Facts Profile picture
22 Jul, 4 tweets, 3 min read
۔ Ascelpius یونان میں ڈاکٹر تھا اپنے دو بیٹوں Machaon اور Podalirius کے ساتھ مل کر لوگوں کی خدمت کرتا تھا۔ زخموں کے علاج سے لے کر زہر خوانی تک کا اچھا علاج کر لیا کرتا تھا۔ ہلاکتیں کم ہونے لگی یہ بات زیوس خدا کو بری لگی، زیوس کو لگا اس ڈاکٹر کی وجہ سے بندے اور خدا کے 1
درمیان رابطہ کم ہونے لگا ہے، بس پھر Ascelpius پر آسمانی بجلی گرا کے ہلاک کر دیا۔ اس کے مرنے کے بعد اسے صحتمندی کا دیوتا بنایا گیا۔ کہا جاتا کہ Ascelpius کو طب کا یہ ہنر ایک بیمار سانپ نے دیا تھا یہ سانپ کے زہر کا علاج بھی کرتے تھے جو اُس زمانے میں ایک بڑی بات تھی۔ اسی وجہ 2
سے ان کے عصا سے سانپ لپٹا ہوا ہے یہ Rod of Asclepius آج بھی شعبہ طب کی پہچان ہے۔ بہت سے ہسپتالوں اور WHO کا نشان بھی یہ عصا ہے۔ یہاں ایک غلط فہمی ہے بہت سے ہسپتال اور ادویات بنانے والے اس نشان سے ملتا جلتا ایک اور نشان جس میں دو سانپ ہوتے استعمال کرتے ہیں یہ 3
اصل میں Caduceus ہے جو منافع اور سرمایہ کاری کے دیوتا عطارو کا نشان ہے۔

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Facts

Facts Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @shahzaipk

8 Jun
نیک لوگوں کی لمبی نیندیں:

بچپن میں آپ نے Rip Van Winkle کی کہانی پڑھی ہوگی جس کو نیند سے جاگنے کے بعد معلوم چلا کہ وہ تو بیس سال تک سوتا رہا ہے۔
یہ تو ایک کہانی تھی مگر مختلف تہذیبوں میں نیک لوگوں کی لمبی نیندوں سے متعلق کافی واقعات موجود ہیں یونانیوں کے ایک عظیم 1/4
کردار Epimenides کریٹن کی ایک غار میں کچھ دیر لیٹے پچاس سال بعد انکی آنکھ کھلی اور وہ ولی بن گئے۔ انکے بعد ارسطو نے بھی لمبی نیندوں سے متعلق Heroes of Sardinia پر تبصرہ کیا ہے۔ یہودیوں کے ایک بزرگ Honi HaMeagel بھی ستر سال سوئے رہے اسکے علاؤہ انھی کے Abimelech صاحب بھی 2/4
66 سال تک سوتے رہے۔ تقریباً تین سو سال تک سونے والے نوجوانوں کی کہانی Seven Sleepers جو ابراہیمی مذاہب میں مشہور ہے بادشاہ دقیانوس کے زمانے میں وجود میں آئی۔ اس طرح کے واقعات سب سے ذیادہ یورپ میں مشھور ہیں جیسے Matwy Poland میں کہا جاتا کچھ نیک فوجی آج تک کہیں سو رہے جو وقت 3/4
Read 4 tweets
14 May
قدموں کے نشانات سے عقیدت:

مذاہب میں قدموں کے نشانات سے عقیدت زمانہ قدیم سے ہی جاری ہے۔ تاریخ میں اسکی ابتداء ہندو دیوتا وشنو کے قدموں سے ہوتی ہے۔ وشنو جب لاپتہ ہوئے تو انکے عقیدت مندوں نے انکے قدموں کے نشان کے گرد بیٹھ کر عبادت کا آغاز کیا۔ بدھ مت جس میں ابتداء میں بت نہیں 1/6
بنائے جاتے تھے صرف عقیدت مندی کے اظہار کیلئے بدھا کے قدموں کے نشانات کو باعث برکت سمجھا جاتا تھا، ہندوستان، سری لنکا، چین اور تھائی لینڈ میں یہ قدم موجود ہیں۔ جین مت والوں کے پاس بھی مقدس قدموں کے نشانات موجود ہیں۔ وشنو کے قدموں کے نشانات متعدد مندروں میں موجود ہیں 2/6
ابراہیمی مذاہب میں بھی مقدس قدموں کے نشانات سی عقیدت مندی موجود ہے۔ عیسائیوں میں حضرت عیسیٰ کے آسمان پر اٹھائے جانے سے پہلے کے نشانات Church of Ascension فلسطین میں موجود ہیں۔ اسی سے آگے مسلمانوں نے Dome of Rock پر حضرت محمد کے معراج پر جانے سے پہلے کہ قدموں کے نشانات 3/6
Read 6 tweets
12 May
مقدس اشیاء اور شخصیات کی تعظیم میں انکے گرد چکر لگانے کی رسم تقریباً تمام قدیم مذاہب میں موجود ہے۔ یہودی اسے ہکافوت کہتے ہیں، یہودیوں کا مزراہی فرقہ بھی مردے کو دفن کرنے سے پہلے اسکے گرد سات چکر لگاتے ہیں۔ ہندومت میں بھی یہ رسم موجود ہے وہاں اسے پرادکشینا کہا جاتا ہے (جاری ہے)
شمالی ہندوستان کے مندروں بالخصوص آسام کے مندروں میں یہ رسم ادا کی جاتی ہے، اکثر منت پوری ہونے کی خوشی میں یہ رسم ادا کی جاتی ہے، ہندوستان میں ہی جین مذہب کے ماننے والے اپنے نیک بندوں جنھیں منی کہا جاتا ہے گرد عقیدت سے چکر کاٹتے ہیں، اسکے علاؤہ بدمت والے بھی پردکشینا (جاری ہے)
کو بطور عبادت جاری رکھے ہوئے ہیں بدھا سے منسوب مقامات اشیاء اور مقامات کے گرد مخصوص تعداد میں چکر کاٹے جاتے ہیں، اکثر یہ درختوں کے گرد بھی طواف کرتے ہیں۔ زمانہ قدیم میں لوگ بزرگوں کی قبروں کے گرد بھی طواف کیا کرتے تھے، برصغیر میں یہ رسم اب بہت کم ادا ہوتی ہے (جاری ہے)
Read 8 tweets
21 Nov 20
چوہوں کی جنت جہنم کیسے بنی:

امریکی سائنسدان جان کلہون نے سن 1954 سے 1972 تک چوہوں پر زیادہ آبادی کے اثرات جاننے کے لئے تجربہ کیا جسے Universe 25 کہا جاتا ہے یہ تجربہ 25 مرتبہ دھرانے پر ایک جیسے نتائج ملے اسی لئے اسے اس نام سے پکارا جاتا ہے۔ کلہون نے اس تجربہ کے لئے چوہوں کی Image
ایک جنت تخلیق کی جہاں لامحدود کھانا اور پانی ، جنسی ملاپ کے لئے متعدد چھوٹے بڑے گھر اور بیرونی خطرات سے مکمل حفاظت تھی۔شروعات میں چوہوں کی آبادی تیزی سے بڑھی مگر یہ آبادی دو ہزار چوہوں تک پہنچ کر گرنا شروع ہوئی حالانکہ یہ جگہ تقریباً چار ہزار چوہوں کے لئے کافی تھی۔ تجربہ کی Image
ابتداء میں آبادی تیزی سے بڑھی مگر بڑھتی آبادی سے چوہوں کو کھانے کی جگہ پر اپنی باری آنے کا زیادہ انتظار کرنا پڑتا جس سے جھگڑے معمول بن گئے ذہنی تنائو اور گھروں کی کمی کی وجہ سے جنسی ملاپ کم ہوتا گیا اکثر طاقتور نر چوہے نسبتاً کمزور چوہوں اور بچوں پر حملہ آور ہوتے اور
Read 6 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!

:(