ستمبر دو ہزار اٹھارہ کی بات ہے۔ٹویٹر اکاؤنٹ تو پہلے بنا لیا لیکن روزانہ استعمال انھی دنوں میں شروع ہوا۔
ایک پوسٹ کی کہ اپنی موبائل فون گیلری کی آٹھویں تصویر شیئر کریں۔تھوڑی دیر میں ایک ڈی ایم ملا کہ آٹھویں تصویر تو فیملی کی ہے۔ اس کے علاوہ کوئ تصویر شیئر ہو سکتی ہے؟
اتنی دیانتداری؟میں حیران۔
یہ میرا @Uzmaar سے پہلا باقاعدہ تعارف تھا۔سوشل میڈیا پہ فیک آئ ڈیز کی وجہ سے ڈر سا لگتا تھا لیکن عظمیٰ وہ پہلی دوست تھی جس نے باقاعدہ ہاتھ پکڑ کے مجھے ٹویٹر استعمال کرنا سکھایا۔تمام فرینڈز سے مجھے فالو کروایا اور یوں دنوں میں ہم گہری سہیلیاں بن گئیں۔
پہلی بار جب فون پہ بات ہوئ تو حیرانی ہوئ۔ ٹویٹر پہ سیاست اور ریاستی امور پہ بحث کرنے والی عظمیٰ کی آواز میں ایک البیلی سی کھنک تھی۔حیا آمیز لہجہ،دھیمے سے سُر بکھیرنے والی یہ عظمی سوشل میڈیا کی شیرنی سے انتہائ مختلف ہے جو بحث کرتے ہوۓ تمام پوائنٹس ترتیب سے ٹیبل پہ رکھتی جاتی ہے.
دو مختلف ممالک,ٹائم زون کا فرق، گھر اور جاب کی مصروفیات ہمیں کسی سے کوئ مسلۂ نہ رہا۔جب بات کرنی ہوتی تو گھنٹوں فون پہ بات ہو جاتی۔

عظمیٰ کا انگلینڈ آنے کا پلان بنا تو خوشی تھی کہ اب ملاقات ہو گی۔مجھے یاد ہے کہ عظمیٰ کے بیٹے نے کہا:”آپ کو یقین ہے کہ آپ کی فرینڈ کوئ لڑکا نہیں ہے؟”
وہ اور بھائ صاحب خود عظمیٰ کو ہمارے گھر چھوڑنے آۓ.وہ دو گھنٹوں کی محفل اس لیے بھی یادگار رہی کہ ہر موقع پہ ایک دوسرے کو اپنی تصاویر بھیجنے والی دونوں سیانیوں کو ایک سیلفی لینا تک یاد نہ رہی۔
ہم دوستوں میں وفاداری ڈھونڈتے ہیں لیکن عظمیٰ میں سب سے بڑی خوبی اس پہ دوستوں کا اعتماد ہے
چاہے میوچل فرینڈز کی بات ہی کیوں نہ ہو۔ہم دونوں کو معلوم ہی کیوں نہ ہو لیکن عظمیٰ بنا پوچھے یا یوں کہیے کہ بلا ضرورت کسی تیسرے کی بات بھی آپ سے شیئر نہیں کریں گی۔زبان کی چسکے کے لیے وہ دوستی داؤ پہ نہیں لگاتیں۔
یہی وجہ ہے کہ مجھے ذہنی پریشانی ہو تو پہلے عظمیٰ کا ہی خیال آتا ہے۔
بھروسہ مند دوست اور من کے سچے لوگ شاید اسی لیے دلوں میں جلد گھر کر لیتے ہیں۔

پھر کئی لوگ نظر سے گزرے
پھر کوئی شہرِ طرب یاد آیا

#ہماکازاویہ

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Zilay Huma Dar

Zilay Huma Dar Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @ZilayHumaDar

3 Apr
پچھلے کچھ دن کافی پریشانی کے گزرے۔ بہترین زندگی گزارتے گزارتے اچانک روٹین کا ٹسٹ کروانے گئی تو ہولناک بیماری کا انکشاف ہوا۔ (بیماری کا نام قصداً نہیں لکھ رہی کیونکہ مقصد ہمدردی سمیٹنا یا علاج ڈھونڈنا نہیں ہے)نہ کوئ علامت، نہ کوئ وجہ لیکن صحت نے ایسا الجھایا کہ ایک وقت آیا
کہ لگا کہ اب جانے کی تیاری کر لینی چاہیے۔ ہر رپورٹ میں کنڈیشن خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی تھی۔ روزانہ ہسپتال ٹسٹ کے لیے جانا ہوتا تو امید نہیں ہوتی تھی کہ واپسی ہو گی یا داخل کر لیا جاۓ گا۔
دن گزرتے جا رہے تھے لیکن نہ بیماری کا سرا ہاتھ آ رہا تھا اور نہ بہتری ہو رہی تھی۔
ایسے ہی رات کو سونے سے پہلے سوچا کہ ایسا کونسا گناہ ہوا جس کی سزا ملی۔ گناہ گار بندی ہوں اس لیے یہ آزمائش تو ہو نہیں سکتی۔ جیسے سوچ کی کھڑکی کھل گئی۔مذاق میں کیے گئے طنز، موقع پہ جواب دینا،کسی پہ شک کرنا غرض ایسا لگا کونسا گناہ ہے جو نہیں سرزد ہوا۔
Read 8 tweets
1 Mar
بہار آتی ہے تو اسلام آباد کے راستے پھولوں سے اور ہسپتال مریضوں سے بھر جاتے ہیں ۔ پولن الرجی کا یہ عذاب ہمارے فیصلہ سازوں کے فکری افلاس کا تاوان ہے جو آج ہم ادا کر رہے ہیں اور کل ہماری نسلوں کو ادا کرنا ہوگا۔
اسلام آباد سے پہلے مارگلہ کے پہاڑ خشک اور ویران نہ تھے ۔
پرانی تصاویر آج بھی دستیاب ہیں اور دیکھا جا سکتا ہے ان میں وہی حسن تھا جو پوٹھوہار کے باقی پہاڑوں میں ہے۔غیر ملکی ماہرین شہر کی پلاننگ کررہے تھے،انہیں مقامی تہذیب کا کچھ علم نہ تھا اور ایوب خان صاحب فیصلہ ساز تھےجو حکم اور تعمیل کے بیچ کسی وقفے کے ذائقے سے آشنا نہ تھے
ایک شام فیصلہ ہوا،اسلام آباد کو مزید سرسبز بنانا چاہیے۔مقامی درختوں اور پھلدار پودوں کی ایک فہرست پیش کی گئی جسے یہ کہہ کر رد کردیا گیا کہ مقامی درخت بڑا ہونے میں وقت لیتے ہیں اور پھلدار پودوں کو بہت نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔
فیصلہ سازوں کواسلام آباد ”جلد از جلد“سر سبز چاہیے تھا
Read 20 tweets
26 Feb
دیمک

چین سے ریل گاڑیوں کے ڈبے منگوائے گئے تھے. ان میں کچھ عجیب سی شکل کے لوہے کے ڈھلے ہوئے بیرنگ ہب bearing hub لگے تھے. کچھ عرصہ میں ان میں خرابی پیدا ہونا شروع ہوگئی. پانچ سو ہب کی ڈیمانڈ نکالی گئی..
ریلوے کا ایک ٹھیکیدار ہماری فیکٹری سے کچھ سامان تیار کرواتا تھا. اسے اندازہ ہوا کہ ہم وہ نسبتاً مشکل سا پرزہ تیار کر سکتے ہیں. وہ ان کی ڈرائنگز اور سیمپل لے کر آگیا.

ہم نے اس کے لوہے کا ٹسٹ کروایا، اس کی تیاری کیلئے مطلوبہ ضروری تمام آلات (.pattern and jig fixtures.)
کی قیمت کا حساب لگایا. اس میں اپنا منافع، اور غیر متوقع اخراجات وغیرہ ڈال کر چھ ہزار پانچ سو کی کوٹیشن ٹھیکیدار کو دی. ٹھیکیدار نے اپنی دانست کے مطابق اور اس پرزہ کی مناسبت سے بہت زیادہ قیمت کا ٹینڈر بھرا.

ٹینڈر والے دن اس کا فون آیا۔ بہت ہی خوش تھا. سر تیاری کرلیں
Read 10 tweets
17 Feb
جب سے آنکھ کھولی تب سے یہ جانا کہ یہ سامنے حویلی والے ہمارے دشمن ہیں۔
اس دشمنی کی ابتدا کے بارے میں کوئ نہیں جانتا تھا لیکن سب یہ ضرور جانتے تھے کہ ایک کا دوست دوسرے گھرانے میں دشمن تصور کیا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دونوں کے جاننے والوں میں بھی ایک واضح لکیر موجود تھی۔
معاشی لحاظ سے بھی دونوں گھر کچھ خاص خوشحال نہیں تھے۔ دونوں گھرانوں کے مرد کاروبار کر کے اپنا اور گھر والوں کا پیٹ پالتے تھے۔
لیکن بات بات پہ لڑنے سے جو جمع جتھا ہوتا وہ ان لڑائیوں کے تصفیہ پہ خرچ ہو جاتا۔ اس لیے دونوں طرف مفلسی کا ہی دور دورہ تھا۔
ہماری طرف سے فیصلہ کرنے کا اختیار ہمارے ایک دبنگ بزرگ بابا جابر جو انتہائ بہادر مشہور تھے، ان کے پاس تھا۔ ان کے کیے گئے فیصلے پہ ہم سب مِن و عَن عمل کرتے تھے۔
اس جھگڑے میں کئی نسلیں جوان ہو گئیں لیکن پنچائیت کے اختیارات بابا جابر سے ان کی منتخب اولادوں کو عطا ہو گئے
Read 17 tweets
14 Feb
کوئی ہنستی کھلکھلاتی لڑکی اچانک کسی سہانے موسم میں صرف اس وجہ سے بے انتہا اداس ہوجاتی کیونکہ بہار کے موسم میں کسی نے اس سے کہا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے
کوئی لڑکا کسی شہر کے خاص ریسٹورینٹ کی خاص میز پر گھنٹوں سگریٹ پیتے گزار دیتا ہے کیونکہ یہاں کسی نے اس سے آخری ملاقات کی تھی
کوئی نئی نویلی دلہن ایک محبت کرنے والے شوہر کے سینے سے لگی کسی ایسے لڑکے کے لئے آنکھیں نم کئیے بیٹھی ہے جو اس سے کبھی محبت کرتا ہی نہیں تھا۔
کوئی باس انٹرویو لیتے ہوئے اس زہین و فطین لڑکی کو صرف اس لیے ریجیکٹ کر دیتا ہے کہ وہ اسے اس لڑکی کی ہم شکل دکھائی دیتی تھی جو بےوفا تھی
کوئی عورت اپنے بچے کو سکول چھوڑنے جاتے وقت بچوں کی بھیڑ میں اس بچے کی ایک جھلک دیکھنے رک جاتی ہے جس کے باپ نے کبھی اس کا چہرہ ہتھیلیوں میں بھر کر کہا تھا ہمارے بچے کی ناک تمہاری طرح ہوگی اور آنکھیں میری طرح ۔۔۔۔۔
Read 6 tweets
22 Nov 20
اپنی سوشل میڈیا ایپس کی بلاک لسٹ پہ نظر ڈالیں۔
بلاک ہونے والوں کی کثیر تعداد اس بنیاد پہ بلاک کی گئی ہو گی کہ انھوں نے آپ کی کسی مسلکی،سیاسی یا معاشرتی پوسٹ کے جواب میں آپ کو دلیل کے بجاۓ گالی یا بددعا دی ہوگی
بحیثیت خاتون مجھےاسی زبان میں جواب دینے کے بجاۓ بلاک کرنا آسان لگتا ہے
یہی لوگ جب قریب المرگ ہوتے ہیں تو ان کی اور ان کے اپنوں کی خواہش ہوتی ہے کہ تمام لوگ انھیں ک خطاؤں کو معاف کریں اور اللہ کریم ان کے گناہوں کو معاف کر دے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام عمر انھیں اپنی زبان پہ قابو پانا نصیب نہیں ہوتا لیکن مرتے دم ان کی دعا ہوتی ہے کہ ان کےلیے سب دعا کریں
اب سب سے تکلیف دہ مرحلہ ہے کہ لوگ آپ کو کیوں معاف کریں۔ کیا اس لیے کہ اب آپ فوت ہونے لگے ہیں یا آپ وفات پا چکے ہیں؟
کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ آپ نے اس دنیا فانی سے جانا ہے؟ کیا آپ کو سزا و جزا، جنت و جہنم کی حقیقت معلوم نہ تھی؟
Read 8 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!