جنرل محمد ضیاءالحق شہیدؒ امریکہ کے دورے پر تھے جہاں انہوں نے پورے ملت اسلامیہ کے نمائندے کے طور پر اقوام متحدہ سے خطاب کرنا تھا امریکہ میں دو ماہ بعد الیکشن ہونے والے تھے جنرل ضیاءالحقؒ اور امریکی صدر جمی کارٹر کی ملاقات ہوئی جس میں جمی کارٹر نے شکائتاً کہا
1__
کہ
جناب صدر آپ نے ہماری 4000 ملین ڈالر کی امداد سرسری انداز میں اور فی الفور مسترد کردی جواباً جنرل ضیاءالحق نے کہا کہ " جناب صدر ان معاملات پر بات اب 4 نومبر کے بعد ہی مناسب ہو گی
آغا شاہی کے بقول صدر ضیاءالحقؒ کا یہ جملہ سن کر ہمارے پاؤں تلے زمین نکل گئی اور جمی کارٹر
2__
کے چہرے پر خجالت نظر آنے لگی پاکستان کا صدر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر سے کہہ رہا تھا کہ " تم الیکشن جیت کر آؤ پھر بات کرنا جنرل کے اس جملے پر سفارتی حلقوں میں زبردست تبصرے ہوئے اور لوگوں نے کہا کہ جنرل محمد ضیاءالحقؒ امریکہ کے مقابلے میں کسی احساس کمتری کا شکار نہیں
3__
1982ء میں جنرل ضیاءالحق ایک کانفرنس میں شرکت کرنے انڈیا پہنچے اس کانفرس میں دنیا کے 80 ممالک کے سربراہان شریک تھے صدارت اندرا گاندھی کر رہی تھیں جنرل ضیاءالحق نے اندرا گاندھی کی ناراضگی کی پرواہ کیے بغیر اپنی تقریر میں کہا کہ " مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور
4__
شملہ معاہدے کے مطابق حل کرنا چاہئے جنرل محمد ضیاءالحق کی یہ بات سن کر اندرا گاندھی اپنی صدارت کی نشست سے اٹھ کر چلی گئیں اور اپنی جگہ یاسر عرفات کو بیٹھا دیا
دوسرے دن پورے انڈین پریس کی 8 کالمی سرخی تھی کہ " صدر ضیاءالحق نے کانفرنس میں مسئلہ کشمیر اٹھا دیا کچھ نے لکھا کہ
5__
" دھماکہ کر دیا " کسی نے لکھا " بہت زیادتی کی تین دن تک انڈین اخبارات ضیاءالحق کے خلاف اور کشمیر کے حوالے سے سرخیوں اور اداریوں سے بھرے رہے
تیسرے روز کانفرنس کے تشہیر کے شعبہ کے انچارج ایڈیشنل سیکٹری خارجہ مانی شنکر آئر نے بھارتی اخبارات کے اڈیٹروں کو بلایا اور کہا کہ
6__
" پلیز آپ لوگ جنرل ضیاءالحق کا تذکرہ کرنا بند کر دیں آپ سارے جنرل صاحب کی مرضی کے مطابق ردعمل دے رہے ہیں جو وہ چاہتے ہیں اور دنیا کے 80 ممالک کے سربراہان کے سامنے مسئلہ کشمیر اور پاکستانی موقف کی تشہیر ہو رہی ہے آپکی اس تشہیر کے نتیجے میں انڈیا اور کانفرنس کی سربراہ
7____
اندرا گاندھی کہیں پیچھے رہ گئیں
1980ء میں زمباوے کے جشن آزادی کے موقع جنرل ضیاء اور انڈین وزیراعظم اندرا گاندھی سمیت دنیا کے کئی ممالک کے سربراہ جشن میں شرکت کرنے زمباوے پہنچے
اندراگاندھی اور جنرل ضیاءالحق ایک ہی ہوٹل میں ٹہرائے گئے اندرگاندھی 13ویں فلور پر تھیں جبکہ
8__
جنرل ضیاءالحق 11ویں فلور پر تھے جنرل ضیاءالحق نے فوری طور پر اندرا گاندھی کو فون کر دیا اور باہمی تعلقات معمول پرلانے کے لیے بات چیت کی خواہش ظاہر کی اندرا گاندھی کے لیے انکار ممکن نہیں تھا ورنہ کئی ممالک کے سربراہوں کی موجودگی میں انڈیا پر الزام لگتا کہ وہ کشیدگی برقرار
9__
رکھنا چاہتا ہے
اندرا گاندھی اپنے فلور پر ملاقات کا انتظام کرنے لگیں تو جنرل ضیاءالحق نے دوبارہ فون کیا اور کہا کہ " مادام آپ نیچے آنا پسند کرینگی یا میں آؤں؟
تب اندرا گاندھی نے بادل نخواستہ نیچے آنے کی حامی بھری اور کہا کہ آپ صدرہیں اورپروٹوکول کےلحاظ سے آپکا کا درجہ بڑا ہے
10_
اسلیے میں نیچے آ جاتی ہوں
بظاہر اس چھوٹی سی سفارتی مات پر ایک انڈین صحافی نے لکھا کہ مجیب ، یحیی خان اور بھٹو کو آپنی انگلیوں پر نچانے والی اندرا گاندھی کا پالا ضیاءالحق جیسے زیرک چالاک اور شاطر شخص سے پڑا ہے ضیاءالحق کی مثال شارک کا شکار کرنے والے شکاری کی سی ہے جو شارک
11__
کی تمام تر طاقت اور مستی کے باوجود نہایت تحمل اور برباری سے بالاآخر اسکا شکار کر لیتا ہے
اسی طرح فروری 1987ء میں جب عمران خان کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے اور وہ ہندوستان میں کئی روز سے سیریز میں 5 ٹیسٹ اور 6 ون ڈے کھیلنے میں مصروف تھے تب بھارت اور پاکستان کے حالات کشیدہ ہو گئے
12__
تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے اس وقت کے غیرت مند صدر جنرل محمد ضیاءالحق نے بھارت کا غیر سفارتی دورہ کیا اور بن بلائے دہلی پہنچ گئے
ضیاءالحق کی اس طرح آمد سے اندراگاندھی کے مغرور بیٹے کے غرور کا وزن کچھ اوربڑھ گیا اس نےجنرل ضیاءالحق سے ملنے سے انکار کر دیا لیکن بھارتی اپوزیشن
13__
اور کابینہ نے راجیوگاندھی کو سمجھایا کہ آپ کے ایسا کرنے سے دنیا کو اچھا پیغام نہیں ملے گا‘ یہ سفارتی آداب کے بھی خلاف ہے بادل نخواستہ راجیوگاندھی ضیاءالحق سے ملنے کیلئے تیار ہو گئے اور جنرل ضیاءالحق کے استقبال کیلئے ایئرپورٹ پر چلے آئے ایئرپورٹ پر راجیوگاندھی نے
14__
جنرل ضیاءالحق کا سردمہری سے استقبال کیا ادھر جنرل ضیاءالحق مسکرائے جارہے تھے راجیو گاندھی نے جنرل ضیاءالحق کو دیکھے بغیر بے جان مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھا دیا اور اپنے معاون خصوصی سے کہا کہ جنرل ضیاءالحق میچ دیکھنے چنائے جانا چاہتے ہیں‘ ان کا خیال رکھا جائے راجیو گاندھی کا سرد
15__
رویہ اور میزبانوں کے ستے ہوئے چہرے بھی ”بن بلائے مہمان“ کے اعصاب چٹخا سکے نہ لبوں سے مسکراہٹ چھین سکے وہ ان سب کے درمیان کھڑے مسکرا رہے تھے۔ پھر فولادی اعصاب کے مالک جنرل ضیاءالحق کی مسکراہٹ نے بھارتی وزیراعظم کی پیشانی عرق آلود کر دی چنائےجاتے ہوئےجنرل ضیاءالحق راجیو گاندھی
16__
کی طرف بڑھے اور اسی طرح مسکراتے ہوئے گڈبائی کہنے کے بعد گویا ہوئے
مسٹر راجیو! آپ پاکستان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں‘ کر گزریئے لیکن یاد رکھئے کہ اس کے بعد دنیا ہلاکو خان اور چنگیز خان کو بھول جائے گی اور صرف ضیاءالحق اور راجیوگاندھی کو یاد رکھے گی کیونکہ یہ ایک روایتی نہیں
17__
ایٹمی جنگ ہو گی ہو سکتا ہے پاکستان مکمل طور پر تباہ ہوجائے لیکن مسلمان پھر بھی زمین پر باقی رہیں گے لیکن بھارت کے خاتمے کے بعد دنیا میں ہندو ازم کہیں نہیں رہے گا میرے اسلام آباد ایئرپورٹ پر اترنے سے قبل بارڈر سے اپنی فوج واپس ہٹا لو ورنہ اسلام آباد پہنچتے ہی فائر کا لفظ
18__
نکلنے کے ذمہ دار تم خود ہی ہو گے ضیاءالحق کی اس دھمکی سے راجیوگاندھی کی پیشانی پر پسینے کے قطرے چمکنے لگے جو اس کی اندرونی کیفیت بیان کر رہے تھے وہاں موجود راجیوگاندھی کے معاون خصوصی بہرامنم کے الفاظ کو بھارتی میگزین انڈیا ٹو ڈے کا نمائندے راجیوگاندھی سپیشل کی اشاعت میں شامل
19__
کرتے ہوئے لکھتا ہے ”میری کمر میں سنسناہٹ دوڑ گئی“ کیا وہ چند لمحے تھےجب ضیاءالحق ایک خطرناک انسان لگ رہے تھے ان کی آنکھیں اور چہرے کے تاثر ایسا بتا رہے تھے کہ وہ جو کہہ رہے ہیں کر گزریں گے چاہے پورا برصغیر ہی ایٹمی جنگ کی لپیٹ میں نہ آئے جنرل ضیاءالحق شہیدؒ یہ وارننگ دے کر
20__
مسکراتے ہوئے کرکٹ میچ دیکھنے چنائے چل پڑے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کیسے انڈیا نے آپنی آفواج جنرل محمد ضیاءالحق شہیدؒ کے پاکستان پہچنے سے پہلے باڈر سے واپس بلا لی
امیر المؤمنین عمرؓ ابن الخطاب تو اب آ نہیں سکتے مگر امت کو پھر ایک جنرل محمد ضیاءالحق شہیدؒ کی اشد ضرورت ہے
21__
کیا کبی ہم نے یہ سوچا ہے کیا ہم نے کبی یہ باتیں اپنے بچوں کو بتائی ہیں
پاکستان نے افغانستان میں طالبان کو کیوں بنایا؟ روس کو کیوں توڑا گیا؟ اور حزب اسلامی کےزریعے پاکستان کو کیسے بچایا گیا؟؟؟
ان کی معاونت کی، ہتھیار فراہم کیے، ٹریننگ دی، پیسے دیے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ آخر کیوں؟؟؟
22__
کیا جنرل ضیاء الحق، جنرل حمید گل، جنرل عبدالرحمٰن اور کرنل امام وغیرہ پاگل تھے یا غلط تھے؟؟؟
لبرل/سیکولر، ملا ڈیزل اور موجودہ جمعوتی نیریٹو کے حامل فیس بکی علماء اور مشائخ اور تاریخ دانوں کے مطابق تو بس پاکستان اس خطے کا غنڈا ہے، جنگ امریکی تھی پاکستان مہرا بنا۔ ضیاء الحق
23__
ایک انتہا پسند جنرل تھا، مزہبی منافرت کا حامل اور پتا نہیں کیا کیا۔
آئیں تھوڑا سفر ماضی کا کرتے ہیں۔۔۔۔
روس اور ایران کے تعلقات کی مثالیں دنیا دیتی ہے اور واقعی یہ تعلقات تقریباً 2 صدیوں پر محیط ہیں۔ لیکن ہر ملک اپنے مفاد کا دفاع کرتا ہے اور کرنا بھی چاہیے۔ یہ بھی حقیقت ہے۔
24__
روس نے ایران کو دھوکہ بھی دیا تھا۔ لیکن اپنے مفادات کی خاطر ایران کے ساتھ لگ گیا۔ ایسے ہی پاکستان کی بھی دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ گرمی سردی رہتی ہے۔
1947 میں پاکستان ہمیں طشت پر رکھ کر نہیں ملا۔ لاکھوں قربانیاں دیں عزتیں لٹوائیں۔ ہزاروں مسئلے سر اٹھا کر کھڑے تھے۔
25__
اس حالت میں افغانستان نے پیٹھ پیچھےوار کیا پاکستانی زمین پر اپنا حق جتانا شروع کر دیا۔
پاکستان کے جو علاقے افغان سرحد کو لگتےہیں وہاں کےعوامی نمائندوں اور قبائل عمائیدین نے قائد اعظم محمد علی جناح کا بھرپور ساتھ دیا اوراسلامیہ کالج پشاور نے اس حوالےسے بہت بڑا کردار ادا کیا۔
26__
لیکن حصولِ آزادی کے فوری بعد افغانی سرداروں نے پاکستان میں شرپسندوں کو اکسانا شروع کیا، اور نا ختم ہونے والی خلش دلوں میں رہ گئی۔
یہ ایک ایسی چنگاری تھی جو بعد میں وقت کے ساتھ ساتھ شعلہ بنتی رہی۔
لیکن اس سازش کے باوجود 1948 میں کشمیر کے لیے لڑی جانے والی جنگ میں قبائلیوں کی
27__
شرکت نے مہر ثبت کر دی کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔
اس جنگ کے بعد بھارت بھی چپ نا بیٹھا اور افغانستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرنا شروع کر دیں۔ روس کی بھی حمایت حاصل تھی۔ یوں 1950 کے آس پاس افغانستان نے پاکستان کے خلاف ایک خفیہ لیکن خطرناک محاذ کھول دیا۔ اس منصوبے میں بھارت اور روس بھی
28__
شامل تھے۔ پاکستان میں امن و امان کی صورت حال کو خراب کیا گیا اور یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا۔
1971 کی جنگ میں بنگلہ دیش کے قیام سے پاکستان کے وجود کو سخت خطرات لاحق ہو چکے تھے۔
تقریبا 2 سال بعد پاکستان کی ملٹری انٹلیجنس (ایم آئی) نے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی۔
29__
9 فروی 1973 کو آدھی رات کے وقت ذوالفقار علی بھٹو (جو کہ اس وقت پاکستان کا وزیر اعظم تھا) کو خبر دی گئی کہ عراق بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ نیز بلوچستان کو توڑنے کی سرتوڑ کوشش کی جارہی ہے۔اور بی ایل ایف(بلوچ لیبریشن فرنٹ) نامی تنظیم کا ایک خفیہ دفتر
30__
بغداد میں قائم کیا گیا ہے۔ عراقی سفیر اس گھناؤنے کام میں برابر کا شریک ہے۔ بلوچستان کے لوگوں کو افغانستان کے زریعے بغاوت پر امادہ کیا جارہا ہے اور عراقی ایمبیسی ان میں روسی ساختہ اسلحہ تقسیم کررہی ہے۔ یعنی اس بغاوت میں روس کی براہ راست معاونت شامل ہے۔
اس انفارمیشن کی بنیاد
31__
پر 9 فروری 1973 کی رات تقریباً 12 بجے ایس ایس جی کمانڈوز کو 1 گھنٹہ دیا گیا کہ وہ اپنی تیاری کریں۔
یہ پاکستان کی تاریخ کا اپنی نوعیت کا پہلا اور بہت حساس آپریشن ہونے جارہا تھا۔
ایمبیسی پر چھاپہ دو ملکوں کے درمیان جنگ کا باعث بن جاتا ہے۔
چنانچہ پنجاب رینجرز اور ایس ایس جی
32__
کمانڈوز نے 10 فروری، 1 بجے رات کو عراقی ایمبیسی کا گھیراو کر لیا۔ عراقی سفارت کار، ملٹری اتاشی اور تمام دوسرے عراقی اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ سفارت خانے کی تلاشی کے دوران 300 روسی ساختہ مشین گنز اور 50 ہزار گولیاں برآمد ہوئیں۔
عراق جانے والی پہلی ہی فلائٹ میں اعراقی
33__
سفیر کو پرسونا نان گراتا Persona Non Grata (نا پسندیدہ ترین شخص) قرار دے کر ملک بدر کر دیا گیا۔
یہ عراقی پلان تھا جسکا مقصد علیحدگی پسندوں کو (جو پاکستان میں بھی تھے اور ایران میں بھی تھے) ہتھیار دے کر ایران پر دباؤ قائم کرنا تھا۔
روس نے عراق کا پورا ساتھ دیا حلانکہ
34__
وہ ایران کا دوست ملک تھا۔
پاکستان کے ایسے چھوٹے چھوٹے حفاظتی بند نے روس اور بھارت کو پریشان کر دیا۔ انہوں نے انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
اسٹیک ہولڈرز وہی تھے بلکہ اس بار ایران بھی اس منصوبے میں شامل ہو چکا تھا۔ (شاید اپنے علاقے بچانے کے لیے)۔
35__
لیکن اس بار آپریشن کی نوعیت بدلی گئی۔
افغانستان میں ایرانی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے روس نے افغانستان پر چڑھائی کر دی۔ اس وقت افغانستان میں روس کا مقابلہ کرنے کی طاقت بالکل نہیں تھی، کیونکہ زیادہ تر گروپس ایرانی حمایت میں روس کے ساتھ جا لگے تھے
روس افغانستان سےداخل
36__
ہوتا ہوا بلوچستان کے زریعے بحیرہ عرب تک پہنچنا چاہتا تھا۔
بھٹو کی بلوچستان کے حوالے سے غلط پالیسیوں کی وجہ سے لوگوں میں حکومت کی مخالفت بہت بڑھ چکی تھی اور امید کی جا رہی تھی وہ روس کا ساتھ دیں گے۔ سوائے کچھ محب وطن سرداروں کے۔
چنانچہ پاکستان کی نیشنل سیکورٹی اور انٹیلیجنس
37__
سر جوڑ کر بیٹھ گئی کہ ان حالات میں کیا کرنا چاہیے۔
بھٹو کو قتل کیس میں قید کر لیا گیا اور جنرل ضیاء نے ملک کی باگ ڈور سنبھال لی۔
وہاں افغانستان روس اور بھارت کو پاکستان کے خلاف ایک پُل مہیا کر رہا تھا۔ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی۔
اس لیے پاکستان نے بھی
38__
اپنے اثر و رسوخ استعمال کرنےشروع کیے
اس سلسلےمیں حزب اسلامی گلبدین کو آئی ایس آئی کی جانب سے مکمل معاونت کی گئی کہ وہ روس کے خلاف لڑے۔ (گلبدین حکمت یار پہلے ہی ایرانی اور روسی نژاد افغان حکومت کے سخت خلاف تھا)
چنانچہ پوری دنیائے اسلام سے مجاہدین کو اکھٹا کرنا شروع کیا گیا۔
39__
یہاں یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ اس وقت افغانستان میں طالبان کا نام بھی موجود نہیں تھا
آخر کار روس نے افغانستان پر چڑھائی کر دی۔ بہت سے افغانی گروپس پہلے ہی روس کے ساتھ تھےاور حکومت بھی پہلے ہی روس اور ایران کے ہاتھ میں تھی
ان کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ حزب اسلامی تھی
40__
سوائے افغانستان اور ایران کے 34 مسلمان ممالک روس کے اس اقدام کے خلاف تھے۔ حزب اسلامی کو پوری دنیا کے مسلمانوں نے سپورٹ کیا۔ مجاہدین بھیجے گئے، پاکستان سے بھی امداد بھیجی گئی اور لوگ ان کی مدد کو گئے۔ (مستند زرائع کے مطابق امریکہ کی شمولیت سے پہلے آئی ایس آئی تنہا روس کے خلاف
41__
لڑتی رہی، اور اس آپریشن کا نام سائکلون رکھا گیا)۔
جنگ کی تفصیل بہت لمبی ہے۔ مجاہدین اور افواجِ پاکستان کے کارناموں کی لمبی لسٹ ہے۔ ہماری فضائیہ نے روسی اور افغان فضائیہ کے پاکستان پر ہر حملے کو ناکام بنادیا۔
6 روسی طیاروں کے حملے کو صرف دو پاکستانی پائیلٹوں نے ناکام بنایا۔
42__
4 کو گرا دیا گیا 2 واپس بھاگ گئے۔ جبکہ پاکستان کی جانب سے فلائٹ لیفٹینٹ شاہد سکندر کے طیارے کو نقصان پہنچا لیکن وہ خود بحفاظت رہے۔ اور یوں وقتاً فوقتاً اس جنگ میں 14 سے زائد روسی و افغانی طیاروں کو گرایا گیا
یہاں یہ بات بھی قابل زکر ہےکہ انہی دنوں اسرائیل پاکستان کےایٹمی
43__
اثاثوں پر حملے کے لیے تیار بیٹھا تھا۔
سلام ہے پاک ائیر فورس پر، یہ دنیا کہ واحد ائیر فورس ہے جو بھارتی، روسی اور اسرائیلی طیاروں کو ائیر ٹو ائیر کمبیٹ میں گرا چکی ہے۔
بہر حال۔۔ یہ جنگ مجاہدین حزب اسلامی اور پاکستان نے جیت لی الحمدللہ اور 1991 میں روس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔
44__
طالبان اسی حزب اسلامی کی شاخ بن کر نمودار ہوئے۔
ایران اور روس نے ان گروہوں کو متحرک کیا جو روس کے ساتھ ساتھ شکست کھا چکے تھے۔ اس تحریک کو نارتھ آلائینس یا شمالی اتحاد کے نام سے جانا جاتا ہے۔
بعد میں گلبدین حکمت یار کو ملک بدر کر دیا گیا۔ اور حزب اسلامی کو بچانے کے لیے
45__
ملا عمر رحمہ اللہ میدان میں آئے اور نارتھ الائینس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔
1947 سے آج تک اپنے کرتوتوں کو پس پشت ڈال کر روس اور بھارت کی گود میں بیٹھ کر افغانی ہمیں الزام دیتے ہیں کہ افغانستان کو تباہ کرنے میں پاکستان کا ہاتھ ہے جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔
اس تحریر کا مقصد
46__
آج کے نوجوانوں کو ان حقائق سے روشناس کرانا تھا کہ روس کے قدم روکنا بہت ضروری تھا۔
جیسا ہم نے پہلے کہا ہر ملک اپنے مفادات کا دفاع کرتا ہے اور کرنے کا حق رکھتا ہے، یہاں تو ملک کے ساتھ ساتھ اسلام کے دفاع کا معاملہ بھی تھا۔
1_طاقتور ھمیشہ طاقت ور نہیں رہتا
2۔ سماج کےلیے لڑو
47__
3۔ لڑ نہيں سکتے تو لکھو
4۔ لکھ نہيں سکتے تو بولو
5۔ بول نہیں سکتے تو ساتھ دو
6۔ ساتھ بھی نہیں دے سکتے توجو لکھ، بول اور لڑرہےہیں تو انکی مدد کرو
7۔ اگر مدد بھی نا کر سکو تو انکے حوصلوں کو گرنے نہ دو کیوں کہ وہ آپکے حصے کی لڑائی لڑ رہےہیں.

🇵🇰🇵🇰⚔️⚔️⚔️🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with 🇵🇰Jสnnสt ʂʂɠ😼

🇵🇰Jสnnสt ʂʂɠ😼 Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @Um_Ut0

4 May
اسلام وعلیکم🤍
صبح بخیر🌼
زبردستی نعمتیں نہیں ملا کرتی
اس کے لیے دل کو نرم کرنا پڑتا ہے اور رب سوہنے کی بڑائی تسلیم کرتے ہوئے عاجزی سے اپنی مراد پوری ہو جانے کی درخواست کرنی پڑتی ہے🤲
اور رب سوہنے کے حضور اپنی عرضی جمع کروا دینے کے بعد بھی جلد بازی اور سرکشی سے کام نہیں لیا جاتا بلکہ صبر اور حوصلے سے اپنی مراد کی برآوری کا انتظار کیا جاتا ہے🤍
کیونکہ زور زبردستی ڈرانا دھمکانا اپنے سے کم ذات پہ تو کارگر ہو سکتا ہے رب قادر کی سب سے اونچی ذات پہ نہیں🥰
اور اگر مراد پوری نہیں بھی ہوتی ناں تو بھی رب سے گلے شکوے نہیں کیے جاتے بلکہ اور شُکر ادا کیا جاتا ہے🌹 کیونکہ لازمی بات ہے وہ شے ضرر رساں تھی تبھی تو رب نے عطا نہیں کی😊
یاد رکھیں وہ نعمت کبھی بھی فائدہ مند نہیں ہو سکتی ہے جو راتوں کے سجدوں اور قیام سے بھی حاصل نہ ہو
Read 4 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!