اسرائیل اور پاکستان
حسب معمول کوشش کرونگا تفصیل کے بجائے مختصر بات کروں۔
پاکستان نے اسرائیل کے ناجائز وجود کو کبھی تسلیم نہیں کیا تھا۔اور ہمارا موقف رہا کہ فلسطینیوں کو جبراً بےگھر کر کے بنائی گئی ریاست کسی صورت قابل قبول نہیں۔اور بیت المقدس فلسطینی ریاست کے دارالحکومت
کا حصہ ہے۔
اس کے بعد تیسری عرب اسرائیل جنگ1967میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے باقاعدہ حصہ لیا اور دس اسرائیلی جہاز گرا کر سب سے ذیادہ اسرائیلی جہازگرانے والا ملک بننے کااعزاز حاصل کیا۔
اسکے بعد عرصے تک اسرائیل کےخلاف پاکستان میں جذبات ہمیشہ منفی اور جارحانہ ہی ہے حتیٰ کہ
پرویز مشرف نے اقتدار سنبھال لیا، جوکہ پہلے دن سے مغربی طاقتوں کی آنکھ کا تاراتھا۔
اسی دور میں سب سےپہلے اسرائیل کے بارے پاکستان کا سرکاری سطح پر باقاعدہ نرم رویہ سامنےآیا۔
یہاں تک کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ پریس کانفرنس بھی
کی اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی لائبریری سے اس ملاقات کی ویڈیو کا لنک بھی حاضر ہے



مشرف دور میں معمالات آگے بڑھ رہے تھے کہ مجبوراً اسے حکومت چھوڑنا پڑی اور جیسی تیسی جمہوریت آ گئی۔وقتی طور پر یہ معاملہ دب گیا ۔
لیکن اس دوران مشرف کی ٹیم نے
ایک نئی جماعت تحریک انصاف کا کنڑول سنبھال لیا۔پرویز مشرف کے وہ وزیرخارجہ، خورشید قصوری، جنکو اوپر دئے گئے لنک میں آپ دیکھ سکتے ہیں، اورجوکھلم کھلا اسرائیل کی حمایت کا پرچار کرتے رہےوہ بھی تحریک انصاف میں آ گئے اور مشہور فارن فنڈنگ کیس میں جو تفصیلات سامنے آئیں ان میں
امریکہ میں مقیم بھارتی و اسرائیلی شہریوں کی جانب سے تحریک انصاف کو فنڈنگ بھی سامنے آئی۔
2018میں عمران خان کو وزئراعظم بنائے جانے کے بعدایک انصافی رکن اسمبلی، اسما حدید نے قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر اسرائیل کی حمایت میں تقریر کی اور اسلامی تاریخ کے حقائق کو بھی مسخ کیا
حیرت ہے اس پر کسی نے آواز نا اٹھائی۔
اس سے اگلے سال2019میں اسرائیل طیارے کی پاکستان میں مشکوک لینڈنگ کا واقع سامنے آیا اورُاسرائیلی اخبار نے یہ شہ سرخی لگائی کہ کیا پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تیاری میں مصروف ہے؟
اس سارے معاملے کو غور سے دیکھیں کہ
عمران خان کی
ایک کٹر یہودی خاندان میں شادی،
زیک گولڈاسمتھ جیسے انتہا پسند اسرائیل کے حمایتی کی کمپین کےلئے لندن جانا،
مشرف کی ٹیم کے ان لوگوں کو ساتھ ملانا جو اسرائیل بارے نرم گوشہ رکھتےہیں
انصافی ممبر اسمبلی کااسرائیل کے حق میں تقریر
اسرائیلی جہاز کی خفیہ آمد
اوراب دنیا کے میڈیا میں
یہ باتیں چھپنا کہ پاکستان پر اسرائیل سے تعلقات نارمل کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
کیا یہ سب محض اتفاق ہے؟
یقیناً نہیں۔
محمد بن سلمان کو جیڈ کشنر کے ذریعے سعودیہ میں مسلط کرنے کا مقصد یہی تھا کہ سعودی عرب اسرائیل سے تعلقات بحال کرے اور اسکے بعد پاکستان یہی کہے گا کہ جب
عربوں نے بالخصوص سعودی عرب نے منظور کر لیا تو ہماُشما کی کیا اوقات۔
اب انصافئ اینکران کی جانب سے اسرائیل تعلقات بحالی کی مہم بھی ایک اہم نشانی ہے کہ
تندیلی نازل ہو چکی بس اعلان کا انتظار ہے
@threader_app compile

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Kashif Awan

Kashif Awan Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!