#نمود_عشق
عنوان : 7 ستمبر 1974 قادیانیوں پر ظلم ہوا یا ان کا دیرینہ مطالبہ پورا کیا گیا؟ فیصلہ خود کیجیے (Part:2)
تحریر: عبیداللہ لطیف فیصل آباد
پہلے حصے کا لنک 👇👇👇👇👇👇👇👇👇
facebook.com/12132008637193…
قارئین کرام ! قادیانیوں نے پہلی بار مسلمانوں سے الگ اپنی شناخت باونڈری کمشن کے سامنے 1946 میں کی جس کی بنیاد پر ضلع گوردادسپور انڈیا کا حصہ بنا اور کشمیر کو انڈیا سے ملانے کے لیے انڈیا کو واحد زمینی راستہ ملا اس کی تفصیل پیش کرنے سے پہلے آپ کے سامنے تحریک پاکستان میں قادیانیوں کے
کردار پر چند حوالہ جات پیش کرنا چاہتا ہوں ملاحظہ فرمائیں ۔ قادیانیوں کا دوسرے خلیفہ اور مرزا غلام احمد قادیانی کے بڑے بیٹے بشیر الدین محمود کا ایک بیان ان کے آفیشل اخبار الفضل میں 1944 کو کچھ یوں شائع ہوا کہ
"پس مسیح موعود کا ایک الہام ہے آریوں کا بادشاہ ۔
اگر ہم آریوں کو الگ کر دیں اور مسلمانوں کو الگ تو حضرت مسیح موعود کا یہ الہام کس طرح پورا ہو سکتا ہے پس ضروری ہے کہ ہندوستان کے سب لوگ متحد رہیں اگر ہندوستان نے الگ الگ ٹکڑوں میں تقسیم ہو جانا تھا تو حضرت مسیح موعود پاکستان کے بادشاہ کہلاتے آریوں کے
بادشاہ نہ کہلاتے اس لیے بے شک مسلمان زور لگاتے رہیں جس مادی قسم کا پاکستان وہ۔چاہتے۔ہیں کبھی نہیں بن سکتا۔"
(بیان بشیرالدین محمود الفضل 8 جون 1944)
اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان بن بھی گیا اور قائم و دائم بھی ہے
بشیر الدین محمود کی طرف سے الہام کی تشریح کے مطابق مرزا جی کے الہام آریوں کا بادشاہ کو جھوٹا ثابت کر کے مرزا جی کے منہ پر کالک مل گیا خیر آگے بڑھتے ہیں بشیرالدین محمود کا ایک اور بیان ملاحظہ کریں جو 5 اپریل 1947 کے الفضل میں "اکھنڈ ہندوستان"کے عنوان سے اس طرح موجود ہے کہ
"ہندوستان جیسی مضبوط بیس Base جس قوم کو مل جائے اس کی کامیابی میں کوئی شک نہیں رہتا ۔ اللہ تعالی کی اس مشیت سے کہ اس نے احمدیت کے لیے اتنی وسیع بیس Base مہیا کی ہے پتہ لگتا ہے کہ وہ سارے ہندوستان کو ایک سٹیج پر جمع کرنا چاہتا ہے
اور سب کے گلے میں احمدیت کا جوا ڈالنا چاہتا ہے اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں سیروشکر ہو کر رہیں تا ملک کے حصے بخرے نہ ہوں بے شک یہ کام بہت مشکل ہے مگر اس کے نتائج بھی بہت شاندار ہیں اور اللہ تعالی چاہتا ہے
کہ ساری متحد ہوں تا احمدیت اس وسیع بیس پر ترقی کرے چنانچہ اس رویا میں اس طرف اشارہ ہے ممکن ہے عارضی طور پر افتراق پیدا ہو اور کچھ وقت کے لیے دونوں قومیں جدا جدا رہیں مگر یہ حالت عارضی ہو گی اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جلد دور ہو جائے۔"
(بیان بشیرالدین محمود الفضل 5 اپریل 1947)
آئیے مزید آگے بڑھتے ہیں قادیانی اخبار الفضل مئی 1947 کے ایک اور شمارے میں بشیرالدین محمود کا ایک اور بیان کچھ اس طرح شائع ہوا کہ
"میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالی کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے لیکن اگر قوموں کی غیر
معمولی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے تو یہ اور بات ہے بسا اوقات عضو ماوف کو ڈاکٹر کاٹ دینے کا مشورہ بھی دیتے ہیں لیکن یہ خوشی سے نہیں ہوتا بلکہ مجبوری اور معذوری کے عالم میں اور صرف اس وقت ہوتا ہے جب کوئی چارہ نہ ہو
اور اگر پھر یہ معلوم ہو جائے کہ اس ماوف عضو کی جگہ نیا لگ سکتا ہے تو کون جاہل انسان اس کے لیے کوشش نہیں کرے گا۔ اسی طرح ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضامند ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائے۔
الفضل 16 مئی 1947 صفحہ 2
قارئین کرام ! اب آپ باونڈری کمشن کے سامنے پارسیوں کی طرح قادیانیوں کی طرف سے مسلمانوں سے الگ شناخت کے مطالبے کا ثبوت بھی ملاحظہ فرمائیں چنانچہ 13 نومبر 1946 کے الفضل میں قادیانیوں کے اس وقت کے خلیفہ بشیرالدین محمود کا بیان کچھ یوں شائع ہوتا ہے کہ
"گورنمنٹ کا فرض ہے کہ وہ ہم سے بھی مشورہ لے اور ہمارے حقوق کا بھی خیال رکھے ہماری جماعت ہندوستان میں سات آٹھ لاکھ کے قریب ہے مگر ہماری جماعت کے افراد اس طرح پھیلے ہوئے ہیں ان کی آواز کی کوئی قیمت نہیں سمجھی جاتی لیگ ہمیں اپنے اندر شامل نہیں کرنا چاہتی
کانگریس میں ہم شامل نہیں ہونا چاہتے اس کے مقابلہ میں پارسی ہندوستان میں تین لاکھ کے قریب ہیں لیکن حکومت کی طرف سے ایک پارسی وزیر سنٹر میں مقرر کر دیا گیا ہے اور ان کی جماعت کو قانونی جماعت تسلیم کر لیا گیا ہے حالانکہ ہماری جماعت ان سے دگنی بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے
میں نے دہلی میں ایک انگریز افسر کو کہلا بھیجا کہ ہم شکوہ نہیں کرتے لیکن حکومت نے جو فیصلہ کیا ہے وہ نہایت غیر منصفانہ ہے انہوں نے پارسیوں کا قانونی وجود تسلیم کیا مگر احمدیوں کا نہیں حالانکہ تم ایک ایک پارسی لاو میں اس کے مقابلہ میں دو دو احمدی پیش کرتا چلا جاوں گا
صرف اس لیے کہ ہماری جماعت بولتی نہیں اور ہماری جماعت دوسروں کی طرح لڑتی نہیں ہمارے حقوق کا خیال نہیں رکھا جاتا ۔ اس نے کہا ہم آپ کی جماعت کو ایک مذہبی جماعت سمجھتے ہیں ۔ میرے نمائندے نے اس کو جواب دیا بے شک ہم ایک مذہبی جماعت ہیں مگر کیا ہم نے ہندوستان میں رہنا ہے یا نہیں
ں اور کیا ہندوستان کی سیاست کا اثر ہم پر نہیں پڑتا ۔ دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ کیا پارسی مذہبی جماعت نہیں اور عیسائی مذہبی جماعت نہیں ان کے آدمی پارسی اور عیسائی کر کے لیے گئے ہیں یا کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کر کے۔"
(الفضل 13نومبر 1946
قارئین کرام ! یہ تھا قادیانیوں کا عیسائیوں
اور پارسیوں کی طرح مسلمانوں سے الگ تشخص کا مطالبہ جسے 1974 میں پاکستانی پارلیمنٹ نے پورا کیا ویسے بھی کسی بھی مہذب ملک کی پارلیمنٹ اور دیگر ادارے کسی کو اپنے ملک کے کروڑوں لوگوں کو دھوکہ دینے کی اجازت
نہیں دے سکتے آپ سوچتے ہوں گے کہ قادیانی لوگوں کو کیسے دھوکہ دیتے ہیں آئیے ہم آپ کو قادیانیوں کی دھوکہ دہی کا دیدار کرواتے ہیں ۔
(جاری ہے)

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with داعی الی الخیر و خادم ختم نبوت

داعی الی الخیر و خادم ختم نبوت Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @Khalidi75

23 Sep
#searchthetruth
🧶قادیان کی تکذیب پرخدا کا عذاب اترے 🧶
✍️:از مرتب سہیل باوا لندن☝️
مرزا غلام قادیانی کے انکار وتکذیب پر ہندوستان کے مسلمانوں کو مرزا غلام قادیانی کی طرف سے کیا کیا دھمکیاں دی گئی تھی انہیں مرزا غلام قادیانی خدا کی طرف سے اس طرح کہتا تھا @SearchTheTruth5
سے اس طرح کہتا تھا ۔
کہ خدا نے کہا ہے دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔۔۔۔
یہاں نذیر سے مرزا قادیانی مراد ہے دنیا نے اس کو قبول نہیں کیا۔ اس سے مراد ہندوستان اور عرب کے علماء اور ان کے
فتوے کو ماننے والے تمام مسلمان ہیں ان علماء ہند اور علماء عرب نے اس کو قبول نہ کیا اور کھلے بندوں انہوں نے اس کی تکذیب کی
اب سوال یہ ہے کہ وہ زور اور حملے کہاں ہیں جس کی خبر مرزا قادیانی نے خدا کے نام پر دی تھی؟
اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں پر جنہوں نے غلام
Read 8 tweets
22 Sep
#searchthetruth
انوکھی پر سوکھی گل👇👇👇
قادیانی روحانی چکر💫💫💫

مسلمان: مرزا قادیانی کو دس ماہ کا حمل کیسے ہوا تھا؟؟؟
📚( روحانی خزائن جلد 19 صفہ 50 کشتی نوح)
قادیانی : یہ روحانی باتیں ہیں مولویوں کی سمجھ میں نہیں آئیں گی۔
مسلمان: مرزا قادیانی نے اپنے مخالفین کو گندی گالیا دی ہیں۔۔۔📚( روحانی خزائن جلد 5 صفہ 547٫548 )
قادیانی : یہ روحانی باتیں ہیں مولویوں کی سمجھ میں نہیں آئیں گی۔
مسلمان: مرزا قادیانی نے خود کو اللہ کہا ہے۔
📚( روحانی خزائن جلد 5 صفہ 564 )
📚( روحانی خزائن جلد 13 صفہ 103
قادیانی : یہ روحانی باتیں ہیں مولویوں کی سمجھ میں نہیں آئیں گی۔
مسلمان: مرزا قادیانی ٹانک وائن اور دیگر شراب پیا کرتا تھا
📚(خطوط امام بنام غلام ص۵ )
قادیانی : یہ روحانی باتیں ہیں مولویوں کی سمجھ میں نہیں آئیں گی۔
مرزا قادیانی تھیٹر بھی جایا کرتا تھا۔
📚( ذکر حبیب صفہ 18 )
Read 17 tweets
21 Sep
#searchthetruth
"احتساب قادیانیت"

"سیدنا عیسیؑ جب دوبارہ تشریف لائیں گے تو ان کا مقام کیا ہوگا؟"

"قادیانی سوال"

سیدنا عیسیؑ جب دوبارہ تشریف لائیں گے تو وہ نبی ہوں گے یا نہیں؟ ؟ اگر وہ نبی ہوں گے تو یہ بات آپ کے عقیدے کے خلاف ہے
@SearchTheTruth5
کیونکہ آپ کہتے ہیں کہ نبوت کا دروازہ بند ہے اب حضورﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔
اور اگر سیدنا عیسیؑ نبی نہیں ہوں گے تو یہ بات اصول کے خلاف ہے کیونکہ اللہ تعالٰی جب کسی کو ایک دفعہ نبوت کی نعمت عطا فرمادیتے ہیں تو پھر اس سے نبوت والی نعمت واپس نہیں لیتے

قادیانی اعتراض کا جواب
آپ قادیانیوں نے ہمارے "عقیدہ ختم نبوت " کو پڑھا ہی نہیں ہے۔ یا اگر پڑھا بھی ہے تو جان بوجھ کر دجل سے کام لے رہے ہیں کیونکہ" عقیدہ ختم نبوت " یہ ہے کہ

"نبیوں کی تعداد حضورﷺ کے تشریف لانے سے مکمل ہوچکی ہے اب تاقیامت کسی بھی انسان کو نبی یا رسول نہیں بنایا جائے گا "
Read 10 tweets
20 Sep
#searchthetruth
حضرت امام مہدی رضوان اللہ علیہ کی آمد اور جاوید احمد غامدی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت امام مہدی رضوان اللہ علیہ کا وجود قیامت کی علامات کبریٰ میں سے ہے ۔ قرب قیامت میں احادیث کے مطابق آپ کی ولادت ہوگی
@SearchTheTruth5
اور مکہ مکرمہ میں آپ بیعت خلافت لیں گے اور اللہ کے دین کو غالب کریں گے۔ جبکہ اہل تشیع کے نزدیک آپ کی ولادت ہو چکی ہے اور آپ قرب قیامت میں ظہور فرمائیں گے ۔ جاوید غامدی کیونکہ نزول مسیح علیہ السلام کا بھی منکر ہے اسی لیے امام مہدی کی آمد کا بھی منکر ہے
کہ ان کے نزدیک یہ تمام احادیث ضعیف اور جھوٹی ہیں (نعوذباللہ)۔۔۔
اپنے اس عقیدہ کا ذکر غامدی نے اپنی کتاب میزان کے صفحہ : 178 پر کیا ہے ۔ غامدی کے مطابق کسی بھی صحیح حدیث میں قرب قیامت میں امام مہدی کی آمد کا ذکر نہیں ہے ۔ اہل سنت کے نزدیک امام مہدی علیہ السلام کی
Read 7 tweets
18 Sep
#SearchTheTruth
#نماز_راہ_نجات_ہے
قادیانیت کا مکروہ چہرہ اور جسٹس منیر رپورٹ (حصہ ہفتم، آخری قسط)

کتبہ: ✍️ خالد محمود ۔ کراچی ۔

حضرت مولانا عبدالرحمن یعقوب باوا صاحب دامت برکاتہم العالیہ اپنے پر مغز بیان کے آخری حصہ میں فرماتے ہیں کہ:

اب ایک آخری حوالہ
@SearchTheTruth5
میں پڑھتا ہوں، اس رپورٹ کے حوالے سے جب تقسیم ملک سے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا دھندلا سا امکان افک پر نظر آنے لگا، تو احمدی آنے والے واقعات کے متعلق فکر مند ہوگئے، کہ اب مسلمانوں کا ایک الگ وطن بن رہا ہے
پاکستان۔ 1945سے لے کر 1947 کے آغاز تک ان کی بعض تحریروں سے یہ منکشف ہوتا ہے کہ انہیں (قادیانیوں کو) پہلے انگریزوں کا جانشین بننے کی توقع تھی، یعنی انگریز 1947 میں آزادی دے کر ، جیسے آج پاکستان کی آزادی کا دن ہے 14 اگست، انہیں پہلے انگریزوں کا جانشین بننے کی توقع تھی،
Read 11 tweets
16 Sep
#نمود_عشق
📍قادیانی جماعت کی پانچویں رسوائی*📍
از ✍️:مرتب سہیل باوا👉🏻🍀
پاکستان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے امیر شریعت مولانا سید عطاءاللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عملی سیاست سے کنارہ کش ہونے کا اعلان کردیا تھااور کہا کہ اب مجلس احراراسلام صرف قادیانیوں کا ہی سدباب کرے گی
تاکہ قادیانی پاکستان میں کوئی مؤثر طاقت بن سکیں ۔ چونکہ وزارت خارجہ پر
بھی ان کا قبضہ تھا۔ اس صورتحال سے نکلنے
کے لیے پاکستان میں 1953ء میں مسلمانوں کی مجلس عمل کی تحریک بڑی تیزی سے چلی اس کے نتیجے میں چوہدری ظفراللہ خان پاکستان کی وزارت خارجہ میں نہ رہے
یہ نہیں بلکہ یہ لوگ پاکستان کی عملی سیاست سے بھی نکل گئےاور مجلس عمل اپنی تحریک میں کامیاب ہوگئی ۔۔۔
مرزاقادیانی کی وفات 1908ءمیں ہوئی ۔1907ءمیں اس نے اپنے مخالفین کے خلاف یہ وحی شائع کی تھی اور اسے یہ عنوان دیا تھا۔۔۔ کہا کہ۔۔۔
*اور مجھے کافی ہے بشارت دینے والی یہ وحی جو مجھے
Read 9 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!