جیسے ہند کی زرعی زمینوں نے ہرطاقتورکواپنی طرف متوجہ کیا۔بالکل اسی طرح اسکے محافظوں نےاس سےخوب حصہ وصول کیا۔1955میں کوٹری بیراج کی تکمیل کےبعدگورنرجنرل غلام محمدنےآبپاشی سکیم شروع کی۔اس سےفائدہ عسکری اورسول افسران نےاٹھایا۔جبکہ حقیقت میں یہ زمین مقامی افرادمیں تقسیم ہوناتھی
👇1/17
کوٹری بیراج کی زمین مقامی چارلاکھ کاشتکاروں میں تقسیم ہونی تھی۔مگرایسانہ ہوا۔ یہ زمین عسکری اورسول افسران میں بانٹ دی گئی۔کچھ تفصیل:
1:جنرل ایوب خان۔500ایکڑ
2:کرنل ضیااللّہ۔500ایکڑ
3:کرنل نورالہی۔500ایکڑ
4:کرنل اخترحفیظ۔500ایکڑ
5:کیپٹن فیروزخان۔۔243ایکڑ
6:میجرعامر۔۔243ایکڑ
👇2/17
7:میجرایوب احمد۔۔500ایکڑ
8:صبح صادق۔۔400ایکڑ
صبح صادق چیف سیکرٹری بھی رھے۔1962میں دریائےسندھ پرکشمورکےقریب گدوبیراج کی تعمیرمکمل ہوئی۔اس سےسیراب ہونےوالی زمینیں جن کاریٹ اسوقت5000-10000روپےایکڑ تھا۔عسکری حکام نےصرف500روپےایکڑکےحساب سےخریدا۔یہ مقامی افرادکیساتھ ظلم تھا۔
👇3/17
گدوبیراج کی زمین تھی من پسند افسران میں بانٹ دیگئی۔اسکی کچھ تفصیل یوں ہے
1:جنرل ایوب خان۔۔247ایکڑ
2:جنرل موسی خان۔۔250ایکڑ
3:جنرل امراؤ خان۔۔246ایکڑ
4:برئگیڈئر سید انور۔۔246ایکڑ
اسکے علاوہ دیگر کئ افسران کوبھی اس متاع بےبہا سے نوازا گیا۔
ایوب خان کےعہدمیں مختلف سخصیات کو
👇4/17
مختلف بیراجوں پرزمین الاٹ کی گئی۔انکی تفصیل یوں ہے:
1:ملک خدا بخش بچہ وزیر زراعت۔۔158ایکڑ
2:خان غلام سرور خان،سابق وزیرمال۔۔240ایکڑ
3:جنرل حبیب اللّہ وزیرداخلہ۔۔240ایکڑ
4:این-ایم-عقیلی وزیرخزانہ۔۔249ایکڑ
5:بیگم عقیلی۔۔251ایکڑ
6:اخترحسین گورنر مغربی پاکستان۔۔150ایکڑ
👇5/17
7:ایم-ایم-احمد مشیراقتصادیات۔۔150ایکڑ
8:سیدحسن ڈپٹی چیرمین پلاننگ۔۔150ایکڑ
9:نوراللّہ ریلوے انجیئر۔۔150ایکڑ
10:این-اے-قریشی چیرمین ریلوے بورڈ۔۔150ایکڑ
11:امیرمحمد خان سیکرٹری صحت۔۔238ایکڑ
12:ایس-ایم-شریف سیکرٹری تعلیم۔۔239ایکڑ
جن جنرلوں کوزمین الاٹ ہوئی۔انکی تفصیل یوں ہے:
👇6/17
1:جنرل کے-ایم-شیخ۔150ایکڑ
2:میجرجنرل اکبرخان۔240ایکڑ
3:برئگیڈیر ایف-آر-کلو۔240ایکڑ
4:جنرل گل حسن خان۔150ایکڑ
گوھر ایوب کےسسرجنرل حبیب اللّہ کوہربیراج پروسیع قطعہ اراضی الاٹ ہوا۔جنرل حبیب اللّہ گندھاراکرپشن سکینڈل کےاہم کردارتھے
جنرل ایوب نےجن ججزکوزمین الاٹ کی
انکی تفصیل
👇7/17
کچھ یوں ہے
1:جسٹس ایس-اے-رحمان 150ایکڑ
2:جسٹس انعام اللّہ خان۔240ایکڑ
3:جسٹس محمد داؤد۔240ایکڑ
4:جسٹس فیض اللّہ خان۔240ایکڑ
5:جسٹس محمد منیر۔150ایکڑ
جسٹس منیرکو 18ہزاری بیراج پربھی زمین الاٹ کیگئی
اسکےعلاوہ ان پرنوازشات رھیں
ایوب خان نےجن پولیس افسران میں زمینیں تقسیم کیں
👇8/17
انکی کچھ تفصیل یوں ہے
1:ملک عطامحمدخاں DIG
150۔ایکڑ
2:نجف خان DIG۔240ایکڑ
3:اللّہ نوازترین۔240ایکڑ
نجف خان لیاقت علی قتل کیس کےکردارتھے۔قاتل سیداکبرکوگولی انہوں نےماری تھی۔اللّہ نوازفاطمہ جناح قتل کیس کی تفتیش کرتےرھے
1942میں سندھ میں انگریز سرکار کےخلاف ایک بغاوت شروع کی
👇9/17
جس کاآغازحروں نےکیا۔حروں نےمکھی کےجنگلات کو اپنامرکزبنایا۔تقسیم پاکستان کےبعد1952میں فوج نےحروں کو وہاں سے نکالکربنجرعلاقوں میں آبادکیا۔جس پرحروں نےاحتجاج کیا۔جی-ایم-سیداور دیگر راہنماؤں نےحروں کاساتھ دیاتھا
1982میں حکومت پاکستان نےکیٹل فارمنگ سکیم شروع کی۔اسکا مقصدچھوٹے
👇10/17
کاشتکاروں کوبھیڑبکریاں پالنےکیلئےزمین الاٹ کرنی تھی
مگراس سکیم میں گورنرسندھ جنرل صادق عباسی نےسندھ کےجنگلات کی قیمتی زمین 240روپےایکڑکےحساب سےمفت بانٹی۔اس عرصےمیں فوج نےکوٹری،سیھون،ٹھٹھہ،مکلی میں25لاکھایکڑزمین خریدی
1993میں حکومت نےبہاولپور میں 33866ایکڑزمین فوج کےحوالےکی👇11/17
جون2015میں حکومت سندھ نےجنگلات کی9600ایکڑ قیمتی زمین فوج کےحوالےکی۔24جون2009کوریونیوبورڈ پنجاب کی رپورٹ کےمطابق 62% لیزکی زمین صرف 56 اعلی عسکری افسران میں بانٹی گئی۔جبکہ انکاحصہ صرف10% تھا
شایدیہ خبرکہیں شائع نہیں ہوئی
2003میں تحصیل صادق آباد کےعلاقےنوازآباد کی2500ایکڑزمین
12/17
فوج کےحوالےکی گئی۔یہ زمین مقامی مالکان کی مرضی کےبغیردی گئی۔جس پرسپریم کورٹ میں مقدمہ بھی ہوا۔اسی طرح پاک نیوی نےکیماڑی ٹاؤن میں واقع مبارک گاؤں کی زمین پرٹریننگ کیمپ کےنام پرحاصل کی۔اس کاکیس چلتارہا۔اب یہ نیول کینٹ کاحصہ ہے۔
2003میں اوکاڑافارم کیس شروع ہوا۔اوکاڑافارم کی
👇13/17
16627ایکڑزمین حکومت پنجاب کی ملکیت تھی۔یہ لیزکی جگہ تھی۔1947میں لیزختم ہوئی۔حکومت پنجاب نےاسےکاشتکاروں میں زرعی مقاصدسےتقسیم کیا۔2003میں اس پرفوج نےاپناحق ظاھرکیا۔اسوقت کےڈی۔جیISPRشوکت سلطان کےبقول فوج اپنی ضروریات کیلئےجگہ لےسکتی ہے۔
2003میں سینٹ میں رپورٹ پیش کی گئی۔
👇14/17
جسکےمطابق فوج ملک27ہاؤسنگ سکیمزچلارہی ہے۔اسی عرصےمیں16ایکڑکے130پلاٹ افسران میں تقسیم کئےگئے۔فوج کےپاس زمین کی تفصیل:
لاھور۔۔12ہزارایکڑ
کراچی۔۔12ہزارایکڑ
اٹک۔۔3000ایکڑ
ٹیکسلا۔۔2500ایکڑ
پشاور۔۔4000ایکڑ
کوئٹہ۔۔2500ایکڑ
اسکی قیمت 300بلین روپےہے۔
2009میں قومی اسمبلی میں یہ
👇15/18
انکشاف ہوابہاولپورمیں سرحدی علاقےکی زمین380روپےایکڑکےحساب سےجنرلزمیں تقسیم کی گئی۔جنرل سےلیکرکرنل صاحبان تک کل100افسران تھے۔چندنام یہ ہیں:
پرویزمشرف،جنرل زبیر،جنرل ارشادحسین،جنرل ضرار،جنرل زوالفقارعلی،جنرل سلیم حیدر،جنرل خالدمقبول،ایڈمرل منصورالحق۔
مختلف اعدادوشمارکےمطابق
👇16/18
فوج کےپاس ایک کروڑبیس لاکھ ایکڑزمین ہے۔جوملک کےکل رقبےکا12%ہے۔سترلاکھ ایکڑکی قیمت700ارب روپےہے۔ایک لاکھ ایکڑکمرشل مقاصدکیلئےاستعمال ہورہی ہے۔جسکو کئی ادارےجن میں فوجی فاؤنڈیشن،بحریہ فاؤنڈیشن،آرمی ویلفیئرٹرسٹ استعمال کررھےہیں۔
👇17/18
حوالہ جات:
Report on lands reforms under ppls govt. Booklet by govt in 1972.
Case of Sindh..G.M.Syed
The military and politics in Pakistan..Hassan Askariu
Military Inc.Ayesha siddiqa
پی۔ایل۔ڈیز اور مختلف اخبارات۔
پڑھنے کا شکریہ🙏
ختم شد

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with RH Riaz 👉 Stay Home

RH Riaz 👉 Stay Home Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @RiazHussain44

14 Sep
*کل کے مخبر ۔آج کے رہبر*

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر*ڈاکٹر تراب الحسن صاحب* نےایک تھیسس لکھکرPHD کی ڈگری حاصل کی ھے۔جس کا عنوان ھے

*Punjab and the War of Independence 1857*

اس تھیسس میں انہوں نےجنگ آزادی کےحالات پر روشنی ڈالی ھے جسکےمطابق اس جنگ میں
👇1/14
جن خاندانوں نے جنگ آزادی کے مجاھدین کےخلاف انگریز کی مدد کی، مجاھدین کو گرفتار کروایا اور قتل کیا اور کروایا ان کو انگریز نےبڑی بڑی جاگیریں مال و دولت اور خطابات سے نوازا ان کے لئے انگریز سرکار نے وظائف جاری کئے۔
اس تھیسس کے مطابق تمام خاندان وہ ھیں جو انگریز کے وفادار تھے
👇2/14
اور اس وفاداری کےبدلے انگریز کی نوازشات سے فیضیاب ھوئے
یہ خاندان آج بھی جاگیردار ھیں اور آج بھی اپنے انگریز آقا کےجانے کیبعد ھر حکومت میں شامل ھوتے ھیں
Griffin punjab chifs
Lahore ;1909
سے حاصل کردہ ریکارڈ کے مطابق سید یوسف رضا گیلانی کے بزرگ سید نور شاہ گیلانی کو انگریز
👇3/14
Read 15 tweets
12 Sep
ایک ریٹائرڈ جج کی ہوشربا تحریر

*اشتہاری پولیس آفیسر.!*
جب بھی کوئی ملزم کسی جرم میں گرفتار ھوتا ھےاسکو عدالت میں پیش کیاجاتا ھےاسکا جسمانی یا جوڈیشیل ریمانڈ لیاجاتا ھے
اسکےبعد عدالت کےحکم کےبغیر اسکو چھوڑا نہیں جاسکتا
فیصل آباد میں ایک ڈکیتی کےملزم کوجو پولیس کےپاس ڈکیتی
👇1/10
کےمال کی برآمدگی کےسلسلے میں جسمانی ریمانڈ پرتھا۔ایک sp
نےبغیر کسی عدالتی حکم کےچھوڑ دیا۔مدعی پارٹی کو جب پتہ چلا تو انھوں نےسیشن کورٹ میں درخواست دائر کی کہspنےقانون کی دھجیاں اڑاتےھوئےملزم کوچھوڑ دیاھے۔درخواست
میرےپاس بھیج دیگئی جس پر میںنےsp کو طلب کیاتو وہ حاضر نہیں ھوا
2/10
میں نے اسکے وارنٹ نکال دیےتو میرے اسوقت کے سیشن جج نےمجھے تاریخ والے دن اپنے پاس بلا یا۔میں اسوقت ایڈیشنل سیشن جج فیصل آباد تھا۔اسنے مجھےکہا کہ sp کو بلانےکا حکم واپس لو مگر میں نےصاف انکار کردیا۔sp اسی دن عدالت میں پیش ھوا اور اسنےکہا کہ میں نےآپکےحکم
کےخلاف لاھور ھائی کورٹ
3/10
Read 11 tweets
11 Sep
موجودہ حالات کی عکاسی

اس نےاپنے سیکرٹری سےپوچھا کہ ملک میں گندم کی کیا صورت حال ھے؟سیکرٹری نےکہا سر مافیا نےگندم سٹاک کرکےقیمت دوگنی
کر دی ھے
اس نےتقریبا چلاتےہوئےکہا کہ ہم نےاس بارےمیں کیا کیا ھے؟
سر؛ ہم نےمافیا کی کمر توڑنےکیلیے باہرسے ہنگامی طور پر گندم امپورٹ کر لی ہے
👇1/13
کچھ اربوں روپےکا نقصان ضرور ہوا ہے مگر مافیا کا سدباب کردیا گیا ھے۔دوگنے ریٹ پر ہی سہی مگر عوام کو آٹا اور گندم مل رھےہیں
اس نےقدرےاطمنان کا سانس لیا اور تعریف کی

اس نے پوچھا کہ زرمبادلہ کےذخائر کی کیا صورتحال ھے
سیکرٹری نےبڑے فخریہ انداز میں بتایا کہ ہم نےگورنر اور ڈالر
👇2/13
دونوں امپورٹ کئےہیں جس سےصورتحال کافی بہترھے
اس نےکہا کہ میں سمجھا نہیں
تم کیا کہنا چاہتےہو
سیکرٹری نےجھنپتے ہوئے کہا کہ ہم جو نیا گورنر لائےہیں اس نے آتےہی شرح سود 13.25% کرتے ہوئے سرمایہ کاروں سے کہا کہ قلیل مدتی بانڈز میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے بھاری منافع حاصل کر سکتے
👇3/13
Read 13 tweets
2 Sep
#BajwaLeaks
احمد نورانی نے عاصم سلیم باجوہ اور انکے خاندان کےتیزی سےبڑھتے کاروبار پر سوال اٹھاتےہوئے ایک تحقیقاتی رپورٹ ’فیکٹ فوکس‘ نامی ویب سائٹ پر شائع کی۔رپورٹ شائع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد عاصم باجوہ نےایک ٹوئیٹ کےذریعےتمام الزامات کو مسترد کردیا

رپورٹ میں کہا گیا ہے
👇1/11
کہ 2002 سےقبل عاصم سلیم باجوہ انکی اہلیہ،بیٹوں اور بھائیوں کےنام پر کوئی کاروبار نہ تھا لیکن یہ صورتحال تب تبدیل ہونا شروع ہو گئی جب وہ سابق پاکستانی صدر اور فوج کےسابق سربراہ پرویز مشرف کےاسٹاف آفیسر تعینات ہوئےاحمد نورانی اپنی رپورٹ میں لکھتےہیں کہ
عاصم باجوہ کی اہلیہ نے
👇2/11
امریکا، متحدہ عرب امارات اور کینیڈا میں سرمایہ کاری کی ہوئی ھےحالانکہ انہوں نےاپنے
اثاثہ جات کی تفصیلات میں کہا
کہ انکی اور انکی بیوی کی پاکستان سےباہر کوئی سرمایہ کاری نہیں ھے

احمد نورانی کہتےہیں کہ عاصم باجوہ کے بیٹےنے اسوقت ایک مائننگ کمپنی شروع کی جب باجوہ بلوچستان
👇3/11
Read 11 tweets
1 Sep
کرنل انعام الرحیم کی کہانی
خود انکی اپنی زبانی
میں ایک ریٹائرڈ کرنل ہوں جس نے27سال فوج میں نوکری کی یے-مجھے خدمات کےبدلے
تمغہء امتیاز ملٹری سے نوازا گیا
میں دس سال کاکول میں پڑھاتا رہا ہوں
40 لانگ کورسسز میرے زیر نگرانی پاس آؤٹ ہوئے۔موجودہ دور میں ذیادہ تر حاضر سروس
👇1/8
لیفٹیننٹ جنرل میرےشاگرد رہےہیں۔میرا پہلا قصور یہ ہےکہ میں نے ایک پٹیشن دائر کی تھی کہ
جنرل راحیل شریف نےپارلیمان اور وفاقی حکومت کی اجازت کےبغیر انگور اڈےکا علاقہ افغانستان کو کس قانون کےتحت دیا ہے؟
پہلے مجھ پر دباؤ ڈالا گیا کہ میں یہ پٹیشن واپس لے لوں
دوسرا قصور یہ تھا
👇2/8
کہ جب 2019 میں جسٹس گلزار احمد نےکراچی میں آرمی شادی ہالوں کو غیر قانونی قرار دےکر گرانےکا حکم دیا تو میرےایک شاگرد حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل نےمجھےافطاری پر بلا کرکہا کہ "ہم آپ کو مواد دیتےہیں آپ جسٹس گلزار کےخلاف ایک پٹیشن دائر کریں؛آپکی بڑے باس سےملاقات بھی کرا دی جائےگی
👇3/8
Read 8 tweets
19 Aug
سعودی عرب کا ناکام دورہ

جنرل قمر جاوید باجوہ کوئی نام نہیں بلکہ دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی ریاست کی فوج کا سربراہ ھےسعودی عرب کی طرف سےموخر ادائیگیوں پر پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی بند کرنےاور زرمبادلہ کےاستحکام کیلئےفراہم کردہ پیسےواپس مانگنےکے تناظر میں جنرل باجوہ اور DG ISI
1/12
جنرل فیض نےسعودی عرب کا دورہ کیا
سعودی عرب کےدورہ کو ممکن بنانےکیلئے پاکستان میں سعودی سفیر سےملاقات کی گئی
یہ ایک ناکام دورہ تھا جس کےاثرات آئندہ دنوں اور ہفتوں میں بتدریج سامنے آتےرہیں گےدورہ کی ناکامی کا آغاز اسی وقت ہو گیا تھا جب ریاض ائرپورٹ پر کوئی اعلی سعودی شخصیت
👇2/12
استقبال کیلئےموجود نہیں تھی اور نہ ہی اس ملک کی فوج کےسربراہ کےاستقبال کیلئےسرخ قالین بچھایا گیا تھا جسکے فوجی دستےسعودی عرب میں خدمات سرانجام دےرہے ہیں اور جسکا سابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف بھاری تنخواہ پر اسلامی فوج کا سربراہ ہے

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے دورہ
👇3/12
Read 13 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!