کیا "بِبَكَّةَ" اور سعودی شہر مکہ میں واقع کعبہ نامی کوٹھڑی نما بت ایک ھی چیز ہیں ؟

سورۃ آل عمران آیت 95 تا 97

از اورنگ زیب یوسفزئی صاحب

قُلْ صَدَقَ اللَّـهُ ۗ فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَ‌اهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِ‌كِينَ (3/95)
کہدو کہ اللہ نے سچ فرمایا ہے۔
لہذا تم سب ابراھیم کے اختیار کردہ سیدھے راستے کا اتباع کرو کیونکہ وہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔

إِنَّ أَوَّل ۔۔۔۔۔۔۔مُبَارَ‌كًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ(3/96)
درحقیقت وہ پہلا ادارہ/مرکز (بَيْتٍ )جو انسانوں کی منفعت کے لیے تشکیل دیا گیا تھا (وُضِعَ لِلنَّاسِ)،
جو لازمی طور پر مزاحمت کرنے اور کچل دینے کی قوت رکھتا تھا (لَلَّذِي بِبَكَّةَ )، نشوونما اور استحکام دینے والا اور تمام انسانیت کیلیے ضابطہِ کردار تھا،

فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَ‌اهِيمَ ۖ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا ۗ وَلِلَّـهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ
مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ‌ فَإِنَّ اللَّـهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ (3/97)
اس کی تشکیل میں ابراہیم کے بلند مرتبے و منصب (مَّقَامُ ) کی واضح نشانیاں تھیں۔ اس لیے جو بھی اس کے دائرہ اثر میں داخل ہوا تھا امن کے سائے میں آ گیا تھا۔ پس اللہ کے قرب کی
خاطر تمام انسانوں پر فرض کیا گیا تھا کہ ان میں سے جس کو بھی ایسا موقع میسر آجائے تو وہ الہامی مرکزِ فکر و ہدایت (حِجُّ الْبَيْتِ) کا قصد ضرور کرے ۔ پس جس نے اس حکم کا انکار کیا تھا تو جان لے کہ اللہ کسی کا محتاج نہیں کیونکہ وہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Armغaan

Armغaan Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @_1point5

20 Jul
نئی ریاستِ مدینہ کی عظیم "اصلاحات"

ہماری دقیانوسی قوم اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کو بلائنڈ فیتھ پر مبنی عقیدے کی مانند مذہبی انداز میں ہر لحاظ سے درست راستے پر دیکھنے اور ماننے کی عادی ہو چکی ہے۔ خواہ وہ جماعت اور اُس کے سرکردہ لوگ آئے دن بڑے بڑے مالیاتی سکینڈلوں میں پکڑے
جا رہے ہوں، جیسا کہ ہماری پی ٹی آئی کے غلام سرور خان اور جناب زُلفی بخاری تازہ تازہ راولپنڈی رِنگ روڈ کے سکینڈل میں پکڑے گئے، اور زلفی بخاری تو فورا" بھاگ لیے، لیکن پرانا آزمودہ ٹھگ سرور خان ڈھٹائی کے ساتھ قانونی موشگافیوں کے ذریعے بچ نکلنے کی امید پر اپنی سیٹ پر ڈٹا بیٹھا ہے۔
پچھلے دنوں میں نے ویڈیو لگائی جہاں عمران خان پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر ن لیگ کو سخت بُرا بھلا کہ رہا ہے، کہ اس سے ہر چیز کی قیمت بڑھتی اور عوام کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ اور یہ بھی ہم سب کے سامنے ہے کہ تین سال سے یہی بدذات عمران خان پٹرول، ڈیزل، گیس، بجلی، ادویات اور
Read 10 tweets
20 Jul
موجودہ مکہ و کعبہ کی تاریخی تحقیق

قرآن ، حدیث اور اسلامی تاریخ کا سعودی شہر مکہ سے تضاد

ثُـمَّ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بِالْبَيْتِ الْعَتِيْق (22/29)
پھر چاہیئے کہ لوگ اپنا میل کچیل دور کریں اور نذریں پوری کریں اور خانہ قدیم کا طواف کریں (روایتی ترجمہ)
روایتی تراجم کے مطابق خانہ قدیم (موجودہ خانہ کعبہ) کو ابراہیم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ اسلامی تواریخ کے مطابق مکہ اسلام کی جائے پیدائش ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں ابراہیم کے وقت سے چاروں اطراف سے عرب حج کا فریضہ انجام دینے کے لیے آتے تھے۔ آدم نے اسی مقام پر زمین پر اپنے پہلے قدم رکھے
اور آخر کار محمد رسول اللہ کا جنم اسی شہر میں ہوا۔ نزول قرآن بھی اسی شہر میں ہوا۔ اسلامی مورخین کے مطابق مکہ مقدس شہر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اہم تجارتی مرکز بھی تھا۔ کافروں نے کعبہ میں 360 بُت رکھے ہوئے تھے اور وہ اسی بتوں کے مرکز کا طواف کر کے فریضہِ حج انجام دیتے تھے۔
Read 42 tweets
20 Jul
موجودہ مکہ و کعبہ ایک عظیم جھوٹ ھے

اللہ تعالیٰ قرآن مجید کو فرقان یعنی سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے والا کہہ کر مخاطب کرتے ہیں چنانچہ جب آپ قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو دو باتیں بہت واضح طور پر نظر آتی ہیں

(1) اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ص کے اولین مخاطبین کے شہر کو ام القری یعنی
شہروں کی ماں، بڑی ابادی والا مرکزی شہر کہہ کر مخاطب کیا ھے
سورۃ الشوریٰ آیت 7 اور سورۃ انعام آیت 92

(2)سورۃ القصص آیت 59 میں واضح لکھا ہے کہ انبیاء کرام ھمیشہ مرکزی مقام میں مبعوث ھوتے تھے

جب آپ ان دونوں باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب میں واقع موجودہ مکہ کی تاریخ پہ
نظر ڈالتے ہیں تو بہت حیران کن بات سامنے آتی ھے کہ سعودی عرب میں واقع موجودہ مکہ ظہور اسلام یا اسکے بعد کافی عرصہ تک درج بالا قرآنی آیات و اصطلاح پہ پورا ھی نہیں اترتا بلکہ قدیم عربی ادب اور نقشوں میں اسکا کہیں کوئی ذکر ھی نہیں اور نہ ھی یہ بنجر بے آب و گیاہ سخت ترین موسم کا
Read 6 tweets
20 Jul
درج ذیل آیات مبارکہ کے مطابق موجودہ کعبہ ایک عظیم جھوٹ ثابت ہوتا ہے۔ اب خود ھی سوچیں کہ جب کعبہ ایک عظیم جھوٹ ھے تو اس سے جڑی ہر شے جیسے قربانی نماز عمرہ حج روزہ اور حضرت علی کی کعبہ میں پیدائش وغیرہ خود بخود باطل قرار پا جاتے ہیں یعنی تمام فرقوں کا اسلام زمین بوس ہو جاتا ھے۔
ان آیات مبارکہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ نبی کریم سے پہلے انکی قوم کی طرف کوئی نبی مبعوث ھی نہیں ہوا اور نہ ھی انکی قوم کے آباؤ اجداد کی طرح کبھی کوئی نبی آیا اور نہ ھی انکی جانب کوئی الہامی کتاب نازل ہوئی تھی۔
اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَـرَاهُ ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ ۔۔۔۔۔۔۔ قَبْلِكَ لَعَلَّهُـمْ يَـهْتَدُوْنَ (32/3)
کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود بنائی ہے، بلکہ یہ سچی کتاب تیرے رب کی طرف سے ہے تاکہ تو اس قوم کو ڈرائے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ وہ راہ پر آئیں۔
Read 7 tweets
17 Jul
نئی ریاستِ مدینہ – عظیم اصلاحات جاری ہیں

عظیم اصلاحات کے سلسلے میں ہر چند روز میں عوام کو مزید غریب کرنے کا عمل جاری ہے۔ پٹرول کی قیمت میں متعدد اضافوں کے بعد کل پھر ساڑھے پانچ روپے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اب پٹرول 118 روپے سے زیادہ فی لٹر دستیاب ہے
اس ظالمانہ اضافے سے
پھر ایک بار گھی مزید 90 روپے لٹر مہنگا ہو گیا ہے۔
چینی مزید 10 سے 20 روپے فی کلو مہنگی ہو گئی ہے۔
آٹے کا تھیلا تو سرکاری طور پر مزید مہنگا کر دیا گیا ہے۔
باقی تمام اشیائے خوردنی و روزمرہ استعمال لازمی اورمہنگی ہوں گی کیونکہ پٹرول اور ڈیزل میں ہر اضافہ اشیاء کی تمام تر قیمتوں
پر اثر انداز ہوتا ہے۔
بجلی کی قیامت خیز قیمت میں بھی اضافہ ہو چکا ہے اور مزید اضافے کی تیاریاں جاری ہیں۔
تین سال قبل پی ٹی آئی کی حکومت آنے سے قبل ایک بڑا سفید پوش اور غریب طبقہ جو کسی نہ کسی طرح اپنا گذارا چلا لیتا تھا، اب مسلسل تین سال سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث
Read 10 tweets
17 Jul
مروجہ غیر قرآنی حج و قربانی کا باطل نظریہ

سورۃ الحج آیت 28 تا 30 اور 32 تا 38 کا جدید علمی و عقلی ترجمہ

سورہ الحج : 28 سے 30

أَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِ‌جَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ‌ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ﴿27﴾
اور انسانوں کے درمیان حجیت کا [بِالْحَجِّ ]اعلانِ عام کر دو۔ وہ سب تمہارے پاس ہر دور دراز کے مقام سے [مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ] دلیری کے ساتھ [رِ‌جَالًا]آئیں اور ہر ایک اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آئے [وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ‌] ،
لِّيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُ‌وا اسْمَ اللَّـهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَ‌زَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۖ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ‌ ﴿28﴾

تاکہ اس نظریہِ حیات میں وہ اپنے لیے منفعت کا بذاتِ خود مشاہدہ کرلیں اور
Read 21 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!

:(