سزا اور صِلے کا نسلوں کا سفر
اُمبرٹو ایکو میرے پسندیدہ ترین فلاسفر تھے،ایک بار اُن سےملنے کا وقت بھی لیا لیکن ویزا ریجیکٹ ہونے کے باعث مل نہ پایا،اُنکے کئی اقوال دُنیا بھر کے فلاسفرز، سوشیالوجسٹس اور پُولیٹکل سائنٹسٹس آج بھی بطور دلیل استعمال کرتے ہیں۔ان کے ایک قول کا ترجمہ ہے
ہم نے مُستقبل میں کیا بننا ہے یہ اس بات سے طے نہیں ہو گا کہ ہمارے بڑوں نے ہمیں کیا سکھایا ہے بلکہ اس بات سے طے ہو گا کہ مُشکل اور بُرے حالات میں وہ ایسا کیا کرتے تھے جو وہ ہمیں سکھانا نہ بھی چاہتے ہوں تب بھی ہم نے بہرحال اُنہیں وہ کرتے دیکھ کر ویسا کرنا سیکھ لیا۔‘‘
مجھے اپنے ابّا کے بہت سے نظریات اور افکار سے شدید اختلاف ہے جِن میں اُنکا مُسلم لیگ ن کا ڈائی ہارڈ سپورٹر ہونا بھی شامل ہے اور دین کے معاملات میں سخت گیر دیوبندی ہونا بھی،لیکن جب میں اُمبرٹو ایکو کے قول کے پس منظر میں دیکھتا ہُوں تو وہ مجھے دُنیا کے سب سے اچھے والِد نظر آتے ہیں۔
ہُوا یہ کہ وہ کپاس کے جنوبی پنجاب کے چند بڑے بیوپاریوں میں سے تھے۔ وہ اتنی کپاس خریدا کرتے کہ اُسے رکھنے کے لیے تب تک سٹوریج کی جگہ نہیں ہوتی تھی جب تک کاٹن فیکٹریاں اُنسے کپاس اُٹھا نہ لیں۔ اسکا حل یہ نکالا تھا کہ سبھی کسانوں کو کہہ دیتے کہ کپاس اُتارنے کے بعد اپنے پاس رکھیں
یہ ریٹ طے ہو گیا میرا جو آدمی کپاس اُٹھانے آئے گا پیسے دے جائے گا۔ دو دہائیوں تک اُنکا کاروبار ایسے ہی چلتا رہا۔
ہم سب بہن بھائی سکول میں پڑھتے تھے جب اُنکے کاروبار کے عین پیک پر گورنمنٹ نے کسان اور بیوپاری سے کپاس خریدنے کی اپنی قیمت میں بہت بڑی کمی کر دی۔
ابّا جی تب تک اُن کسانوں سے کپاس زیادہ قیمت پر اُٹھانے کی زبان کر چُکے تھے جب گورنمنٹ نے امدادی قیمت کم کی۔
مجھے یاد ہے بہت سے عزیزوں نے میرے ابا کو سمجھایا کہ آپنے ابھی کسانوں سے فصل اُٹھائی نہیں ہے صرف زبانی بات ہی تو کی ہے غلطی آپکی نہیں حکومت کی ہے انکار کر دیں
لیکن ابّا جی اُنہیں کہتے میں زبان کر چُکا ہُوں۔ اُنہیں اُس سال کروڑوں کا نقصان آیا، کئی پلاٹ بیچے، کاروبار بند ہو گیا، قرض چڑھ گیا لیکن ابّا جی اپنی زبان کے پکے رہے اور اُسی قیمت پر ہزاروں کسانوں سے کپاس اُٹھائی جسکا وعدہ کیا تھا۔
مجھے یاد ہے اُسکے بعد کئی سال ہمارے گھر میں عید پر نئے کپڑے نہ سلے، مجھے پیاز سے آج بھی نفرت ہے کیونکہ اُن سالوں میں پانی جیسے شوربے سے روٹی کے ساتھ پیاز ہی کھانے پڑتے تھے.
لیکن وہ وقت گزر گیا آج میرے گھر میں فارن کوالیفائیڈ ڈاکٹرز ہیں، اینجینئرز، بیوروکریٹس اور پروفیسرز ہیں
اور وہ تربیت بھی ساتھ ہے جو ابّا جی نے اُن بُرے حالات میں اپنے طرزِ عمل سے کی۔
میں اپنے گھر کی ایک بچی کے ساتھ ایک بس میں سوار ہُوا، وہ کینیڈا کی ایک یُونیورسٹی سے پڑھ کر ابھی فری ہی ہوئی تھی کہ اُسے وہیں یُونیورسٹی مینیجمینٹ میں جاب مل گئی۔ اُسکی جاب کے تیسرے دن کا واقعہ ہے۔
یہاں سٹوڈنٹ کارڈ ڈگری کے ایک سال بعد تک ویلیڈ رہتا ہے اور جسکے پاس سٹوڈنٹ کارڈ ہو اُسے لوکل بس میں کرایہ نہیں دینا پڑتا۔ جب اُس بچی نے کرایہ دیا تو میں نے اُسے پُوچھا تُمہارا کارڈ کھو گیا کیا۔ وہ بولی نہیں پرس میں ہی ہے۔ میں نے حیران ہو کر پُوچھا پھر کرایہ کیوں دیا۔
وہ بولی کیونکہ اب مجھے جاب مل چُکی ہے۔میں نے کہا لیکن یہ ڈرائیور تو یہ بات نہیں جانتا، وہ بولی میں تو جانتی ہُوں۔
دیکھ لیجیے ایمانداری اگائی جائے تو نسلوں کا سفر کرتی ہے۔
کُچھ سال پہلے کوٹ ادو کے سرکاری سکول کے پرنسپل کسی کام کے کے سلسلے میں ملے توباتوں باتوں میں اُنہوں نے بتایا
کہ وہ ایف ایس سی کے قریبی امتحانی سینٹر میں سُپرینٹینڈینٹ ہیں۔میں ذکر کر بیٹھا کہ میرا بھائی انکے سینٹر میں پیپرز دے رہا ہے۔اگلے دن اُنہوں نے سینٹر کے راؤنڈ کے دوران اُسے پہچان لیا اور اُس سے میرا ذکر کرنے کے بعد کہاکہ معروضی سوالات میں فلاں نگران سے مدد لینا، اُسے کہہ دونگا
بھائی نے اُنہیں کہہ دیا میں ناجائز ذرائع سے ملنے والی کامیابی میں یقین نہیں رکھتا۔ پرنسپل صاحب کو بچے کے اس جواب سے غصہ آیا اور کچھ تلخ کلامی کے بعد انہوں نے اُس سے پیپر لے کر سٹیج پر کھڑا کردیا۔
وہ اسے یُو ایم سی بنانے کی دھمکی دے کر سوری کروانے کی کوشش کرتے رہے
اور وہ ان سے نقل کی دعوت دینے پر سوری کرنے پر اصرار کرتا رہا۔
بالآخر پرنسپک صاحب نے اسکا پیپر کم بیش ایک گھنٹے بعد واپس دے دیا۔ جب پیپر کا وقت ختم ہُوا تو وہ اُس کے پاس آئے اور کہنے لگے تُم اضافی وقت لو اور اپنا پیپر مکمل کرو۔ لیکن بھائی نے ادھورا پیپر اسے دیا اور گھر آگیا۔
گھر والوں کو واقعے کا علم ہوا تو بے جا ضد پر اُسے ڈانٹنے لگے۔ میں نے اُنہیں بتایا کہ آج اس نے جو کیا ہے میں یقین سے کہہ سکتا ہُوں اللہ اسے اسکا صلہ تو دیگا ہی یہ صلہ نسلوں کا سفر کرے گا۔ وہ اُس پیپر میں کم نمبر آنے کے باعث میڈیکل میں جانے سے تو رہ گیا
لیکن چند سال میں ہی اُس نے بالآخر سی ایس ایس پاس کیا، اُس میں جتنی قابلیت ہے ساٹھ سال کی عُمر کو پُہنچا تو انشااللہ بہت بڑا سکالر بنے گا۔
یہ سچ ہے کہ سزا اور صلہ نسلوں کا سفر کرتا ہے۔ اللہ تو ایک نفس کی سزا دوسرے نفس کو نہیں دیتا لیکن قانُونِ فطرت یہی ہے کہ ہم جو پودے لگائیں گے
ہمارے بچے اُنکا پھل چکھیں گے،
ہم خاردار جھاڑیاں اُگائیں گے تو یہ جابجا پھیلیں گی بالآخر کانٹے ہمارے بچوں کو ہی لہولہان کریں گے۔
مجھے دُکھ ہے ہم آجکل پُوری تندہی سے معاشرے میں فاشِزّم نفرت اور تقسیم اُگا کر اسے ایکٹینشن دے رہے ہیں۔
ہمارے بچے سب دیکھ اور لاشعوری طور پر ہم سے وہ سب سیکھ رہے ہیں جو ہم کرنے میں لگے ہیں۔
اُمبرٹو ایکو نے بُری ترین (فاشِسٹ) ریاستوں اور معاشروں کی چودہ نشانیاں بتاتے ہُوئے کہا تھا جہاں یہ چودہ نشانیاں موجُود ہوں سمجھ لیں مریض نہیں بچے گا۔
آپ وہ چودہ نُکات پڑھیں تو آپکو یہ دیکھ کر شدید تکلیف ہو گی کہ وہ چودہ کی چودہ نشانیاں آپکی ریاست میں دِن بارہ بجے کے سُورج کی طرح موجود ہیں۔۔۔۔
تحریر: محمد رضوان خالد چوھدری

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Zilay Huma Dar

Zilay Huma Dar Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @ZilayHumaDar

25 Apr
“کافر مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں”۔
اس ایک فقرے نے پاکستانی معاشرے کو جتنا جسمانی اور ذہنی طور پہ نقصان پہنچایا، اتنا تو شاید ہیرو شیما اور ناگاساکی کی تباہی پہ بھی نہ ہوا ہو۔
ہمارے ملک میں گلہڑ کا مرض بڑھا تو WHO نے مالی تعاون کرتے ہوۓ ہانڈی والے نمک کا خیال پیش کیا
تاکہ آیوڈین کی کمی پوری کی جا سکے۔
نتیجہ؟
پہلے اسے بانجھ کرنے کی سازش قرار دیا گیا اور پھر اس کے ذائقے سے شکایت ہونے لگی تو ہم نے بیمار ہونا ہی مناسب سمجھا۔
پولیو کے قطرے پلاۓ جانے میں دشواری کا سامنا اس لیے ہے کہ مجاہدان دین کے خیال میں ان قطروں میں مذہب دشمنی کے جراثیم ہیں۔
اس لیے ہم نے اپنے بچوں کو صحت مند بنانے کی بجاۓ اپنی نسلوں کو معذور بنانا بہتر جانا۔
جب یہ رپورٹ منظر عام پہ آئ کہ زچگی میں وفات پا جانے والی ماؤں کی تعداد پاکستان میں بہت زیادہ ہے تو پھر بین الاقوامی امداد کے ذریعے کستان کے دور دراز علاقوں میں صحت کے بنیادی مراکز بناۓ گئے
Read 11 tweets
6 Apr
ستمبر دو ہزار اٹھارہ کی بات ہے۔ٹویٹر اکاؤنٹ تو پہلے بنا لیا لیکن روزانہ استعمال انھی دنوں میں شروع ہوا۔
ایک پوسٹ کی کہ اپنی موبائل فون گیلری کی آٹھویں تصویر شیئر کریں۔تھوڑی دیر میں ایک ڈی ایم ملا کہ آٹھویں تصویر تو فیملی کی ہے۔ اس کے علاوہ کوئ تصویر شیئر ہو سکتی ہے؟
اتنی دیانتداری؟میں حیران۔
یہ میرا @Uzmaar سے پہلا باقاعدہ تعارف تھا۔سوشل میڈیا پہ فیک آئ ڈیز کی وجہ سے ڈر سا لگتا تھا لیکن عظمیٰ وہ پہلی دوست تھی جس نے باقاعدہ ہاتھ پکڑ کے مجھے ٹویٹر استعمال کرنا سکھایا۔تمام فرینڈز سے مجھے فالو کروایا اور یوں دنوں میں ہم گہری سہیلیاں بن گئیں۔
پہلی بار جب فون پہ بات ہوئ تو حیرانی ہوئ۔ ٹویٹر پہ سیاست اور ریاستی امور پہ بحث کرنے والی عظمیٰ کی آواز میں ایک البیلی سی کھنک تھی۔حیا آمیز لہجہ،دھیمے سے سُر بکھیرنے والی یہ عظمی سوشل میڈیا کی شیرنی سے انتہائ مختلف ہے جو بحث کرتے ہوۓ تمام پوائنٹس ترتیب سے ٹیبل پہ رکھتی جاتی ہے.
Read 8 tweets
3 Apr
پچھلے کچھ دن کافی پریشانی کے گزرے۔ بہترین زندگی گزارتے گزارتے اچانک روٹین کا ٹسٹ کروانے گئی تو ہولناک بیماری کا انکشاف ہوا۔ (بیماری کا نام قصداً نہیں لکھ رہی کیونکہ مقصد ہمدردی سمیٹنا یا علاج ڈھونڈنا نہیں ہے)نہ کوئ علامت، نہ کوئ وجہ لیکن صحت نے ایسا الجھایا کہ ایک وقت آیا
کہ لگا کہ اب جانے کی تیاری کر لینی چاہیے۔ ہر رپورٹ میں کنڈیشن خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی تھی۔ روزانہ ہسپتال ٹسٹ کے لیے جانا ہوتا تو امید نہیں ہوتی تھی کہ واپسی ہو گی یا داخل کر لیا جاۓ گا۔
دن گزرتے جا رہے تھے لیکن نہ بیماری کا سرا ہاتھ آ رہا تھا اور نہ بہتری ہو رہی تھی۔
ایسے ہی رات کو سونے سے پہلے سوچا کہ ایسا کونسا گناہ ہوا جس کی سزا ملی۔ گناہ گار بندی ہوں اس لیے یہ آزمائش تو ہو نہیں سکتی۔ جیسے سوچ کی کھڑکی کھل گئی۔مذاق میں کیے گئے طنز، موقع پہ جواب دینا،کسی پہ شک کرنا غرض ایسا لگا کونسا گناہ ہے جو نہیں سرزد ہوا۔
Read 8 tweets
1 Mar
بہار آتی ہے تو اسلام آباد کے راستے پھولوں سے اور ہسپتال مریضوں سے بھر جاتے ہیں ۔ پولن الرجی کا یہ عذاب ہمارے فیصلہ سازوں کے فکری افلاس کا تاوان ہے جو آج ہم ادا کر رہے ہیں اور کل ہماری نسلوں کو ادا کرنا ہوگا۔
اسلام آباد سے پہلے مارگلہ کے پہاڑ خشک اور ویران نہ تھے ۔
پرانی تصاویر آج بھی دستیاب ہیں اور دیکھا جا سکتا ہے ان میں وہی حسن تھا جو پوٹھوہار کے باقی پہاڑوں میں ہے۔غیر ملکی ماہرین شہر کی پلاننگ کررہے تھے،انہیں مقامی تہذیب کا کچھ علم نہ تھا اور ایوب خان صاحب فیصلہ ساز تھےجو حکم اور تعمیل کے بیچ کسی وقفے کے ذائقے سے آشنا نہ تھے
ایک شام فیصلہ ہوا،اسلام آباد کو مزید سرسبز بنانا چاہیے۔مقامی درختوں اور پھلدار پودوں کی ایک فہرست پیش کی گئی جسے یہ کہہ کر رد کردیا گیا کہ مقامی درخت بڑا ہونے میں وقت لیتے ہیں اور پھلدار پودوں کو بہت نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔
فیصلہ سازوں کواسلام آباد ”جلد از جلد“سر سبز چاہیے تھا
Read 20 tweets
26 Feb
دیمک

چین سے ریل گاڑیوں کے ڈبے منگوائے گئے تھے. ان میں کچھ عجیب سی شکل کے لوہے کے ڈھلے ہوئے بیرنگ ہب bearing hub لگے تھے. کچھ عرصہ میں ان میں خرابی پیدا ہونا شروع ہوگئی. پانچ سو ہب کی ڈیمانڈ نکالی گئی..
ریلوے کا ایک ٹھیکیدار ہماری فیکٹری سے کچھ سامان تیار کرواتا تھا. اسے اندازہ ہوا کہ ہم وہ نسبتاً مشکل سا پرزہ تیار کر سکتے ہیں. وہ ان کی ڈرائنگز اور سیمپل لے کر آگیا.

ہم نے اس کے لوہے کا ٹسٹ کروایا، اس کی تیاری کیلئے مطلوبہ ضروری تمام آلات (.pattern and jig fixtures.)
کی قیمت کا حساب لگایا. اس میں اپنا منافع، اور غیر متوقع اخراجات وغیرہ ڈال کر چھ ہزار پانچ سو کی کوٹیشن ٹھیکیدار کو دی. ٹھیکیدار نے اپنی دانست کے مطابق اور اس پرزہ کی مناسبت سے بہت زیادہ قیمت کا ٹینڈر بھرا.

ٹینڈر والے دن اس کا فون آیا۔ بہت ہی خوش تھا. سر تیاری کرلیں
Read 10 tweets
17 Feb
جب سے آنکھ کھولی تب سے یہ جانا کہ یہ سامنے حویلی والے ہمارے دشمن ہیں۔
اس دشمنی کی ابتدا کے بارے میں کوئ نہیں جانتا تھا لیکن سب یہ ضرور جانتے تھے کہ ایک کا دوست دوسرے گھرانے میں دشمن تصور کیا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دونوں کے جاننے والوں میں بھی ایک واضح لکیر موجود تھی۔
معاشی لحاظ سے بھی دونوں گھر کچھ خاص خوشحال نہیں تھے۔ دونوں گھرانوں کے مرد کاروبار کر کے اپنا اور گھر والوں کا پیٹ پالتے تھے۔
لیکن بات بات پہ لڑنے سے جو جمع جتھا ہوتا وہ ان لڑائیوں کے تصفیہ پہ خرچ ہو جاتا۔ اس لیے دونوں طرف مفلسی کا ہی دور دورہ تھا۔
ہماری طرف سے فیصلہ کرنے کا اختیار ہمارے ایک دبنگ بزرگ بابا جابر جو انتہائ بہادر مشہور تھے، ان کے پاس تھا۔ ان کے کیے گئے فیصلے پہ ہم سب مِن و عَن عمل کرتے تھے۔
اس جھگڑے میں کئی نسلیں جوان ہو گئیں لیکن پنچائیت کے اختیارات بابا جابر سے ان کی منتخب اولادوں کو عطا ہو گئے
Read 17 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!