ایک انسان تھا جسے دنیا "ضرار بن ازور ؓ " کے نام سے جانتی تھی!
۔ ۔ ۔
یہ ایک ایسے انسان تھے کہ اس دور میں دشمن ان کے نام سے کانپ اٹھتے تھے اور انکی راہ میں آنے سے کتراتے تھے۔ جنگ ہوتی تھی تو سارے دشمن اور فوجیں زرہ اور جنگی لباس پہن کر جنگ لڑتے تھے۔
لیکن آفریں حضرت ضرار ؓ پر, زرہ تو درکنار اپنا کرتا بھی اتار دیتے تھے۔
لمبے بال لہراتے چمکتے بدن کے ساتھ جب میدان میں اترتے تھے تو ان کے پیچھے دھول نظر آتی تھی اور انکے آگے لاشیں۔ اتنی پھرتی، تیزی اور بہادری سے لڑتے تھے کہ دشمن کے صفیں چیر کر نکل جاتے تھے۔ ا
ان کی بہادری نے بےشمار مرتبہ حضرت خالد بن ولید ؓ کو تعریف کرنے اور انعام و کرام دینے پر مجبور کیا۔
دشمنوں میں وہ "ننگے بدن والا" کے نام سے مشہور تھے۔
رومیوں کے لاکھوں کی تعداد پر مشتمل لشکر سے جنگِ اجنادین جاری تھی۔ حضرت ضرارؓ حسب معمول میدان میں اترے
اور صف آراء دشمن فوج پر طوفان کی طرح ٹوٹ پڑے, اتنی تیزی اور بہادری سے لڑے کہ لڑتے لڑتے دشمن فوج کی صفیں چیرتے ہوئے مسلمانوں کے لشکر سے بچھڑ کر دشمن فوج کے درمیان تک پہنچ گئے۔ دشمن نے انہیں اپنے درمیاں دیکھا تو ان کو نرغے میں لے کر بڑی مشکل سے قید کر لیا۔
مسلمانوں تک بھی خبر پہنچ گئی کہ حضرت ضرار ؓ کو قید کر لیا گیا ہے۔
حضرت خالد بن ولید ؓ نے اپنی فوج کے بہادر نوجوانوں کا دستہ تیار کیا اور حضرت ضرارؓ کو آزاد کروانے کے لیے ہدایات وغیرہ دینے لگے۔
اتنے میں انہوں نے ایک نقاب پوش سوار کو دیکھا
جو گرد اڑاتا دشمن کی فوج پر حملہ آور ہونے جا رہا ہے۔ اس سوار نے اتنی تند خوہی اور غضب ناکی سے حملہ کیا کہ اس کے سامنے سے دشمن پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔
حضرت خالد ؓ اس کے وار دیکھ کر اور شجاعت دیکھ کر عش عش کر اٹھے اور ساتھیوں سے پوچھا کہ یہ سوار کون ہے؟
لیکن سب نے لاعلمی ظاہر کی کہ وہ نہیں جانتے۔ حضرت خالد ؓ نے جوانوں کو اس سوار کی مدد کرنے کو کہا اور خود بھی مدد کرنے اس سوار کی جانب لپکے۔
گھمسان کی جنگ جاری تھی کبھی حضرت خالد بن ولید ؓ اس سوار کو نرغے سے نکلنے میں مدد کرتے اور کبھی وہ سوار حضرت خالد ؓ کی مدد کرتا۔
حضرت خالد ؓ اس سوار کی بہادری سے متاثر ہو کر اس کے پاس گئے اور پوچھا کون ہو تم؟ اس سوار نے بجائے جواب دینے کے اپنا رخ موڑا اور دشمنوں پر جارحانہ حملے اور وار کرنے لگا موقع ملنے پر دوسری بار پھر حضرت خالد ؓ نے پوچھا: اے سوار تو کون ہے؟
س سوار نے پھر جواب دینے کی بجائے رخ بدل کر دشمن پر حملہ آور ہوا, تیسری بار حضرت خالد ؓ نے اس سوار سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ اے بہادر تو کون ہے؟
تو نقاب کے پیچھے سے نسوانی آواز آئی کہ میں ضرار ؓ کی بہن "خولہ بنت ازور ؓ" ہوں
اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گی جب تک اپنے بھائی کو آزاد نہیں کروا لیتی۔ حضرت خالد ؓ نے کہا کہ پہلے کیوں نہیں بتایا تو کہنے لگی آپ نے منع کر دینا تھا۔ حضرت خالد ؓ نے کہا آپ کو آنے کی کیا ضرورت تھی ہم تھے آزاد کروانے کے لیے تو حضرت خولہ ؓ نے جواب دیا
کہ جب بھائیوں پر مصیبت آتی ہے تو بہنیں ہی آگے آیا کرتیں ہیں۔
پھر مسلمانوں اور حضرت خولہ ؓ نے مل کر حضرت ضرار ؓ کو آزاد کروا کر ہی دم لیا۔

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Muhammad Waleed

Muhammad Waleed Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @Muhamma297

12 Oct
مسلمانوں کی ذمہ داری
🔸 حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ کی رستم سے ایمان افروز گفتگو 🔸
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی امارت و سرکردگی میں ایک لشکر ایرانیوں سے مقابلے کے لیے گیا ، ایرانی لشکر کا سپہ سالار مشہور زمانہ پہلوان و بہادر ’’ رستم ‘‘ تھا ،
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے رستم کی درخواست پر حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ کو اس سے بات چیت کے لیے بھیجا ، ایرانیوں نے رستم کا دربار خوب سجا رکھا تھا ، ریشم وحریر کے گدے ، بہترین قالین ، سونے و چاندی کی اشیا اور دیگر اسبابِ زینت سے آراستہ پیراستہ کردیا تھا ، حضرت ربعی بن
عامر رضی اللہ عنہ گھوڑے پر سوار ، ہتھیارات سے لیس ، پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ، اس شان کے ساتھ رستم کے دربار میں پہنچے ، کہ ننگی تلوار آپ کے ہاتھ میں تھی ۔ دربار میں رستم کا فرش بچھاہوا تھا ، آپ گھوڑے کو اسی پر چلاتے ہوئے اندر جانے لگے ،
Read 8 tweets
12 Oct
ایک دن امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی' عنہ کھانا کھا رہے تھے کھانے کے بعد آپ کا دل کسی میٹھی چیز کھانے کو چاہا.. آپ نے اپنی زوجہ صاحبہ سے پوچھا.. " کیا کوئی میٹھی چیز نہیں ہے..؟
" انہوں نے جواب دیا.. "بیت المال سے جو راشن آتا ہے اس میں میٹھی کوئی چیز نہیں ہوتی.."
آپ سن کر چپ ہو گئے..
چند دن بعد آپ رضی اللہ تعالی' عنہ نے دیکھا کہ دسترخوان پر کھانے کے ساتھ حلوہ بھی موجود ہے.. آپ نے اپنی زوجہ صاحبہ سے فرمایا..
" تم نے تو کہا تھا کہ ہمارے راشن میں میٹھی کوئی چیز نہیں آتی تو پھر آج یہ حلوہ کیسے بن گیا..؟ "
آپ کی زوجہ محترمہ نے جواب میں فرمایا.. " میں نے جو اس دن محسوس کیا کہ آپ کو میٹھی چیز کی خواھش ھے تو میں نے یوں کیا کہ راشن میں جتنا آٹا روزانہ آتا تھا اس میں سے مٹھی بھر آٹا الگ
Read 6 tweets
12 Oct
خلیفہ الرسول حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کو ایک دفعہ پینے کے لیے پانی دیا گیا جس میں تھوڑا سا شہد ڈالا ہوا تھا
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جونہی پیالہ اپنے منہ کے قریب کیا تو رونے لگ گئے
اور اس قدر روئے کہ آس پاس والے بھی رونے لگ گئے لیکن کسی کو سبب پوچھنے کی جراءت نہ ہوئی ۔ آخر جب کافی دیر رونے کے بعد طبیعت ہلکی ہوئی تو کسی نے پوچھا ، اے خلیفہ الرسول آپ اتنا کیوں روئے
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا شہد ملے پانی کو دیکھ کر مجھے ایک بات یاد آگئی ، میں اپنے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ہاتھوں سے کسی چیز کو پرے ہٹا رہے ہیں ،
Read 7 tweets
12 Oct
👈 *جیسا باپ ویسا بیٹا* 👉
امیرالمومنین حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ ابھی اپنے بستر پر پہلو کے بل لیٹے ہی تھے کہ ان کا سترہ سالہ بیٹا عبدالملک کمرے میں داخل ہوا ۔ اس نے کہا : امیرالمومنین آپ کیا کرنا چاہتے ہیں ؟
فرمایا : بیٹا میں تھوڑی دیر سونا چاہتا ہوں ، اس لیے کہ اب میرے جسم میں طاقت نہیں ہے ، میں بہت تھک چکا ہوں ۔ بیٹے نے کہا :
امیرالمومنین ! کیا آپ مظلوم لوگوں کی فریاد سنے بغیر ہی سونا چاہتے ہیں ؟ ان کا وہ مال جو ظلم سے چھینا گیا ہے
نھیں واپس کون دلائے گا؟ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے فرمایا : بیٹا ! چونکہ میں تمھارے چچا خلیفہ سلیمان کی وفات کی وجہ سے گزشتہ ساری رات جاگتا رہا ، تھکاوٹ کی وجہ سے میرے جسم میں طاقت نہیں ۔
Read 9 tweets
12 Oct
حضرت آدم علیہ السلام کا قد کتنا تھا؟ حیرت انگیز اسلامی معلومات
قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام میں سب سے پہلا تذکرہ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کا ہے۔ نو سورتوں میں کوئی ۲۵ مختلف آیتوں میں آپ علیہ السلام کا نام آیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر دس صحائف نازل فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی عظیم صفت ’’علم‘‘ سے اشیاء کا علم عطا فرمایا۔ آئندہ زندگی میں کیونکہ انسان کو ان اشیا سے واسطہ پڑنا تھا اس لیے یہ علم اس کی ایک فطری ضرورت تھی۔
حضرت آدم علیہ السلام کا خمیر ایسی مٹی سے گوندھا گیا جو نت نئی تبدیلیوں کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
حضرت آدم علیہ السلام جنت میں ایک عرصہ تک تنہا زندگی بسر کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بائیں پسلی سے ایک عورت کو پیدا کیا۔
Read 7 tweets
11 Oct
غسل دینے والی عورت نے جب یه کها تو قدرت کی طرف سے گرفت آ گئی اس کا هاتھ ران سے چمٹ گیا جتنا کھنچتی هے وه وه جدا نهیں هوتا زور لگاتی هے مگر ران ساتھ هی آتی هے دیر لگ گئی,,میت کے ورثاء کهنے لگے بی بی
جلدی غسل دو,شام هونے والی هے هم کو جنازه پڑھ کر اسے دفنانا بھی هے. وه کهنے لگی که میں تو تمهارے مردے کو چھوڑتی هوں مگر وه مجھے نهیں چهوڑتا,رات پڑ گئی,مگر هاتھ یونهی چمٹا رها,
دن آ گیا پر هاتھ چمٹا رها اب مشکل بنی تو اس کے ورثاء علماء تک پهنچ گئے. ایک مولوی سے پو چھتے هیں ,مولوی صاحب!ایک عورت دوسری کو غسل دے رهی تھی تو اس کا هاتھ اس میت کی ران کے ساتھ چمٹا رها اب کیا کیا جاۓ??
Read 14 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!

:(