1/ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا.

(الاحزاب، 33 : 59)

اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور
2/ مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے۔
3/ دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے:

وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ
4/ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُوْلِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ
5/ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ.

(النور، 24 : 31)

اور آپ مومن عورتوں سے فرما
6/ دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور
7/ وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی (ہم مذہب، مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں کے یا
8/ مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنٰی ہیں) اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے) ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ
9/ (حکمِ شریعت سے) پوشیدہ کئے ہوئے ہیں، اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر) فلاح پا جاؤ۔

عورت کے لیے ہاتھ پاؤں اور چہرے کے علاوہ سارا جسم ستر ہے، جس کو چھپانا اس پر فرض ہے۔ مذکورہ بالا تین اعضاء چھپانے کا شرعی حکم نہیں ہے

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Syed Raza

Syed Raza Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @RazaSyed5121472

30 Aug
1/ آج سنڈے اسپیشل میں پیش خدمت ہے سلام آخر سید آل رضا صاحب کا کلام (1896-1978)...
سلام خاک نشینوں پہ سوگواروں کا
غریب دیتے ہیں پرسہ تمہارے پیاروں کا

سلام اُن پر جنہیں شرم کھاۓ جاتی ہے
کھلے سروں پہ اسیری کی خاک آتی ہے

سلام ان پر جو زحمت کشِ سَلاسل ہے
مصیبتوں میں امامت کی پہلی
2/ منزل ہے

سلام بھیجتے ہیں اپنی شاہزادی پر
کہ جس کو سونپ گۓ مرتے وقت گھر سرورؑ

مسافرت نے جسے بے بسی یہ دکھلائی
نثار کردیے بچے نہ بچ سکا بھائی

اسیر ہو کے جسے شامیوں کے نرغے میں
حسینیت ہے سکھانا علیؑ کے لہجے میں

سـکـینـہؑ بی بی تمہارے غلام حاضر ہیں
بجھے جو پیاس تو اشکوں کے
3/ جام حاضر ہیں

یہ سِن یہ حشر یہ صدمے نۓ نۓ بی بی
کہاں پہ بیٹھی ہو خیمے تو جل گۓ بی بی

پہاڑ رات بڑی دیر ہے سویرے میں
کہاں ہو شامِ غریباں کے گھپ اندھیرے میں

زمینِ گرم یتیمی کی سختیاں بی بی
وہ سینہ جس پہ کہ سوتی تھی اب کہاں بی بی

جناب مادر بے شیر کو بھی سب کا سلام
عجیب وقت ہے
Read 7 tweets
23 Aug
1/ آج سنڈے سپیشل میں پیش خدمت ہے احمد فراز صاحب کا کلام امام حسین علیہ السلام کی نذر ۔۔ان کے مجموعہ کلام "نابینا شہر آئینہ"سے۔۔۔
حُسین تجھ پہ کہیں کیا سلام ہم جیسے
کہ تُو عظیم ہے بے ننگ و نام ہم جیسے

برنگِ ماہ ہے بالائے بام تجھ جیسا
تو فرشِ راہ کئی زیرِ بام ہم جیسے

وہ اپنی
2/ ذات کی پہچان کو ترستے ہیں
جو خاص تیری طرح ہیں نہ عام ہم جیسے

یہ بے گلیم جو ہر کربلا کی زینت ہیں
یہ سب ندیم یہ سب تشنہ کام ہم جیسے

بہت سے دوست سرِ دار تھے جو ہم پہنچے
سبھی رفیق نہ تھے سست گام ہم جیسے

خطیبِ شہر کا مذہب ہے بیعتِ سلطاں
ترے لہو کو کریں گے سلام ہم جیسے

تُو سر
3/ بریدہ ہوا شہرِ ناسپاساں میں
زباں بریدہ ہوئے ہیں تمام ہم جیسے

پہن کے خرقۂ خوں بھی کشیدہ سر ہیں فراز
بغاوتوں کے علم تھے مدام ہم جیسے

(مجموعہ ۔ "نابینا شہر میں آئینہ")
Read 4 tweets
18 Aug
1/ وہ کون لوگ ہیں جن کے ایمان کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عجیب ترین ایمان قرار دیا؟

تاریخ اشاعت: 20 جنوری 2011ء

زمرہ: عقائد  |  ایمانیات

جواب:
وہ خوش نصیب جن کے مشاہدے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسن بے حجاب صبح و شام آتا ہو اور آنکھیں ہر
2/ لمحہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار سے ٹھنڈی ہوتی ہوں تو یہ سب دیکھ لینے کے بعد اگر وہ ایسے رحیم و کریم اور مہربان وحسین آقا کی عظمت کے قائل ہو جائیں تو کوئی بڑی بات نہیں، (اگرچہ ایک لحاظ سے یہ بڑی بات ہے کیونکہ بعض لوگ اتنے تنگ نظر، کدورت پسند اور حاسد ہوتے ہیں کہ
3/ سمندر کو بہتا اور سورج کو چمکتا دیکھ کر بھی اس کا انکار کر دیتے ہیں)۔ لیکن وہ غلام جو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کیے بغیر انہیں اپنا محبوب اور ملجا و ماوٰی مان لیں، ان کی منفرد شانوں پر ایمان لے آئیں اور ان کے ارشادات مبارکہ کو حرزِ جان بنا لیں تو یہ بڑی بات ہی
Read 14 tweets
30 Jul
1/ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے (متفق علیہ) ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے ایسا ہی رویہ رکھتا ہے جیسے اپنی نسبی اور حقیقی بھائی سے، کیونکہ حقیقی بھائی میں جیسے ایک ماں باپ ہونے کی وجہ سے تعلق ہے اسی طرح ہر مسلمان چونکہ ایک خدا کا ماننے والا ہے اس لیے وہ سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں،
2/ اور جسمانی رشتوں میں تو کمزوری ہوتی بھی ہے، یا کبھی جذباتی کوتاہیوں سے اس میں فرق آجاتا ہے مگر ایمانی اور اسلامی اخوت کا رشتہ، چونکہ خدا تعالیٰ کے واسطے سے جڑا ہوا ہے اس لیے اس میں کوئی توڑ او رکمزوری نہیں آتی۔ البتہ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ مسلمان صحیح معنی میں مسلمان
3/ ہوں، ورنہ اگر اللہ تعالیٰ ہی سے ان کا تعلق مضبوط اور درست نہیں تو اس کی بدولت قائم رہنے والے رشتے اور تعلقات بھی کمزور ہوں گے۔ چنانچہ ہم میں سے ہر مسلمان کو یہ دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کسی دوسرے مسلمان سے بحیثیت اس کے مسلمان ہونے کے کس قدر اخوت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

(فَبِمَا
Read 18 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!