کوٹ مٹھن شریف میں ایک مجذوب تھا جو ہر آتے جاتے سے ایک ہی سوال پوچھتا رہتا کہ
"عید کداں" (عید کب ہو گی)
کچھ لوگ اس مجذوب کی بات سنی اَن سُنی کر دیتے اور کچھ سُن کر مذاق اُڑاتے گُزر جاتے۔
ایک دن حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ اس جگہ سے گزرے تو اُس مجذوب نے اپنا
وہی سوال دہرایا۔ “عید کداں”
(عید کب ھو گی)
آپ صاحبِ حال بزرگ تھے اُس کا سوال سُن کر مسکرائے اور کہا “یار ملے جداں”
(جب محبوب ملے وھی دن عید کا دن ھو گا)
یہ الفاظ سُنتے ھی مجذوب کی آنکھُوں سے مُوتیُوں کی طرح آنسُوں جاری ھو گے وہ مزید ترستی آنکھوں سے گُویا ھوا سرکار "
“یار ملے کداں"(محبوب کس طرح ملے گا ) خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا "میں مرِے جداں"(جب اندر کی "میں" مرے گئ)
بس یہ فرمانا تھا کہ مجذوب نے کپکپاتے اور تھرتھراتے ھوۓ عرض کیا حضور
"میں مرےِ کداں" (میں کب مرے گئ)
سرکار رحمتہ اللہ علیہ مسکراۓ اور اُسے پیار سے
تھپکی دیتے یہ کہتے چل دیے
"یار تکے جداں" (جب محبوب دیکھے گا)

عاشق کی عید محبوب کا دیدار ہے اور یہ دیدار اُسے دُنیا میں دو مرتبہ ملتا ہے پہلی بار جب اُس کی "میں" مرتی ہے اور دوسری بار جب وہ خود مرتا ہے۔
❤️

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with 𝔸𝕝𝕚 𝕊𝕙𝕒𝕙𝕓𝕒𝕫 ℂ𝕙𝕒𝕦𝕕𝕙𝕣𝕪

𝔸𝕝𝕚 𝕊𝕙𝕒𝕙𝕓𝕒𝕫 ℂ𝕙𝕒𝕦𝕕𝕙𝕣𝕪 Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @alliswel786

22 Jul
کیا آپ اکثریت کے پیچھے چل رہے ہیں؟

ایک بار حضرت عمر رضى اللہ عنہ بازار میں چل رہے تھے۔ وہ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو دعا کر رہا تھا

"اے الله مجھے اپنے چند لوگوں میں شامل کر، اے الله مجھے اپنے چند لوگوں میں شامل کر"۔

حضرت عمر رضى الله نے اُس سے پوچھا، یہ دعا تم نے کہاں سے سیکھی؟ Image
وہ بولا، الله کی کتاب سے

الله نے قرآن میں فرمایا ہے

"اور میرے بندوں میں صرف چند ہی شکر گزار ہیں۔" (القرآن 34:13)

حضرت عمر یہ سُن کر رو پڑے اور اپنے آپ کو نصیحت کرتے ہوئے بولے،"اے عمر ! لوگ تم سے زیادہ علم والے ہیں، اے الله مجھے بھی اپنے اُن چند لوگوں میں شامل کر۔"
ہم دیکھتے ہیں کہ جب ہم کسی شخص سے کوئی گناہ کا کام چھوڑنے کا کہتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ اکثر لوگ کرتے ہیں ۔ میں کوئی اکیلا تو نہیں۔ اگر آپ قرآن پاک میں "اکثر لوگ" سرچ کریں تو "اکثر لوگ"

"نہیں جانتے" (7:187)
"شکر ادا نہیں کرتے"(2:243) "ایمان نہیں لائے"(11:17)
Read 5 tweets
21 Jul
معافی اور درگزر یہ ایک پھول کی مانند ہیں۔ اس کے باعث انسان ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں اور یہ "معافی" انسانوں کے مابین connectivity کا کام دیتی ہے۔ جو لوگ معافی مانگنے سے محروم ہو جاتے ہیں وہ انسان کے درمیان رابطے اور تعلق کے پل کو توڑ دیتے ہیں اور ایک وقت ضرور آتا ہے کہ
ان کو خود کسی وجہ سے آدمیوں اور انسانوں کے پاس جانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن وہ پل ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔ اگرہم ایک انسان سے کوئی زیادتی کرتے ہیں یا انسان کا کوئی گناہ کرتے ہیں اور پھر وہ انسان خدانخواستہ فوت ہو جاتا ہے یا برطانیہ یا کینیڈا جا کر آباد ہو جاتا ہے تو پھر
ہمیں اس انسان کے پاس جا کر معافی مانگنے میں بڑی مشکل درپیش ہوتی ہے لیکن اگر ہم خدا کے گناہگار ہوں اور ہمارا ضمیر اور دل ہمیں کہے کہ "یار تو نے یہ بہت بڑا گناہ کیا اور تجھے اپنے رب سے معافی مانگنی چاہیے۔" تو اس صورت میں ہمیں سب سے بڑی آسانی یہ ہوتی ہے کہ ہمیں اپنے خدا کو
Read 5 tweets
20 Jul
بہت ہی خوبصورت تحریر

یہ آج سے چھ سال پرانی بات ہے میں ایک درمیانے سائز کی کمپنی چلا رہا تھا ہم لوگ امریکی کمپنیوں کو "آئی ٹی سلوشن“ دیتے تھے ہمارے سلوشن دس پندرہ ڈالر مالیت کے ہوتے تھے لیکن ہمارے گاہکوں کی تعداد زیادہ تھی چنانچہ دس
پندرہ ڈالر ایک دوسرے کے ساتھ ضرب کھا کر بڑی رقم بن جاتے تھے ہمارے کام کے ساتھ تین ساڑھے تین سو لوگ وابستہ تھے یہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ کر کام کرتے تھے ہم ان کا کام ”پول“ کرتے تھے اور اس کی نوک پلک سنوار کر اسے انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے مطابق بنا کر کمپنیوں کو بھجوا دیتے تھے۔
ہماری زندگی ہموار اور رواں چل رہی تھی مگر پھر اچانک صدر اوبامہ نے پالیسیاں تبدیل کرنا شروع کر دیں
یورپ اور امریکا میں پاکستان کا امیج بھی مزید خراب ہو گیا لہٰذا کمپنیوں کو جوں ہی پتا چلتا تھا ہم پاکستانی کمپنی ہیں وہ ہم سے رابطہ منقطع کر دیتی تھیں یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے وہاں
Read 18 tweets
29 Jun
اشفاق احمد صاحب کی کچھ یادیں۔۔۔
فرماتے ہیں
میرے ایک دوست تھے۔ ان کا نام سلطان راہی تھا۔ آپ نے ان کی فلمیں دیکھی ہونگیں۔
ایک روز مجھے ان کا پیغام ملا کہ آپ آئیں ایک چھوٹی سی محفل ہے اس میں آپ کی شمولیت ضروری ہے اور آپ اسے پسند کریں گے۔
میں نے کہا “بسم الله”
سلطان راہی کو شاید آپ جانتے ہوں یا نہیں اسے قرأت کا بڑا شوق تھا اور اس کا اپنا ایک انداز تھا اس کا اپنا ایک لہجہ تھا تو اس کے ساتھ ایک اور آدمی بھی تھا
گاؤں کا پینڈو آدمی اس نے دھوتی باندھی ہوئی تھی کندھے کے اوپر اس کے کھیس تھاسادہ سا آدمی کچھ اتنا زیادہ متاثر کن بھی نہیں تھا
تو انھوں نے کہا ان سے ملیں یہ بھا رفیق ہے۔
ہم دس پندرہ لوگ دیوار کے ساتھ ڈھو لگا کر بیٹھ گئے
سلطاں راہی نے کہا آپ کو اپنی کچھ قرأت سنانا چاہتا ہوں۔ ہم نے کہا بسم الله
انھوں نے کہا میں سوره مزمل پڑھونگا۔

تو سلطان راہی نے اپنے انداز میں اپنے لہجے میں اور اپنی آواز میں
Read 11 tweets
28 Jun
ایک بہت ہی خوبصورت تحریر

جوشخص غصے کی کیمسٹری کو سمجھتا ہو وہ بڑی آسانی سے غصہ کنٹرول کر سکتا ہے“میں نے پوچھا ”سر غصے کی کیمسٹری کیا ہے؟“
وہ مسکرا کر بولے ”ہمارے اندر سولہ کیمیکلز ہیں یہ کیمیکلز ہمارے جذبات
ہمارے ایموشن بناتے ہیں
ہمارے ایموشن ہمارے موڈ طے کرتے ہیں
اور یہ موڈز ہماری پرسنیلٹی بناتے ہیں“ میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا وہ بولے
”ہمارے ہر ایموشن کا دورانیہ 12 منٹ ہوتا ہے“میں نے پوچھا ”مثلا“؟
وہ بولے”مثلاً غصہ ایک جذبہ ہے یہ جذبہ کیمیکل ری ایکشن سے پیدا ہوتا ہے مثلاً ہمارے جسم نے انسولین نہیں بنائی یا یہ ضرورت سے کم تھی
ہم نے ضرورت سے زیادہ نمک کھا لیا‘ ہماری نیند پوری نہیں ہوئی یا پھر ہم خالی پیٹ گھر سے باہر آ گئے اس کا کیا نتیجہ نکلے گا ؟ ہمارے اندر کیمیکل ری ایکشن ہو گا یہ ری ایکشن ہمارا بلڈ پریشر بڑھا دے گا اور یہ بلڈ پریشر ہمارے اندر غصے کا جذبہ پیدا کر دے گا ہم بھڑک اٹھیں گے لیکن
Read 21 tweets
20 May
#القرآن

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ۔
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ

ترجمہ: کنزالایمان

سُن لو! بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں۔

تفسیر: صراط الجنان
اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ:سن لو! بیشک اللہ کے ولیوں۔} لفظِ ’’ولی‘‘ وِلَاء سے بناہے جس کا معنی قرب ا ور نصرت ہے۔ وَلِیُّ اللہ وہ ہے جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ عَزَّوَجَلَّکا قرب حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول رہے اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کے نورِ جلال کی معرفت
میں مستغرق ہو ،جب دیکھے قدرتِ الٰہی کے دلائل کو دیکھے اور جب سنے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی آیتیں ہی سنے اور جب بولے تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی ثناہی کے ساتھ بولے اور جب حرکت کرے، اطاعتِ الٰہی میں حرکت کرے اور جب کوشش کرے تو اسی کام میں کوشش کرے جو قربِ الٰہی کاذریعہ ہو،
Read 33 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!

:(