ایک شاندار عربی حکایت کا اردو ترجمہ
ماخذ : قصص و عبر مِن قدیم زمان
ترجمہ نگار: توقیر بُھملہ

اہل عرب جب شادی بیاہ کرتے تھے تو قدیم رواج کے مطابق دعوت کی تقریب میں شامل مہمانوں کی تواضع کے لیے بھنے ہوئے گوشت کے ٹکڑے کو روٹی کے اندر لپیٹ کر پیش کرتے تھے .
اگر کسی تقریب میں گھر کے سربراہ کو پتا چلتا کہ اس شادی میں شریک افراد کی تعداد دعوت میں تیار کیے گوشت کے ٹکڑوں کی تعداد سے زیادہ ہے ، یا زیادہ ہوسکتی ہے ، تو وہ کھانے کے وقت دو روٹیاں (گوشت کے بغیر) ایک دوسرے کے ساتھ لپیٹ کر اپنے اہلِ خانہ، رشتہ داروں اور
انتہائی قریبی دوستوں میں تقسیم کرتے جبکہ گوشت روٹی کے اندر لپیٹ کر صرف باہر سے آئے ہوئے اجنبیوں کو پیش کیا جاتا تھا
ایسا ہی ایک بار غریب شخص کے ہاں شادی کی تقریب تھی جس میں اس شخص نے دعوت کے دن احتیاطاً بغیر گوشت کے روٹی کے اندر روٹی لپیٹ کر اپنے گھر والوں، رشتہ داروں اور
متعدد قریبی قابلِ بھروسہ دوستوں کو کھانے میں پیش کی،،، تاکہ اجنبیوں کو کھانے میں روٹی کے ساتھ گوشت مل سکے اور کسی بھی قسم کی شرمندگی سے بچا جاسکے
جنہیں صرف روٹی ملی تھی تو انہوں نے ایسے کھانا شروع کردیا گویا اس میں گوشت موجود ہے ،
سوائے اس کے ایک انتہائی قریبی رشتہ دار کے اس نے روٹی کھولی گھر کے سربراہ کو بلایا اور غصے سے بلند آواز میں اس سے کہا ، "اے عبداللہ کے باپ یہ کیا مذاق ہے یہ تو روٹی گوشت کے بغیر ہے میں تو آج کے دن ہرگز یہ نہیں کھاؤں گا
غریب شخص نے تحمل سے سنا اور مسکرا کر جواب دیا ، "اجنبیوں کا مجھ پر حق ہے کہ میرے دسترخوان پر انہیں ہر حال میں گوشت پیش کیا جائے" . یہ لیجئے گوشت کا ٹکڑا اور معافی چاہتا ہوں مجھ سے غلطی ہوئی میں آپ کو اپنے اہلِ خانہ میں شمار کررہا تھا
.......
حکمت:
ہمارے موجودہ دور میں ہم بہت سارے لوگوں پر بھروسہ کرتے ہیں. ان کو گھر کے فرد جیسا سمجھتے ہوئے یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ مشکل وقت میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے، ہماری پیٹھ پیچھے ہماری عزت کی حفاظت کرتے ہوئے ہر حال میں وفاداری نبھائیں گے.
لیکن عین ضرورت کے وقت ہمارے اندازے غلط ثابت ہوجاتے ہیں اس لیے
اس بات کو یقینی بنائیں کہ

" کون سی روٹی کون سے بندے کو دینی ہے"
😐😌

تحریر بشکریہ آئنسٹائن
موڈی سرکار کی اجازت سے تحریر شائع کی گئ

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with انپــــــــــــــــڑھ فقیـــــــــــــــر

انپــــــــــــــــڑھ فقیـــــــــــــــر Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @an_padh

3 May
صلہ رحمی مطلب عزیزوں رشتے داروں کا خیال رکھنا
ان سے گاہے بگاہے ملتے جلتے رہنا، انکی دکھ تکیلف مشکلات پر جو ممکن ہوسکے انکی مدد کرنا
کم از کم انکی باتیں سن لینا
خدا کے نزدیک یہ عمل بہت اہمیت رکھتا یے
اس ضمن میں ایک واقعہ سناتا ہوں
👇👇👇
#صلہ_رحمی
#انپڑھ
ایک عرفانی طالب علم نے اپنے استاد سے عرض کی کہ استاد محترم مجھے تین سال ہوچکے ہیں
میں اپنے فرائض پوری تندہی سے انجام دے رہا ہوں
نماز شب بھی باقاعدہ وقت ہر ادا کرتا ہوں اور ذکر اذکار بھی پورے ادا کرتا ہوں
لیکن معاملہ آگے نہی بڑھ رہا، میں کسی منزل کی طرف بڑھ نہی پارہا
کیا وجہ ہے؟
استاد نے ساری بات سن کر کچھ سوالات کیے اور کچھ حل نہ پا کر شاگرد سے ہوچھا کہ تمہارے اپنے رشتے داروں سے تعلقات کیسے ہیں
شاگرد نے جواب دیا کہ ویسے تو سب کچھ ٹھیک ہے لیکن میری اپنے ایک چچا سے بات نہی ہے اور میں ان سے بات کرنا پسند بھی نہی کرتا
استاد نے وہیں سے سارا معاملہ سمجھ لیا
Read 4 tweets
6 Jan
دنیا کی اداس ترین کہانی
حاشر ابن ارشاد

سنہ 1910 میں امریکہ کے ایک چھوٹے سے مقامی اخبار میں ایک اشتہار شائع ہوا
”ہاتھ سے بنے ہوئے چھوٹے بچے کے کپڑے اور ایک جھولا برائے فروخت۔ دونوں استعمال نہیں ہوئے“
شاید اسی اشتہار کو پڑھنے والے کسی نامعلوم شخص نے برسوں بعد وہ کہانی تخلیق کی جو
آج بھی دنیا کی اداس ترین کہانی سمجھی جاتی ہے۔ عام طور پر ہیمنگوے سے موسوم اس مختصر کہانی میں صرف چھ لفظ ہیں۔
For Sale: baby shoes , never worn
( برائے فروخت: بچے کے جوتے، جو کبھی پہنے نہیں گئے )
چھ لفظوں میں ماں کی محبت، باپ کی امنگ، بہنوں اور بھائیوں کے ارمان سب ایک لمحے میں فنا
ہوتے دیکھنے ہوں تو یہ کہانی ایک دفعہ دل سے پڑھ لیجیے۔
مجھے لگتا تھا کہ دنیا کی سب سے اداس کہانی لکھ دی گئی ہے۔ اب اس سے آگے کیا ممکن ہے۔ پھر کابل یونیورسٹی میں ایک دن امید مہریار کو ایک پیغام ملا۔
کابل یونیورسٹی کا قتل عام تو یاد ہو گا۔ نوجوان طالب علموں کی لاشوں کے ساتھ ان کے
Read 12 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!