامت دوبارہ تشریف لائیں گے تو اہل
کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔

4) امام زمحشری:

مرزا صاحب نے امام زمحشری کے بارے میں
لکھا ہے کہ

"زبان عرب کا وہ بے مثل امام جس کے مقابلے میں کسی کو چون چرا کی گنجائش نہیں۔"

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 208 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 381)
آیت نمبر 1

"وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ "

ہماری پیش کردہ پہلی آیت کی تشریح میں امام زمحشری لکھتے ہیں کہ

"سیدنا عیسیؑ قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں۔اور وہ جب اتریں گے تو اس کے بعد
دجال کو قتل کریں گے۔اور خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑ دیں گے۔"

(تفسیر الکشاف،سورۃ الزخرف آیت نمبر 61)

آیت نمبر 2

"وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا"
ہماری پیش کردہ دوسری آیت کی تشریح میں امام زمحشری نے لکھا ہے کہ

"اور کہا گیا ہے کہ اس کی ضمیر سیدنا عیسیؑ کی طرف راجع ہے اور (اس کا مطلب یہ ہے کہ) جب وہ قرب قیامت آسمان سے نازل ہوں گے تو اہل کتاب میں سے کوئی ایک بھی نہیں بچے گا جو سیدنا عیسیؑ پر ایمان نہ لے آئے۔اور سیدنا عیسی
زمین پر چالیس سال رہیں گے پھر ان کی وفات ہوگی۔"

(تفسیر الکشاف،سورۃ النساء آیت نمبر 159)

لیجئے مرزا صاحب نے جن کی اس قدر تعریف کی ہے ان کا درج ذیل عقیدہ ان کی تفسیر سے ثابت ہوا۔

1)سیدنا عیسیؑ کا دوبارہ زمین پر تشریف لانا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ۔
2)سیدنا عیسیؑ جب قرب قیامت دوبارہ تشریف لائیں گے تو اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔

"خلاصہ کلام"

قرآن مجید کی آیات سے اور مرزا صاحب کے تسلیم کردہ مجددین یا تعریف کردہ مفسرین کی تفسیر سے یہ ثابت ہوا کہ سیدنا عیسیؑ کا دوبارہ نزول قرب قیامت ہوگا۔اور کچھ عرصہ وہ زمین پر رہیں گے۔
اس کے بعد ان کی وفات ہوگی۔

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with BinGhazi

BinGhazi Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @BinteGhazi18

22 Sep
"مسئلہ رفع و نزول سیدنا عیسیؑ پر چند بزرگان امت کی عبارات پر قادیانی اعتراضات اور ان کا تحقیقی جائزہ"

(حصہ دوم)

6) "امام ابن تیمیہؒ پر قادیانی اعتراض اور اس کا تحقیقی جائزہ"

امام ابن تیمیہؒ پر مرزا صاحب نے الزام لگایا ہے کہ وہ سیدنا عیسیؑ کی وفات کے قائل تھے۔
(کتاب البریہ صفحہ 188 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 221)

مرزا صاحب کے اس جھوٹے الزام کے جوابات ملاحظہ فرمائیں۔
جواب نمبر 1

امام ابن تیمیہؒ نے لکھا ہے:

"واجمعت الأمته علی ان الله عزوجل رفع عیسی الی السماء"

امت کا اس پر اجماع ہے کہ سیدنا عیسیؑ کو اللہ تعالٰی نے آسمان پر اٹھا لیا۔

(بیان تلبیس الجھمیه جلد 4 صفحہ 457)
Read 28 tweets
20 Sep
"مسئلہ رفع و نزول سیدنا عیسیؑ پر چند بزرگان امت کی عبارات پر قادیانی اعتراضات اور ان کا تحقیقی جائزہ"

(حصہ اول)

قادیانی جب قرآن و احادیث کے دلائل سے لاجواب ہوجاتے ہیں تو چند بزرگان امت کی عبارات پیش کر کے یہ ظاہر کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ بزرگان امت بھی سیدنا عیسیؑ کی وفات
کے قائل ہیں۔حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ حضورﷺ کے دور سے لے کر مرزا غلام احمد قادیانی تک کوئی ایک عالم جو مسلمان ہو،وہ کبھی بھی اس بات کا قائل نہیں گزرا کہ سیدنا عیسیؑ فوت ہوگئے ہیں اور قرب قیامت واپس زمین پر تشریف نہیں لائیں گے۔بلکہ تمام مسلمان اس بات کے قائل تھے کہ سیدنا عیسیؑ
کو اللہ تعالٰی نے آسمان پر اٹھا لیا تھا اور اب وہ قرب قیامت واپس زمین پر تشریف لائیں گے۔

قادیانی بزرگوں کے اقوال کیوں پیش کرتے ہیں؟جبکہ بزرگوں کے اقوال قادیانیوں کے نزدیک مستقل حجت نہیں کیونکہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ
Read 85 tweets
16 Sep
"رفع و نزول سیدنا عیسیؑ پر 10 احادیث مبارکہ"

سیدنا عیسیؑ کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا اور پھر ان کا قرب قیامت آسمان سے زمین کی طرف نازل ہونا قرآن مجید اور 100 سے زائد احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔
اس سبق میں ہم نزول سیدنا عیسیؑ کے متعلق چند احادیث مبارکہ کا جائزہ لیتے ہیں۔
حدیث نمبر 1

عَنْ أَبی هُرَيْرَةَ ؓ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ:كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ۔

حضرت ابو ہریرة ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
"تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا جب (عیسیٰؑ)ابن مریم تم
میں اتریں گے (تم نماز پڑھ رہے ہو گے) اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہو گا۔"

(بخاری حدیث نمبر 3449 ٬ باب نزول عیسی بن مریمؑ)

حدیث نمبر 2

عَنْ أَبی هُرَيْرَةَ ؓ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ
Read 84 tweets
14 Sep
"رفع سیدنا عیسیؑ پر قرآنی دلائل"

معزز قارئین اس سبق میں ہم سیدنا عیسیؑ کے رفع کے بارے میں چند قرآنی دلائل پیش کریں گے۔

سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سیدنا عیسیؑ کو یہود قتل کرنا چاہتے تھے۔اور آج تک یہودی یہی کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا عیسیؑ کو قتل کیا ہے۔
اور اللہ تعالٰی یہود سے سیدنا عیسیؑ کو بچانا چاہتے تھے۔یہود سیدنا عیسیؑ کو مارنے کی تدبیر کررہے تھے۔اور اللہ تعالٰی سیدنا عیسیؑ کو بچانا چاہتے تھے۔اور یہ بات تو کسی کافر سے بھی پوچھ لیں کہ اگر کسی انسان کو ساری دنیا مارنے پر تل جائے اور اس انسان کو اللہ تعالٰی بچانا چاہتے ہوں تو
کون کامیاب ہوگا۔تو یقینا وہ کافر بھی یہی جواب دے گا کہ اللہ تعالٰی کے مقابلے میں ساری دنیا ناکام ہوجائے گی۔اور جس انسان کو اللہ تعالٰی بچانا چاہتے ہیں اس کو ساری دنیا کے انسان بھی مل کر مارنا تو دور کی بات ہے ہاتھ بھی نہیں لگاسکیں گے۔
Read 83 tweets
13 Sep
"مسئلہ رفع و نزول سیدنا عیسیؑ پر چند ابتدائی گزارشات"

سیدنا عیسیؑ کے رفع و نزول کے عقیدے کے بارے میں 4 گروہ ہیں۔

1)مسلمان
2)عیسائی
3)یہودی
4)قادیانی

ان چاروں گروہوں کے عقائد سیدنا عیسیؑ کے بارے میں درج ذیل ہیں۔
"مسلمانوں کا عقیدہ"

مسلمان کہتے ہیں کہ یہودی سیدنا عیسیؑ کو نہ ہی قتل کرسکے اور نہ ہی صلیب دے سکے بلکہ اللہ تعالٰی نے سیدنا عیسیؑ کو آسمان پر اٹھا لیا۔اور وہ قرب قیامت واپس زمین پر تشریف لائیں گے۔

مسلمانوں کا عقیدہ قرآن پاک سے اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔
رفع و نزول سیدنا عیسیؑ کے قرآنی دلائل و احادیث مبارکہ انشاء اللہ اگلے اسباق میں آئیں گے )

"یہودیوں کا عقیدہ"

یہودیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ انہوں نے سیدنا عیسیؑ کو صلیب دے کر قتل کر دیا تھا۔

جیسا کہ قرآن مجید میں ذکر ہے۔
Read 39 tweets
11 Sep
"رفع و نزول سیدنا عیسیؑ پر چند ابتدائی گزارشات"

"رفع نزول سیدنا عیسیؑ کا عقیدہ اور حضرت محمدﷺ کا فرض منصبی"

حضور سرور کائناتﷺ کی بعثت کے وقت سر زمین عرب میں تین طبقے خصوصیت سے موجود تھے۔

1)مشرکین مکہ
2)نصاریٰ نجران
3)یہود

اب ہمیں دیکھنا ہے کہ قرآن مجید کی رو سے آپﷺ کی
رسالت کے کیا فرائض تھے؟

1)آپﷺ کی بعثت سے قبل کے جو طریق منہاج ابراہیمی کے موافق تھے ان میں تغیر و تبدل نہ ہوا تھا۔ان کو آپﷺ نے اور زیادہ استحکام کے ساتھ قائم فرمایا اور جن امور میں تحریف فساد یا شعائر شرک و کفر مل گئے تھے انکا آپﷺ نے بڑی شدت سے علی الا علان رد فرمایا۔
جن امور کا تعلق عبادات و اعمال سے تها انکے آداب و رسومات اور مکروہات کو واضح کیا۔ رسومات فاسدہ کی بیخ کنی فرمائی اور طریقے صالحہ کا عمل فرمایا اور جس مسئلہ شریعت کو پہلی امتوں نے چهوڑ رکھا تها یا انبیاء سابقہ نے اسے مکمل نہ کیا تها انکو آپﷺ نے تروتازگی دے کر رائج فرمایا اور
Read 88 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!