السلام علیکم
نہایت نصیحت اموز ایک بار پڑھیے گا ضرور
تقسیم ہند سے پہلے پنجاب کے دل لاہور سے” پرتاب”
نام کا ایک اخبار نکلا کرتا تھا جو کہ پرتاب نام کے ایک ہندو کا تھا وہی اس کا مالک بھی تھا اور چیف ایڈیٹر بھی ،

ایک دن پرتاب نے سرخی لگا دی : تمام مسلمان کافر ہیں
👇
لاہور میں تہلکہ مچ گیا ،پرتاب کے دفتر کے باہر لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا جو مرنے مارنے پر تیار تھا، نقصِ امن کے خطرے کے پیش نظر انگریز کمشنر نے پولیس طلب کر لی، مجمعے کو یقین دلایا گیا کہ انصاف ہو گا اور مجرم کو قرار واقعی سزا دی جائے گی، تمام مکاتب فکر کی مشترکہ کمیٹی کے
👇
پچاس آدمیوں کی مدعیت میں پرچا کٹوا دیا گیا۔ چالان پیش کیا گیا اور میجسٹریٹ نے جو کہ انگریز ہی تھا ،پرتاب سے پوچھا یہ اخبار آپ کا ہے ؟ جی میرا ہے!

اس میں جو یہ خبر چھپی ہے کہ مسلمان سارے کافر ہیں اپ کے علم اور اجازت سے چھپی ہے ؟

جی بالکل میں ہی اس اخبار کا مالک اور
👇
چیف ایڈیٹر ہوں تو میرے علم و اجازت کے بغیر کیسے چھپ سکتی ہے!

آپ اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہیں؟

جی جب یہ جرم ہے ہی نہیں تو میں اس کا اعتراف کیسے کر سکتا ہوں، مجھے تو خود مسلمانوں نے ھی بتایا ہے جو میں نے چھاپ دیا ہے، صبح ہوتی ہے تو یہ لوگ سپیکر کھول کر شروع ہوتے ہیں کہ 👇
سامنے والی مسجد واالے کافر ہیں، وہ ظہر کے بعد شروع ہوتے ہیں تو عشاء تک ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ فلاں مسجد والے کافر ہیں اور اتنی قطعی دلیلیں دیتے ہیں کہ میں تو قائل ہوگیا کہ یہ واقعی کافر ہیں اور مجھے یقین ہے کہ عدالت بھی یقین کرنے پر مجبور ہو جائے گی بس اگلی تاریخ پر 👇
فلاں فلاں محلے کے فلاں فلاں مولوی صاحبان کو بھی بلا لیا جائے اور جن 50 آدمیوں کی مدعیت میں پرچا کاٹا گیا ھے انہیں بھی اگلی پیشی پہ بلا لیا جائے تو معاملہ ایک ھی تاریخ میں حل ہو جائے گا ,

اگلی پیشی پر تمام متعلقہ مولویوں کو جو کہ صبح شام دوسرے فرقے کے لوگوں کو مدلل طور پر کافر 👇
قرار دیتے تھے اور پرتاب نے جن کا نام دیا تھا، باری باری کٹہرے میں طلب کیا گیا۔ مجمعے میں سے تمام افراد کو کہا گیا کہ دیوبندی ، اہل حدیث اور بریلوی الگ الگ کھڑے ہوں!

بریلوی مولوی سے قرآن ہر حلف لیا گیا ،جس کے بعد پرتاب کے وکیل نے اس سے پوچھا کہ دیوبندوں اور اھل حدیثوں کے بارے 👇
میں وہ قرآن و سنت کی روشنی میں کیا کہے گا ؟

مولوی نے کہا کہ یہ دونوں توہینِ رسالت کے مرتکب اور بدترین کافر ہیں, پھر اس نے دیوبندیوں اور اہلِ حدیثوں کے بزرگوں کے اقوال کا حوالہ دیا اور چند احادیث اور آیات سے ان کو کافر ثابت کر کے فارغ ہو گیا، جج نے پرتاب کے وکیل کے کہنے پر 👇
اہل حدیثوں اور دیوبندیوں سے کہا کہ وہ باہر تشریف لے جائیں!

اس کے بعد دیوبندی اور اہلِ حدیث مولویوں کو یکے بعد دیگرے حلف لے کر گواہی کے لئے کہا گیا، دونوں نے بریلویوں کو مشرک ثابت کیا اور پھر شرک کے بارے میں قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ دیا،

پھر تینوں کو ایک ساتھ بلوایا اور 👇
کہا آپ تینوں کا شیعہ کے متعلق کیا خیال ہے ؟
تینوں نے مشترکہ طور پر کہا جناب ہم تینوں اس بات پر متفق ہیں کہ شیعہ ہماری نظر میں پکے کافر ہیں ،

پھر مجسٹریٹ نے سب کو عدالت سے باھر بھیج دیا ،

اس کے بعد پرتاب کے وکیل نے کہا کہ مجسٹریٹ صاحب آپ نے خود سن لیا کہ یہ سب ایک دوسرے کو 👇
کافر سمجھتےاورببانگ دھل کہتے بھی ہیں اور کافر ہوکر عدالت سے نکل بھی گئے ہیں اب عدالت میں جو لوگ بچتے ہیں ان میں مدعیوں کے وکیل بھی ان تینوں فرقوں میں سے کسی ایک فرقے کےساتھ تعلق رکھتےہیں لہذا یہ بھی کافروں میں سےہی ہیں باقی جو مسلمان بچا ہےاسے طلب کر لیجئے تا کہ کیس آگے چلے؟👇
مجسٹریٹ نے کیس خارج کر دیا اور پرتاب کو باعزت بری کردیا اور پرتاب اخبار کو بھی دوبارہ بحال کر دیا ،

یہ دھندا تقسیم ہند کے ستر سال بعد بھی جاری وساری ہے!
جبکہ فرمان الہی
سورہ آل عمران 103 میں
وَاعۡتَصِمُوۡابِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیعاوَّ لَا تَفَرَّقُوا ۪ ۔۔ ۔
ترجمہ
اللہ تعالٰی کی رسّی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو ،

میری تو بس دعاہے
اللہ سب کو ہدایت کی توفیق دے اوراتفاق اتحاد کی دولت سے نوازے
آمین
دعاؤں کاطالب
محمدعادل حسین

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with 🇵🇰M.Adil Hussain🇵🇰

🇵🇰M.Adil Hussain🇵🇰 Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @MA_H_5

5 Feb
#FeelPainOfKashmir
9 اگست1931 کو برکت علی محمڈن ہال لاہور میں علامہ اقبال کی زیرِ صدارت اجلاس کا فیصلہ ہوا کہ 14 اگست کو جلسہ اور جلوس ہوگا۔ بعد ازنمازجمعہ دہلی دروازے سے جلوس نکلا جو باغ بیرون موچی گیٹ پہنچا جہاں علامہ اقبال کی صدارت میں جلسہ ہوا جس میں ایک لاکھ سے زائد مسلمان
شریک تھے۔ اس جلسے میں” شہیدانِ کشمیرزندہ باد” اور ”ڈوگرہ راج مردہ باد” کے نعرے لگے۔ جلسے سے خطاب کرتےہوئے علامہ اقبال نے کہا کہ اب کوئی مہاراجہ عوام کی مرضی کے خلاف عوام پرحکومت نہیں کرسکتا۔ 14اگست1931کو علامہ اقبال کی زبان سےتحریکِ آزادی کا باقاعدہ اعلان ہوا۔
#FeelPainOfKashmir
اس سے قبل1930میں وہ خطبہ الٰہ آباد میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ مملکت کا تصور بھی پیش کرچکے تھے۔ 14 اگست کو ایک بڑا جلسہ سیالکوٹ میں ہوا اور خواتین نے سرینگر میں جلوس نکالا۔ تحریک کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا اورکچھ ہی عرصے بعد 1932 میں آل جموں وکشمیر کانفرنس
#FeelPainOfKashmir
Read 5 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!