#قرآن_کی_تاثیر
ایک اسٹریلین خاتون ام امینہ بدریہ کی ایمان افروز داستان قبول اسلام انہی کی زبانی سنیے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے والد کا تعلق تھائی لینڈ سے تھا۔ وہ پیدائشی لحاظ سے مسلمان تھے لیکن عملی طور پر ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔

جبکہ میری والدہ بدھ مت تھیں اور والد صاحب 👇
سے شادی کے وقت مسلمان ہوئی تھیں۔ وہ دونوں بعد میں آسٹریلیا آ کر آباد ہو گئے تھے۔ میرا پیدائشی نام ” ٹے نی تھیا‘‘ Tanidthea تھا۔ میں نے یونیورسٹی آف نیو انگلینڈ، آرمیڈیل سے ایم اے اکنامکس کیا اور بزنس مارکیٹنگ اور ہیومن ریسورسز کے مضامین پڑھے۔ پھر میں بطور ٹیوٹر پڑھانے لگی۔
👇
اسی اثناء میں شادی ہو گئی۔ شادی اسلامی قانون کے مطابق ہوئی۔ میرے شوہر کمپیوٹر گرافکس ڈیزائنر تھے۔ وہ شادی کے وقت مسلمان ہوئے تھے
لیکن نام کے مسلمان تھے اسلام پر ہرگز عامل نہیں تھے میرے باپ بھی نام کے مسلمان تھےاور انہیں دین کےبارے میں کچھ معلوم نہ تھانہ انہوں نےہمیں کچھ بتایا۔
👇
یہی وجہ تھی کہ ہم بھی دین سے مکمل طور پر عاری تھے۔ میں کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ اللہ مجھے معاف کرے، میں ملحد تھی۔ میں جب اپنے شوہر کے ساتھ تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ گزار چکی تو ایک وقت مجھ پر ایسا آیا کہ دنیا سے میرا دل اچاٹ ہو گیا اور میں پریشانی کی حالت میں تھی۔
👇
اس پر میں نے سوچا کہ مجھے نماز پڑھنی چاہیے جیسا کہ میں نے ایک دفعہ اپنے والد صاحب کو کہیں پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیکن جب میں نے اپنے شوہر کو اس کے بارے میں بتایا تو اس نے اس بات کا بہت برا مانا۔ اس نے کہا ( نعوذ باللہ ) کوئی اللہ واللہ نہیں ہے اور نہ نماز وغیرہ کچھ ہے۔ دریں
👇
اثنا میرے والدین وفات پا گئے تھے۔ تقریبا سات سال پہلے آسٹریلیا کی نیوساؤتھ ویلز سٹیٹ کے شہر آرمیڈیل کی ایک چھوٹی سی مسجد میں گئی جو کہ غیر ملکی مسلم طلبہ کیلئے تعمیر کی گئی تھی۔ وہاں سے میں نے انگلش ترجمے والا قرآن مجید پڑھنے کیلئے مستعار لیا۔ میں اسےگھر لےجا کر محض اس کی ورق
👇
گردانی (Flip) کر رہی تھی کہ سورہ یاسین کی ان آیات کا ترجمہ میرے سامنے آیا جن میں چاند اور سورج کی حرکت کے بارے میں سائنسی انداز میں بیان کیا گیا ہے: ” اور سورج اپنی معین راہ پر گردش کر رہا ہے یہ اللہ عزیز و علیم کی منصوبہ بندی ہے اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کر رکھی ہیں یہاں 👇
تک کہ وہ ہر پھر کی کھجور کی سوکھی ٹہنی کی طرح ہو جاتا ہے۔ نہ سورج کی یہ مجال کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے اور یہ سب اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں۔ ‘‘ یہ ترجمہ پڑھنا تھا کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میرے جسم میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوئی۔

👇
میں نے سوچا کہ نبی علیہ السلام امی تھے۔ یعنی پڑھے لکھے نہ تھے لیکن اتنے بہترین سائنسی انداز میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے تو ضرور ان پر اللہ کی طرف سے وحی آسکتی ہے۔ بس اس لمحے میرے دل کی دنیا بدل گئی اور میں نے اللہ کی کتاب قرآن عظیم الشان کا مطالعہ اور اس میں
👇
غور وفکر شروع کردیا۔ میں جب بھی اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتی ہوں پہلے اپنے سابقہ عمل پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتی ہوں اور پھر اسلام پر پورا پورا عمل کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں قبول اسلام کے بعد مسجد میں جاتی رہی شروع شروع میں، میں پردہ نہیں کرتی تھی
پھر جب نمازیوں نے مجھے
👇
بتایا کہ یہ گناہ ہے تو اسی دن سے میں نے اپنے گھر جا کر اسکارف لیا اور پہننا شروع کر دیا، نیز اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کرنے لگی۔ میں نے خاصی کوشش کی کہ میں اپنے شوہر کو اسلام کے بارے میں قائل کر سکوں لیکن وہ نہ مانا، حالانکہ میری اس سے بیٹی بھی پیدا ہو چکی تھی۔ آخر میں نے اس سے👇
کہا کہ یا اسلام قبول کر لو یا مجھے چھوڑ دو۔ تب اس نے مجھے طلاق دے دی اور مجھ سے اور میری بیٹی سے دستبردار ہو گیا۔ اسلام لانے سے پہلے میری بیٹی کا نام ( توان وارٹ ) تھا۔

اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے اس کا نام تبدیل کر کے امینہ رکھ دیا میں نے اپنانام غزوہ بدر کی نسبت سے بدریہ
👇
رکھا تھا۔ بیٹی کے حوالے سے میں ام امینہ کہلاتی ہوں۔
آسٹریلیا کے مسلمانوں میں اکثریت عمل سے دور ہے لیکن وہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو قرآن اور سنت پر مکمل عمل کر رہے ہیں اکثر مسلمان عورتیں شرعی پردہ نہیں کرتیں۔صرف رواجی پردہ کرتی ہیں جب گھر سے باہر نکلنا ہوتا ہے تو خوب پردہ کر لیتی
👇
ہیں لیکن گھروں میں نوکروں، دیوروں اور رشتے داروں کے سامنے پردے کا حق ادا نہیں کرتیں جس کا سارا گناہ ان کے ساتھ ساتھ ان کے شوہروں کو بھی ہو گا۔ میں ان سے یہی کہوں گی کہ وہ اپنے اللہ کی طرف رجوع کریں۔ ان شاء اللہ ان کا یہ عمل دنیا و آخرت کی کامیابی کیلئے اجر کا ذریعہ ہوگا۔

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with 🇵🇰M.Adil. Hussain🇵🇰

🇵🇰M.Adil. Hussain🇵🇰 Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @MAdiIHussain

13 Sep
#نعمت_اور_عذاب
ایک سبق اموز تحریر
ایک گاوں کے امام مسجد نے عیسائیت قبول کرلی اور یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی. اس گاوں کے دیگر علماء اور اسلامی شخصیات امام صاحب سے ملنے ان کے گھر گئے کہ اصل وجہ معلوم کی جا سکے، دوران ملاقات امام صاحب جو کے عیسائیت قبول کر چکے تھے
👇
کچھ اس طرح اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں.
"ایک دن مجھے صبح کی نماز سے دیر ہو گئ اور مسجد میں اقامت ہو رہی تھی وضو کرتا تو زیادہ دیر ہو جاتی.اور مقتدی لعن تعن کرتے اسلیے سوچا آج بے وضو ہی جماعت کرا دوں. اور میں نے ایسا ہی کیا. دل میں خوف خدا بہت آیا اور میں کسی عذاب کا انتظار
👇
کرنے لگا مگر الله نے مجھے مہلت دے دی اور کوئی عذاب نہ آیا. اس طرح میں نے کافی مرتبہ کیا لیکن کوئی عذاب نہ آیا.چونکہ اب دیر تک سونے کی عادت بن چکی تھی اور یہ بے وضو جماعت کروانا میرا معمول بن چکا تھا. جبکہ الله کی طرف سے کوئی بھی عذاب نہ آیا. جبکہ میری بیوی کی طرف سے بھی
👇
Read 14 tweets
12 Sep
تاریخ کے اوراق سے اقتباس
یہ تحریر ضرور پڑھیں, ایسی تحاریر بہت کم ملتی ہیں

خلیفہ عبدالملک بن مروان بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا- اس کی نظر ایک نوجوان پر پڑی- جس کا چہرہ بہت پُر وقار تھا- مگر وہ لباس سے مسکین لگ رہا تھا- خلیفہ عبدالملک نے پوچھا، یہ نوجوان کون ہے۔ تو اسے بتایا
👇
گیا کہ اس نوجوان کا نام سالم ہے اور یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیٹا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا پوتا ہے۔
خلیفہ عبدالملک کو دھچکا لگا۔ اور اُس نے اِس نوجوان کو بلا بھیجا-
خلیفہ عبدالملک نے پوچھا کہ بیٹا میں تمہارے دادا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بڑا
👇
مداح ہوں۔ مجھے تمہاری یہ حالت دیکھ کر بڑا دکھ ہوا ہے۔ مجھے خوشی ہو گی اگر میں تمھارے کچھ کام آ سکوں۔ تم اپنی ضرورت بیان کرو۔ جو مانگو گے تمہیں دیا جائے گا-
نوجوان نےجواب دیا، اے امیر المومنین! میں اس وقت اللہ کے گھر بیتُ اللّٰہ میں ہوں اور مجھے شرم آتی ہے کہ اللہ کے گھر میں
👇
Read 8 tweets
11 Sep
#جنگ_یمامہ
تاریخ کے اوراق سے اقتباس

مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی
اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا۔
خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے: لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں
یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو"
👇
بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:
مدینہ میں کوئی نہ رہے حتٰی کہ جنگل کے
درندے آئیں اور ابوبکرؓ کو گھسیٹ کر لے جائیں"
صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر حضرت علی المرتضیؓ شیر خدا خلیفة الرسول
سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ
خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔

13 ہزار کے مقابل
👇
بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو
اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔
یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے: "بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی
نہ کبھی بعد میں لڑی"
اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر احد
خندق خیبر موتہ وغیرہ صرف 259
صحابہ کرام شہید ھوۓے تھے۔ختم نبوتﷺ کے دفاع میں 1200صحابہؓ
👇
Read 11 tweets
7 Feb
السلام علیکم
نہایت نصیحت اموز ایک بار پڑھیے گا ضرور
تقسیم ہند سے پہلے پنجاب کے دل لاہور سے” پرتاب”
نام کا ایک اخبار نکلا کرتا تھا جو کہ پرتاب نام کے ایک ہندو کا تھا وہی اس کا مالک بھی تھا اور چیف ایڈیٹر بھی ،

ایک دن پرتاب نے سرخی لگا دی : تمام مسلمان کافر ہیں
👇
لاہور میں تہلکہ مچ گیا ،پرتاب کے دفتر کے باہر لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا جو مرنے مارنے پر تیار تھا، نقصِ امن کے خطرے کے پیش نظر انگریز کمشنر نے پولیس طلب کر لی، مجمعے کو یقین دلایا گیا کہ انصاف ہو گا اور مجرم کو قرار واقعی سزا دی جائے گی، تمام مکاتب فکر کی مشترکہ کمیٹی کے
👇
پچاس آدمیوں کی مدعیت میں پرچا کٹوا دیا گیا۔ چالان پیش کیا گیا اور میجسٹریٹ نے جو کہ انگریز ہی تھا ،پرتاب سے پوچھا یہ اخبار آپ کا ہے ؟ جی میرا ہے!

اس میں جو یہ خبر چھپی ہے کہ مسلمان سارے کافر ہیں اپ کے علم اور اجازت سے چھپی ہے ؟

جی بالکل میں ہی اس اخبار کا مالک اور
👇
Read 13 tweets
5 Feb
#FeelPainOfKashmir
9 اگست1931 کو برکت علی محمڈن ہال لاہور میں علامہ اقبال کی زیرِ صدارت اجلاس کا فیصلہ ہوا کہ 14 اگست کو جلسہ اور جلوس ہوگا۔ بعد ازنمازجمعہ دہلی دروازے سے جلوس نکلا جو باغ بیرون موچی گیٹ پہنچا جہاں علامہ اقبال کی صدارت میں جلسہ ہوا جس میں ایک لاکھ سے زائد مسلمان
شریک تھے۔ اس جلسے میں” شہیدانِ کشمیرزندہ باد” اور ”ڈوگرہ راج مردہ باد” کے نعرے لگے۔ جلسے سے خطاب کرتےہوئے علامہ اقبال نے کہا کہ اب کوئی مہاراجہ عوام کی مرضی کے خلاف عوام پرحکومت نہیں کرسکتا۔ 14اگست1931کو علامہ اقبال کی زبان سےتحریکِ آزادی کا باقاعدہ اعلان ہوا۔
#FeelPainOfKashmir
اس سے قبل1930میں وہ خطبہ الٰہ آباد میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ مملکت کا تصور بھی پیش کرچکے تھے۔ 14 اگست کو ایک بڑا جلسہ سیالکوٹ میں ہوا اور خواتین نے سرینگر میں جلوس نکالا۔ تحریک کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا اورکچھ ہی عرصے بعد 1932 میں آل جموں وکشمیر کانفرنس
#FeelPainOfKashmir
Read 5 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!

:(