آ پ کا تھوڑا سا قیمتی وقت درکار ہے۔
چکوال سے کوئی 40 کلومیٹر شمال مشرق کی طرف جائیں، تو ایک چھوٹا سا خاموش گاؤں آتا ہے، جس کا نام جند اعوان ہے۔ بہت کم لوگوں کو پتا ہے کہ اس گاؤں کے قبرستان میں ایک ایسی قبر ہے، جس میں لیٹے انسان نے تن تنہا پاکستان کا پرچم بین الاقوامی
سطح پر، ایک بار نہیں بار بار بلند کیا۔ عبد الخالق کو بچپن ہی سے بھاگنے کا جنون تھا۔ ایک بار پاکستان آرمی کے برگیڈیر رودھم نے اس کی کبڈی اور ریس کا مقابلہ دیکھا، تو اسے آرمی میں جوانوں کی ٹریننگ پر آمادہ کیا۔ یہ کام اس نے آخر دم تک بخوبی نبھایا
اور بے شمار مایہ ناز اتھلیٹ پاک آرمی کو دیے۔ وہ پاک آرمی میں صوبیدار خالق کے نام سے مشہور تھا۔

اس اکیلے اتھلیٹ نے نیشنل گیمز میں 100 سونے کے تمغے اور انٹرنیشنل مقابلوں میں 26 گولڈ، 16 سلور اور بے شمار برونز میڈل جیتے۔ 1954ء منیلا ایشین گیمز میں نا صرف گولڈ
میڈل جیتا بلکہ 6۔ 10 سیکنڈ میں 100 میٹر کا نیا ریکارڈ بھی بنایا۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ ایک انڈین اتھلیٹ کے پاس تھا۔ اس کی اس شاندار کامیابی پر جواہر لال نہرو نے اسے ”فلائنگ برڈ آف ایشیا“ یعنی ”ایشیا کا پرندہ“ کا خطاب دیا۔ 1958ء ٹوکیو کی ایشین گیمز
ہوں، 1956ء کی میلبورن اولمپکس ہوں یا 1960ء کی روم اولمپکس، صوبیدار خالق 100 میٹر میں گولڈ میڈل جیت کر لایا۔

1958ء کی ایشین گیمز میں ملکھا سنگھ پہلی بار منظر عام پر آیا۔ نیشنل لیول پر اس کا خوب نام تھا، مگر صوبیدار خالق نے اسے کوئی اہمیت نہ دی۔ اس وقت عبد الخالق کا
طوطی سر چڑھ کر بولتا تھا۔ 200 میٹر کی ریس کا اختتام بہت ڈرامائی تھا، جس کے نتیجے کا اعلان بھی بہت دیر میں ہوا۔ ملکھا اور خالق برابر تھے۔ آخر بہت سارے زاویوں سے تصویریں دیکھنے اور ایکسپرٹس کے مشوروں کے بعد ملکھا سنگھ 6۔ 21 سیکنڈ کو گولڈ اور عبدالخالق کو 7۔ 21 سیکنڈ کے
ساتھ سلور میڈل دیا گیا۔ اس مقابلے کے بعد ان دونوں کھلاڑیوں کا اگلا مقابلہ بہت اہمیت اختیار کر گیا تھا۔

1960ء میں صدر ایوب خان نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں نرمی لانے کے لئے لاہور میں انڈو پاک گیمز کا انعقاد کیا۔ یوں تو ل اتعداد ایونٹس میں بے شمار اتھلیٹ میدان میں اترے
تھے، مگر سب کی نظریں 200 میٹر کے مقابلے پر لگی تھیں، جس میں انڈیا کی طرف سے ملکھا سنگھ اور پاکستان کی طرف سے عبدالخالق کی دوڑ ہونا تھی۔ کھیلوں کا آخری دن تھا۔ صدر صاحب خود یہ مقابلہ دیکھنے اور انعامات تقسیم کرنے سٹیڈیم آئے تھے۔ لوگوں کا جوش دیدنی تھا۔
سٹیڈیم کھچا کھچ بھرا تھا۔ کان پڑی آواز سنائی نا دیتی تھی۔ لوگ گلے پھاڑ پھاڑ کر اپنے اپنے وطن کے ان ایتھلیٹس کے لئے نعرہ بازی کر رہے تھے اور شاید بارڈر کے دونوں طرف کے باقی کروڑوں لوگ بھی جذبات کی اس گرمی کو محسوس کر رہے تھے۔ ہر گھر اور دکان پر ریڈیو آن تھا۔ اس جذباتی فضا
میں ریفری نے پستول فضا میں بلند کیا اور ریس کا آغاز ہو گیا۔

20 سیکنڈ کی ایک ریس کے لئے ایسا ماحول پہلے کبھی نا دیکھا گیا تھا۔ عبد الخالق پاکستان کا فیورٹ تھا تو ملکھا سنگھ انڈیا کا۔ دونوں میں اپنے وطن کا پرچم بلند کرنے کی دھن سوار تھی۔ مگر مقابلے کے دو فاتح تو
نہیں ہو سکتے تھے۔ بہر طور کسی ایک ہی نے جیتنا تھا اور وہ خوش قسمت ملکھا سنگھ نکلا۔ قسمت کی دیوی اس دن اس پر مہربان تھی اور وہ آخری سیکنڈ کے میں عبد الخالق کو پیچھے چھوڑتا ہوا ریس جیت گیا۔ اس دن صدر ایوب خان نے ملکھا سنگھ کو ”فلائنگ سکھ“ کا خطاب دیا، جو وہ ہمیشہ ہر انٹرویو
میں فخر سے بتاتا رہا۔

عبد الخالق عوام کا مجرم ٹھہرا۔ کروڑوں دلوں کو توڑنے کا صدمہ، اس نے دل پر لے لیا اور اس کے بعد گم نامی کے اندھیروں میں گم ہو گیا۔ اس نے 1971ء کی جنگ میں بھی حصہ لیا اور جنگی قیدی بنا۔ بارڈر کے اس پار اب بھی اس کی بہت عزت تھی۔ اندرا گاندھی نے
خصوصی طور پر اس کی رہائی کا بندوبست کیا، مگر اس غیور اتھلیٹ نے انکار کر دیا اور کہا وہ اپنے باقی ساتھیوں کے ساتھ ہی واپس جائے گا۔ 1988ء میں راولپنڈی میں اس کا انتقال ہو گیا۔ نا ٹی وی پر خبر چلی، نا کسی سوگ کا اعلان ہوا۔ بس اخبار کے اندرونی صفحے پر ایک کالمی خبر اور 100 میٹر ریس
کا ایک درخشاں باب بند ہو گیا۔

1960ء میں صوبیدار خالق کے ہارنے کی کئی وجوہ تھیں۔ وہ بنیادی طور پر 100 میٹر کا چیمپئن تھا اور ملکھا سنگھ 200 میٹر کا۔ عینی شاہدین کا بتانا ہے کہ پہلے 100 میٹر میں عبد الخالق ہی آگے تھا، مگر اگلے 100 میٹر وہ اپنی رفتار برقرار نہ رکھ سکا۔ ہوم
گراؤنڈ اور ہوم کراوڈ کا پریشر مہمان کی نسبت میزبان پر ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ ملکھا سنگھ اس کا فائدہ اٹھا کر تاریخ میں اپنا نام لکھوانے میں کامیاب ہو گیا۔ پانچ دہائیوں بعد راکیش اوم پرکاش مہرا نے ملکھا سنگھ پر ایک بائیو پک بنائی اور وہ سپر ہٹ تھی۔ مہرا
نے اپنے پچاس سال پرانے ہیرو کو دوبارہ زندہ کر دیا اور پورے ہندوستان میں ایک بار پھر ملکھا سنگھ کا نام گونج اٹھا۔

ہمارے یہاں اپنے ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنے کا رواج کبھی بھی نہیں رہا۔ 1958ء سے 1964ء کے درمیان ملکھا سنگھ نے صرف 5 انٹرنیشل گولڈ جیتے اور عبد الخالق نے 34،
مگر پھر بھی اسے اتنی پذیرائی کبھی نا ملی جو بھارت میں ملکھا کو ملی۔ امید کی جا سکتی ہے کبھی وقت بدلے گا اور کوئی فلم میکر اپنے اس گمنام ہیرو کو خراج عقیدت پیش کرے گا اور نئی نسل کو اس کے کارناموں سے روشناس کرائے گا۔ انسان بھلے سو بار جیتتا رہا ہو، مگر کئی مقابلے ایسے
ہوتے ہیں، جن میں اس کی ایک ہار گائیڈڈ میزائل کی طرح زندگی بھر اس کا پیچھا کرتی رہتی ہے۔ صوبیدار خالق بھی اسی گائیڈڈ میزائل کا شکار ہو گیا۔
تحریر : مدثر ہارون
#پاک_فوج_میرے_دل_میں
#پاک_فوج_ہماری_جان
#پاک_فوج_زندہ_باد
#پاک_فوج_میرے_دل_میں
#PakistanZindabad
#PakistanArmy

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Ghulam Mohiuddin

Ghulam Mohiuddin Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @rising_gmd_2171

17 Oct
*فوج اچھی اور جرنیل برے ہیں؟؟؟🤔🤔🤔
*پراپگینڈا مہم میں بطور خاص پاک فوج کے جرنیلوں اور سپاہ سالاروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔*
کسی فوج میں سپاہیوں کو یہ یقین دلا دو کہ جس جرنیل کے حکم پر تم جانیں دے رہے ہو وہی ریاست کے ساتھ مخلص نہیں ہے۔ پھر دیکھو کہ وہ فوج کیسے لڑتی ہے۔ اس کے
علاوہ ایک اور تجربہ کرو۔ آپ پاک فوج کو برا کہہ کر دیکھیں۔ اکثر لوگ آپ کی مخالفت کرینگے۔لیکن آپ جرنیل کو گالی دیں۔ تو کم لوگ مخالفت کرینگے اور مقصد بھی حاصل ہوجائیگا.سپاہ سالار کو مار کر جنگیں جیتنا ہزاروں سال سے آزمودہ ہے اور آج بھی اتنا ہی
موثر۔ تب آج کی پراپیگینڈا وار میں بھلا اس کو کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے؟؟.اسی لیے پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف جاری بہت بڑی پراپگینڈا مہم میں بطور خاص پاک فوج کے جرنیلوں اور سپاہ سالاروں نشانہ بنایا جاتا ہے۔تاکہ عام سپاہی میں بے یقینی
Read 5 tweets
17 Oct
ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کا بڑا ایکشن

کراچی سے آپریٹ ہونے والے بین الاقوامی پورن ویب سائیٹ SteamKer App کا بڑا گروہ پکڑا گیا

کراچی میں ورچوئل کرنسی کے نام پر خواتین کو غیر اخلاقی کاموں میں استعمال کئے جانے کا انکشاف
خواتین کو ایپلیکیشن کے زریعے بین الاقوامی کلائنٹس سے ملوایا جاتا۔

غیر اخلاقی ویڈیو کالنگ خواتین کع کرنسی کے نام پر ڈائمنڈ دیے جاتے۔

خواتین جتنے زیادہ ڈائمنڈ حاصل کرتی اتنی زیادہ انہیں تنخواہ دی جاتی

کچھ لڑکیوں سے ابتدائی طور پر یہ کام کرانے
کے بعد ان سے زبردستی غیر اخلاقی کام بھی کر آئے

یہ گروپ کی صورت میں کام کرنے والا نیٹ ورک ہے

یہ ایپلیکیشن رمشا نامی خاتون کی ملکیت ہے جس میں فضل قادر نامی شخص اس کا پارٹنر ہے

خواتین کو بھرتی کرنے کے لیے یہ گروپ باقاعدہ طور پر اخبار میں اشتہارات بھی دیتا
Read 6 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!