کراچی میں ایک بار خبر آئی کہ عبدالستار ایدھی کفن چور ہیں اور بردہ فروشی کرتے ہیں۔ معاملہ چلتے چلاتے کراچی کی ایک دینی جامعہ میں چلا گیا۔

جامعہ سے فتویٰ جاری ہوا، ’ایدھی کو چندہ دینے والے اپنی آخرت کی فکر کریں۔ ‘ اس کی دو چار مزید وجوہات بتاتے ہوئے فتوے میں لکھا گیا
کہ وہ قادیانی ہیں، مرتد ہیں، غیر مسلموں پر خرچ کرتے ہیں اور ’ناجائز بچے‘ پالتے ہیں۔اس فتوے پر سب سے نمایاں دستخط جس مفتی صاحب کے تھے، اپنے زمانے میں ان کا طوطی شہر کے سب سے بلند مینار پہ بیٹھ کر کر بولتا تھا۔ کراچی میں فرقہ واریت کی ایک منہ زور لہر چلی تو مفتی صاحب قتل کر دیےگئے۔
بہت برا ہوا۔ عجیب ہی زمانہ تھا، تب مجھ جیسے لوگ بھی رپورٹنگ کرلیا کرتے تھے۔
منہ اندھیرے کاغذ قلم لے کر قتل گاہ میں پہنچا تو دیکھا کہ ہجوم میں پھنسی ایمبولینس دھیرے دھیرے سے جنازہ گاہ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ عقبی دروازہ کھلا ہے، لوگ ہاتھ بڑھا کر جسدِ خاکی پر پڑے کاٹن کے ایک
سفید کپڑے کو چھو رہے ہیں۔ جن کا ہاتھ مرحوم کی نعش تک نہیں پہنچ رہا وہ عقیدت سے ایمبولینس کو ہاتھ لگا نے کوشش کر رہے ہیں۔
یکایک میری ایک آنکھ میں مرحوم کے فتوے کا اقتباس ابھر آیا، جس میں ایدھی کے لیے دشنام لکھا تھا۔ دوسری آنکھ اُن کے بدن پر پڑے سفید کپڑے میں الجھ گئی،
جس پر جلی حروف میں ایدھی کا نام لکھا تھا۔
ایدھی صاحب کا انتقال ہوا تو کراچی ہی کے ایک حضرت کی بے رحم تقریر سامنے آ گئی۔ یہ بہت پرانی تقریر تھی جو موقعے کی مناسبت سے تازہ ہوگئی تھی۔ تقریر میں حضرت فرما رہے تھے، ’ایدھی بہت بڑا زندیق ہے۔ جو اس کا احترام کرتے ہیں وہ یہ ہیں
اور جو چندہ دیتے ہیں وہ پتہ نہیں کیا ہیں۔ ‘
ایک تو راسخ العقیدہ ہستیوں کے الفاظ نفاست سے اس قدر پاک ہوتے ہیں کہ قلم انہیں نقل کرنے کی تاب بھی نہیں لا پاتا۔
ایک شام کچھ موٹر سائیکل سوار آئے، حضرت کی جامعہ کے باہر فائرنگ کرتے ہوئے نکل گئے۔ ایک استاد اور تین طلبہ قتل ہو گئے۔
برا ہوا، بہت برا ہوا۔ صبح جنازہ گاہ پہنچے تو اعلان ہورہا تھا کہ حضرت کی نعش سرد خانے سے لائی جا رہی ہے۔ کچھ دیر میں سائرن بجنے لگے، دیو ہیکل دروازے کھلے اور ہجوم کے ساتھ تین ایمبولینسیں داخل ہو گئیں۔ یہ ایدھی کی ایمبولینسیں تھیں جو ایدھی سردخانے سے یہاں پہنچی تھیں
ایک منظر میرے حافظے پر کچھ عجیب ہی رنگوں میں نقش ہو گیا۔ حضرت جنازہ پڑھا رہے ہیں اور سامنے رکھے ہوئے تابوت حضرتِ ایدھی کے دوشالے سے ڈھکے ہوئے ہیں۔

خدا بخشے، علامہ خادم حسین رضوی بھی چلے گئے۔ پیچھے اب دو طرح کے لوگ انہیں یاد کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ تو علامہ کو اسی ریکارڈ کی روشنی میں
یاد کر رہے ہیں، جو وہ پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جنہیں اب کھل کر علامہ کے نقطہ نظر سے اتفاق کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ اس دوسرے گروہ میں کچھ لوگ ہیں جو طبیعت کے بہت محتاط ہیں۔ یہ لوگ علامہ سے اتفاق بھی کر رہے ہیں مگر سر بچانے کے لیے
’اگرچہ علامہ کے طریقہ کار سے مجھے اختلاف تھا‘ والا ہیلمٹ بھی پہن کر کھیل رہے ہیں۔ انہی میں پھر کچھ لوگ وہ ہیں جو بات کہنے سے پہلے اعتدال کی تسبیح ضرور پڑھتے ہیں۔
یہی لوگ ہیں جو کل سے علامہ کے لیے خلوص کے اضافی نمبروں کا تقاضا کر رہے ہیں۔
اتفاق کرنے والے ان سارے ہی گروہوں کو اس بات کی شکایت ہے کہ لوگ اب علامہ کی کیسٹیں چلا چلا کر ان سے اختلاف کا اظہار کیوں کر رہے ہیں۔ شکایت کرتے ہوئے وہ بھول رہے ہیں کہ یہ علامہ کا وہ ریکارڈ ہے جو ان کی ذاتی زندگی پر مبنی نہیں ہے۔یہ ریکارڈ محض نقطہ نظر کےاختلاف پر بھی مبنی نہیں ہے۔
یہ زندگی کی راہ میں سنجیدہ رکاوٹوں کا ایک ریکارڈ ہے۔ ایسا ریکارڈ، جسے قانون کی دستاویز سے کہیں بڑھ کر اہمیت حاصل ہو چکی تھی۔
مذہبی مقدمہ تو علامہ ضمیر اختر نقوی کا بھی بہت کمزور تھا، مگر لوگوں نے بن مانگے انہیں خلوص کے اضافی نمبر دے دیے تھے۔ یہ نمبر اس لیےبھی دیے کہ وہ جوتوں سمیت کسی کی آنکھ میں گھسنےکی جسارت نہیں کرتے تھے۔ہو سکتا ہےماتم اچھی بات نہ ہو، مگر یہ رسم وہ دوسروں کےسینے پر ادا نہیں کرتے تھے۔
اپنے دائرے میں اپنے ہاتھوں سے اپنا سینہ پیٹتے تھے۔ کوئی بات اچھی نہ لگتی تو ہلاک نہیں کرتے تھے، خاموشی سے بلاک کر دیتے تھے۔ برا مان جاتے تو سخت سست ضرور کہہ جاتے تھے، توہینِ مذہب کی آڑ لے کر گردن ناپنے نہیں پہنچتے تھے۔ محلے کے اوباش بچوں کو آپ کے گھر کا پتہ بھی نہیں بتاتے تھے۔
بغیر ثبوت و شواہد کے عدالت اور تھانوں کا گھیراو کر کے وہ شہریوں کو سزائیں بھی نہیں دلواتے تھے۔

انہوں نے تو اپنے ذاتی گھر کو عام عوام کے لیے کتب خانہ بنانے کی وصیت کی ہوئی تھی۔ کون کرتا ہے؟ آج وہ نہیں ہیں، ان کے گھر کے دروازے طالب علموں کے لیے دن رات کھلے ہیں۔
اس کتب خانے میں الہیات اور ادب سے لے کر تاریخ و فلسفہ تک ہر مضمون موجود ہے۔ عبرانی اور عربی سے سے لے کر سنسکرت اور فارسی تک کیا ہے جو یہاں نہیں ہے۔ اس کتب خانے سے استفادے کے لیے آپ کو اپنا مذہب اور مسلک نہیں بتانا پڑتا۔ کوئی داروغہ آپ کے حلیے اور بود وباش کا جائزہ نہیں لیتا۔
کوئی داروغہ آپ کے حلیے اور بود وباش کا جائزہ نہیں لیتا۔ کون ہے جو ایسے عالم کو نقطہ نظر کے اختلاف کے باوجود خلوص کے اضافی نمبر نہیں دے گا؟

آج میں جب علامہ کی اچھائیوں کو یاد کرنے کی کوشش کررہا ہوں تو شدھ پنجابی اور شستہ فارسی کے سوا کچھ بھی سامنے نہیں آ رہا۔
اس کے سوا جو بھی یاد آرہا ہے اس میں زندگی کی دانستہ تذلیل، تسلط، مداخلت، جلاو گھیراؤ، تعاقب، دھونس، جبر اور نقصِ امن کے حوالوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ بھی یاد آ رہا ہے کہ مرنے والوں کی تذلیل و تحقیر کو علامہ نے ثواب ہی نہیں بتایا تھا، ہاتھ کھڑے کروا کر اس روایت کو آگے بڑھانے کا
وعدہ بھی لیا تھا۔

عاصمہ جہانگیر ابھی دفنائی بھی نہیں گئی تھیں کہ علامہ نے اُن کا کفن اور تابوت انسانیت سوز جملوں کے بھاڑ میں جھونک دیا تھا۔ ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا،میں اس کا نام بھی نہیں لے سکتاکہ کہیں مائک نہ پلید ہو جائے۔ ایک موقعے پر فرمایا،مسجد میں بیٹھا ہوں اس لیے اس کا
نام نہیں لے رہا۔
عاصمہ جہانگیر تو چلیے مردودِ حرم تھیں، جنید جمشید تو کم از کم حرم کے پاسبانوں میں شمار رکھتےتھے؟ عین اس وقت کہ جب جنازے کی تکبیر کہی جا رہی تھی، علامہ کے مریدوں نے آگےبڑھ کر تابوت کو لات ماردی تھی۔ یعنی جنید کے وجود میں بچا ہی کیا تھا جو ہم تین دن تک نوچ رہے تھے؟
عبدالستار ایدھی کا انتقال ہوا تو علامہ بہشت کے دروازوں پر کھڑے ہو گئے تھے۔ وہ کسی طور اس بات پر آمادہ نہیں تھے کہ ایدھی صاحب کی بخشش ہو سکے۔ وہ اس بات پر احتجاج کر رہے تھے کہ ایدھی صاحب نے کسی بچے کو کبھی ناجائز کیوں نہیں سمجھا۔ پیدا ہونے والے کسی بھی بچے کا زندگی پر وہ حق کیوں
تسلیم کرتے تھے۔ انہیں اس بات پر بھی اعتراض تھا کہ جاتے جاتے ایدھی صاحب نے اپنی آنکھیں کیوں دان کر دی تھیں؟
علامہ دنیا سے گئے ہیں تو پیچھے ’سر تن سے جدا‘ جیسے نعرے چھوڑ گئے ہیں، جو ان کی گلی میں رات سے لاؤڈ سپیکروں پر گونج رہے ہیں۔ ایدھی گئے تھے تو اپنی دو آنکھیں چھوڑ گئے تھے،
جو 16 سال سے نابینا ایک خاتون کو لگا دی گئی تھیں۔ وہ چپ چاپ آنکھیں کہیں سے دیکھ رہی ہیں کہ ایک ایمبولینس علامہ کا جسدِ خاکی لے کر گزر رہی ہے، جسے لوگ عقیدت سے چھو رہے ہیں۔ جس جگہ کو وہ چھورہے ہیں وہاں جلی حروف میں ایدھی لکھا ہے۔

فرنود عالم
انڈیپنڈنٹ، اردو

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with انپــــــــــــــــڑھ فقیـــــــــــــــر

انپــــــــــــــــڑھ فقیـــــــــــــــر Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @an_padh

21 Nov
خدا بخشے، علامہ خادم حسین رضوی بھی چلے گئے۔ پیچھے اب دو طرح کے لوگ انہیں یاد کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ تو علامہ کو اسی ریکارڈ کی روشنی میں یاد کر رہے ہیں، جو وہ پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جنہیں اب کھل کر علامہ کے نقطہ نظر سے اتفاق کرنے کا موقع مل گیا ہے۔
اس دوسرے گروہ میں کچھ لوگ ہیں جو طبیعت کے بہت محتاط ہیں۔ یہ لوگ علامہ سے اتفاق بھی کر رہے ہیں مگر سر بچانے کے لیے ’اگرچہ علامہ کے طریقہ کار سے مجھے اختلاف تھا‘ والا ہیلمٹ بھی پہن کر کھیل رہے ہیں۔ انہی میں پھر کچھ لوگ وہ ہیں جو بات کہنے سے پہلے اعتدال کی تسبیح ضرور پڑھتے ہیں۔
یہی لوگ ہیں جو کل سے علامہ کے لیے خلوص کے اضافی نمبروں کا تقاضا کر رہے ہیں۔

اتفاق کرنے والے ان سارے ہی گروہوں کو اس بات کی شکایت ہے کہ لوگ اب علامہ کی کیسٹیں چلا چلا کر ان سے اختلاف کا اظہار کیوں کر رہے ہیں۔ شکایت کرتے ہوئے وہ بھول رہے ہیں کہ یہ علامہ کا وہ ریکارڈ ہے
Read 4 tweets
14 Nov
بائبل کے نیو testament کے چیپٹر John کی آیت 19-22 تک پیش خدمت ہیں
کل "ایلیاء" کے حوالے سے میں نے وعدہ کیا تھا کہ بائبل کے حوالہ جات کے ساتھ گفتگو کروں گا
تو یہ ایک حوالہ ہے
اسکے ساتھ مزید حوالہ جات پیش کردوں گا کہ کہاں کہاں بایبل میں ایلیاء کو بطور نبی یا بطورِ جانشین نبی کہا گیا Image
کیا تم مسیح ہو؟
نہی
کیا تم ایلیا ہو؟
نہی
کیا تم "وہ" نبی ہو؟
نہی
یہ وہ آیات ہیں انجیل مقدس کی جو بتارہی ہیں کہ بنی اسرائیل مسیح کا انتظار بھی کررہے تھے، ایلیاء کا انتظار بھی کررہے تھے اور "وہ نبی" سے مراد رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات مبارک تھی
اسکے علاوہ بھی
بہت سے مقامات پر یعنی جب طوفان نوح واقع ہوا تو ایلیاء ظاہر ہوا یا جب عیسی علیہ السلام کی شکل یہودہ سے تبدیل کی گئ تو ایلیاء ظاہر ہوا جسکی تفصیلات بائبل کی کتب سلاطین 1 اور سلاطین 2 میں موجود ہیں
اور بھی ہوں گی لیکن مجھے یہی ریفرنس ملے کیونکہ بائبل بہت بڑی ہوتی یے جس کی تفصیل
Read 11 tweets
26 Jul
اِنٹرویو دینے کے ليے ریاضى میں کمزور دو دوست تیار بیٹھے تھے، پہلے کا نمبر آیا تو وه اندر داخل ہُوا.

آفیسر: فرض کرو آپ ٹرین میں سفر کر رہے ہو اور اچانک آپ کو گرمى لگے تو آپ کیا کرو گے؟

طالب علم: میں کھڑکى کھول دُوں گا۔
++
#انپڑھ_منقول
آفیسر: بہت خُوب، اَب بتاؤ کہ اگر وه کھڑکى 1.5 اسکوئر میٹر ہے اور ڈبے کا حجم 12m3 ہے اور ٹرین 80 کلومیٹر فى گھنٹہ کى رفتار سے جنوب کى طرف جا رہى ہو اور ہوا جنوب سے 5 میل فى سیکنڈ کی رفتار سے ڈبے میں داخل ہو رہى ہو تو پُورا ڈبه ٹھنڈا ہونے میں کتنا وقت درکار ہو گا؟

+++
طالب علم نے کوشش کى مگر جواب نہ دے سکا اور وه فیل ہو گیا۔

باہر آ کر اُس نے وہی سوال اپنے دُوسرے سردار طالبعلم دوست کو بتایا
اب سردار کى بارى آئی۔

آفیسر سردار سے: مان لو آپ ٹرین میں سفرکر رہے ہو اچانک آپ کو گرمى لگے تو کیا کرو گے؟

سردار: میں اپنا کوٹ اُتار دُوں گا۔

+++
Read 5 tweets
17 Jul
ایک کہانی کچھ دن پہلے پڑھی لیکن دوبارہ نہ ملی تو اپنے الفاظ میں پیش کررہا ہوں
ایشو حساس ہے
ایک بچہ کسی اچھے تعلیمی ادارے میں جاتا تھا جہاں اسکی صلاحیتوں کو نکھارا جاتا تھا
مثلا ڈرائنگ کےپیریڈمیں استادیہ نہ کہتا تھا کہ آم بناؤ، گملہ بناؤ،پہاڑ بناؤ جیسے آجکل تمام اسکولز میں ہوتا
++
بلکہ استاد بچوں کو کہتے
جو دل چاہتا ہے بناؤ
بچے بھی اپنی ذہنی سوچ سے کوئی abstract art بنا رہا کوئ scenery کوئ پھولوں کا گلشن مطلب آپ سمجھ سکتے ہیں
ایک سے ایک آرٹ کا فن پارہ بچوں کی کلاس میں پایا جاتا
بچوں کی صلاحیتیں بھرپور انداز سے سامنے آتیں

++
پھر کہیے حالات خراب ہوگئے والدین کے یا کسی وجہ سے یا ٹرانسفر کی وجہ سے اسکول بدلنا پڑا
اب جو نئے اسکول میں استاد ملا وہ ایک سطحی سوچ کا مالک تھا
ڈرائنگ کا پیریڈ آیا تو اس نے بورڈ پر ایک آم، ایک پھول کی تصویر بنا دی اور سب بچوں کو کہا یہ بناؤ
اب جو بچہ بڑے اسکول سے یہاں آیا تھا
++
Read 6 tweets
6 Jul
شادی کے کھانے کے قوانین:

جب بھی شادی پر جاؤ تو یہ 5 نصیحتیں لازمی یاد رکھنا

1: رشیئن سیلیڈ سب سے پہلے ڈالو کیونکہ وہ رپیٹ نہیں ھوتی
++

#انپڑھ
#شادی_کا_کھانا
2: آسکریم کھیر قلفہ فیرنی کسٹرڈ سیلیڈ جب بھی ڈالو بڑی پلیٹ میں ڈالو کیونکہ اس طرح دیکھنےمیں چھوٹی پلیٹ میں کم بھی زیادہ لگتا ھے اور بڑی پلیٹ میں زیادہ بھی کم لگے گا
+++

#انپڑھ
#شادی_کا_کھانا
3: اپنی پلیٹ میں تین سے چار چمچ اس طرح سے سجا کر رکھیں کے دیکھنے والا یہی سمجھے کے آپ اپنے باقی کے تین ساتھیوں کے لیۓ بھی ڈال کر لائیں ھیں.

++
#انپڑھ
#شادی_کا_کھانا
Read 15 tweets
4 Jul
ایک پہاڑی سلسلے کے اوپر رن وے بنا ہوا تھا۔ ایک طیارہ مسافروں سے بھر چکا تھا۔ ابھی تک پائلٹ نہیں آیا تھا۔ کہ اچانک مسافروں نے دیکھا کہ دو افراد ہاتھوں میں سفید چھڑی لئے آنکھوں پر سیاہ چشمے پہنے آئے۔ اور کاک پٹ میں چلے گئے۔
++
#انپڑھ_منقول
مسافروں میں چہ می گوئیاں شروع ہوئیں کہ پائلٹ تو دونوں نابینا ہیں۔ سپیکر پر آواز آئی۔ کہ میں پائلٹ فلاں صاحب جہاز کا کیپٹن بول رہا ہوں اور میرے ساتھ فلاں صاحب میرے معاون پائلٹ ہیں۔ یہ درست ہے کہ ہم دونوں نابینا ہیں۔ لیکن جہاز کے جدید آلات اور ہمارے وسیع تجربے کو دیکھتے ہوئے
++
فکر کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم باآسانی جہاز چلا لیتے ہیں۔ بے شمار پروازیں کر چکے ہیں۔ مسافروں میں بے چینی کچھ کم ہوئی لیکن ان کی تشویش کم نہ ہوئی۔

خیر انجن سٹارٹ ہوا۔ جہاز نے رن وے پر دوڑنا شروع کیا۔ دونوں اطراف میں کھائیاں تھیں۔ مسافر سانس روک کر بیٹھے ہوئے تھے۔ جہاز دوڑتا گیا۔

+
Read 6 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!