نہ جنوں رہا ۔۔۔۔

کچھ لوگ دنیا دار نہیں ہوتے یا شاید دنیا ان کے لیے بنی ہی نہیں ہوتی۔
وہ بھی ایسا ہی انسان تھا۔
دیکھنے میں عام سا۔
خاموش رہنے والا۔
محفل میں ہو تو شاید کسی کا دھیان بھی اس کی طرف نہ جاۓ۔ لیکن اسے خود کو نمایاں کرنے کا شوق بھی نہیں تھا۔
میں اپنی کلاس کی خود اعتماد لڑکی جس کو ہر موضوع پہ دسترس حاصل تھی۔ اساتذہ کی تعریفیں میرا اعتماد اور بڑھا دیتیں۔ ایسی چکا چوند میں کہاں کسی پہ نظر ٹھہرنی تھی۔ وہ میرا ہم جماعت ضرور تھا لیکن اتنا غیر اہم کہ شاید ہی کسی نے اسے بولتے سنا ہو۔
اساتذہ بھی اسے ایسے ہی نظر انداز کر دیتے جیسے ہم سب کرتے تھے۔ کسی نے بتایا کہ وہ کسی مزدور کا بیٹا ہے۔ایسے لوگوں کی کیا تربیت اور کیا شخصیت۔ وہ نظریں جھکاۓ گزرتا اور ہم سب اسے کسی کلاس میں پڑے بنچ کی طرح جماعت کا حصہ سمجھنے لگے۔
لیکن ایک دن کچھ عجیب ہوا۔ کالج میں ہونے والے الیکشن کے لیے گروپ ممبر نے حصہ لیا تو انتخابی مہم کی ذمہ داری خود بخود ہم سب پہ آن پڑی ۔ کالج لان میں کتابوں پہ جھکے شخص پہ نظر پڑی تو سوچا اس سے بھی کہہ دیتے ہیں۔آخر ایک ایک ووٹ قیمتی ہے۔
مخاطب کرنے پہ اس نے سر اٹھایا تو مجھے لگا کہ بجلی کوند گئی۔ اتنی چمکدار آنکھیں۔ بمشکل مدعا بیان کیا تو بولا،”سائیں کی خیر ہو گی”۔
میں تفصیل پوچھنے کی ہمت ہی نہ کر سکی اور پلٹ آئ۔نتائج آۓ تو ہمارا امیدوار جیت گیا۔ہم جماعت ہونے کی ناطے شکریہ ادا کیا تو اس نے صرف مسکراہٹ سے جواب دیا
تب احساس ہوا کہ یہ بہت “خطرناک” بندہ ہے۔ جسے افلاس میں بھی الفاظ کی ضرورت نہیں۔ عقل سلیم نے سمجھایا کہ ایسے لوگوں سے دور رہنا ہی بہتر ہے اور میں ٹھہری دنیا دار۔
کچھ دن بعد اسے ادھر ادھر نظریں دوڑاتے دیکھا۔ پوچھا تو پتا چلا کسی نے اس کا بیگ چھپا دیا ہے۔
کتابیں اور نوٹس ہی اس غریب کی متاع تھے۔ میں نے مدد کا وعدہ کیا تو اس نے کوئ جواب نہ دیا۔
میں نے اپنے گروپ ممبرزسے درخواست کی کہ ڈھونڈنے میں مدد کریں۔ہم سب ڈھونڈنے میں لگ گئے۔چھٹی کا وقت ہونے تک اس کا بیگ کالج کی ایک کیاری کے پاس سے مل گیا۔
میں نے وہ بیگ اٹھایا
اور کمرہ جماعت کی طرف بھاگی۔ وہ وہاں موجود نہ تھا۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے نماز کے لیے مخصوص ہال سے باتوں کی آواز آئ تو وہاں جھانکا۔ وہ وہاں کسی سے باتیں کر رہا تھا۔ ہال خالی تھا اور وہ شاید کسی سے فون پہ بات کر رہا تھا۔گھر جانے کی جلدی میں تیز قدموں سے قریب گئی تو آواز واضح ہونے لگی۔
وہ کہہ رہا تھا کہ “میری ذمہ داری تجھ پہ ہے تو تُو ہی نبھا۔یہ لوگ میرا خیال نہیں رکھ سکتے اور نہ میں ان پہ بوجھ بننا چاہتا ہوں۔ مجھے دنیا کی پریشانیوں سے دور رکھ۔”
اس کے سامنے پہنچی تو قدموں تلے سے زمین کھسک گئی۔ وہ آنکھیں بند کیے اللہ سے بات کر رہا تھا۔
وہ اپنے “سائیں” سے سرگوشی کر رہا تھا۔ہمارے سامنے “خاموش” رہنے والا اپنے مالک سے “راز و نیاز” کر رہا تھا۔خاموشی سے بیگ پاس رکھا اور گھر کی راہ لی۔
اس دن کے بعد میں نے اس شخص کو مخاطب کرنا تو درکنار دیکھنا بھی چھوڑ دیا
لیکن تب سے اب تک یہی دعا کی کہ کاش وہ میرے حق میں صرف خیر مانگے۔جس کی پہنچ اتنی اوپر تک ہو،اس سے ڈرنا ہی چاہیے۔
آپ کو بتایا نا کچھ لوگ دنیا کے لیے بنے نہیں ہوتے اور میں ٹھہری دنیا دار۔ایسے لوگوں سے ہمارا کیا واسطہ
وہ عجب گھڑی تھی میں جس گھڑی لیا درس نسخۂ عشق کا
کہ کتاب عقل کی طاق پر جوں دھری تھی تیوں ہی دھری رہی

#ہماکازاویہ

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Zilay Huma Dar

Zilay Huma Dar Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @ZilayHumaDar

16 Nov
افسانہ ۔۔

ان سے میری پہلی ملاقات چہل قدمی کے دوران ہوئ۔کالج کی چھٹیوں میں روزانہ واک معمول کا حصہ تھی۔ سبزے پہ چہل قدمی کرتے اندازہ ہی نہ ہوا کہ کتنی دیر ہو گئی کہ یکدم سانس کی تکلیف شروع ہو گئی۔ پولن سیزن میں واک ہمیشہ اذیت دیتی ہے
لیکن درختوں اور پودوں کو نئے رنگوں میں دیکھنا اتنا خوشنما لگتا ہے کہ میں باز نہیں آتی۔
ایک تنے سے ٹیک لگا کے سانس بحال کرنے کو کوشش جاری تھی کہ کسی نے پانی کی بوتل بڑھائ۔ پہلی نظر میں وہ کوئ فرشتہ لگا۔ شکریہ ادا کرتے ہوۓ بوتل واپس کی تو جناب نے شبلی کے نام تعارف کروایا۔
شکل سے وہ انتہائ معقول لگ رہے تھے لیکن ہمیں شبلی سے شبلی فراز یاد آۓ اور جیسے منہ میں کونین گھُل گئی۔پھر انھیں مولانا شبلی نعمانی سے تشبیہ دے کے سکون ملااور انھیں مولانا کا خطاب دے ڈالا۔وہ بھی صاحب جیسے برسوں سے منتظر تھے۔ایک ہی سانس میں نام،رہائش اور سانس کی تکلیف کی وجہ پوچھ لی
Read 19 tweets
29 Oct
آپ کی تیرہ سالہ بیٹی کے لیے چوالیس سال کے مسلمان کا رشتہ آۓ تو کیا آپ صرف مسلمان ہونے کی بنا پہ رشتہ قبول کر لیں گے؟
لیکن یہی رشتہ ایک مسیحی یا ہندو گھرانے سے آپ کی بیٹی کے لیے آۓ تو۔۔
آپ نہ صرف ان کو بے عزت کرکے گھر سے نکالیں گے بلکہ آپ شاید ان کے گھر بھی تباہ کرنے کی کوشش کریں
آخر دوسرے مذہب سے ہو کر بھی انھوں نے یہ گستاخی کرنے کا کیوں سوچا؟
اب اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیں کہ کیا اس ملک کی اقلیتوں کو بھی ایسا سوچنے کا حق ہے یا نہیں ؟
کم عمری کی شادی پہ سزا کا قانون بھی ہے اور نکاح بالجبر پہ بھی سزا ہے
لیکن بات جب دوسرے مذہب کے لوگوں کی آتی ہے تو ہم فوراً اسلام کی آڑ لیتے ہیں۔
ان تمام لوگوں کو جنھیں کم عمر بچیوں کو مسلمان کر کے نکاح کرنے کا ثواب کمانے کا شوق ہے، وہ ادھیڑ عمر مسلمان خواتین یا بیوہ و طلاق یافتہ خواتین کا سہارا بن کے سنت پہ عمل کرنے کی ہمت کیوں نہیں کرتے؟
Read 6 tweets
27 Oct
انسان جب علم اور ترقی کی معراج کو چھُو لے گا تو اُس وقت کے تاریخ دانوں میں سے کوئی اپنے اجداد کی عقل پر ماتم کرتے ہُوئے لکھے گا،
"ہمارے اجداد میں بعض ایسے بھی گُزرے ہیں جنہوں نے بیس کروڑ سے زیادہ انسانوں کی تقدیر ایک ایسے آدمی کے ہاتھ میں دے دی تھی
جِس کی واحد قابلیت ایک ایسے کھیل میں مہارت تھی جِس میں ایک آدمی گیند ہاتھ میں پکڑے دور سے بھاگتا آتا ہے اور ایک مخصوص جگہ پہنچ کر گیند جھٹ سے چند میٹر دور کھڑے ایک دوسرے آدمی کے پیچھے چھُپی لکڑیوں کی طرف پھینکتا ہے۔ جِس شخص کی طرف وہ گیند پھینکی گئی ہوتی ہے
اُسے اپنے ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے کے ذریعے گیند کو روک کر اُسے نہ صرف پیچھے موجود لکڑیوں سے ٹکرانے سے بچانا ہوتا ہے بلکہ اپنے ہاتھ میں پکڑے لکڑی کے ڈنڈے سے گیند پر اتنی زور سے ضرب لگانی ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دور جا گرے۔"
Read 4 tweets
20 Oct
آپکو یہ تو بتایا ہے کہ حضرت یوسف بہت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے ، مگر
کوئی یہ نہیں بتاتا کہ اس یوسف نے اپنے ملک کو کیا "معاشی پروگرام" دیا تھا کہ 7 سال کے قحط میں کوئی انسان بھوک سے نہیں مرنے پایا۔
سب صرف یہ تو بتاتے ہیں کہ حضرت سلیمان کی بادشاہت اتنی دبدبے والی تھی کہ جنات بھی ان کے ماتحت تھے مگر کوئی نہیں بتاتا کہ وہ بے پناہ "سیاسی بصیرت" رکھنے والے بادشاہ تھے،
اپنے ملک فلسطین [ انڈسٹریل/ صنعتی اکانومی ] اور ملکہ بلقیس کے ملک یمن [ ایگریکلچرل/ ذرعی اکانومی ] کے درمیان دو طرفہ معاہدات [Bileteral Agreements] کے نتیجے میں خطے کو جس طرح خوشحالی دی آج کی جدید دنیا بھی اس کی مثال نہیں ملتی
Read 7 tweets
11 Oct
ملک میں کرپشن کے خاتمہ سے روزانہ 12 ارب روپے بچ رہے ہیں.
حکومتی اخراجات میں کمی کی وجہ سے 5000 ارب پہلے سے بچے ہوئے ہیں.
بیری کے درخت والی شہد سے بھی اربوں کی آمدنی متوقع ہے اور ہم نے اربوں کھربوں درخت بھی لگا رکھے ہیں۔
ظاہر ہے انکی اضافی لکڑی بھی ایکسپورٹ ہوگی
اور زرِمبادلہ ملک میں آئے گا۔ ابھی تو باہر پڑے 200 ارب ڈالر الگ اور 5000 ہزار کروڑ ڈالر الگ سے بھی ملک لانے ہیں اور گلابی نمک جو ہم نے بھارت جانے سے روک کر خود ایکسپورٹ کرکے اربوں ڈالر باہر سے پاکستان لائیں گے وہ الگ۔
چرس اور بھنگ کی کاشتکاری سے اربوں ڈالرز کی کمائی اور ساتھ میں جو عوام کو انڈے، کٹے اور مرغیاں دی گئی ہیں ظاہر ہے وہ بھی دو سے تین ہزار ارب سالانہ منافع تو دینگے ہی دینگے۔۔۔۔

مجھے معلوم ہے لوگ نہیں مانیں گے مگر باقی سب چھوڑیں یہ دیکھیں
Read 11 tweets
10 Oct
انگریزی کی کلاس میں ایک لیکچرر نے پوچھا کہ اگر آپ کے پاس چوائس ہوتی تو آپ کیا بننا پسند کرتے؟
سب سے انوکھا جواب ایک لڑکے کا تھا کہ میں لڑکی بننا پسند کرتا۔
یہ جواب بہت سے حقائق واضح کر گیا۔
ہمارے ہاں لڑکی ہونے کا مطلب ہے کہ نازک اندام،سگھڑ، پڑھائ کے ساتھ گھریلو امور میں ماہر ہونا
اس میں کچھ قصور افسانہ نگاروں اور شاعروں کا ہے جنھوں نے محبوب یا ہیروئن کا ایسا تصور پیش کیا کہ فی زمانہ اس سانچے میں ڈھلنے کے لیے دن کے چوبیس گھنٹے بھی کم لگتے ہیں۔
رہی سہی کسر فلمی ہیروئنز نے پوری کر دی۔سب کی آئیڈیل مخروطی آنکھوں،ڈمپل والی سروقد، گھنیری پلکوں والی ہیروئنیں ہیں
اب اس مقابلے کی فضا میں عام لڑکی کے لیے برابری کرنا کتنا مشکل ہے، کوئ ہم سے پوچھے۔

لمبے چمکدار بالوں کو قابو رکھنے کے لیے خاص شیمپو چاہیے۔ اب چاہے گرمی میں آپ جو بھی کریں،بالوں کا ٹوکرا سنبھالنے کو گھنٹہ لگتا ہے ۔
Read 11 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!