نواز شریف کابیانیہ اس ملک کی “اسٹیپلامنٹ” اوربیوروکریسی کو کبھی بھی قابل قبول نا ہو گا کیوںکہ اسکے بعد انکے جو سششکے ہیں یا جو بادشاہی لائف سٹائل ہے وہ ختم ہو جائے گا اگر غور کیا جائے تو نواز شریف کا ہی بیانیہ ملک کی قسمت بدل رہا تھا اسی بیانیئے کا “معجزہ” دیکھیں کہ وہ بہترین
کارکردگی پر دنیا سے خراج لینے والا شہباز شریف ہو ڈوبے ہوئے ریلوے کو ٹریک پر چڑھانے اور منافع بخش ادارہ بنانے والا سعد رفیق ہو بارہ ھزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کرنے والا خواجہ آصف ہو یا شرح نمو اور سٹاک ایکسچینج کو بلندیوں پر لے جانے والا معاشی جادوگر اسحاق ڈار ہو ان سب کا
آخری پڑاؤ کوئی شاباش یا خراج تحسین نہیں بلکہ کوئی تاریک قید خانہ ہی ہوا کرتا ہے کیونکہ ایسے بیانیئے جو عوام کو طاقت دیں یا عوام کو حق حکمرانی دیں وہ اسٹیپلامنٹ اور کرپٹ بیوروکریسی کو” وارا نہیں کھاتے” اور وہ اپنی مرضی کے بکاو سیاسی گھوڑے ڈھونڈتے ہیں جو بلاول یا کھپتان کی شکل میں
انہیں ہمیشہ میسر رہے ہیں

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Amjad⚙️

Amjad⚙️ Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @IQamjadID

4 May
یے کہانی ہماری عدلیہ اور انکے ججز پر پوری اترتی ہے ایک اضافہ کے ساتھ کہ ہمارے ججز اپنی وڈیوزکرپشن کی وجہ سے اس سے زیادہ گھٹیا انصاف کے منافی فیصلے کر چکے ہیں
اﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﮏ ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ
کہ "بھائی ذرا اﺱ مرغی ﮐﻮ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ دے ﺩﻭ"ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵﻧﮯ ﮐﮩﺎ " ﻣﺮﻏﯽ ﺭکھ ﮐﺮچلے ﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﮬ ﮔﮭﻨٹے ﺑﻌﺪ ﺁ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ "ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯﺷﮩﺮ ﮐﺎ قاضی ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ پر آ گیا ﺍﻭﺭ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ
کہ"ﯾﮧ ﻣﺮﻏﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ"ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ  ﯾﮧ مرغی ﻣﯿﺮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ہے ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻏﯽ ﻧﮩﯿﮟ جو آپ کو دے سکوں"قاضی ﻧﮯ کہا کہ کوئی بات نہیں ،ﯾﮩﯽ مرغی ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ
Read 22 tweets
3 May
مقابلے کے امتحان میں شریک طلبا اور دوستوں کیلئے یہ معلومات انتہائی مفید ہو سکتی ہیں۔ کئی بار سوال ایسا بھی آتا ہے کہ فلاں ادارے کے سربراہ یا عہدیدار کا نام بتائیں۔ معلومات نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی نمبر ضائع ہو جاتے ہیں۔یہ ایک معمولی سی کوشش طلبا کے فائدے کیلئے کی گئی ہے۔ گزارش ہے
کہ اس فہرست میں تھوڑی بہت غلطی کی گنجائش موجود ہوسکتی ہے لیکن زیادہ تر تفصیلات درست ہیں۔ پھر بھی آپ کراس چیک کر سکتے ہیں۔
چئیرمین پنجاب پبلک سروس کمیشن، لیفٹینٹ جنرل(ر) جناب ظفر اقبال
سعودیہ سفیر: جنرل بلال اکبر
ڈی جی نیب لاہور، میجر ر شہزاد سلیم
وزارت سدباب منشیات -- بریگیڈیئر
اعجاز شاہ
محتسب پنجاب -- میجر ریٹائرڈ سلیمان اعظم
چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن ر فضیل اکبر
چیئرمین سی پیک اتھارٹی ۔۔ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ
چئیرمین نادرا ، بریگیڈئیر ریٹائرڈ خالد لطیف
سی او ایس، لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ خرم خوارزمی
ڈی جی آپریشنز، کرنل ریٹائرڈ طاہر مقصود خان
Read 17 tweets
3 May
انتہا پسندی اور بوٹوں کی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہمیشہ کی طرح مولویوں کی دی جانے والی کھلی چھٹی نے رنگ تو لانا تھا۔یورپی یونین نے پاکستان کے خلاف قرار داد پاس کر لی ہے۔جس میں پاکستان کو انتہا پسند ملک قرار دیتے ہوئے اس پر پابندیوں کی سفارش کی گئی ہے۔یہ قرار داد ٹی ایل پی کی
فرانس کےخلاف حالیہ پرتشدد مظاہروں کےردعمل میں پاس کی گئی ہے۔ دوران سیشن پاکستان میں عوام کو مارنے اور املاک جلانے کی فوٹیجز پیش کی گئیں۔ قرار داد میں فرانس کے نمائندوں نے یہ تک کہا پاکستان میں فرانس کے خلاف اتنی نفرت ہے کہ تشدد روکنے کی کوشش کرنے والی پولیس کو "فرانس کا ایجنٹ"
کہہ کر قتل کیا گیا۔ دوسری دلیل یہ دی گئی کہ ایسے مظاہرے دنیا کے کسی اور مسلم ملک میں نہیں ہوئے یعنی یہ مسلم امہ کا مسئلہ نہیں۔ پاکستان میں ہی انتہاء پسندی پائی جاتی ہے۔اس سیشن میں یورپ کے تمام 50 ممالک نے حصہ لیا اور پاکستان پر پابندیاں لگانے کے حق میں 681 ووٹ پڑے جب کہ مخالفت
Read 10 tweets
2 May
وزیراعظم عمران خان اسلام اباد کے مختلف مارکیٹوں کا اچانک دورہ,
اشیاء نرخ انتظامات کاجایزہ لیا۔
وزیر اعظم نے گوشت کے انتہائی صاف و شفاف مارکیٹ میں چہل قدمی کرتے ہوئے وزیراعظم ایک قصائی کے پاس جاکر کھڑے ہوئے اور ان سے بات چیت کے بعد ان کے پاس موجود صاف و شفاف گوشت دیکھ کر تعریف کی
اور پوچھا گوشت تو خوب بکتا ہوگا-قصائی:گوشت تو واقعی اچھا ہے لیکن آج ابھی تک صبح سے ایک کلو بھی فروخت نہیں ہوا-
وزیراعظم:فروخت نہ ہونے کی کیا وجہ ہے؟
قصائی:کیونکہ آپ کے آنے کے سبب خریداروں کو مارکیٹ آنے ہی نہیں دیا گیا -وزیراعظم:اوہو پھر تو میں چار کلو خرید لوں گا -
قصائی:میں آپ
کو گوشت نہیں دے سکتا -
وزیراعظم:کیوں؟
قصائی:کیونکہ آپ کی حفاظت کے لئے ہم سے چھریاں لے لی گئی ہیں
وزیراعظم:تو تم بغیر کاٹے بھی مجھے دے سکتے ہو
قصائی:نہیں میں نہیں دے سکتا -
وزیراعظم:کیوں؟
قصائی:کیونکہ میں سیکیورٹی ادارے کا آفیسر ہوں،قصائی نہیں-
وزیراعظم (غصے سے):جاؤ فوری طور پر
Read 4 tweets
2 May
اپنے مزھبی بیک گراؤنڈ کے باوجود نواز شریف نے پوری کوشش کی کہ اس ملک کو ایک بنیاد پرست ریاست بننے سے محفوظ رکھا جائے، یہاں اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کی جائےسلمان تاثیر کے قاتل کو سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی سزا پر عملدرآمد آئین اور قانون کی سربلندی کے لئیے ھی تھا، تاکہ یہاں
قانون کی بجائے افراد کی طرف سے خود ھی عدالت لگا کر انصاف کرنے کے مائینڈ سیٹ کو روکا جائے، مگر اس کو نواز شریف کا جرم بنا دیا گیا اور ٹی ایل پی کو نواز شریف اور ن لیگ کے پیچھے لگا دیا گیااحمدیوں پر ایک حملے اور اس میں کافی تعداد میں احمدیوں کے قتل پر ایک میڈیا ٹاک کرتے ھوئے نواز
شریف نے کہا کہ احمدی بھی ھمارے بھائی ھیں بطور اقلیت ھمیں انکے حقوق کا بھی تحفظ کرنا ھے، ظاہر ھے کہ احمدیوں کو بطور پاکستانی ھی بھائی کہا گیا تھا مگر پورے ریاستی وسائل اس بات کی طرف جھونک دئیے گئے کہ دیکھو نواز شریف احمدیوں کو اپنا بھائی کہہ رھا ھے، نواز شریف مگر اسکے باوجود اپنی
Read 5 tweets
26 Apr
پاکستان اسٹیل آکسیجن پلانٹ اگر چل رہا ہوتا
تو آج پورے پاکستان میں کرونا کے متاثرین کو ہسپتالوں میں آکسیجن دے سکتے تھے ۔باجوہ ساب فوری طور پر پاکستان اسٹیل ملز کا آکسیجن پلانٹ بحال کیا جائے
2015 سے بند پڑا پاکستان اسٹیل ملز کا آکسیجن پلانٹ روزانہ 520 ٹن آکسیجن پیدا کرنے کی
صلاحیت رکھتا ہے، پلانٹ کو مکمل طور پر بحال ہونے میں 8 سے 12 دن درکار ہوں گے۔اس پلانٹ میں 40 افراد کام کرتے تھے جن میں سے کچھ کو نکال دیا گیا ہےبیچارے بیروزگار بیٹھے ہیں ۔
2015 میں یہ پلانٹ چلتی حالت میں بند کیا گیا تھا
اور وجہ یہ بتائی گئی کہ جب اسٹیل ہی نہیں بنا رہے تو آکسیجن
کی کیا ضرورت ۔مگر اب ملک کو ضرورت ہے تو ہنگامی بنیادوں پر 24 گھنٹے کام کر کے 1 ہفتے سے بھی کم وقت میں آکسیجن کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے تو 1 ہفتے بعد سپلائی شروع ہو سکتی ہے۔ اور اس پر سیاست کرنے کئ بجائے سنجیدہ ایکشن کی ضرورت ہے پپٹ پی
Read 4 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!