Who is Spinoza's God?
آینسٹائن(Einstein)نے مذہب کے بارے میں سوالات پر کافی مشہور افراد جن میں فلاسفرز، سائنسدان اور مذہبی پیشوا شامل ہیں، سے بہت سی خط و کتابت کی، ان میں سے ایک مشہور خط جو آئنسٹائن نے 1922میں ربی گولڈسٹائن(Rabbi Goldstein)کو لکھا۔ اس خط میں آئنسٹائن کہتا ہے
1/15
کہ وہ سپینوزا (Spinoza) کے خدا پر یقین رکھتا ہے جو اپنے آپ کو کائنات کے قدرتی قوانین اور انکی ہم آہنگی سے ظاہر کرتا ہے نا کہ اس ذاتی خدا (Biblical God) پر جو ہر وقت اپنے بارے میں فکرمند رہتا ہے کہ انسانوں کی قسمت کا فیصلہ ان کی عبادتوں سے مشروط ہوگا۔
2/15
باروک سپینوزا (Baruck Spinaza) سترہویں صدی کا ایک ڈچ ( موجودہ ہالینڈ) فلاسفر تھا جس نے مذہب کو ایک نئے زاویے سے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی جس میں براہ راست خدائی مداخلت یا توہم پرستی پر مبنی عقائد کی جگہ کائنات کو سائنسی بنیادوں پر پرکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
3/15
سپینوزا 1632 میں ایمسٹرڈیم میں ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوا، سپینوزا کے اجداد 1492 میں اسپینش جزیرہ نما سے کرسچن کیتھولک فرقے کے جبر و ستم کے باعث وہاں سے فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔ اوائل عمری سے ہی سپینوزا بہت سنجیدہ اور انتہائی ذہین تھا۔ سپینوزا نے ابتدائی
4/15
تعلیم یہودیوں کے عام اسکولوں سے ہی حاصل کی مگر رفتہ رفتہ وہ اپنے اجداد کے عقیدے سے دور ہوگیا۔
سپینوزا کہتا ہے لڑکپن تک تو میں اپنے عقیدے اور مذہب کی کتابوں پر یقین رکھتا تھا مگر دنیا اور کائنات کا جائزہ لیتے ہوئے مجھے اپنے خیالات بدلنے پڑے۔ سپینوزا اپنے ان خیالات کا کھل کر
5/15
اظہار اپنی کتاب ایتھکس"Ethics"میں کرتا ہے جو 1677 میں شائع ہوئی جو کہ لاطینی زبان میں تھی۔ اس کتاب میں سپینوزا یہودی عقیدے کو براہ راست چیلنج کرتا ہے، "سپینوزا کہتا ہے کہ خدا قدرت کے باہر کی کوئی شے نہیں ہے، ہماری عبادتوں کو کوئی نہیں سنتا، خدا نامی ایسی کوئی شے نہیں جو
6/15
معجزے دکھاتی ہو انسانوں کی غلطیوں پر کوئی سزا یا جزا دے سکے یا مرنے کے بعد انسان کی کوئی زندگی ہے اور نہ ہی کسی خدا نے انسان کو اشرف المخلوقات کے طور پر بنایا ہے۔
سپینوزا مزید لکھتا ہے کہ بائبل عام انسانوں کی لکھی ہوئی کتاب ہے، خدا نہ کوئی کاریگر ہے اور نہ ہی کوئی معمار
7/15
جس نے یہ دنیا بنائی ہو۔ خدا نہ کوئی بادشاہ ہے نہ کوئی سالار جو اپنے ماننے والوں کو یہ حکم دے کہ ہاتھ میں مقدس تلوار اٹھا لو نیز یہ کہ مذاہب کا تصوراتی خدا نہ کچھ سنتا ہے نہ ہی کچھ دیکھتا ہے۔ مذہبی عقیدوں کے خدا کا وجود محض تصوراتی ہے جو کہ ناقص علمی بنیادوں پر گھڑا گیا ہے۔
8/15
سپینوزا اوپر دیئے گئے اپنے تمام نظریات کے باوجود اپنے آپ کو ملحد قرار نہیں دیتا بلکہ وہ اس پر اصرار کرتا ہے کہ وہ اس خدا کا بہت بڑا حامی ہے جس کا اس کائنات میں ایک مرکزی کردار ہے، بائیبل کا خدا نہیں جو انسانوں کو ڈراتا اور دھمکاتا ہے۔ سپینوزا خدا مکمل طور پر
9/15
بائبل سے جدا اور ناقابل فہم ہے جس کی موجودگی کا اظہار قدرتی قوانین اور وجودیت میں پنہاں ہے۔ سپینوزا کے مطابق خدا یہ کائنات اور اسکے قدرتی قوانین ہیں، منطق، دلیل اور سچائی خدا ہے۔ سپینوزا کی کتاب"اخلاقیات"میں جگہ جگہ خدا کے لئے انسانی عبادات کو رد کیا گیا ہے۔ سپینوزا کے
10/15
مطابق عبادت اور دعائیں وہ عمل ہے جس میں انسان خدا سے وہ کچھ مانگتا ہے جس سے خدا اس کائنات کے نظام کو تبدیل کردے۔ انسان کو دعاؤں اور عبادات کے بجائے یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ کائنات کیسے اور کس طرح قائم ہے اور اسے اسی حالت میں قبول کرلینا چاہیے، نا کہ دعاؤں کی شکل
11/15
میں آسمانوں سے رحم کی بھیک یا اپنے دکھوں کا خدا سے احتجاج۔ سپینوزا اپنی کتاب میں بہت ہی خوبصورت مگر طنزیہ لہجے میں کہتا ہے کہ جو بھی خدا سے محبت کرتا ہے اسے اس محبت کے بدلے کچھ نہیں مانگنا چاہیے اگر وہ ایسا کرتا ہے تو یہ خدا سے محبت نہیں ہے۔
12/15
سپینوزا خدا کو سمجھنے کے روایتی انداز کو رد کرتا ہے جو کہ بائبل یا دوسرے مذاہب کی کتابوں سے لیا جاتا ہے، بلکہ اسکے بجائے سپینوزا تجویز کرتا ہے کہ خدا کو سمجھنے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ انسان تعلیم اور شعور کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کرے کہ کائنات، زندگی، نفسیات، فلاسفی
13/15
اور نیچرل سائنس کیا ہیں، جبکہ روایتی مذاہب کے ماننے والے کائناتی سچائیوں کو جاننے کے بجائے دعاؤں اور عبادتوں کے ذریعے خدا سے ایک خاص قسم کا احسان (Favor) مانگتے ہیں۔ دانا انسان وہ ہے جو کائنات کی سچائیوں کو پرکھنے کی کوشش کرے جس سے اس روح کو ابدی تسکین مل سکتی ہے۔
14/15
References:
Ethics by Baruch Spinoza
Spinoza's Ethics by Beth Lord
Baruch Spinoza: Stanford Encyclopedia of Philosophy
15/15

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Ibn-e-Hasan🎷📚🚬

Ibn-e-Hasan🎷📚🚬 Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @saeedma08417161

5 Sep
Epic of Gilgamesh:
اٹھارہ سو اڑتالیس کا ذکر ہے جب ماہرین آثار قدیمہ نے عراق کے مختلف علاقوں میں کھدائی کا کام شروع کیا جسکا بنیادی مقصد تو اس امید پر تھا کہ بائبل خصوصاً عہد نامہ قدیم (Bible Old Testament) میں بیان کئے گئے قصے اور کہانیوں کی سچائی کو ثابت کیا جائے،
1
مگر صورتحال اسکے برعکس نکلی۔
ماہرین آثار قدیمہ کی کھدائی کے نتیجے میں قدیم اسیرین (Assyrian) سلطنت کا دارالخلافہ نینوا (Nineveh) شہر دریافت ہوا۔ اسی نینوا شہر میں اشوربانیپل (Ashurbanipal) نامی اسیرین بادشاہ کی قائم کردہ لائبریری بھی دریافت ہوئی جس کی بنیاد
2
ساتویں صدی قبل مسیح میں رکھی گئی تھی۔ اشوربانیپل لائبریری تیس ہزار سے زائد مٹی کی تختیوں پر مشتمل تھی۔ گلگامش کی کہانی بھی اسی لائبریری سے دریافت ہوئی جو مٹی کی بارہ تختیوں پر مشتمل ہے۔
بہت سے ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق گلگامش کی کہانی دنیا کی سب سے پہلی تحریر کردہ
3
Read 37 tweets
29 Aug
European Dark Ages:
مغرب نے موجودہ پاپولر مغربی تہذیب و تمدن، سائنس و ٹیکنالوجی میں مہارت،سیاسی اور عسکری معاملات میں برتری پلک جھپکتے ہی یا کسی معجزے سے حاصل نہیں کیں، بلکہ یہ کہنا مبالغہ آرائی نا ہوگا کہ مغرب نے یہ تمام کامیابیاں آگ خون کا دریا عبور کر کے حاصل کی ہیں۔
1
یوں تو مغرب زمانہ قدیم سے ہی دنیا کی باقی قوموں سے ایک قدم آگے رہا ہے، جیسا کہ دنیا کے مختلف امور پر قدیم یونانی فلسفہ اور فلاسفرز، ادویات، سیاسی معاملات میں پختگی، سفارتی آداب، جنگ و حرب کا ساز و سامان، بحری جنگی صلاحیتیں یا حکومت چلانے کا نظم و ضبط۔
2
لیکن اسی مغرب پر ایک دور ایسا بھی آیا جو یورپین ڈارک ایجز کہلاتا ہے۔
یورپ کا تاریک دور Dark Ages ایک اصطلاح ہے, یہ اصطلاح قرون وسطی Middle Ages کے دور کے متبادل بھی استعمال کی جاتی ہے۔ یورپ کے اس تاریک دور کا دورانیہ لگ بھگ ایک ہزار سال یعنی 500AD ,سے 1500AD پر محیط تھا،
3
Read 30 tweets
22 Aug
Epicurus, Epicureanism & the time of Hellenic Ages.
اپیکورس (Epicurus) قدیم یونان کا تیسری صدی قبل مسیح کا ایک عظیم مفکر اور اپیکورئین ازم (Epicureanism) کا بانی تھا۔ اپیکورس اور اپیکورئین ازم کا محور بنیادی طور پر انسانوں کی خوشیوں کا حصول ہے جس میں انسان امن اور آزادی سے
1/21
بغیر کسی خوف(Fear of unknown or fear of Gods)کے جی سکے، اپیکورس اور اس کو ماننے والے بہت سادہ کھانے, سادہ طرز زندگی اور فلاسفی کے مختلف امور پر پر مغز گفتگو کے لیے مشہور تھے۔
اپیکورس کے خیال میں زندگی کا مقصد امن اور سکون تلاش ہونا چاہیے جو انسانی زندگی کے دکھ اور پریشانیوں
2/21
کو دور کر سکے، ایپیکورس کے مطابق انسان کی خوشیاں اور دکھوں سے نجات انسان کی ذہانت، اور اسکی اخلاقیات میں پوشیدہ ہیں۔
ایپیکورس کے خدا کے بارے میں چار معروف اقوال جو سوالیہ انداز میں ہیں۔

1۔ کیا خدا برائی کو روکنا چاہتا ہے؟ مگر روکنے کا اہل نہیں؟
یعنی خدا قادر مطلق نہیں۔
3/21
Read 21 tweets
18 Jul
وجودیت (Existentialism) کیا ہے.
وجودیت کا موجودہ فلسفہ ان سوالوں کی وجہ سے نمودار ہوا کہ زندگی اور اس کا مقصد کیا ہے؟ ہم کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں اور آخرکار کہاں جائیں گے؟ فلاسفی کے مختلف شعبے بشمول مذاہب مسلسل اس کا جواب دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
1/22
زمانہ قدیم سے وجودیت کی تشریح پر مذاہب کی اجارہ داری قائم تھی جو کہ کسی ناقابل فہم آسمانی نادیدہ قوت کو بغیر کوئی ثبوت دیئے ثابت کرنے کی کوشش میں جتے رہے، لیکن وقت کےساتھ ساتھ خاص طور پر پچھلی دو صدیوں میں انسانی شعور نے بے پناہ ترقی کی جس کے نتیجے میں نہ صرف سائنسدانوں نے
2/22
سائنس و ٹیکنالوجی بلکہ فلاسفروں نے سماجی اور انسانی شعور کو بام عروج پر پہنچادیا، اسی طرح وجودیت کا ایک اہم اور متبادل بیانیہ بھی سامنے آیا۔
موجودہ وجودیت یا Existentialism کے فلسفے کا آغاز اٹھارویں صدی کے درمیان ہوا اور دوسری جنگ عظیم کے قریب اور بعد اپنی معراج کو پہنچا۔
3/22
Read 23 tweets
20 Jun
جون ايلیا خانیوال میں 2

کچھ مزید باتیں جون ایلیا کی

پچھلے تھریڈ میں ڈاکٹر محمد یوسف سمرا کے ایک آرٹیکل سے کچھ اقتباسات پیش کئے تھے سوچا کہ باقی بھی ملاحظے کے لئے پیش کردوں۔
مگر اپنے چند خیالات جون بھائی کے بارے میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ جون واقعی ایک درویش صفت انسان تھے.
1/22
انتہائی موڈی ہونے کے باوجود عاجزی ان کے لہجے سے عیاں تھی، ایک مشاعرے میں جون کہتے ہیں کہ "یہ افلاطون کا معاشرہ نہیں ہے، یہ سقراط کا معاشرہ نہیں ہے، یہ لاکرگس کا معاشرہ نہیں، ہمارا معاشرہ بونوں کا معاشرہ ہے اور میں ایک بونا شاعر ہوں جسے بہترین سامعین میسر آئے"۔
2/22
اب چلتے ہیں ڈاکٹر محمد یوسف سمرا کے اقتباسات جانب۔

وہ شام جون ایلیا کے نام تھی اور آب حیات پینے کے بعد جون نے حیات نو پالی تھی۔ اس کے منحنی لاغر چہرے پر تمازت آ گئی تھی۔ موسم اگرچہ گرم تھا مگر اس شام ہلکی آندھی آئی تھی جو مشاعرہ شروع ہونے تک متوازن قسم کی ہوا میں بدل.
3/22
Read 22 tweets
14 Jun
ہمارا خطہ گردن تک غم و الم میں دھنسا ہوا‌ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ غم نگاری افسانوی حیثیت اختیار کرگئی۔

گوتم بدھ نے بھی زندگی کو ایک دکھ قرار دیا ہے۔

اسلم انصاری کی نظم گوتم بدھ کا آخری واعظ ملاحظہ فرمائیں۔
1
گوتم کا آخری وعظ

مرے عزيزو
مجھے محبت سے تکنے والو
مجھے عقيدت سے سننے والو
مرے شکستہ حروف سے اپنے من کی دنيا بسانے والو
مرے الم آفريں تکّلم سے انبساطِ تمام کی لازوال شمعيں جلانے والو
بدن کو تحليل کرنے والی رياضتوں پرعبور پائے ہوئے،سکھوں کو تجے ہوئے بے مثال لوگو
2
حيات کی رمزِ آخريں کو سمجھنے والو، عزيز بچّو، ميں بجھ رہا ہوں
مرے عزيزو، ميں جل چکا ہوں
مرے شعورِ حيات کا شعلہء جہاں تاب بجھنے والا ہے
مرے کرموں کی آخری موج ميری سانسوں ميں گھل چکی ہے
ميں اپنے ہونے کی آخری حد پہ آگيا ہوں
تو سن رہے ہو، مرے عزيزو، ميں جا رہا ہوں
3
Read 7 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!

:(