#قلمکار

*نوازشریف کیوں زیرِعتاب ہے؟*
نواز شریف کے مخالفین اور عمران خان کے مخالفین اس تحریر کو لازمی پڑھیں

#نقطہءِنظر
نواز شریف سے قوم اور فوج اگر ناراض ھے تو کیوں ناراض ھو سکتی ھے ؟ آئیے اس امر کا ایک سابقہ سرکاری افسر کا تجزیہ ملاحظہ فرمائیں

بقول ڈاکٹر عبد القدیر خان
جو اسنے جاوید چودھری کے پروگرام میں انکشاف کیا تھا کہ نواز شریف انڈین دھماکوں کا جواب دینے کی اجازت نہیں دے رہا تھا تب میں نے ان کو ایک دھمکی آمیز خط لکھا کہ
"اگر آپ نے دھماکے نہیں کیے تو قوم آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی
سارے سائنسدان پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کو بتادینگے کہ
ہمارے پاس کب سے تیار پڑا ہے، ہم نے آپ کو فیل نہیں کیا بلکہ آپ کے حکمران نے آپ کوفیل کردیا”
ڈاکٹر قدیر کی اس دھمکی کے بعد نواز شریف کے پاس کوئی چارہ نہیں رہا۔
تمام اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے بھی ایٹمی دھماکوں کے لیے دباؤ ڈالا جس کا بدلہ نواز شریف نے
دھماکوں کے فوراً بعد ان سے استعفے کی صورت میں لے لیا

کشمیر کی چوٹیوں پر دونوں افواج سخت سردیوں میں نیچے اتر آتی تھیں
84ء میں انڈین افواج بظاہر گلیشیر سے اترنے کے بعد نہایت خاموشی سے دوبارہ واپس چلی گئیں اور ان چوکیوں پر قبضہ کر لیا جو پاک فوج نے خالی کی تھیں
جواباً ایک طویل اور
صبر آزما انتظار کے بعد 99ء میں پاک فوج نیچے اترنے کے بعد دوبارہ واپس گئی اور انڈیا کی خالی کی گئی تمام چوٹیوں پر قبضہ کر لیا
اس قبضے کے نتیجے میں سیاچن اور لداخ میں موجود انڈیا کی بہت بڑی فوج محصور ہوگئی اور ان کے لیے جانے والی اکلوتی سپلائی لائن پاکستان کے نشانے پر آگئی
بھاری
جانی و مالی نقصان اٹھانے کے باؤجود انڈیا چوٹیوں کا قبضہ واپس لینے میں ناکام رہا
اسی دوران انڈیا اقوام متحدہ اور امریکہ کو پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے مجبور کرتا رہا
بالاآخر 4 جولائی 1999 کو نواز شریف نے صدر کلنٹن سے ملاقات کے فوراً بعد پاک فوج کو کارگل کی چوٹیاں خالی کرنے کا حکم
دے دیا
نواز شریف کے اس فیصلے کے بعد پاکستان نہ صرف ایک جیتی ہوئی جنگ ہار گیا بلکہ دوران پسپائی پاک فوج کو پشت پر کیے گئے حملوں میں بہت زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا

اگست 1999 میں دو انڈین ائیر کرافٹس نے پاکستانی فضائی حدود میں نیوی کا مسافر جہاز مار گرایا جس میں نیوی کے 16 افیسرز
شہید ہوگئے
نواز شریف نے معاملے کو یکسر نظر انداز کر دیا اپنے وزیراعظم کی اس بے حسی نے نیوی پر بہت برا اثر ڈالا اور اس وقت کے نیوی ایڈمرل عبد العزیز مرزا نواز شریف کے خلاف ہوگئے۔

اکتوبر 1999ء میں بھارتی صدر اندر کمار گجرال نے انکشاف کیا کہ نواز شریف نے مجھے کشمیری مجاہدین کی
سرگرمیوں کی خفیہ رپورٹس دیں

12 اکتوبر 1999 کو اس وقت کے آرمی چیف پرویز مشرف کے جہازکو پاکستان میں اترنے کی جازت نہیں دی اور حکم جاری کیا کہ کراچی ائر پورٹ مذکورہ جہاز کے لیے سیل کر دیا جائے
جہاز کے کیپٹن نے ری فیولنگ کے لیے نواب شاہ ائرپورٹ پر اترنے کی اجازت مانگی تو نواز شریف
نے حکم جاری کیا کہ یہ ری فیولنگ انڈیا میں کروائی جائے۔ یوں پاکستان کے حاضر سروس چیف آف آرمی سٹاف کو انڈیا بھیجنے پر تیار ہوگئے

2008ء میں ممبئی حملوں کے فوراً بعد نواز شریف نے کامران خان کو انٹرویو دیتے ہوئےکہا کہ ” میں نے خود چیک کروایا ہے قصاب یہیں کا ہے، آخر ایسا کرنے کی ضرورت
کیوں پڑی، ہمیں اپنا گھر صاف کرنے کی ضرورت ہے”

اپریل 2010ء میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ملکر اٹھارویں آئینی ترمیم منظور کی جس نے پاکستان میں صوبائیت کو مزید بڑھاوا دیا اور مرکز کو کمزور کیا
جس کے بعد انڈیا کے لیے پاکستان میں صوبائی قوم پرستی کو ابھارنا مزید آسان ہوگیا

اگست 2011ء میں
اپنا مشہور زمانہ بیان جاری فرمایا کہ” ہماری زبان‘ کلچر ایک ہے‘ صرف سرحد کی ایک لکیر درمیان میں آ گئی‘ ورنہ جس رب کو بھارتی پوجتے ہیں‘ ہم بھی اسی کو پوجتے ہیں “
اسی بیان میں مزید فرمایا کہ
“واجپائی ٹھیک کہتے ہیں، ہم نے انڈیا کی پیٹھ میں چھرا مارا یہ سب جانتے ہیں، بھارت نے تو
کارگل کا انکوائری کمشن بنا دیا لیکن یہاں کیا کہیں کہ کون آج تک کارگل کی انکوائری نہیں ہونے دے رہے ہیں”

2013ء کے انتخاب میں عمران خان کی بے پناہ مقبولیت کے باؤجود نواز شریف حیران کن طور پر بھاری مارجن سے جیت گیا،
معید پیرزادہ نامی مشہور اینکر نے دعوی کیا کہ نواز شریف کو جتوانے کے
پیچھے انڈیا اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ ہے اور آنے والے دنوں میں نواز شریف انڈیا اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے مفادات پورے کرے گا

مئی 2014ء میں نواز شریف گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کے قاتل اور پاکستان دشمنی کے نعرے پر ووٹ لینے والے نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنے کے لیے
خصوصی طور پر دہلی پہنچا
نریندر مودی نے حلف اٹھاتے ہی سارے

کام چھوڑ کر پاکستان کے خلاف پوری دنیا میں نہایت جارحانہ سفارت کاری شروع کردی
جواباً نواز شریف نے پاکستان کا وزیرخارجہ مقرر نہ کرنے کا حیران کن فیصلہ کیا یوں نریندر مودی کے لیے میدان بلکل خالی چھوڑ دیا۔ البتہ جاتے جاتے
خواجہ آصف کو وزیرخارجہ مقرر کیا جس نے واحد کارنامہ امریکہ جاکر بیان داغ دیناتھا کہ ”حافظ سعید پاکستان سے باہر دہشت گردی کرتا رہا ہے اور ہمیں اپنا گھر صاف کرنے کی ضرورت ہے” نواز شریف نے اپنے دورہ انڈیا کے دوران کشمیری حریت لیڈروں سےملنے سے انکار کر دیا حالانکہ پاکستانی سربراہان
انڈیا دورے میں یہ ملاقاتیں ضرور کرتے ہیں۔ کشمیر کمیٹی کا چیرمین فضل الرحمن کو مقرر کیا جو 2002ء میں مسئلہ کشمیر کو علاقائی تنازع قرار دے چکا ہے اور کشمیری مجاہدین کو دہشت گرد قرار دے چکا
نواز شریف کی آمد کے بعد انڈین فوج کا کشمیریوں پر ظلم کئی گنا بڑھ گیا اور کشمیریوں کو جانوروں
کا شکار کرنے والی پیلٹ گنوں سے نشانہ بنایا جانے لگا
جواباً کشمیریوں کی تحریک آزادی بھی عروج پر پہنچ گئی۔لیکن نواز شریف نے سوائے اقوام متحدہ میں ایک رسمی بیان جاری کرنے کے کشمیر کے لیے سفارتی محاذ پر ایک لفظ تک نہیں بولا
2014ء میں راحیل شریف نے نواز شریف کو ایک آڈیو سنائی
جس میں ایک انڈین جنرل ٹی ٹی پی کے امیر فضل اللہ کو ہدایات دے رہا تھا
یہی آڈیو امریکن سفیر کو بھی سنائی گئی تھی
بلوچ فراریوں نے ہتھیار ڈال کر اعتراف کیا کہ انڈیا ان کو پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے لیے سپورٹ کر رہا ہے
اسی طرح فاٹا اور کراچی میں پکڑے جانے والے دہشت گردوں نے بھی یہی
بیانات دئیے
نواز شریف کو پاک فوج نے تمام شواہد پر مبنی ایک ڈوسئیر بنا کر دیا تاکہ انڈیا کے خلاف اقوام متحدہ میں اپنا کیس جمع کروا سکیں
لیکن نواز شریف اپنے وعدے سے مکر گیا اور وہ ڈوسئیر تاحال جمع نہیں کروایا جا سکا
جون 2014ء میں مودی کی والدہ کے لیےساڑھی اور آموں کا تحفہ بھیجا
جنوری 2015ء میں انڈین قومی سلامتی کے مشیر اور نریندر مودی کے بعد انڈیا کی سب سے طاقتور شخصیت اجیت ڈاوول نے بیان جاری کیا کہ ہم پاکستان میں دہشت گردی کریں گے، اس کے لیے دہشت گردوں کو دگنی رقم دینگے اور کانٹے سے کانٹا نکالیں گے
جون 2015ء میں نریندر مودی نے بنگلہ دیش جاکر برملا
اعتراف کیا کہ ہم نے بنگالیوں کے ساتھ ملکر پاکستان توڑا
اسی سال نریندر مودی اور اجیت ڈاؤول نے پاکستان کو توڑ کر بلوچستان الگ کرنے کے بیانات بھی جاری کیے اور کہا کہ بلوچستان ہمیں پکار رہا ہے۔ لیکن جواباً نواز شریف مکمل طور پر خاموش رہا
دسمبر 2015ء میں نریندر مودی اجیت کمار ڈاوؤل کے
ہمراہ اچانک نواز شریف کی نواسی کی شادی میں شرکت کرنے ان کے گھر جاتی امراء رائیونڈ پہنچ گئے۔ سرخ قالین بچھا کر ان کو استقبال کیا گیا اور نواز شریف ان کو ریسیو کرنے اور چھوڑنے ائر پورٹ تک گئے
مارچ 2016ء میں پاک فوج نے ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر انڈین جاسوس کل بھوشن یادیو
کی گرفتاری ظاہر کی جو چاہ بہار سے آپریٹ کر رہا تھا
نواز شریف نے ایرانی صدر کے ساتھ اس پر بات تک نہیں کی۔کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیا کہ فاٹا سے کراچی تک پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی پشت پناہی انڈیا کر رہا ہے
نواز شریف نے کلبھوشن کا معاملہ عالمی برادری کے سامنے اٹھانا تو
درکنار اس کا نام تک لینا پسند نہ کیا۔ نواز شریف کلبھوشن کو آج بھی دہشت گرد قرار دینے کے لیے تیار نہیں وہ اس کے لیے “جاسوس” کا لفظ استعمال کرتا ہے
یوں جاسوسی کی جدید تاریخ مین ISI کی سب سے بڑی کامیابی کو خاک میں ملا دیا

کلبھوشن کے معاملے میں انڈیا مئی 2017ء میں عالمی عدالت پہنچا
پاکستان کے پاس آپشن تھی کہ عالمی عدالت کی ثالثی ماننے سے انکار کردیتا
لیکن نواز شریف نے نہ صرف یہ ثالثی قبول کر لی بلکہ پاکستان کی جانب سے وکیل تک نہیں کیا
پاک فوج کو عین آخری لمحات عجلت میں وکیل بھیجنا پڑا
عالمی عدالت نے کل بھوشن کی سزا پر انڈیا کو پاکستان کے خلاف سٹے دے دیا
ٹائمز آف انڈیا نے فروری 2016ء میں انکشاف کیا کہ نواز شریف کی آمد کے بعد صرف تین سال کے عرصے میں پاکستان سے انڈیا 14 ارب ڈالر کی رقوم منتقل کی گئیں ہیں
کس کھاتےمیں؟
یہ آج تک واضح نہیں ہوسکا!
خیال رہے نواز شریف کی آمد سے قبل پاکستان سے انڈیاکو کسی قسم کی رقوم نہیں بھیجی جاتی تھیں
اپریل 2016ء میں ایک انڈین دفاعی تجزیہ نگار نے ٹی وی پر آکر برملا اعتراف کیا کہ ہم نے نواز شریف پر سرمایہ کاری کی ہے اور ہم اس کو ضرور بچائنگے
اس وقت نواز

بالکل درست تھی اور پرویز رشید کو سزا دینا غلط تھا
یہ امر ملحوظ رہے کہ دونوں بار ڈان اخبار اور سیرل المیڈا صحافی استعمال ہوا
انڈیا اس وقت پوری طاقت سے اقوام عالم کے سامنے اس بیان کا ڈھونڈورا پیٹ رہا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انڈیا اس بیان کو لے کر پاکستان کے خلاف اقوام متحدہ میں جائے گا
یہ بیان ایک نہایت خطرناک وقت میں دیا گیا جبکہ صرف چند دن بعد پاکستان کے حوالے سے فیصلہ کیا جانا تھا کہ
پاکستان کو دہشت گرد ممالک کی عالمی واچ لسٹ میں شامل کیا جائے یا نہیں؟
نواز شریف کے اس بیان کے بعد پاکستان کو دھشتگرد ملکوں کی فهرست یعنی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا اور اب پاکستانیوں کو ساری دنیا میں ویزوں، رقوم کی منتقلی اور بیرونی ممالک کے ساتھ تجارت میں شدید مشکلات پیش آئیں گی
اس وقت پاکستان کے ساری سرحدیں ایکٹیو ہیں
افغانستان اور انڈیا مسلسل پاکستانی سرحدوں پر حملے کر رہے ہیں
ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا سے معاہدہ کر کے پوری توجہ پاکستان پر مرکوز کرنا چاہتا ہے
پاکستان کی فوجی امداد بند ہے
امریکہ میں پاکستانی سفیروں کی نقل و حمل پر پابندی لگ چکی ہے اور
پاکستان میں ایسے گروہ متحرک کر دئیے گئے ہیں جو پاکستان کو ظالم ریاست قرار دیتے ہوئے کھل کر پاکستان کے خلاف اقوام متحدہ، امریکہ، انڈیا حتی کہ اسرائیل تک سے فوجی کراوائی کرنے کی درخواست کر رہے ہیں
ان گروہوں میں اس وقت لبرلز کے جھنڈے تلے چلنے والی ” پشتین تحریک ” ٹاپ پر ہے
اس تحریک
کے حوالے سے بھی نواز شریف کا کردار خاصا مشکوک ہے
نواز شریف حکومت نے آئی ڈی پیز کو کسی طرح کی مدد فراہم نہیں کی نہ ہی ان کی واپسی کے بعد وزیرستان میں تعمیر نو کا کوئی کام کیا
سوائے اس کے جو پاک فوج اپنے بل بوتے پر کرتی رہی
یوں ان کی بڑی تعداد ناراض ہوگئی
نواز شریف کے اہم ترین
اتحادی فضل الرحمن اور محمود اچکزئی مسلسل دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کو قبائل کے خلاف آپریشن قرار دیتے رہے پاک فوج نے فاٹا کے تمام مسائل کا حل فاٹا اصلاحات کی شکل میں پیش کیا جس کی نواز شریف کے دونوں اتحادیوں محمود اچکزئی اور فضل الرحمن نے شدید مخالفت کی
یوں فاٹا اصلاحات پر عمل
نہیں کروایا گیا
جب نقیب اللہ قتل ہوا تو نواز حکومت زرداری کے دست راست راؤ انوار کی گرفتاری میں پس و پیش سے کام لیتی رہی
نقیب اللہ کو لے کر پشتین تحریک اٹھی تو نواز حکومت نے ایک بار بھی ان سے بات چیت کرنے کی کوشش نہیں کی،حالانکہ تحریک کی سرکردگی نواز شریف کا دست راست محموداچکزئی
کر رہا تھا
الٹا نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے نہ صرف اس تحریک کے نعرے ”دہشت گردی کے پیچھے وردی ہے” کو سپورٹ کرنے کا اعلان کیا بلکہ اپنے تیس ہزار کارکن بھی ان کے جلسے میں شرکت کرنے کے لیے بھیجنے کا وعدہ کیا
مذکورہ تحریک کی قیادت پاکستان کا باغی لادین اور لبرل طبقہ کر رہا ہے جن پر
مغرب خصوصی طور پر مہربان ہے
اس لیے وہ دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف جلسے کر رہے ہیں اور پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر پیش کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف اقوام عالم سے کروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں
اگر پاکستان کےخلاف عالمی دباؤ بڑھتا ہے تو نواز شریف کو اس کا فوری فائدہ یہ ہوگاکہ
اسکی دنیا بھرمیں اربوں ڈالر کے اثاثے محفوط ہوجائینگے اور نوازشریف دنیا کو بتائےگا کہ درحقیقت ریاست پاکستان کی اسکے خلاف کاروائی اسکی دہشتگردی کے خلاف موقف کیوجہ سے ہے نہ کہ کرپشن کی وجہ سےاگر پاکستان کے خلاف کوئی بہت بڑی فوجی کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے تو یہ
سونے پہ سہاگہ والی بات ہوگی
یہ ظالم انسان محض اپنے چند ٹکوں کے لیے پوری ریاست کو برباد کر دینا چاہتا ہے اور محض اپنی جان بچانے کے لیے 22 کروڑ لوگوں کو مروانا چاہتا ہے
میر جعفر اور میر صادق غدار تھے لیکن انہوں ایک چھوٹی سی ہاری ہوئی ریاست کے خلاف غداری کی تھی جو اس خطے میں برطانیہ
کے خلاف مسلمانوں کی دم توڑتی ہوئی آخری مزاحمت تھی
لیکن نواز شریف جو غداری کر رہا ہے وہ عالم اسلام کے سب سے مضبوط قلعے میں نقب لگا رہا ہے
یہ نقب صرف پاکستان میں بسنے والے 22 کروڑ مسلمانوں کو ہی متاثر نہیں کرے گی بلکہ پاکستان کی ایٹمی قوت کی وجہ سے سعودی عرب، ترکی حتی کہ
ایران تک کو جو تقویت ملتی ہے وہ بھی ختم ہوجائیگی اور دنیا بھر کے مسلمان ہل کر رہ جائیں گے
نواز شریف مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے بڑا غدار ہے !

ذرا سوچیۓ کیا نوازشریف واقعی بھارتی ایجنٹ سے بڑھ کر نہی ؟؟؟؟؟

#قلمکار
منقول

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with آبی کوثر

آبی کوثر Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @AabiKausar

21 Jul
#قلمکار
قصاب کی بیٹی۔۔۔۔۔
1979 کے سخت ترین جاڑے کی ایک اتنی ہی سرد اور اداس شام تھی۔ یوگوسلاویہ کے دورافتادہ اور پسماندہ گاوں میں ایک قصاب بخار میں پھنک رہا تھا۔ پریشانی اس کے چہرے پہ عیاں تھی ۔ کسی نہ کسی طرح ہمت جمع کرکےاس نے گوشت تو بنا لیا تھا۔ مگر اسے ریستوران تک پہنچانا
اسے عذاب لگ رہا تھا۔ اتنے میں اسکی 11 سالہ بیٹی سکول سے لوٹی۔ باپ کو پریشان دیکھ کر ماجرہ سمجھ گئی۔ برفباری میں گوشت سے لدی بھرکم ریڑھی کھینچ کر ریستوران تک چھوڑ آئی۔وہ مڈل سکول میں گاوں کے سکول میں اول آئی۔ تب امریکہ میں ہائی سکول میں وظیفے کا امتحان منعقد ہوا ۔ وہ اس میں منتخب
ہونے والے چند طلبہ میں سے ایک تھی۔ قصاب کی بیٹی کو پڑھنے اور محنت کرنے کا جنون تھا۔ جو بالآخر اسے ہارورڈ یونیورسٹی کے کینیڈی سکول میں لے گیا۔ چند برس کی محنت شاقہ کے نتیجےمیں وہ امور خارجہ میں ماہر سمجھی جانے لگی۔ امریکہ میں اپنے ملک کی پہلی خاتون سفیر مقرر ہوئی۔ وزارت خارجہ کا
Read 13 tweets
19 Jul
افغان سفیر کی بیٹی کا ڈرامہ

اس نے کہا فون چھن گیا لیکن اسی سے برآمد ہوا،
پھر کہا فون واپس ملا لیکن اغواکاروں نے ڈیٹا ڈیلیٹ کیا،
اس نے کہا ایک ٹیکسی میں گئی لیکن اس نے 4 ٹیکسیاں بدلیں،
اس نے کہا ٹیکسی میں نکلی لیکن گھر سے پیدل نکلی،
راولپنڈی سے ایف سیون پھر دامن کوہ گئی
راستے میں گھر آتا تھا وہاں نہیں اتری،
وہاں سے ایف نائن پارک گئی،
ایف نائن پارک میں لڑکی نے چار ٹیکسیاں انگیج کیں،
موبائل پر نیٹ تھا لیکن اوبر یا کریم سروس یوز نہیں کی،

جب اس "واردات" کا انکشاف ہوا تھا تبھی یہ سوال اٹھے تھے کہ
جب ڈرائیور گاڑی سیکورٹی کی سہولیات فراہم ہیں
پھر ٹیکسی میں کیوں گئی؟
فیملی کو بتائے بغیر کیوں نکلی گھر سے؟
اغواکاروں نے بنا پولیس کی مداخلت کے صرف چند گھنٹوں میں ہی کیسےچھوڑ دیا؟
انکا مقصد کیا تھا؟
وغیرہ وغیرہ ۔۔۔

اس سارے معاملے کے ثبوت اور ویڈیوز حاصل کر لی گئی ہیں۔ شیخ رشید نے انکشاف کیا کہ ڈرامہ ایکسپوز ہونے کے ڈر سے
Read 9 tweets
18 Jul
#قلمکار

میدان عرفات میں آخری نبی، نبی رحمت محمد رسول اللہﷺ نے 9 ذی الجہ ، 10 ہجری (7 مارچ 632 عیسوی) کو آخری خطبہ حج دیا تھا۔ آئیے اس خطبے کے اہم نکات کو دہرا لیں، کیونکہ ہمارے نبی نے کہا تھا، میری ان باتوں کو دوسروں تک پہنچائیں۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔۔
*۱*۔ اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا۔ میری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔

*۲*۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت
اور مال حرمت والے ہیں۔ (تم اس کو چھیڑ نہیں سکتے )۔

*۳*۔ لوگو کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،

*۴*۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو۔ تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔

*۵*۔ یاد رکھو، تم نے اللہ سے ملنا ہے، اور اللہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔

*٦*۔ اللہ نے سود کو ختم
Read 9 tweets
16 Jul
#قلمکار

جوکم صاحب بہادر
"" "" "" "" "" "" ""
جان جیکب ١٨١٢ء میں انگلینڈ میں پیدا ہوا۔ وہ خاندانی فوجی تھا۔ ١٦ سال کی عمر میں ایسٹ انڈیا کمپنی میں بھرتی ہوا۔ ہندوستان آیا اور پھر کبھی واپس نہ گیا۔ یہاں تک کہ ٦ دسمبر ١٨۵٨ء کو ۴٦ سال کی عمر میں فوت ہوا اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے
سندھ کی زمین میں دفن ہو گیا۔ وہ پیشے کے لحاظ سے فوجی لیکن مزاجاً آرکی ٹیکٹ اور مکینیکل انجینئر تھا۔ ١٨٣٨ء میں پہلی ”اینگلو افغان وار“ کیلئے سندھ آیا۔ سرجان کین کی کمانڈ میں میانی کی جنگ لڑی۔ سندھ ہارس رجمنٹ کی کمان کی اور اپر سندھ کا ایڈمنسٹریٹر بنا دیا گیا۔
وہ بہادر اور بہترین منصوبہ ساز تھا۔ چنانچہ کمپنی نے اس کی رجمنٹ کو ”36۔جیکب ہارس“ کا نام دےدیا۔ وہ ١٨۴۷ء میں اپنی رجمنٹ کے ساتھ اپر سندھ کے صحرا میں چھوٹے سے گاؤں خان گڑھ میں مقیم ہو گیا۔ یہ پورا علاقہ صحرائی تھا۔ پانی اور سبزے کا نشان تک نہیں تھا۔ مقامی لوگوں کا صرف ایک پیشہ تھا
Read 25 tweets
20 Jun
#قلمکار

قسط :1
کل مارگٹ مائنز کی حفاظت پر مامور فرئنٹیر کور کے 4 جوان دہشتگردوں کی جانب سے بچھائی گئ بارودی سرنگ کے دھماکے میں شہید ہو گئے
جبکہ گذشتہ ہفتے پیر اسماعیل زیارت بلوچستان کے قریب ایف سی چوکی پر حملہ کیا گیا جس میں 4 جوان شہید ہوئے۔
اور 5 بی ایل اے دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے ،

ہلاک ہونے والے بی ایل اے کے دہشت گردوں میں سے ایک پیر مہر علی شاہ اریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی کا طالب علم آفتاب یوسف جٹک تھا
اس کی موت کے ساتھ ہی بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیند بلوچ کی جانب سے بی ایل اے کی ویب سائٹ پر بی ایل اے
ٹریننگ کیمپس میں آفتاب جٹک کی تصاویر اور بی ایل اے کے دہشت گردوں کے ساتھ تصاویر شئیر کی اور اسے فخر سے بی ایل اے کا سرمچار بتاتے ہوے کہا کہ آفتاب یوسف بلوچ جس کا تنظیمی نام واشین زہری تھا وہ سکیورٹی فورسز پر متعدد حملوں میں براہ راست لیڈ کرتا رہا ہے دہشتگرد تنظیم کے ترجمان نے
Read 13 tweets
18 Jun
#قلمکار

1990 میں جب ضرب مومن کی ایکسرسائز کی گئی تو #جنرل_اسلم_بیگ نے اس کی ضرورت کو سمجھا کہ #پاکستان کی #فوج کو نئے #ہتھیار اور #جدیدمشینری سے آراستہ کیا جائےپھر اس کے لئے #ٹیکسلا #ھیوی_کمپلیکس_پلانٹ لگایا گیا اور ٹینک، اے پی سی اور ہر قسم کے ہتھیار و توپ خانے بنانے کیلئے
مختلف یورپ کے ممالک سے رابطہ کیا، گیا پر وہ ہمیں ٹیکنالوجی دینے پر راضی نہ تھےبس چینی قیادت نے نہ صرف ٹیکنالوجی دی بلکہ ان سے آدھی قیمت پر کارخانے بنانے کا وعدہ بھی کیا، جن میں ہوایی جہاز، ابدوز بھی شامل کئے گیےآج الخالد ٹینک، APCs, f, 17 سب بن رہے ہیں

#قلمکار
#انڈیا، نے 1970 سے ٹینک بنانے کا، پلانٹ لگایا آج تک کوئی تنکے کا کام نہ بنا سکا۔۔ ہوائی جہاز اور ابدوز تو دور کی بات ہےالحمد للہ 🌹 #الخالد #ٹینک دنیا کا بہترین ٹینک ہے جو رات کو بھی دشمن پر چلتے ہوے وار کر سکتا ہے

#قلمکار
Read 4 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!

:(