مید اور جاٹ
وادئ پنجند میں مید اور جاٹ نام کی دو قوموں کا ذکر ملتا ھے۔ یہ دونوں قومیں بہت بہادر اور جنگجو قسم کی تھیں اور دریائےسندھ کے کناروں پر آباد تھیں۔
موجودہ علم فیلولوجی اور انسانی خدوخال کی تحقیق سے یہ ثابت ھو چکا ھے کہ یہ دونوں ہی وحشی اور غارت گرقومیں ھیں جنہوں
#History
نے آریاءوں کی نقل مکانی سے پہلے مختلف ممالک میں تباہی مچا رکھی تھی۔
یہ بھی قریں قیاس ھے کہ مید اسی مشہور قوم سے تعلق رکھتے ھوں جنہوں نے اسیریا سلطنت (Assyrian Empire, 2500 bc) سے پہلے وادئ فرات میں میدیا کی عظیم الشان سلطنت (Made empire, 678، Zoroastrianism) کی بنیاد رکھی تھی۔
مید اور جاٹ دونوں ہی ایک دوسرے کے زبردست حریف تھے اور دونوں میں ھمیشہ خوفناک جنگیں ھوتی رھتی تھیں۔
جب خونریزی کے اس سلسلے نے طول پکڑا تو آئے دن کے جھگڑوں سے تنگ آکر دونوں نے اپنے قاصدوں کو کوروءوں کے قائد راجہ دریودھن کے پاس بھیج کر درخواست کی کہ "ھم آپکی اطاعت قبول کرتے ھیں۔
اپنی طرف سے کوئی نائب بھیجیں جو ھم پر حکمرانی کرے"
اس طرح راجہ نےاپنی شیردل بہن رانی دھسلہ کو نائب مقرر کرکے وادئ سندھ روانہ کیا۔
رانی دھسلہ نےاپنا پایہ تخت ملتان اور اوچ کے درمیان مقررکیاجوبعد میں اسکلندہ کےنام سے مشہور عام ھوا۔

بحوالہ اسلامہ ہند از نیاز فتح پوری
ص-37
#History

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with فاطمہ🇸🇩 ਫਾਤਿਮਾ

فاطمہ🇸🇩 ਫਾਤਿਮਾ Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @SanaFatima00

9 Jun
سورج مندر کا تاریخی پس منظر
(Sun Temple of Multan)
یہ مندر ملتان میں کب سےقائم تھا؟
اسکےبارے میں تاریخ خاموش ھے۔
ہندوستان سےہی آفتاب پرستی کا آغاز ھوا اور اپنے عروج پرپہنچا۔
پہلاحادثہ جو سورج دیوتاپر گزرا وہ راجہ ہرناکشپ کاخود سورج دیوتاکہلاناھے۔ راجہ نےدعوی کیاکہ میں ہی
#History
سورج دیوتا ھوں۔اپنی شکل کا طلائی بت تیار کروا کر مندر میں رکھوایا اور لوگوں سے جبرا پوجا کرائی۔
پھر پرہلاد بھگت نےاس مندر کی مورتیوں کی اینٹ سےاینٹ بجائی۔
دوصدی بعدسورج دیوتا کی ازسرنو پوجاکرائی اور سونے کاایک خوبصورت بت بنواکر جلوس کیصورت میں ادتیہ استھان نامی مندر میں رکھوادیا۔
ہزاروں سال تک ملتان میں اسی سورج دیوتا کی پوجا ھوتی رھی اور مول استھان (مولستان پھر ملتان) مذہبی مرکز بنا رھا۔
272 میں راجہ اشوک کے زمانے تک ملتان ایک صوبے کی حیثیت سے راجہ کے تابع تھا۔
بدھ مت کا سورج ابھرا تو اشوک نے مندر سے سورج دیوتا کی مورتی ہٹا کر مہاتما بدھ کی مورتی رکھوادی
Read 4 tweets
8 Jun
پنگیان چٹان(Rock Pingyan) پردیو قامت پاءوں کا نشان
انسانی یاغیرانسانی؟
متعدددیو قامت قدموں کے نشانات دریافت ہوچکے ہیں جو اربوں، ملین سال پرانےسمجھےجاتےہیں۔ مقامی لوگوں کیلئےجہاں ان پیروں کےنشانات ملتےہیں وہ "خدا کے نقش" کے نام سےمشہورہیں۔
اگست 2016 میں
#Archeology
#NephilimGiants ImageImage
چین کے جنوب مغربی صوبے گوئیجو کے گاؤں پنگیان میں فوٹوگرافروں کے ایک گروپ کے ذریعہ ایک دیوقامت نقش قدم ملا ھے۔
یہ نشان 57 سینٹی میٹر لمبا، 20 سینٹی میٹر چوڑا اور 3 سینٹی میٹر گہرائی میں بتایاجاتاھے۔
یہ ایک یادگار دریافت ھے ھو تاریخ دانوں کیلئے بہت سےسوال اٹھاتی ھے۔اس نشان سے متعلق Image
چھپنے والی تمام معلومات کو ہرممکن چھپایا جا رھا ھے۔
دعویٰ ہے کہ مائیکل ٹیلنگر نامی ایک ماہر آثار قدیمہ نے ان میں سے ایک بڑے پاؤں کے نشان کی تاریخ 200 ملین سال قدیم بتائی ھے۔ ٹیلنگر کو افریقہ میں 2012 میں ایک اور دیودار نشان ملا تھا۔ مائیکل کا ماہر آثار قدیمہ ھونے پر بھی شبہ Image
Read 4 tweets
23 May
شیر فلسطین یاسر عرفات
رحمن عرفات سے یاسرعرفات تک کا سفر
شیر میسور ٹیپو سلطان، شیر پنجاب بھگت سنگھ اور لالہ لجپت رائےمگرشیرفلسطین یاسرعرفات۔
یہ پنجرےکایاکاغذی شیرنہیں۔اس شیرنےنہ صرف اسرائیلیوں کی نیندیں حرام کئےرکھیں بلکہ صلاح الدین کی یادتازہ کردی۔
رحمن عرفات کی پیدائش
#Palestine
حالت جنگ میں ھوئی تھی 27 اگست 1929 کی صبح سماعتوں کو ایک متمول تاجر عبدالرءوف القدوی کے گھر نئے مہمان کی آمد کا انتظار تھا۔ عبدالرءوف کی زوجہ حمیدہ ننھے مہمان کی تکالیف سےگزر رھی تھیں کہ گولیوں کی بوچھاڑ نےملازماءوں اوردایاءوں کوہیبت زدہ کردیا۔ننھے مہمان کےآنےکےبعدعبدالرءوف بندوق
اٹھائےمقابلہ کرنےنکلے۔
یہ بوچھاڑ 30 لمبی داڑھی اورسیاہ چغد والےیہودیوں کی جانب سے ھوئی تھی جن کو برطانوی ہائی کمشنر ہربرٹ سیموئیل جو کہ یہودی ہی تھا لیڈ (Lead) کررھا تھا۔
حمیدہ خاتون کے ھاں پیدا ھونے والا یہ بچہ جسکا نام رحمن عبدالروف عرفات الحسینی تجویز کیاگیا، نحیف و قبل از وقت
Read 14 tweets
22 May
ھمارےایک مخصوص طبقےکوصرف مشرق ہی ڈاکو، حملہ آور اوردہشت گرد نظر آتاھے جبکہ مغرب کااصل چہرہ یہ ھے۔
410ھ میں مسلمانوں کی کمزوریوں سےفائدہ اٹھا کر عیسائیوں نے بیت المقدس پراپناقبضہ کیا تو سفاکی اوربربریت کی جوداستان رقم کی وہ تاریخ میں شاذونادرہی ملتی ھے۔عیسائیوں نے چن چن
#Palestine
کرمسلمانوں کو قتل کیا۔مسجدوں میں پناہ لینے والوں کو بھی نہیں بخشا بلکہ جو مسلمان فوج کے ہاتھوں بچ نکلنے میں کامیاب ھو جاتے پادری انہیں خودقتل کردیتے۔
خود عیسائی موءرخین لکھتےھیں کہ عیسائی قبضے کے بعد ذبح کیئے جانے والے مردوں، عورتوں اور بچوں کہ آہ وبکا سےبیت المقدس گونج اٹھا تھا۔
بازاروگلی کوچے مسلمانوں کی لاشوں سے اٹے پڑے تھے۔ پادریوں کیجانب سے عیسائی مذہب اختیار کر لینے والوں کیلئے ہی جان کی امان تھی۔ لیکن تاریخ میں رقم ھے کہ 70 ہزار مسلمانوں میں سے کسی ایک نے بھی عیسائیت قبول نہ کی تھی۔
یہی آہ وبکا اور ظلم ستم کی داستانیں سن کر صلاح الدین ایوبی ؒ نے
Read 4 tweets
21 May
للہ عارفہ (Lalleshwari)
(1320 تا 1392)
کشمیری زبان کی پہلی صوفی شاعرہ
کشمیر کی یہ عظیم خاتون سرینگر سے تین میل دور پاندرٹھن گاءوں میں پیدا ھوئی۔
ہندو اسے لل دید اور لل ایشوری کےنام سے یاد کرتے تھے۔ کشمیری میں یہ لل ماجہ ھے۔
برھمن زادی ھونے کے ناطے ہندواسے ہندوانہ مذہب کی
#History
جبکہ مسلمان اسے صوفیوں عالموں کی صحبت میں بیٹھنے کی وجہ سے مسلمان بتاتے تھے۔
مگر تمام موءرخین اس بات پر اتفاق کرتے ھیں کہ للہ عارفہ نے سید حسین سمنانی کے ہاتھ پر قبول اسلام کیا تھا۔
للہ عارفہ کی شادی سترہ برس کی عمر میں پامپور کے جاہل اور اجڈ برھمن سے ھوئی جو اس پر ہر قسم کا سلوک
روا رکھتا تھا۔
سالوں بعد سسرال کے مظالم سے تنگ آکر ظلم بھری دنیاسے ناطہ توڑ کر صوفیوں، سادھووں، عشیوں کی محفلوں میں بیٹھ کرپرمغزمعرفت وحکمت پر مبنی اشعار کہنے لگی جسے لوگ یادکر لیتے۔
بعض موءرخین للہ عارفہ کو شوازم کی پیروکار بھی بتاتے ھیں۔ مگرایک بات طےھےکہ اسےہندوانہ اور بت پرست
Read 5 tweets
16 Mar
زرتشی کتب
زرتشت سےپہلےایران میں کسی خاص اور مربوط مذہب کےآثار نہیں ملتے۔ زرتشتیت سے دو کتب منسوب کی جاتی ھیں، اوستا اور ساتیر۔
ان دو کتب کےپھر دو اجزاء ھیں یعنی
اوستا خورد اور اوستا کلاں
دساتیر خورد اور دساتیر کلاں
یہ کتب "پہلوی" اور "ژند" زبانوں میں موجودھے۔
ژند حقیقتاً
#History
اوستا کی پہلوی تفسیریں ہیں مگر اصل کتاب کے ساتھ بڑی حد تک غلط ملط ہوگئیں۔ مذہب زرتشت میں خالص توحیدبیان ھوئی ھے لیکن پھر بھی اس مذہب کو "دوئی" کا مذہب کہا جاتا ھے۔
زرتشت کی جوبنیادی اکثریتی تعلیمات ھیں وہ صرف خاص مذہبی طبقےکیلئےمختص ھیں تاھم تین اھم ترین تعلیمات ایسی ھیں
#History
جوعام وخاص کیلئے یکساں ھیں:
-ھوماتا (Humata) یعنی حسن فکر
-ھوکھاتا (Hukhta) یعنی حسن کلام
-ھوراشتہ (Huarashta) یعنی حسن اعمال
ھمیں زرتشتیت کی نبوت کا ذکر قرآن وحدیث میں کہیں نہیں ملتا لیکن اسکے بہت سے جملہ احوال جیسے تلاش حق، ہجرت، جہاد، شہادت وغیرہ کی اسلام سےکافی حد تک
#History
Read 4 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!

:(