ہر فوجی یقیناََ ڈاکٹر اور اُستاد جیسا مُقدّس ہے لیکن جیسے کوئی ڈاکٹر اور اُستاد اپنے پیشہ ورانہ فرائض سے پہلُوتہی برتتے ہی پیشہ ورانہ تقدس کھو دے گا ویسے ہی ایک فوجی بھی جب اللہ اور قوم کو گواہ بنا کر لیا گیا حلف بُوٹ کی نوک پر رکھتے ہُوئے سیاست میں دخل دیتا ہے تو تقدُس کھو دیتا
ہے۔ حلف توڑنے والا شخص کُچھ بھی ہو سکتا ہے محبّ وطن نہیں ہو سکتا۔ جو شخص اپنے خالِق کے نام پر لیے حلف کو پیروں تلے روند دے اُسے مُلک و قوم کا مسیحا سمجھنے والے کو بُت پرست کے علاوہ کُچھ نہیں کہا جا سکتا۔ فوج کو سیاست میں گھُسانے والے جرنیل اُن شُہدا کی بھی بے توقیری کروانے کے
مُجرم ہیں جو قوم کے تحفظ کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔غُلامی ان آمروں کی ہو یا ملکہ برطانیہ کی، ایک ہی جیسی ہے۔ اکہتر میں پاکستان کبھی نہ ٹُوٹتا اگر مُلک پر جرنیلوں کی جگہ آئین کی حکمرانی ہوتی، پاکستان کو مزید ٹُکرے ہونے سے بچانے کا راستہ بھی آئین کی حکمرانی ہے۔
جرنیلوں کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ پاکستان کو آزاد کرنا ہے یا کُوڑے دان میں جانا ہے کیونکہ اب ہم اپنا بچا کھُچا ملک توڑنے اور غیرآئینی اقدامات کی اجازت نہیں دیں گے۔

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Amjad⚙️

Amjad⚙️ Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @IQamjadID

18 Oct
تہتر سالہ چار مسئلے اور ان کے انڈے بچے
اسلام خطرے میں ھے۔ پاکستان خطرے میں ھے۔ کشمیر ھمارا اٹوٹ انگ ھے۔ ھم نے کشمیر فتح کرنا ھے۔ان چار مسئلوں سے مزید چار مسئلے جنم لیتے ھیں۔ مذھبی انتہا پسندی ، حب الوطنی، عسکریت اور دھشت گردی، ان سے چار نتائج سامنے آتے ھیں ۔ خوف ، مرکزیت، آمریت
اور اسلحہ بندی ، یہ چار نتائج چار نقصانات کرتے ھیں ۔ جمہوری، سماجی ، معاشی اور فکری ، ان چار نقصانات کو چار طریقوں سے چھپایا جاتا ھے۔ سیاسی کرپشن ، سیاسی نااھلی ، سیاسی توڑ پھوڑ اور سیاسی جہالت، اس کا ازالہ ان چار خوش فہمیوں سے کیا جاتا ھے۔ عسکری کامیابی، عسکری گلوری فیکیشن،
عسکری رومانیت ، عسکری تحفظ، یہ سارا عمل چار شکلوں میں سامنے آتا ھے۔ غربت، بےروزگاری، بیماری اور عدم تعلیم ۔ اور یہ صورتحال وہ مائنڈ سیٹ ترتیب دیتی ھے۔ جس میں پھر چار قسم کے الزامات سامنے آتے ھیں ۔ کافر ، غدار، چور اور سیکیورٹی رسک ۔ اور یہ مائنڈ سیٹ وہ تہتر سالہ شیطانی چکر ھے۔
Read 4 tweets
26 Sep
عبداللہ طاہر جب خراسان کے گورنر تھے اور نیشاپور اس کا دارالحکومت تھا تو ایک لوہار شہر ہرات سے نیشاپور گیا اور چند دنوں تک وہاں کاروبار کیا۔ پھر اپنے اہل و عیال سے ملاقات کے لئے وطن لوٹنے کا ارادہ کیا اور رات کے پچھلے پہر سفر کرنا شروع کردیا۔ ان ہی دنوں عبد اللہ طاہر نے سپاہیوں
کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ شہر کے راستوں کو محفوظ بنائیں تاکہ کسی مسافر کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔اتفاق ایسا ہوا کہ سپاہیوں نے اسی رات چند چوروں کو گرفتار کیا اور امیر خراسان (عبد اللہ طاہر) کو اسکی خبر بھی پہنچا دی لیکن اچانک ان میں سے ایک چور بھاگ گیا۔ اب یہ گھبرائے اگر امیر کو
معلوم ہوگیا کہ ایک چور بھاگ گیا ہے تو وہ ہمیں سزا دے گا۔ اتنے میں انہیں سفر کرتا ہوا یہ (لوہار) نظر آیا۔ انھوں نے اپنی جان بچانے کی خاطر اس بےگناہ شخص کوفوراً گرفتار کرلیا اور باقی چوروں کے ساتھ اسے بھی امیر کے سامنے پیش کردیاامیرخراسان نے سمجھا کہ یہ سب چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے
Read 13 tweets
24 Sep
سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن (Richard Nixon) کے رابرٹ کرین (Robert Crane) نامی ایک مشیر رہے ہیں.
• انہوں نے عوامی قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی..
• پھر بین الاقوامی قانون میں پی ایچ ڈی کی..
• پھر وہ ہارورڈ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاء کے صدر بن گئے..
• بعد ازاں وہ امریکی صدر
نکسن کے مشیر برائے امور خارجہ تعینات ہوئے..
• وہ امریکی قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی ڈائریکٹر بھی رہے..
• انہیں امریکہ میں سیاسی امور کا ماہر سمجھا جاتا ہے..
• وہ امریکہ میں مرکز تمدن وتجدید کے بانی ہیں..
• وہ چھ زندہ زبانوں میں روانی سے بولتے ہیں..
ایک دن امریکی صدر
نکسن نے "اسلامی اصول و قواعد" کے بارے میں پڑھنا چاہا, لہذا اس نے سی آئی اے سے کہا کہ میرے لیے اس موضوع پر ایک تحقیقی مضمون تیار کروانہوں نے اپنے صدر کے احکام پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ایک تحقیقی مضمون تیار کیا لیکن وہ قدرے لمبا تھااس نے اپنے مشیر رابرٹ کرین سے کہا کہ اس مضمون کو
Read 12 tweets
20 Sep
“تقریر”
یے ایک فیصلہ کن موڑ سمجھتا ہوں پاکستان کی خوشحالی پاکستان کو ایک صحیح جمہوری ملک بنانے کے لیے ہم ہر طرح کی مصلحت کو چھوڑ کر بے باک فیصلے کرنا ہوں گے
پاکستان کو جمہوری نظام سے مسلسل دور رکھا گیا ہے
آنتخابی عمل سے پہلے طے کر لیا جاتا ہے کسے جتانا ہے کسے ہرانا ہے رہی سہی کسر
حکومت بنانے کے لیے جوڑ توڑ کیا جاتا ہے
اگر کبھی عوامی حکومت بن بھی جائے تو پہلے اسے بے اثر کیا جاتا ہے اور پھر فارغ کر دیا جاتا ہے
۷۳ سال کی تاریخ میں ایک بار بھی وزیر اعظم اپنی مدت پوری نا کرسکا
جب ایک ڈکٹیٹر کو ائن شکنی کے جرم میں پہلی بار کٹہرے میں لایا گیا تو کیا ہوا عدالتوں
نے کیسے بریت کا سرٹیفکیٹ دے دیا اسے ایک۔ گھنٹے کے لیے بھی گرفتار نا کیا جا سکا بلکہ عدالت ہی غیر ائینی قرار دے دی گئ
ہمین ایسے اقدامات خود کرنے چاہئے کہ دنیا ہم پر انگلیاں نہ اٹھائے اور اسے #ڈان_لیکس بنا دیا گیا
ثبوت تو کسی کے پاس کچھ نہ تھا پر پروپیگنڈا مشینوں کے ہاتھوں ہمیںُ
Read 17 tweets
19 Sep
میرا تعلق ائل اینڈ گیس انڈسٹری سے ہے اس لیے اس انڈسٹری کے بارے میں سب کچھ جانتا ہوں اور جب بھی ایک سو سے لے کر ۳۰۰ بیرل کنڈنسیٹ یا ائل اورایک سے دس ملین کیوبیک فٹ گیس پر ڈے جیسی مونگ پھلی کے دانے جیسی ڈسکوریز کو الیکٹرانک، پرنٹ میڈیا اور حکومتی مشینری کو ان پر لڈیاں ڈالتے دیکھتا
ہوں تو حیران ہوتا ہوں کہ یے گوئبلز کی تھیوری پر آمین کہنے والی شائد واحد قوم دنیا میں رہ گئ ہے یا تاریخ میں پہلی بار یا تاریخ کی سب سے بڑی ڈسکوری پر کیسے آنکھ بند کرکے یقین کر لیتی ہے؟ یاد تہے میں جس ائک کمپنی میں جاب کرتا ہوں اگر ہمارا کوئ ویل ۱۰۰ بیرل پر ڈے پر ا جائے تو اسے ہم
P&A کر دیتے ہیں بیسیکلی پلگ کر دیتے ہیں، کنڈنسیٹ لو ڈینسیٹی ائل ہوتا جسے موسٹلی ہیوی ائل کو ڈائلیوٹ کرنے کے لیے یوز کیا جاتا ہے مگر ہماری قوم ہر چورن جیسے دیا جائے کھا لیتی ہے یار کچھ تو دیکھا کرا کہ نمک کالا ہے یا سفید؟ خیا اب اتا ہوں اصل بات پر کہتے ہیں پاکستان ایک زرعی ملک ہے
Read 7 tweets
19 Sep
پنڈ کا نمبردار میراثی کو دوجے گاؤں کی نیاز پر ساتھ لے گیا ساتھ کے گاؤں پہنچ کر انہوں نے نمبردار کو ورتاوے (بانٹنے) پر لگا دیا مراثی نمبردارکے ساتھ بیٹھا تھا ۔ جیسے ہی نمبردار نے دیگ کھولی اور مراثی کو چھوٹے گوشت اور دیسی گھی کی خوشبو پہنچی تو مراثی آٹو میٹک طور پر لائن میں لگ گیا
مراثی کا لائن میں لگا دیکھ کر نمبردار بولاگامیا توں ایدھر آ جا توں ہیگا ایں میرے ذہن وچ ٹینشن نہ لے پہلی دیگ ختم ہو گئی مراثی کا منہ لٹک گیا ۔دوسری دیگ کھلی مراثی خوشبو اور بھوک کے مارے پھر آٹومیٹک طور پر لائن میں لگ گیا نمبردار پھر بولا گامیا توں ایدھر آ جا توں ہیگا ایں میرے ذہن
وچ مراثی سر جھکائے پھر واپس ا گیا ۔دوسری دیگ بھی ختم ہو گئی مراثی مزید مرنے والا ہو گیا تیسری اور آخری دیگ کھلی مراٹی پھر لائن میں لگ گیا نمبردارپھر بولا گامیا ایدھر آ جا توں ہیگا ایں میرے ذہن وچ مراثی تنک کر ہاتھ جوڑ کر بولا خیر ہووے موتیاں آلیو تسی دو منٹ آسطے مینوں اپنے ذہن
Read 4 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!