اس کا گاؤں شہر سے13کلومیٹر دور تھا‘ غریب ہونے کی وجہ اسے اپنی تعلیم جاری رکھنا مشکل تھی مگر اس نے مشکل حالاتکے سامنے ہتھیار نہ پھینکے بلکہ ان حالات کے مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔اس نے تہیہ کیا کہ وہ گاؤں سے دودھ لے کرشہر میں بیچے گا اور اپنی تعلیم جاری رکھے گا
چنانچہ وہ صبح منہ اندھیرے اذان سے پہلے اٹھتا‘ مختلف گھروں سے دودھ اکٹھا کرتا‘ڈرم کو ریڑھے پر لاد کر شہر پہنچتا‘ شہر میں وہ نواب مظفر قزلباش کی حویلی اور کچھ دکانداروں کو دودھ فروخت کرتا اور مسجد میں جا کر کپڑے بدلتا اور سکول چلا جاتا‘کالج کے زمانہ تک وہ اسی
طرح دودھ بیچتااوراپنی تعلیم حاصل کرتارہا اس نے غربت کے باوجود کبھی دودھ میں پانی نہیں ملایا۔بچپن میں اس کے پاس سکول کے جوتے نہ تھے‘ سکول کے لئے بوٹ بہت ضروری تھے‘ جیسے تیسے کر کے اس نے کچھ پیسے جمع کر کے اپنے لیے جوتے خریدے‘ اب مسئلہ یہ تھا کہ اگر وہ
گاؤں میں بھی جوتے پہنتا تو وہ جلدی گھِس جاتے چنانچہ وہ گاؤں سے والد کی دیسی جوتی پہن کر آتا اور شہر میں جہاں دودھ کا برتن رکھتا وہاں اپنے بوٹ کپڑے میں لپیٹ کر رکھ دیتااور اپنے سکول کے جوتے پہن کے سکول چلا جاتا۔والد سارا دن اور بیٹا ساری رات ننگے پاؤں پھرتا‘
1935ء میں اس نے میٹرک میں نمایاں پوزیشن حاصل کی اور پھر اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں داخلہ لیا‘اب وہ اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لئے گاؤں سے ریڑھیمیں دودھ لاتا اور شہر میں فروخت کر دیتا ‘اس کام میں کبھی اس نے عار محسوس نہ کیا‘ فرسٹ ائیر میں اس
کے پاس کوٹ نہ تھااور کلاس میں کوٹ پہننا لازمی تھا چنانچہ اسے کلا س سے نکال کر غیر حاضری لگا دی جاتی
اس معاملے کا علم اساتذہ کو ہوا تو انہوں نے اس ذہین طالبعلم کی مدد کی‘ نوجوان کو پڑھنے کا بہت شوق تھا‘ 1939ء میں اس نے بی اے آنر کیا‘ یہ اپنے علاقہ میں
واحد گریجویٹ تھا‘یہ نوجوان اس دوران جان چکا تھا کہ دنیا میں کوئی بھی کام آسانی سے سرانجام نہیں دیا جا سکتا کامیابیوں اور بہتریں کامیابیوں کے لیے ان تھک محنت اور تگ و دو لازمی عنصر ہے۔ معاشی دباؤ کے تحت بی اے کے بعد اس نے باٹا پور کمپنی میں کلرک کی نوکری کر لی
چونکہ اس کا مقصد اور گول لاء یعنی قانون پڑھنا تھا لہٰذا کچھ عرصہ بعد کلرکی چھوڑ کر قانون کی تعلیم حاصل کرنے لگا اور 1946ء میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کر لیا۔1950ء سے باقاعدہ پریکٹس شروع کر دی‘ اس پر خدمت خلق اور آگے بڑھنے کا بھوت سوار تھا‘ اس نے لوگوں کی
مدد سے اپنے علاقے میں کئی تعلیمی ادارے قائم کیے‘اس جذبہ کے تحت 1965ء میں مغربی پاکستان اسمبلی کا الیکشن لڑا اور کامیاب ہوا‘ پیپلزپارٹی کے روٹی‘ کپڑا اور مکان کے نعرے سے متاثر ہو کر اس میں شامل ہو گیا۔ 1970ء میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوا اور نواب
مظفر قزلباش کے بھائی کو جن کے گھر یہ دودھ بیچتا کرتا تھا‘ شکست دی۔1971ء میں دوالفقار علی بھٹو کی پہلی کابینہ میں وزیر خوراک اور پسماندہ علاقہ جات بنا‘ 1972ء کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا‘ وزارت اعلیٰ کے دوران اکثر رکشے میں سفر کرتا‘اپنے
گورنر مصطفی کھر کے ساتھ نبھانہ ہونے کی وجہ سے استعفیٰ دے کر ایک مثال قائم کی‘ 1973ء میں اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد کی قیادت کی‘ 1973ء میں وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور کا قلمدان سونپا گیا۔ 1976ء میں وفاقی وزیر بلدیات و دیہی مقرر گیا‘ دو دفعہ سپیکر
قومی اسمبلی بنا اور 4 سال تک انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی کا ریکٹر رہا۔ ایک مفلس و قلاش ان پڑھ کسان کا بیٹا جس نے کامیابی کا ایک لمبا اور کٹھن سفر اپنے دودھ بیچنے سے شروع کیا اور آخر کار پاکستان کاوزیراعظم بنا‘یہ پاکستان کا منفرد وزیراعظم تھا جو ساری عمر لاہور
میں لکشمی مینشن میں کرائے کیمکان میں رہا‘ جس کے دروازے پر کوئی دربان نہ تھا‘ جس کا جنازہ اسی کرائے کے گھر سے اٹھا‘ جو لوٹ کھسوٹ سے دور رہا‘ جس کی بیوی اس کے وزارت عظمیٰ کے دوران رکشوں اور ویگنوں میں دھکے کھاتی پھرتی ملک معراج خالد تاریخ کی ایک عہد
ساز شخصیت تھے‘ آپ 23 جون 2003 ء کو اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔‘
منقول

مختصر معلوماتی اسلامی اور تاریخی اردو تحریریں پڑھنے کیلئے فیسبک گروپ جوائن کریں 👇👇👇

facebook.com/groups/7591466…

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with علـــمـــی دنیــــــا

علـــمـــی دنیــــــا Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @Pyara_PAK

23 Sep
سلطنت عثمانیہ کے وفادار عجمی پاشا السعدونی

جسے برطانوی استعمار نے ملتِ اسلامیہ سے غداری کے بدلے تین_لاکھ_پاؤنڈ جو آج کی قیمت میں تقریباً ۸۸ ملین پاؤنڈز بنتے ہیں کی پیشکش کی, جو عجمی پاشا نے یکسر ٹھکرا دئیے, حالانکہ رشوت کی پیش کش کرنے والا برطانوی Image
جاسوس_پرسی_کاکس تھا جو #آلِ_سعود, #غدار_شریف_حسین اور تمام عرب شیخوں کے ساتھ بیٹھا تھا سوائے اس ہیرو کے جس نے فخر سے انکار کیا.

جب نوآبادیاتی ممالک کے لشکر اپنی طاقت ور فوجوں جاسوسوں اور مقامی ایجنٹوں کے ساتھ آگے بڑھے اور ملتِ اسلامیہ کو دو
حصوں میں تقسیم کیا تو شیخ عجمی پاشا السعدون عرب اشرافیہ کی سربراہی میں ملتِ اسلامیہ کی جو محبت کی ان کی رگوں میں دوڑ رہی تھی اس کی خاطر برطانوی استعمار کے سامنے کھڑے ہو گئے.

اس کے علاوہ مشہور برطانوی ایجنٹ #تھامس_ایڈورڈ_لارنس المعروف لارنس آف
Read 12 tweets
22 Sep
سلطان صلاح الدین ایوبی کی پیدائش اور ان کے والدین

گورنر نجم الدین ایوب کافی عمر ھونے تک شادی سے انکار کرتا رھا،
ایک دن اس کے بھائی اسدالدین شیر کوہ نے اس سے کہا : بھائی تم شادی کیوں نھیں کرتے ..؟
نجم الدین نے جواب دیا :
میں کسی کو اپنے قابل نھیں سمجھتا. Image
اسدالدین نے کہا :
میں آپ کیلئے رشتہ مانگوں ؟
نجم الدین نے کہا :
کس کا ؟
اسدالدین :
ملک شاہ بنت سلطان محمد بن ملک شاہ سلجوقی کی بیٹی کا یا وزیر المک کی بیٹی کا..؟
نجم الدین ؛
وہ میرے لائق نھیں ،
اسدالدین حیرانگی سے :
پھر کون تیرے لائق ھوگی ؟
نجم الدین نے جواب دیا :
مجھے ایسی نیک بیوی چاھئیے جو میرا ھاتھ پکڑ کر مجھے جنت میں لے جائے اور اس سے میرا اک ایسا بیٹا پیدا ھو جس کی وہ بہترین تربیت کرے جو شہسوار ھو اور مسلمانوں کا قبلہ اول واپس لے ..
Read 9 tweets
22 Sep
ذرا مغرب کی انسان دوستی کا ایک کرشمہ دیکھیے۔

امریکہ میں جارج سٹِنی نامی یہ بچہ، کم عمر ترین فرد ہے جس کو سزائے موت دی گئی تھی. اس کی عمر صرف 14 برس تھی اور اس کو برقی کرسی کے ساتھ باندھ کر بجلی کے جھٹکے دے دے کر مارا گیا تھا, Image
جارج پر الزام تھا کہ اس نے دو سفید فارم لڑکیوں کو قتل کیا ہے ان میں سے ایک بچی کا نام "بَیٹی" تھا جس کی عمر 11 برس تھی دوسری بچی کا نام "مَیری" تھا جس کی عمر 7 برس تھی۔جارج پر ان کے قتل کا الزام اس لیے لگا کہ ان بچیوں کی لاشیں اس کے گھر کے پاس سے ملی تھیں۔
کیس کی تفتیش کے دوران یہ بچہ اپنے ہاتھ میں بائبل لے کر آیا اور اس پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا کر بولا کہ میں معصوم ہوں یہ قتل میں نے نہیں کیے ہیں اس وقت عدالت کے تمام وکلاء سفید فام تھے, کسی وکیل نے جارج کا کیس نہیں لیا کیونکہ وہ سیاہ فارم تھا اسی طرح عدالت کا جج
Read 9 tweets
20 Sep
شاہوں سیدوں اور سجادہ نشینوں کی غداری اور رائے احمد خان کھرل کا قتل

جون 1857 کو ملتان چھاونی میں پلاٹون نمبردس کو بغاوت کے شبہے میں نہتا کیا گیا اور پلاٹون کمانڈر کو بمعہ دس سپاہیوں کے توپ کے آگے رکھ کر اڑا دیا گئے آخر جون میں بقیہ نہتی پلاٹون کو شبہ ہوا کہ
انہیں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں فارغ کر دیا جائے گا اور انہیں تھوڑا تھوڑا کرکے تہہ تیغ کیا جائے گا سپاہیوں نے بغاوت کر دی تقریبا بارہ سوسپاہیوں نے بغاوت کا علم بلند کیاانگریزوں کے خلاف بغاوت کرنے والے مجاہدین کو شہر اور چھاونی کے درمیان واقع پل شوالہ پر دربار بہاءالدین
زکریا کے سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی نے انگریزی فوج کی قیادت میں اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیرے میں لے لیااور تین سو کے لگ بھگ نہتے مجاہدین کو شہید کر دیا۔یہ مخدوم شاہ محمود قریشی ہمارے موجودہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے لکڑدادا تھے اور ان کا نام
Read 17 tweets
20 Sep
مرد کا درجہ عورت سے زیادہ کیوں؟

2006 نومبر حج میں نام نکلا تھا فلائیٹ بھی پہلی تھی کھاریاں سے بہاولپور کی پوسٹنگ ہوئی تھی ۔
دو کمروں کا فلیٹ الاٹ ہوا تھا دو تین دن میں جلدی جلدی سامان شفٹ کیا بچوں کو پیچھے چالیس دن چھوڑنا تھا سو ان کی
ساری سیٹنگ کی اور بچوں کو ساتھ لیا اور بائے روڈ کراچی کیلیے نکل پڑے ۔ راستے میں رات اور شدید بارش ہونے لگی ۔ ساتھ ہی ٹائر پنکچر ہوگیا ۔ رات کا سناٹا ، نومبر کی سرد رات ( جو کبھی نہیں بھولتی ) جس کی شدت میں تیز بارش نے خوب اضافہ کردیا تھا ۔۔۔
صاحب نے گاڑی اک سائیڈ پر روکی اور خود باہر نکلے ٹائر بدلنے لگے ۔۔ سات سالہ ارسل بھی بابا کے ساتھ اترا اور اترتے ہوئے بولا ۔۔۔ مما اچھی طرح دروازہ بند کرلیں آپ لوگ بھیگ نہ جائیں ۔۔ اور پھر برستی بارش میں ٹارچ تھامے کھڑا تھا ۔ آپی چھوٹو اور مما گاڑی کے اندر گرم ہیٹر آن
Read 9 tweets
19 Sep
سات سو سال تک زندہ رہنے والے ہندوستانی صحابی رسولؐﷺ

رسولؐﷺ اللّٰهﷻ کے ایک صحابی بھارت کے ایک شہر بھٹنڈہ میں آسودۂ خاک ہیں، ان کی وہاں موجودگی سےآج بھی لوگ فیض حاصل کررہے ہیں
بھارتی شہربھٹنڈہ سے تعلق رکھنے والے بابا Image
رتن ہندی کا نام رتن ناتھ ابن نصر ہے اورروایت کے مطابق وہ ایک تاجر تھے ، جو کہ عرب ممالک میں اپنے مال کی فروخت کے لیے جایا کرتے تھے _____!!!

روایت ہے کہ رتن ہندی اپنی جوانی میں عرب کا سفر کررہے تھے کہ ایک خوبصورت کمسن چرواہے کو ، جس کی عمر سات سال
کے لگ بھگ تھی ، انہوں نے مشکل میں دیکھا۔ انہوں نے آگے بڑھ کر اس کی مدد کی تو اس حسین نقوش کے حامل بچے نے حیرت انگیز طور پر انہیں سات بار دعا دی کہ ’اللہ تمہیں طویل عمر عطا کرے‘____!!!

رتن اس کے بعد واپس ہند لوٹ آئے اور اپنے کاروبارِ حیات میں مشغول ہوگئے ،لگ بھگ
Read 12 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!