آپ کی تیرہ سالہ بیٹی کے لیے چوالیس سال کے مسلمان کا رشتہ آۓ تو کیا آپ صرف مسلمان ہونے کی بنا پہ رشتہ قبول کر لیں گے؟
لیکن یہی رشتہ ایک مسیحی یا ہندو گھرانے سے آپ کی بیٹی کے لیے آۓ تو۔۔
آپ نہ صرف ان کو بے عزت کرکے گھر سے نکالیں گے بلکہ آپ شاید ان کے گھر بھی تباہ کرنے کی کوشش کریں
آخر دوسرے مذہب سے ہو کر بھی انھوں نے یہ گستاخی کرنے کا کیوں سوچا؟
اب اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیں کہ کیا اس ملک کی اقلیتوں کو بھی ایسا سوچنے کا حق ہے یا نہیں ؟
کم عمری کی شادی پہ سزا کا قانون بھی ہے اور نکاح بالجبر پہ بھی سزا ہے
لیکن بات جب دوسرے مذہب کے لوگوں کی آتی ہے تو ہم فوراً اسلام کی آڑ لیتے ہیں۔
ان تمام لوگوں کو جنھیں کم عمر بچیوں کو مسلمان کر کے نکاح کرنے کا ثواب کمانے کا شوق ہے، وہ ادھیڑ عمر مسلمان خواتین یا بیوہ و طلاق یافتہ خواتین کا سہارا بن کے سنت پہ عمل کرنے کی ہمت کیوں نہیں کرتے؟
کم عمر بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں لیکن جبری مذہب تبدیل کرنے کا معاملہ بھی کسی طور کم نہیں ہو رہا۔
امت مسلمہ اتنی کمزور نہیں کہ زبردستی مسلمان بنانے سے اسے قوت ملے۔خود کو بہترین مسلمان بنائیے۔
روز محشر اپنے نبی خاتم الانبیاء حضرت محمد صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کے سامنے اپنی قوت ایمانی کے ساتھ پیش ہوں۔ زبردستی مسلمان بنانے کے داغ کو اپنے ماتھے کا جھومر مت سمجھیں۔

#ہماکازاویہ

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Zilay Huma Dar

Zilay Huma Dar Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @ZilayHumaDar

27 Oct
انسان جب علم اور ترقی کی معراج کو چھُو لے گا تو اُس وقت کے تاریخ دانوں میں سے کوئی اپنے اجداد کی عقل پر ماتم کرتے ہُوئے لکھے گا،
"ہمارے اجداد میں بعض ایسے بھی گُزرے ہیں جنہوں نے بیس کروڑ سے زیادہ انسانوں کی تقدیر ایک ایسے آدمی کے ہاتھ میں دے دی تھی
جِس کی واحد قابلیت ایک ایسے کھیل میں مہارت تھی جِس میں ایک آدمی گیند ہاتھ میں پکڑے دور سے بھاگتا آتا ہے اور ایک مخصوص جگہ پہنچ کر گیند جھٹ سے چند میٹر دور کھڑے ایک دوسرے آدمی کے پیچھے چھُپی لکڑیوں کی طرف پھینکتا ہے۔ جِس شخص کی طرف وہ گیند پھینکی گئی ہوتی ہے
اُسے اپنے ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے کے ذریعے گیند کو روک کر اُسے نہ صرف پیچھے موجود لکڑیوں سے ٹکرانے سے بچانا ہوتا ہے بلکہ اپنے ہاتھ میں پکڑے لکڑی کے ڈنڈے سے گیند پر اتنی زور سے ضرب لگانی ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دور جا گرے۔"
Read 4 tweets
20 Oct
آپکو یہ تو بتایا ہے کہ حضرت یوسف بہت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے ، مگر
کوئی یہ نہیں بتاتا کہ اس یوسف نے اپنے ملک کو کیا "معاشی پروگرام" دیا تھا کہ 7 سال کے قحط میں کوئی انسان بھوک سے نہیں مرنے پایا۔
سب صرف یہ تو بتاتے ہیں کہ حضرت سلیمان کی بادشاہت اتنی دبدبے والی تھی کہ جنات بھی ان کے ماتحت تھے مگر کوئی نہیں بتاتا کہ وہ بے پناہ "سیاسی بصیرت" رکھنے والے بادشاہ تھے،
اپنے ملک فلسطین [ انڈسٹریل/ صنعتی اکانومی ] اور ملکہ بلقیس کے ملک یمن [ ایگریکلچرل/ ذرعی اکانومی ] کے درمیان دو طرفہ معاہدات [Bileteral Agreements] کے نتیجے میں خطے کو جس طرح خوشحالی دی آج کی جدید دنیا بھی اس کی مثال نہیں ملتی
Read 7 tweets
11 Oct
ملک میں کرپشن کے خاتمہ سے روزانہ 12 ارب روپے بچ رہے ہیں.
حکومتی اخراجات میں کمی کی وجہ سے 5000 ارب پہلے سے بچے ہوئے ہیں.
بیری کے درخت والی شہد سے بھی اربوں کی آمدنی متوقع ہے اور ہم نے اربوں کھربوں درخت بھی لگا رکھے ہیں۔
ظاہر ہے انکی اضافی لکڑی بھی ایکسپورٹ ہوگی
اور زرِمبادلہ ملک میں آئے گا۔ ابھی تو باہر پڑے 200 ارب ڈالر الگ اور 5000 ہزار کروڑ ڈالر الگ سے بھی ملک لانے ہیں اور گلابی نمک جو ہم نے بھارت جانے سے روک کر خود ایکسپورٹ کرکے اربوں ڈالر باہر سے پاکستان لائیں گے وہ الگ۔
چرس اور بھنگ کی کاشتکاری سے اربوں ڈالرز کی کمائی اور ساتھ میں جو عوام کو انڈے، کٹے اور مرغیاں دی گئی ہیں ظاہر ہے وہ بھی دو سے تین ہزار ارب سالانہ منافع تو دینگے ہی دینگے۔۔۔۔

مجھے معلوم ہے لوگ نہیں مانیں گے مگر باقی سب چھوڑیں یہ دیکھیں
Read 11 tweets
10 Oct
انگریزی کی کلاس میں ایک لیکچرر نے پوچھا کہ اگر آپ کے پاس چوائس ہوتی تو آپ کیا بننا پسند کرتے؟
سب سے انوکھا جواب ایک لڑکے کا تھا کہ میں لڑکی بننا پسند کرتا۔
یہ جواب بہت سے حقائق واضح کر گیا۔
ہمارے ہاں لڑکی ہونے کا مطلب ہے کہ نازک اندام،سگھڑ، پڑھائ کے ساتھ گھریلو امور میں ماہر ہونا
اس میں کچھ قصور افسانہ نگاروں اور شاعروں کا ہے جنھوں نے محبوب یا ہیروئن کا ایسا تصور پیش کیا کہ فی زمانہ اس سانچے میں ڈھلنے کے لیے دن کے چوبیس گھنٹے بھی کم لگتے ہیں۔
رہی سہی کسر فلمی ہیروئنز نے پوری کر دی۔سب کی آئیڈیل مخروطی آنکھوں،ڈمپل والی سروقد، گھنیری پلکوں والی ہیروئنیں ہیں
اب اس مقابلے کی فضا میں عام لڑکی کے لیے برابری کرنا کتنا مشکل ہے، کوئ ہم سے پوچھے۔

لمبے چمکدار بالوں کو قابو رکھنے کے لیے خاص شیمپو چاہیے۔ اب چاہے گرمی میں آپ جو بھی کریں،بالوں کا ٹوکرا سنبھالنے کو گھنٹہ لگتا ہے ۔
Read 11 tweets
9 Oct
ہریش کمار فزکس میں PhD کے بعد بھارت کی ایک اہم یونیورسٹی میں لیکچرار پوسٹ ہوا۔ہندو دھرم سے پہلے ہی متنفر تھا۔1986 لندن میں اسٹیفین ہاکنگز کے لیکچرز اور کتب سے ایسا متعارف ہوا کہ خدا کا ہی منکر ہو گیااور ایسا منکر کہ بڑے بڑے مسلم،عیسائی اور یہودی علماء سے بھرپور مباحثہ کرتا۔
یہاں تک کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی قائل نہ کر سکے۔

ڈاکٹر بتاتے ہے کہ 2005 کی چھٹی کے دن کی ایک صبح مسلم سبزی فروش نے بیل کی۔ ہم گزشتہ 20 سال سے سبزی اسی سے خرید رہے تھے۔ اس دن میں نے اسے چائے کی آفر کی تو اس نے قبول کر لی۔ حسب معمول خدا یا اللّہ کے وجود پر اس سے بحث شروع کر دی۔
30 منٹ کی گفتگو سے معلوم ہوا وہ سیدھا سادہ مسلمان ہے۔ جو 5 وقت نماز پڑھتا ہے۔ ہاں وہ سودے میں بہت ہی صاف گو اور ایماندار تھا۔ مناسب دام میں بیچتا تھا۔ آخر چلتے ہوئے اس نے ایک ایسی بات کی جس نے میری زندگی ہی بدل دی۔ وہ کیا تھی:-
Read 9 tweets
7 Oct
میرے ایک دوست ہیں‘تین نسلوں سے کاروباری ہیں‘ کراچی میں بزنس کرتے ہیں‘والد احمد آباد (گجرات) کے چھوٹے سے گاؤں میں دکان چلاتے تھے‘خاندان پاکستان بننے کے بعد کراچی آ گیا‘والد کاروبار کے سلسلے میں چٹاگانگ گئے‘مشرقی پاکستان میں فیکٹریاں لگانا شروع کیں اور یہ 17 فیکٹریوں کے مالک بن گئے
1971ء میں فسادات شروع ہو گئے‘ یہ لوگ جان بچا کر بھاگے اور لاشیں پھلانگ کر واپس کراچی پہنچے‘ نئے سرے سے کام شروع کیا اور ایک بار پھر قدموں پر کھڑے ہو گئے‘ یہ اب ملک کے چند بڑے بزنس مینوں میں شمار ہوتے ہیں اور چار ارب روپے سالانہ ٹیکس دیتے ہیں۔
چند دن قبل میرے پاس تشریف لائے‘ گفتگو کے دوران بنگلہ دیش کا تذکرہ شروع ہوا تو
مجھے پہلی مرتبہ پتا چلا یہ سال میں تین چار مرتبہ بنگلہ دیش جاتے ہیں‘ میں نے وجہ پوچھی‘ یہ مسکرا کر بولے‘ میرا ایک بھائی اور والدہ دونوں چٹاگانگ میں رہتی ہیں‘ میں حیران ہو گیا‘
Read 27 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!