Shahzaib Profile picture
12 Jan, 10 tweets, 3 min read
یونان میں Agamemnon کو خدا نے پیغام بھجوایا اپنی پیاری بیٹی قربان کر دے ابھی چھری گردن پر رکھی تھی کہ لڑکی کی جگہ آسمان سے بارہ سنگھا آگیا۔
وہیں یونان میں ایک کہانی اور بھی تھی جب انکی فوج کو Aulis کے مقام پر تیز ہواؤں نے گھیر لیا، مذہبی پیشواؤں نے بادشاہ کو بتایا آپ نے
ڈیانا دیوی کو ناراض کر دیا ہے اس لئے اب اپنی بیٹی Isphigenia کی قربانی پیش کریں بادشاہ بیچارہ راضی ہوگیا مگر جیسے ہی تلوار چلتی لڑکی کی جگہ ایک بکری نے لے لی۔
وہیں سپارٹا میں ایک مرتبہ خدا نے خوبصورت Helena کی قربانی مانگ لی جیسے ہی جلاد نے تلوار اٹھائی ایک گائیں لڑکی کی جگہ
آگئی۔
ہندوستان میں ہری چندرہ کا بیٹا نہیں تھا اس نے ورونا سے دعا کی مجھے بیٹے عطا فرمائیں پہلا بیٹا آپ پر قربان کر دوں گا۔ بیٹا رہوہیتا پیدا ہوا باپ نے قربان کرنے کا ارادہ کیا اور وہی ہوا جیسا اس طرح کی دوسری کہانیوں میں ہوتا ہے۔
حضرت موسیٰ کی قوم مصر سے نکلنے کے بعد جہاں
بسی وہاں بت پرستی عروج پر تھی اور انکی قوم اس کو پسند بھی کرتی تھی دوسری مصیبت یہ تھی یہاں Baal, Chemosh اور Moloch خداؤں پر بچے قربان کئے جاتے تھے اور بنی اسرائیل والے بھی اس عمل میں شامل ہوتے جا رہے تھے۔ Gehenome وادی بن ہنم جو اسرائیل میں موجود ہے وہ بچوں کی قربانی کا بڑا مرکز
تھا یہ جہنم کا لفظ اسی Gehenome سے نکلا ہے۔ اسی زمانے میں حضرت ابراہیم کی اپنے بیٹے کی قربانی کا قصہ علماء کی جانب سے پیش کیا گیا۔ بتانا یہ تھا کہ خدا کو انسانوں کی قربانی اب نہیں چاہیے دنبے بکرے سے بھی کام چل جائے گا۔ یونانی کہانیوں کا مقصد بھی یہ ہی تھا۔
انسانی قربانی تو
پوری دنیا میں عروج پر تھی۔ کسی کی کوئی مراد ہوتی تو پہلی فصل یا باغ کا پہلا پھل خدا کو پیش کیا جاتا، اور بڑا کام ہوتا تو جانور کا خون خدا کی نظر ہوتا اس سے بھی بڑا کچھ ہوتا تو انسان قربان کیا جاتا، عموماً جنگی قیدی قربان ہوتے زمانہ امن میں غلام زبح کر دئے جاتے۔ بڑی ہی کوئی آفت
ہوتی جیسے قحط وغیرہ تو خدا کی راہ میں بادشاہ ہی قربان کر دیا جاتا جیسے ورما لینڈ کے لوگوں نے بادشاہ کو اوڈین خدا کے نام پر قربان کر دیا تھا۔
ناروے کے Earl Hakon کو سمندری لٹیروں سے لڑنے جانا تھا جانے سے پہلے اوڈین خدا پر اپنا بیٹا قربان کر گئے۔
یہیں Aun بادشاہ نے اپنی لمبی
عمر کے لئے اپنے نو بیٹے اوڈین خدا پر قربان کئے تھے۔
اسرائیلی بادشاہوں کا رواج تھا پہلا بیٹا بعل یا ملوچ کے نام پر قربان کرتے۔ Phoenicians قوم پر جب قحط سالی آتی تو علاقے کے سب سے گورے بچے کو قربان کر دیتے۔
میکسیکو اور پیرو میں تو خدا اس وقت تک راضی نہیں ہوتا تھا جب تک کچھ درجن
انسان اس پر قربان نہ کر دیں وہاں کرسچن مذہب کے آنے کے بعد یہ رسم ختم ہوئی۔
ہر مذہبی کہانی کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ان کہانیوں سے مذہبی پیشوا معاشرے کی اصلاح کرنے کی کوشش کرتے تھے مگر یہ انھیں خدا سے منسوب کردیتے تھے۔
ابراہیمی مذاہب میں حضرت ابراہیم کا اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے
قصے سے متعلق یہودی اور کرسچن کہتے بیٹا اسحاق تھے جبکہ مسلمان کہتے وہ اسماعیل تھے یہ اصل کہانی بہت خوبصورت ہے مگر پاکستان کے قوانین مجھے اجازت نہیں دیتے کہ وہ میں یہاں بیان کروں خود تحقیق کریں۔

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Shahzaib

Shahzaib Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

More from @szkkhi

14 Jan
ہندوستان میں برھما خدا کو لگا کہ لوگ آپے سے باہر ہوگئے ہیں ان پر طوفان لا کا کر ڈبو دیا جائے۔ وشنو کے روپ میں خدا زمین پر آئے اور ایک نیک آدمی مانو کو حکم دیا کشتی بناؤ اور یاد سے اس میں ضروری جڑی بوٹیاں اور سات نیک آدمیوں کو بٹھا دینا۔ مانو اور انکے ساتھی بچ گئے اور سب بد بخت Image
ہلاک ہوگئے۔ وہاں یونان کے خدا Zeus بھی جب اپنے گھر اولمپس کے پہاڑ سے نیچے شھر میں آئے تو دیکھا لوگ گناہوں میں سب بھول گئے ہیں اب ان پر سیلاب لایا جائے مگر Deucalion کو حکم ہو چکا تھا کشتی بناؤ اور بیوی اور ضرورت کا سامان لے کر سوار ہو جاؤ باقی عوام ڈوب مری۔ وہاں دوسری طرف Image
بابل کے خدا Enki کو بھی یہ خیال آیا تھا کہ لوگ سدھرنے والے نہیں ہیں ان پر سیلاب لایا جائے اپنے محبوب بندے Atrahasis کو بولا کشتی بنا لو۔ وہاں میکسیکو کے خدا نے سیلاب سے سب کو مارا صرف Coxcox کو پہلے سے کشتی بنانے کا مشورہ دیا تھا۔
مانو کو طرح چین میں Fo-hi تھے، فارس میں Image
Read 6 tweets
1 Jan
مانا جاتا تھا انسان کو تہذیب دیوتاؤں سے نہیں دیویوں سے ملی ہندومت کے مطابق حروف زبان یہ سرسوتی دیوی نے انسانوں کو سکھائے، یورپ میں Brigid دیوی نے انسانوں کو لکھنا پڑھنا سکھایا، بابل میں مانا جاتا لکھنا انسان نے Nidaba دیوی سے سیکھا۔
بابل میں کہا جاتا انسان کو زراعت کا
علم Ninlil دیوی نے دیا۔ یورپ میں عقلمندی دینے والی Cerridwen دیوی تھی، یونانیوں کے مطابق حکمت Gaia دیوی نے ایجاد کی وہاں قوانین انسان کو Demeter دیوی نے سمجھائے۔ مصری مانتے تھے Isis دیوی نے قوانین بنائے اور کائنات میں تناسب Maat دیوی رکھے ہوئے۔
بابل میں Ishtar دیوی لوگوں کی
ذندگی چلاتی تھی۔ شھرِ نمرود کے آثار سے معلوم چلا کہ وہاں خواتین جج موجود تھیں۔
نو ہزار سال پہلے بھی اس خطے میں خدا عورت جیسی شئے تھی۔ یہودیت جس معاشرے میں وجود میں آئی وہاں بھی Ashtoreth دیوی کا زور تھا۔
ابراہیمی مذاہب کے مبلغین کا سامنا اکثر ایسے مذاہب سے ہوتا تھا جہاں خدا
Read 5 tweets
11 Nov 21
یورپ کی عوام کسی زمانے میں یہ عقیدہ رکھتی تھی کہ حکمران خدا کی طرف سے نامزد ہوتے ہیں اور یہ عوام سے مختلف ہوتے ہیں جیسے یہ سمجھا جاتا تھا کہ بادشاہ سلامت اگر کسی مریض کو چھو لیں تو اُسے بیماریوں سے نجات مل جاتی اسے Royal Touch کہا جاتا تھا۔ برطانیہ اور فرانس کی عوام اس میں
سب سے آگے تھی۔ بادشاہ Edward Confessor کے بارے میں مشھور ہوا کہ وہ اگر کسی گٹھ مالا بیماری کے شکار مریض کو ہاتھ لگا دیں تو وہ صحتیاب ہوجاتا۔ روزانہ بڑی تعداد میں لوگ بادشاہ کا ہاتھ لگوانے آتے۔ برطانیہ اور فرانس میں یہ رسم سات سو سال تک چلی۔ بادشاہ بھی خوش تھے کہ عوام کے دل میں
انکی محبت بڑھتی اور عوام بھی خوش تھی جسے اس بہانے بادشاہ سے ملنے کا موقع ملتا۔ عوام کو یہ اس لئے بھی اچھا لگتا تھا کہ بادشاہ برکت کے لئے ہر مریض کو چھونے کے علاؤہ St Michael کے نقش والا ایک سونے کا سکہ بھی دیا کرتے تھے۔ یورپ کے ہر بندے کے لئے یہ ممکن نہیں تھا وہ لندن یا پیرس
Read 6 tweets
12 Sep 21
انسان کو مٹی سے بنایا گیا اس نظریہ پر تقریباً ساری پرانی بڑی تہذیبوں میں اتفاق رہا ہے۔

قدیم یورپی باشندے سمجھتے تھے کے خدا نے مٹی اور مختلف جانورں کا خون ملا کر انسان بنائے اب جس کی مٹی میں چوہے کا خون ملایا وہ چور بن گیا، سانپ کے خون والے ڈرپوک لوگ ہیں مرغے کے خون اور مٹی
سے بنے ہوئے انسان بہادر ہیں۔ مصری تہذیب میں Khnum خدا نے ایک کمہار کی طرح مٹی سے انسان بنائے۔ یونان میں مٹی سے انسان بنانے کا کام Prometheus دیوتا کرتے تھے۔ بابل کی تہذیب میں Marduk خدا کے کٹے ہوئے سر سے جو خون نکل کر مٹی میں ملا اس سے انسان تخلیق دئے گئے۔ یہودی ابتدائی انسان کے
لئے عبرانوی زبان میں مٹی اور ذمین کے لئے استعمال ہونے والا لفظ adamah استعمال کرتے ہیں۔
فلپائن والوں کا خیال تھا کے Melu خدا جب اپنے جسم پر خارش کرتے تو جو مٹی گرتی تھی وہ ایک جگہ جمع کرتے تھے جس سے انہوں نے ابتدائی انسان بنائے۔ برما کے Karen بھی کہتے انسان ریت سے بنایا
Read 7 tweets
10 Sep 21
اس بچی کے بارے میں مغرب کے اسکولوں میں پڑھایا تو جاتا ہے مگر تنقید کرنے پر antisemitism قوانین کے تحت سزا اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔
1929 میں یہ بچی Anne Frank جرمنی کے ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئی اسکی وجہ شھرت تھی اسکی ڈائری جس میں یہ جرمن افواج کے یہودیوں پر مظالم Image
لکھتی تھی۔ روانہ اپنے اطراف میں جو جرمن فوج کے ظلم و جبر دیکھتی وہ اپنی ڈائری میں لکھ دیتی۔ پندرہ سال کی عمر میں اسکا انتقال ہوگیا۔
اسکے مرنے کے بعد اسکے والد Otto Frank اس بچی کی ڈائری منظر عام پر لے آئے اور The Diary of a Young Girl کے نام سے کتاب شائع ہوگئی۔ جرمنی کے میڈیا Image
پر یہودی اثر زیادہ تھا اس لئے اس بچی کی ڈائری کو مقامی اور بین الاقوامی میڈیا میں بہت شہرت ملی۔ ڈائری میں ہٹلر کی افواج کے مظالم پڑھ کر لوگوں میں نازی پارٹی کے خلاف نفرت عروج پر پہنچ گئی مگر کچھ افراد نے باریک بینی سے مطالعہ کیا تو اسے فراڈ قرار دیا اور جرمنی کی عدالت میں بچی Image
Read 7 tweets
25 Aug 21
شوہروں کو ٹھکانے لگانے کے لئے عورتوں نے تاریخ میں سنکھیا کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ یورپ کی خواتین اس میں سب سے آگے تھیں اٹلی میں میک اپ کا سامان بیچنے والی خواتین Aqua Tofana نامی ایک شئے بھی فروخت کرتی تھیں جو دیکھنے میں کوئی بیوٹی پروڈکٹس جیسی شیشی ہوتی تھی مگر اصل میں
اس میں سنکھیا سے تیار خطرناک زہر ہوتا تھا۔ عورتیں شوہر سے جان چھڑانے کے لئے تھوڑا تھوڑا یہ طوفانہ پانی شوہر کے کھانے میں ملاتی رہتی تھیں۔ اس بیوٹی پروڈکٹ کو بنانے والی Giulia Tofana جب گرفتار ہوئی تو اعتراف کیا کہ تقریباً 600 خواتین اس پروڈکٹ کے استعمال سے رضاکارانہ بیوہ
ہو کر ذہنی سکون حاصل کر چکی ہیں۔ انھیں یہ انقلابی پروڈکٹ بنانے پر سزائے موت سے نوازا گیا۔ وہاں یورپی ملک ہنگری میں ایسے پروڈکٹ دائیاں فروخت کرتی تھیں سب سے ذیادہ کیس Nagyrav میں ہوئے جہاں یہ ٹیکنالوجی ایک دائی Zsuzasnna Fazekas نے متعارف کروائی یہاں درجنوں شوہر اس سنکھیا
Read 7 tweets

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal

Or Donate anonymously using crypto!

Ethereum

0xfe58350B80634f60Fa6Dc149a72b4DFbc17D341E copy

Bitcoin

3ATGMxNzCUFzxpMCHL5sWSt4DVtS8UqXpi copy

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!

:(