#FeelPainOfKashmir
9 اگست1931 کو برکت علی محمڈن ہال لاہور میں علامہ اقبال کی زیرِ صدارت اجلاس کا فیصلہ ہوا کہ 14 اگست کو جلسہ اور جلوس ہوگا۔ بعد ازنمازجمعہ دہلی دروازے سے جلوس نکلا جو باغ بیرون موچی گیٹ پہنچا جہاں علامہ اقبال کی صدارت میں جلسہ ہوا جس میں ایک لاکھ سے زائد مسلمان
شریک تھے۔ اس جلسے میں” شہیدانِ کشمیرزندہ باد” اور ”ڈوگرہ راج مردہ باد” کے نعرے لگے۔ جلسے سے خطاب کرتےہوئے علامہ اقبال نے کہا کہ اب کوئی مہاراجہ عوام کی مرضی کے خلاف عوام پرحکومت نہیں کرسکتا۔ 14اگست1931کو علامہ اقبال کی زبان سےتحریکِ آزادی کا باقاعدہ اعلان ہوا۔
#FeelPainOfKashmir
اس سے قبل1930میں وہ خطبہ الٰہ آباد میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ مملکت کا تصور بھی پیش کرچکے تھے۔ 14 اگست کو ایک بڑا جلسہ سیالکوٹ میں ہوا اور خواتین نے سرینگر میں جلوس نکالا۔ تحریک کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا اورکچھ ہی عرصے بعد 1932 میں آل جموں وکشمیر کانفرنس
#FeelPainOfKashmir
قائم کردی گئی جس کا منشور  علامہ اقبال کے مشورے سے تیارکیاگیا۔دسمبر1938 میں باغ کے سکھوں نے ہاڑی گہل میں ایک مسجد نذرِآتش کردی۔ پونچھ جیل کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر رام سنگھ نے جیل میں قرآنِ پاک کی بے حرمتی کی لہٰذا سردار فتح محمد خان کریلوی #FeelPainOfKashmir
اور کرنل خان محمد خان نے جلسے جلوس شروع کردیئے۔ یہ دونوں ریاستی اسمبلی کے رکن تھے اور کھلم کھلا ڈوگرہ راج کو للکارنے لگے۔
#FeelPainOfKashmir

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with 🇵🇰M.Adil Hussain🇵🇰

🇵🇰M.Adil Hussain🇵🇰 Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @MA_H_5

7 Feb
السلام علیکم
نہایت نصیحت اموز ایک بار پڑھیے گا ضرور
تقسیم ہند سے پہلے پنجاب کے دل لاہور سے” پرتاب”
نام کا ایک اخبار نکلا کرتا تھا جو کہ پرتاب نام کے ایک ہندو کا تھا وہی اس کا مالک بھی تھا اور چیف ایڈیٹر بھی ،

ایک دن پرتاب نے سرخی لگا دی : تمام مسلمان کافر ہیں
👇 Image
لاہور میں تہلکہ مچ گیا ،پرتاب کے دفتر کے باہر لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا جو مرنے مارنے پر تیار تھا، نقصِ امن کے خطرے کے پیش نظر انگریز کمشنر نے پولیس طلب کر لی، مجمعے کو یقین دلایا گیا کہ انصاف ہو گا اور مجرم کو قرار واقعی سزا دی جائے گی، تمام مکاتب فکر کی مشترکہ کمیٹی کے
👇
پچاس آدمیوں کی مدعیت میں پرچا کٹوا دیا گیا۔ چالان پیش کیا گیا اور میجسٹریٹ نے جو کہ انگریز ہی تھا ،پرتاب سے پوچھا یہ اخبار آپ کا ہے ؟ جی میرا ہے!

اس میں جو یہ خبر چھپی ہے کہ مسلمان سارے کافر ہیں اپ کے علم اور اجازت سے چھپی ہے ؟

جی بالکل میں ہی اس اخبار کا مالک اور
👇
Read 13 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!