افسانہ ۔۔

ان سے میری پہلی ملاقات چہل قدمی کے دوران ہوئ۔کالج کی چھٹیوں میں روزانہ واک معمول کا حصہ تھی۔ سبزے پہ چہل قدمی کرتے اندازہ ہی نہ ہوا کہ کتنی دیر ہو گئی کہ یکدم سانس کی تکلیف شروع ہو گئی۔ پولن سیزن میں واک ہمیشہ اذیت دیتی ہے
لیکن درختوں اور پودوں کو نئے رنگوں میں دیکھنا اتنا خوشنما لگتا ہے کہ میں باز نہیں آتی۔
ایک تنے سے ٹیک لگا کے سانس بحال کرنے کو کوشش جاری تھی کہ کسی نے پانی کی بوتل بڑھائ۔ پہلی نظر میں وہ کوئ فرشتہ لگا۔ شکریہ ادا کرتے ہوۓ بوتل واپس کی تو جناب نے شبلی کے نام تعارف کروایا۔
شکل سے وہ انتہائ معقول لگ رہے تھے لیکن ہمیں شبلی سے شبلی فراز یاد آۓ اور جیسے منہ میں کونین گھُل گئی۔پھر انھیں مولانا شبلی نعمانی سے تشبیہ دے کے سکون ملااور انھیں مولانا کا خطاب دے ڈالا۔وہ بھی صاحب جیسے برسوں سے منتظر تھے۔ایک ہی سانس میں نام،رہائش اور سانس کی تکلیف کی وجہ پوچھ لی
ہم نے بھی بے نیازی کا خول چڑھایا اور چیدہ چیدہ باتیں بیان کیں۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ ہمیں کوئ ڈر تھا لیکن ہم خود کو متاثرین میں شامل نہیں کرنا چاہتے تھے۔
اگلے دن واک کرتے ہوۓ یکدم کسی نے سلام کیا تو ہمیں اپنی خوش قسمتی پہ شک ہونے لگا۔
چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے احساس نہیں ہوا کہ کتنا وقت بیت گیا۔احساس ہوتے ہی اجازت چاہی اور گھر کی راہ لی۔
بہت عرصے بعد پردیس میں کوئ ایسا ملے جسے اردو ادب سے شغف ہو تو جو ایک ادب کے دلدادہ شخص کے تاثرات ہوتے ہیں، وہی ہمارے تھے۔
محسن نقوی کی شاعری سے بات شروع ہو کے علیم الدین حقی پہ ختم ہوتی اور پھر پطرس کا ذکر چھڑ جاتا۔ دھیرے دھیرے ہم پہ چڑھا بے نیازی کا خول چٹخنے لگا اور ہم ان کے گرویدہ ہوتے چلے گئے۔ گو کہ ہم ان کو ابھی متاثر کن شخصیت سے زیادہ شعبدہ باز کہتے تھے۔
روز کی واک کی روٹین سے گھر والوں کو تو خیر کچھ اندازہ نہ ہوا لیکن ہماری رویے میں تبدیلی بہر حال نوٹس میں آ گئی۔
پہلے بالوں کا جوڑا بناۓ، ٹرینر پہنے واک پہ جانے والی جب ڈھنگ کے حلیے میں روزانہ گھر سے نکلے تو دیکھنے والے بھی آخر قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔
ہمیں سے کسی نے نہ کچھ پوچھا اور نہ ہم نے توجہ دی۔صد شکر کہ پارک میں کافی گورے بھی واک کرتے تھے۔ اس لیے ہمیں کوئ سیفٹی ایشو بھی نہیں تھا۔
ادھر مولانا اتنے حاضر دماغ اور برجستہ کہ وہ گھنٹہ جیسے پر لگا کے اُڑ جاتا۔
یہ سلسلہ دو ماہ چلا کہ ہمارا داخلہ دوسرے شہر ہو گیا۔
ہم نے خوشی خوشی یہ خبر انھیں سنائ تو مولانا نے بھی اپنی جان چھوٹ جانے پہ باقاعدہ خوشی کا اظہار کیا اور لگے ہاتھوں ہمیں ٹریٹ کی دعوت دی جو ہم نے اس اعتراض کے ساتھ رد کر دی کہ ہم اتنے بھی لبرل نہیں کہ پارک میں ملنے والے ہر شخص کے ساتھ کافی پینے جائیں۔
کم عمری کی نادانیاں اپنی جگہ لیکن خرد کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا ہمیں اچھا نہیں لگا۔ادھر مولانا نے اپنے پیسے بچ جانے پہ بھی اپنے دانتوں کی نمائش کی اور واپس جاتے ہوۓ سیٹی کی دھن پہ وٹنی کا باڈی گارڈ بجاتے رہے۔
ہم نے شہر بدر ہونے کی تیاریاں شروع کیں تو لگاکہ گھر کی فضا میں کچھ تناؤ ہے
الحمدللّٰہ گھر میں اتنی عزت کبھی نہیں ملی کہ بڑوں کے معاملات میں ہماری کوئ راۓ لی جاتی اس لیے ہم بھی پرسکون رہے۔
جانے سے ایک دن پہلے شاپنگ سے واپس آۓ تو ڈرائنگ روم میں بیٹھے مولانا پہ نظر پڑی۔ہاتھوں کے طوطے اڑنا اس دن ہمیں دن سمجھ میں آیا۔
رات کو اماں کے پاؤں دباتے والدہ کی نصیحتیں سن رہے تھے کہ اچانک انھوں نے انکشاف کیا کہ کسی اکاؤنٹنٹ شبلی کا رشتہ آیا تھا جسے ہمارے والد نے انکار کر دیا کہ ابھی ہم کم عمر ہیں۔
اور دوسرا ہمیں برادری سے باہر بھیجنے کا ان کا کوئ ارادہ نہیں ہے۔پہلے تو ہمیں اپنے کانوں پہ یقین نہ آیا۔
مولانا سے ہماری بات چیت اس نہج کی نہیں تھی کہ اسے کوئ افسانوی موڑ دیا جا سکتا۔ہم ضرور مولانا سے متاثر تھے لیکن مولانا ہمیں ایک بے وقوف عرف عام جھلی کی طرح ہی ٹریٹ کرتے تھے۔
بڑی مشکل سے تاثرات کنٹرول کیے اور اپنے کمرے میں واپس آ گئے۔
اگلے دن شام کو جانا تھا۔
آخری بار واک پہ اسی نیت سے گئے کہ شاید مولانا منہ سے کچھ پھوٹیں۔ آخر ہم میں کوئ تو خوبی نظر آئ جس بناء پہ وہ اپنا نصیب پھوڑنے پہ کمربستہ نظر آۓ۔
مولانا اسی کیئر فری طریقے سے باتیں کرتے رہے جیسے وہ انجان ہیں۔ہم نے بھی منہ بند رکھنا مناسب سمجھا۔
آخری بار خدا حافظ کہا تو جناب نے باقاعدہ شکرانے کے نفل پڑھنے کا اعلان کیا۔
ہم بھی پیر پٹختے واپس آ گئے۔
نیا شہر نئے لوگ۔ پڑھائ شروع ہوئ تو سب پسِ پشت چلا گیا۔ہم بھی سیمسٹر بریک پہ گھر آۓ تو کچھ یاد آیا۔اگلی صبح پارک گئے تو مولانا نظر نہ آۓ۔ کچھ عجیب سا احساس ہوا۔
یاد آیا کہ ہم نے کبھی ان سے ذاتی نوعیت کے سوال بھی نہیں کیے کہ پوچھ گچھ کی جا سکتی۔
انھی خیالات کے ساتھ واپس آ گئے۔سالوں بعد پڑھائ مکمل ہوئ تو واپس اپنے شہر کا رخ کیا۔شاپنگ کرتے اچانک مولانا ٹکرا گئے۔وہی انداز وہی جملے وہی برجستگی۔ وہ پڑھائ کی تفصیل پوچھتے رہے۔
اور ہم شرافت سے تمام سوالوں کے جواب دیتے رہے۔ جوابی حملہ کرنے کی نیت سے پوچھ کیا کہ “مولانا !اب تو آپ بھی شادی کر لیجیے۔آخر بالی عمریا کب کی بیت چکی۔”
مسکراتے ہوۓ بولے:”مولانا کو اس کے بعد کوئ الرجی کی مریضہ ہی نہیں ملی”۔

#ہماکازاویہ

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Zilay Huma Dar

Zilay Huma Dar Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @ZilayHumaDar

18 Nov
نہ جنوں رہا ۔۔۔۔

کچھ لوگ دنیا دار نہیں ہوتے یا شاید دنیا ان کے لیے بنی ہی نہیں ہوتی۔
وہ بھی ایسا ہی انسان تھا۔
دیکھنے میں عام سا۔
خاموش رہنے والا۔
محفل میں ہو تو شاید کسی کا دھیان بھی اس کی طرف نہ جاۓ۔ لیکن اسے خود کو نمایاں کرنے کا شوق بھی نہیں تھا۔
میں اپنی کلاس کی خود اعتماد لڑکی جس کو ہر موضوع پہ دسترس حاصل تھی۔ اساتذہ کی تعریفیں میرا اعتماد اور بڑھا دیتیں۔ ایسی چکا چوند میں کہاں کسی پہ نظر ٹھہرنی تھی۔ وہ میرا ہم جماعت ضرور تھا لیکن اتنا غیر اہم کہ شاید ہی کسی نے اسے بولتے سنا ہو۔
اساتذہ بھی اسے ایسے ہی نظر انداز کر دیتے جیسے ہم سب کرتے تھے۔ کسی نے بتایا کہ وہ کسی مزدور کا بیٹا ہے۔ایسے لوگوں کی کیا تربیت اور کیا شخصیت۔ وہ نظریں جھکاۓ گزرتا اور ہم سب اسے کسی کلاس میں پڑے بنچ کی طرح جماعت کا حصہ سمجھنے لگے۔
Read 13 tweets
29 Oct
آپ کی تیرہ سالہ بیٹی کے لیے چوالیس سال کے مسلمان کا رشتہ آۓ تو کیا آپ صرف مسلمان ہونے کی بنا پہ رشتہ قبول کر لیں گے؟
لیکن یہی رشتہ ایک مسیحی یا ہندو گھرانے سے آپ کی بیٹی کے لیے آۓ تو۔۔
آپ نہ صرف ان کو بے عزت کرکے گھر سے نکالیں گے بلکہ آپ شاید ان کے گھر بھی تباہ کرنے کی کوشش کریں
آخر دوسرے مذہب سے ہو کر بھی انھوں نے یہ گستاخی کرنے کا کیوں سوچا؟
اب اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیں کہ کیا اس ملک کی اقلیتوں کو بھی ایسا سوچنے کا حق ہے یا نہیں ؟
کم عمری کی شادی پہ سزا کا قانون بھی ہے اور نکاح بالجبر پہ بھی سزا ہے
لیکن بات جب دوسرے مذہب کے لوگوں کی آتی ہے تو ہم فوراً اسلام کی آڑ لیتے ہیں۔
ان تمام لوگوں کو جنھیں کم عمر بچیوں کو مسلمان کر کے نکاح کرنے کا ثواب کمانے کا شوق ہے، وہ ادھیڑ عمر مسلمان خواتین یا بیوہ و طلاق یافتہ خواتین کا سہارا بن کے سنت پہ عمل کرنے کی ہمت کیوں نہیں کرتے؟
Read 6 tweets
27 Oct
انسان جب علم اور ترقی کی معراج کو چھُو لے گا تو اُس وقت کے تاریخ دانوں میں سے کوئی اپنے اجداد کی عقل پر ماتم کرتے ہُوئے لکھے گا،
"ہمارے اجداد میں بعض ایسے بھی گُزرے ہیں جنہوں نے بیس کروڑ سے زیادہ انسانوں کی تقدیر ایک ایسے آدمی کے ہاتھ میں دے دی تھی
جِس کی واحد قابلیت ایک ایسے کھیل میں مہارت تھی جِس میں ایک آدمی گیند ہاتھ میں پکڑے دور سے بھاگتا آتا ہے اور ایک مخصوص جگہ پہنچ کر گیند جھٹ سے چند میٹر دور کھڑے ایک دوسرے آدمی کے پیچھے چھُپی لکڑیوں کی طرف پھینکتا ہے۔ جِس شخص کی طرف وہ گیند پھینکی گئی ہوتی ہے
اُسے اپنے ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے کے ذریعے گیند کو روک کر اُسے نہ صرف پیچھے موجود لکڑیوں سے ٹکرانے سے بچانا ہوتا ہے بلکہ اپنے ہاتھ میں پکڑے لکڑی کے ڈنڈے سے گیند پر اتنی زور سے ضرب لگانی ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دور جا گرے۔"
Read 4 tweets
20 Oct
آپکو یہ تو بتایا ہے کہ حضرت یوسف بہت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے ، مگر
کوئی یہ نہیں بتاتا کہ اس یوسف نے اپنے ملک کو کیا "معاشی پروگرام" دیا تھا کہ 7 سال کے قحط میں کوئی انسان بھوک سے نہیں مرنے پایا۔
سب صرف یہ تو بتاتے ہیں کہ حضرت سلیمان کی بادشاہت اتنی دبدبے والی تھی کہ جنات بھی ان کے ماتحت تھے مگر کوئی نہیں بتاتا کہ وہ بے پناہ "سیاسی بصیرت" رکھنے والے بادشاہ تھے،
اپنے ملک فلسطین [ انڈسٹریل/ صنعتی اکانومی ] اور ملکہ بلقیس کے ملک یمن [ ایگریکلچرل/ ذرعی اکانومی ] کے درمیان دو طرفہ معاہدات [Bileteral Agreements] کے نتیجے میں خطے کو جس طرح خوشحالی دی آج کی جدید دنیا بھی اس کی مثال نہیں ملتی
Read 7 tweets
11 Oct
ملک میں کرپشن کے خاتمہ سے روزانہ 12 ارب روپے بچ رہے ہیں.
حکومتی اخراجات میں کمی کی وجہ سے 5000 ارب پہلے سے بچے ہوئے ہیں.
بیری کے درخت والی شہد سے بھی اربوں کی آمدنی متوقع ہے اور ہم نے اربوں کھربوں درخت بھی لگا رکھے ہیں۔
ظاہر ہے انکی اضافی لکڑی بھی ایکسپورٹ ہوگی
اور زرِمبادلہ ملک میں آئے گا۔ ابھی تو باہر پڑے 200 ارب ڈالر الگ اور 5000 ہزار کروڑ ڈالر الگ سے بھی ملک لانے ہیں اور گلابی نمک جو ہم نے بھارت جانے سے روک کر خود ایکسپورٹ کرکے اربوں ڈالر باہر سے پاکستان لائیں گے وہ الگ۔
چرس اور بھنگ کی کاشتکاری سے اربوں ڈالرز کی کمائی اور ساتھ میں جو عوام کو انڈے، کٹے اور مرغیاں دی گئی ہیں ظاہر ہے وہ بھی دو سے تین ہزار ارب سالانہ منافع تو دینگے ہی دینگے۔۔۔۔

مجھے معلوم ہے لوگ نہیں مانیں گے مگر باقی سب چھوڑیں یہ دیکھیں
Read 11 tweets
10 Oct
انگریزی کی کلاس میں ایک لیکچرر نے پوچھا کہ اگر آپ کے پاس چوائس ہوتی تو آپ کیا بننا پسند کرتے؟
سب سے انوکھا جواب ایک لڑکے کا تھا کہ میں لڑکی بننا پسند کرتا۔
یہ جواب بہت سے حقائق واضح کر گیا۔
ہمارے ہاں لڑکی ہونے کا مطلب ہے کہ نازک اندام،سگھڑ، پڑھائ کے ساتھ گھریلو امور میں ماہر ہونا
اس میں کچھ قصور افسانہ نگاروں اور شاعروں کا ہے جنھوں نے محبوب یا ہیروئن کا ایسا تصور پیش کیا کہ فی زمانہ اس سانچے میں ڈھلنے کے لیے دن کے چوبیس گھنٹے بھی کم لگتے ہیں۔
رہی سہی کسر فلمی ہیروئنز نے پوری کر دی۔سب کی آئیڈیل مخروطی آنکھوں،ڈمپل والی سروقد، گھنیری پلکوں والی ہیروئنیں ہیں
اب اس مقابلے کی فضا میں عام لڑکی کے لیے برابری کرنا کتنا مشکل ہے، کوئ ہم سے پوچھے۔

لمبے چمکدار بالوں کو قابو رکھنے کے لیے خاص شیمپو چاہیے۔ اب چاہے گرمی میں آپ جو بھی کریں،بالوں کا ٹوکرا سنبھالنے کو گھنٹہ لگتا ہے ۔
Read 11 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!