Haya Ahmed Profile picture
Feb 10 121 tweets 24 min read
غامدی کا عقیدہ
(حصہ اوّل)
بیان: ڈاکٹر مرتضیٰ بن بخش
جمع و ترتیب: اُمِّ عبداللّٰہ و اَمتہ الرحمٰن
#Ghamidi
#JavedGhamidi
#GhamidiCenter
#JavedAhmadGhamidi
#ghamidisaab
#GhamidiCIL
#قلمدان
#searchthetruth
@SearchTheTruth5 Image
فتنہ پرست،نام نہاد،روشن خیال غامدی کی اہم تصانیف:
البنیان(قرآن مجیدکاترجمہ و تفسیر)
میزان(دین کی تفہیم سےمتعلق)
برہان(تنقیدی مضامین کامجموعہ)
آئیے دیکھتے ہیں غامدی صاحب کا عقیدہ کیا ہے۔۔۔
1۔ غامدی صاحب سے سوال کیا گیا کہ کیا جنت میں صرف مسلمان ہی جائیں گے یا کوئی نیک غیر مسلم بھی جا سکتا ہے؟
جواب میں فرماتے ہیں:
’’جنت میں جانے کا معیار قرآن میں ہے، خدا اور آخرت پر یقین، اچھے اعمال کرنا اور جرائم سے دور رہنا، خواہ وہ مسلمان ہو یا یہودی ہو کسی بھی مذہب کو ماننے والا جنت کا حقدار ہے۔‘‘
(سالانہ مجلّہ مصعبی، ص: 15، سال: 2008ء-2009ء، لاہور)
ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ ارکانِ ایمان چھ ہیں جبکہ غامدی صاحب صرف دو ارکان کی بات کرتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان پہلا رکن ہے، آخرت پر ایمان پانچواں رکن ہے۔ باقی چار ارکان کہاں ہیں؟؟ کیا ان کی ضرورت نہیں ہے؟
جس کو عقیدے کے علم کی اے۔بی۔سی بھی آتی ہے وہ اس معاملے میں غلطی نہیں کرتا کہ چھ ارکانِ ایمان میں سے اگر ایک رکن پر ایمان نہیں تو پھر کسی رکن پر بھی ایمان نہیں۔ پھر تو اللّٰه تعالیٰ پر بھی ایمان نہیں۔
2۔ غامدی صاحب انبیاء سے متعلق عقیدے کے بارے میں کہتے ہیں:
’’نبی اپنی قوم کے مقابلے میں ناکام ہو سکتا ہے لیکن رسولوں کے لیے غلبہ لازمی ہے۔‘‘
(میزان، حصہ اول، ص: 23، مطبوعہ: مئی 1985ء)
تمام مسلمانوں کا اس بات پر پختہ ایمان ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کبھی کوئی ناکام نہیں ہوا۔ خدا کو حاضر و ناظر جان کر ایمان سے بتائیے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام ناکام ہو جائیں؟ جبکہ غامدی صاحب کا عقیدہ کہتا کہ ہے انبیاء ناکام ہو سکتے ہیں۔
ناکامی کے لیے عربی زبان میں فشل کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ علماء فشل کے معنیٰ بزدلی، کاہلی اور سستی کے بیان کرتے ہیں۔ غامدی صاحب کیا کہنا چاہتے ہیں کہ انبیاء کرام بزدل تھے؟ حق کو پہنچانے میں سستی سے کام لیتے تھے؟ ان جیسا حق پہنچانے والا معلم تو آج تک دنیا میں نہیں آیا نہ آ سکتا ہے۔
لیکن ہدایت دینا، دلوں کو پھیرنا انبیاء کے ہاتھ میں نہیں ہے یہ ان کے رب کے ہاتھ میں ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ
ترجمہ: بیشک ایسا نہیں ہے کہ تم جسے چاہو اسے اپنی طرف سے ہدایت دے دو۔
اگر لوگ نہ سنیں تو اس میں انبیاء کا کیا قصور ہے؟ قصور تو تب ہوتا جب وہ حق کو چھپا لیتے مگر کیا انہوں نے ایسا کیا؟ ہرگز نہیں، واللّٰہ! کسی نے نہیں کیا۔
اگر غامدی صاحب دنیاوی زندگی کے لحاظ سے بات کرتے ہیں تو انبیاء کبھی دنیا کی زندگی میں بھی ناکام نہیں ہوئے۔
بھوکا پیاسا رہنا، زہد کی زندگی گزارنا، رسولوں کا اللّٰہ کی راہ میں شہید ہونا یہ ناکامی نہیں ہے۔ اور یہ بھی جان لیں کہ انبیاء علیہم السلام کی تنقیص کا راستہ یہودیوں کا راستہ ہے، نصاریٰ کا راستہ ہے، روافض کا راستہ ہے۔ واللّٰہ یہ راستہ کبھی بھی اہلِ سنت و الجماعت کا راستہ نہیں ہوا۔
یہ سلف کا راستہ نہیں ہے۔ لیکن اہل بدعت کا ہمیشہ یہی طریقہ رہا ہے۔
3۔ غامدی صاحب فرماتے ہیں:
’’حضرت عیسٰی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔‘‘
(میزان، حصہ اول، ص: 21، طبع: 1985ء)
ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ:
’’ایک جلیل القدرپیغمبرکےزندہ آسمان سےنازل ہوجانے کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں لیکن موقع بیان کےباوجود اسکی طرف کوئی ادنیٰ اشارہ بھی قرآن کےبین الدفتین کسی جگہ مذکور نہیں.یہ واقعہ تو قرآن مجید میں ہےہی نہیں۔علم و عقل اس خاموشی پر مطمئن ہو سکتےہیں۔ اسے باور کرانا آسان نہیں ہے۔‘‘
(میزان،حصہ اول،ص:178،طبع سوم، 2008ء، لاہور)
اُمّتِ محمدیہ کا عقیدہ ہے کہ قربِ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور شریعتِ محمدی صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نفاذ کریں گےمگر علم و عقل محوِ حیرت ہیں کہ غامدی صاحب نے ان قرآنی آیات کی عجیب و غریب تفسیر یا تاویل کر ڈالی،
جو نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں واضح بتاتی ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث اُن کی مؤید بھی ہیں۔ مگر غامدی صاحب نے احادیثِ متواترہ کو بیک جنبشِ قلم صرفِ نظر ٹھہرا دیا ہے اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا واضح انکار کردیا ہے۔
4۔ غامدی صاحب کہتے ہیں:
’’قیامت کے قریب کوئی امام مہدی نہیں آئے گا۔‘‘
(ماھنامہ اشراق، ص: 60، جنوری 1996ء)
امتِ مسلمہ کا اجماع اس عقیدے پر ہے کہ قربِ قیامت امام مہدی کا ظہور ہوگا جبکہ غامدی صاحب کے نزدیک کسی عقیدے کا امر اسلامی میں داخل ہونے کے لیے قرآن میں واضح ذکر ہونا ضروری ہے۔
تو جب غامدی صاحب احادیث کا انکار کرتے ہیں، اسلامی تعلیمات کے حصول کے ایک باب کو ہی رد کرتے ہیں تو ظاہر ہے وہ امام مہدی کی آمد کا انکار ہی کریں گے۔
5۔ غامدی صاحب کہتے ہیں:
’’یاجوج ماجوج اور دجال سے مراد مغربی اقوام ہیں۔‘‘(ماھنامہ اشراق، ص:61، جنوری 1996ء)
تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہےکہ دجال قرب قیامت ظاہر ہوگا اورایک آنکھ سےکانا ہوگا مگر غامدی صاحب نےتو دجال کا تصور ہی الٹ کر رکھ دیا کہتے ہیں کہ مغربی اقوام مراد ہیں۔اگر تھوڑا ساغور و فکر کریں ان روایات پر جن میں یاجوج ماجوج اور دجال کا ذکر آیاہےتوحقیقتاً ایک خاص وجود کی بات ہورہی ہے۔
ان کی شکل و صورت ہے۔ یہاں تک کہ دجال کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”وہ بھاری بھرکم جسم، سرخ رنگت، گھنگھریالے بال اور ایک آنکھ سے نابینا ہے۔ اس کی آنکھ لٹکے ہوئے انگور کے دانے جیسی ہے۔‘‘
کیا مغربی اقوام میں سارے کانے ہیں؟؟ سبحان اللہ!! گویا کہ تحریف و تبدیلی تو کرنی ہی ہے ورنہ تجدیدی کیسے کہلائیں گے روشن خیال کیسے کہلائیں گے۔ اگر غامدی صاحب بھی وہی کہیں جو سلف نے کہا تھا تو کہاں روشن خیالی ہوگی۔۔
6۔ غامدی صاحب فرماتے ہیں:
’’دین کے مصادر و مآخذ قرآن کے علاوہ دینِ فطرت کے حقائق، سنت ابراہیمی اور قدیم صحائف ہیں۔‘‘
(میزان، ص: 48، طبع دوم، پریل 2002ء)
جمہور علماء کے نزدیک دین کے ماخذ قرآن حکیم، سنت، اجماع اور قیاس ہیں۔
یہاں ایک بات واضح ہو جائے کہ ایمانیات کا تعلق صرف ارکان ایمان سے ہے۔ ایمانیات، دلیل و استدلال اور بعض دوسری چیزیں، ان کو عقیدے کے اصول کہا جاتا ہے۔ عقیدے کے اصولوں میں سے ایک اصول یہ بھی ہے کہ ماخذِ دین کیا ہیں؟ آپ دین کہاں سے لیتے ہیں؟
الحمدللہ،قرآن تو ہے۔ دین فطرت کےحقائق، یہ کیا چیزیں ہیں؟انسان جو اعمال فطری طور پر کرتا ہےاور مان لیتا ہے،یہ ہیں دینِ فطرت کےحقائق۔ان کے نزدیک انہیں سنت ہی کہا گیا ہے۔سنت ابراہیمی اور قدیم صحائف بس۔اجماعِ امت اور قیاس ان کے نزدیک دین کا ماخذ نہیں ہیں۔حدیث کا انکار تو کرتے ہی ہیں۔
7۔ غامدی صاحب کہتے ہیں:
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد کسی شخص کو کافر قرار نہیں دیا جاسکتا۔‘‘
(ماھنامہ اشراق، ص: 54-55، دسمبر 2000ء)
ہم مسلمان جانتا ہے کہ چھ ارکانِ ایمان میں سے اگر ایک رکن پر بھی ایمان نہ ہو تو پھر آپ مسلمان نہیں
اور جو مسلمان نہیں وہ کافر ہے مگر غامدی صاحب نے تو تکفیر کا دروازہ ہی بند کر دیا۔ کوئی بھی کافر نہیں ہوسکتا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے معلوم ہوجاتا تھا کہ کون کافر ہے اور کون کافر نہیں تو جب وہ دروازہ بند ہوگیا تو کسی کو کافر نہیں کہا جائے گا۔
اب کوئی مسلمان کچھ بھی کرتا رہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ خود کہتے ہیں کہ قادیانی کافر ہیں۔ اب یہ بتائیں کہ قادیانیت کی تکفیر کس نے کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی ہے یا علماء نے کی ہے؟
غامدی صاحب عذاب قبر اور شفاعت کا انکار کرتے ہیں، فرماتے ہیں:
’’عہد رسالت میں رجم کے واقعات، کعب بن اشرف کا قتل، عذابِ قبر اور شفاعت کی روایتیں، امرت ان قاتل الناس، اور من بدل دینہ فاقتلوہ جیسے احکام اسی لیے الجھنوں کا باعث بن گئے کہ انہیں قرآن میں اصل سے متعلق کر کے سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔
حدیث کے فہم میں اس اصول کو ملحوظ رکھا جائے تو اس کی بیشتر الجھنیں بالکل صاف ہو جاتی ہیں۔‘‘
(میزان، ص: 64، طبع سوم، مئی 2008ء، لاہور)
الحمداللّٰہ! کسی ذی عقل مسلمان کے لیے حدیث کی کوئی بھی روایت الجھن کا باعث نہیں ہے
کیونکہ جمہور علماء بہت مدلل طریقے سےانکی وضاحت کرتےہیں مگرغامدی صاحب کےعقیدے کےمطابق یہ روایات الجھنوں کاباعث اسلیےبن گئیں کیونکہ حدیث کوقرآن پر تولا نہیں گیایعنی یہ کہتےہیں حدیث کوقرآن پر تولو،اگرقرآن میں ذکرملتاہےتوصحیح ہے,نہیں ملتا توحدیث کوچھوڑو ورنہ الجھن کاباعث بن جاتی ہیں۔
کیا شفاعت کا ذکر قرآن میں موجود نہیں ہے؟ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
قُلْ لِّـلّـٰـهِ الشَّفَاعَةُ جَـمِيْعًا ۖ (سورۃ الزمر:44)
ترجمہ: کہہ دیجیے کہ ہر شفاعت اللّٰہ ہی کے اختیار میں ہے۔
قبر کا ذکر بھی قرآن میں موجود ہے۔ قبر کے لفظ کے ساتھ ذکر موجود ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقۡبَرَہٗ (سورۃ العبس:21)
ترجمہ: پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں دفن کیا۔
سورۃ الغافر (سورۃ المؤمن) میں فرعون کے تعلق سے اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّاۚ- وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ- اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ (سورۃ الغافر:46)
ترجمہ: آگ جس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی، (حکم ہوگا) فرعون والوں کو سخت تر عذاب میں داخل کرو۔
یعنی فرعون اور اس کی قوم کو دنیا میں غرق کر دیا گیا، پھر انہیں صبح و شام آگ پر پیش کیا جاتا ہے اور وہ اس میں جلائے جاتے ہیں تو یہ کونسا عذاب ہے؟ یہ قبر کا عذاب ہے۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی، اس دن فرشتوں کو حکم فرمایا جائے گا کہ فرعون والوں کو جہنم کے سخت تر عذاب میں داخل کردو
وہ کونسا عذاب ہوگا؟ وہ جہنم کا عذاب ہوگا۔
جیسا کہ غامدی صاحب کہتے ہیں حدیث کو پہلے قرآن پر تولو پھر لو تو شفاعت اور عذابِ قبر کا ذکر تو قرآن میں موجود ہے ان کو تو لے لیں یا آپ اس کا بھی انکار کریں گے؟ یہ تو پھر قرآن کا بھی انکار ہوا۔ اگرچہ یہ عقیدہ، یہ نظریہ غلط ہے۔
حدیث قرآن مجید کی تاکید بھی کرتی ہے اور تکمیل بھی کرتی ہے۔ حدیث وحی ہے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے۔ اگر آپ حدیث کو خارج کر دیتے ہیں اللّٰه کی قسم نماز نہیں پڑھ سکتے۔ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ پر عمل نہیں کر سکتے اور نہ ہی صحیح طریقے سے طہارت کو پا سکتے ہیں جیسا کہ طہارت کرنے کا حق ہے۔
لیکن غامدی صاحب کی بات سن کر تول لیا قرآن پر، قبر کا ذکر اور شفاعت کا ذکر ہے تو پھر انکار کیوں کرتے ہیں؟
9۔ غامدی صاحب کہتے ہیں:’’حدیثِ احاد عقیدہ اور عمل میں حجت نہیں۔‘‘
(میزان، طبع سوم، مئی 2008)
ہمارا ایمان ہے کہ حدیث اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور یہ عقیدہ و عمل کے مسائل میں حجت ہے جبکہ حدیث احاد عقیدہ کے مسائل میں حجت نہیں، جتنے بھی اہلِ فلسفہ ہیں وہ سب یہی کہتے ہیں۔ اس کو معتزلہ کہتے ہیں عقیدے میں۔ غامدی صاحب دور حاضر کے ہیں،
تمدن کا دور ہے تو ایک لفظ اور بڑھا دیا عقیدہ اور عمل یعنی پوری شریعت ہی شامل ہوگئی نا۔ یہ ہے آج کل کے دور کی روشن خیالی۔۔۔
10۔ جاوید احمد غامدی کہتے ہیں:
’’مسجد اقصٰی پر مسلمانوں کا نہیں اس پر صرف یہودیوں کا حق ہے۔‘‘
(اشراق، جولائی اگست 2003ء)
مسجدِ اقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اوّل ہے اور مسلمانوں کی سر زمین ہے لیکن غامدی صاحب ٹھیک ہی تو کہتے ہیں یہ زمین بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کی تھی مسلمان تو بعد میں آئے۔ اس لیے ان کا حق ہے کہ وہ زمین واپس لے لیں۔ پھر تو انڈیا کا بھی حق ہے کہ وہ پاکستان کو واپس لے لیں۔
انڈیا اور پاکستان ایک ہی ملک تھے نا۔ پاکستان تو بعد میں آزاد ہوا۔ جو جس کی زمین ہے، وہ اس کا حق دار ہوا نا؟ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جو پیشنگوئیاں فرمائی ہیں اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جو ملک فتح کیے ہیں تو نعوذباللہ کیا انہوں نے ظلم کیا ہے؟
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان کی زمین فتح کر کے ان سے چھین لی ہے؟ نعوذباللہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ روشن خیالی ہے۔۔۔۔
⚫*جاوید احمد غامدی کا حدیث سے کھلواڑ*⚫

ہر وہ چیز جو نبی کریمﷺکیطرف منسوب ہو حدیث کہلاتی ہےاسلیے حدیث صحیح ہو یاضعیف وہ حدیث ہی کہلاتی ہےاور یہ بات واضح ہےاور ہر ذی عقل مسلمان جانتا ہےکہ قرآن کریم میں جو باتیں اختصارسےبیان کی گئی ہیں انکی تفصیل ہمیں احادیثِ مبارکہﷺ سےملتی ہے۔
اب چونکہ غامدی صاحب کے پاس اتنا عقل و فہم نہیں ہے تو وہ حدیث کا ہی انکار کر دیتے ہیں۔ چند حوالے ملاحظہ کیجئیے۔
1۔ غامدی صاحب کہتے ہیں کہ:
”نبی کریم ﷺ کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کی روایتیں جو زیادہ تر اخبار اَحاد کے طریقے پر نقل ہوئی ہیں ان کے بارے میں یہ بات تو بلکل واضح ہے کہ ان سے دین میں کسی عقیدہ و عمل کا کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔“
(میزان، طبع سوم، مئی 2008ء، لاہور)
2۔”حدیث سے کوئی اسلامی عقیدہ یا عمل ثابت نہیں ہوتا“
(میزان،ص:24،طبع دوم،اپریل2002ء)
غامدی اورسنت
آپﷺکا وہ طریقہ جوصحیح احادیث سےثابت ہواور آپﷺ آخرتک بغیر کسی مجبوری کےاس پر عمل پیرا رہے،سنت کہلاتاہے۔سنت کی یہ تعریف اہلِ سنت کےنزدیک ہے۔غامدی صاحب کےنزدیک سنت کیا ہے،ملاحظہ کیجیے۔
1۔ غامدی صاحب فرماتے ہیں:
”سنت صرف افعال کا نام ہے۔ اس کی ابتداء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوتی ہے۔“
(میزان، ص: 10، طبع دوم، اپریل 2002ء)
2۔ ”سنت قرآن سے مقدم ہے۔“
(میزان، ص: 52، طبع دوم، اپریل 2002ء)
کیا کوئی چیز قرآن سے بھی مقدم ہو سکتی ہے بھلا؟؟ قرآن تو سب سے پہلی بنیاد یعنی سب سے مضبوط بنیاد ہے۔ لیکن غامدی صاحب کا ایک ہی زور ہے کہ سنت قرآن سے مقدم ہے۔
بعض لوگوں نے کہا کہ اس سے مراد سنت ابراہیمی ہے جو کہ قرآن سے پہلے ہے لیکن جب قرآن مجید ہمارے پاس قطعی طور پر موجود ہے تو کیا سنت ابراہیمی قطعی طور پر ہمارے پاس موجود نہیں ہے؟ کیا قرآن میں حضرت ابرہیم علیہ السلام کی قربانی کا ذکر موجود نہیں؟
کیا احادیث میں اس کا ذکر موجود نہیں؟؟ تو پھر مقدم کیسے؟ لیکن معاملہ یہ ہے کہ آپ حدیث کا انکار کرتے ہیں تو جب احادیث کا انکار کیا جاتا ہے تو یہی معاملہ ہوتا ہے۔
3۔ سنتوں کے متعلق مزید کہتے ہیں:
”سنت صرف ستائیس اعمال کا نام ہے۔
1۔ اللّٰہ تعالیٰ کا نام لے کر اور دائیں ہاتھ سے کھانا
2۔ ملاقات کے مواقع پر السلام علیکم اور اس کا جواب دینا
3۔ چھینک آنے پر الحمداللّٰہ اور اس کے جواب میں یرحمک اللہ
4۔ نومولود کے دائیں کان میں آذان اور بائیں میں اقامت
5۔ مونچھیں پست رکھنا
6۔ زیر ناف کے بال مونڈنا
7۔ بغل کے بال صاف کرنا
8۔ لڑکوں کا ختنہ کرنا
9۔ بڑھے ہوئے ناخن کاٹنا
10۔ ناک، منہ اور دانتوں کی صفائی
11۔ استنجا
12۔ حیض و نفاس میں زن و شوہر کے تعلق سے اجتناب
13۔ حیض و نفاس کے بعد غسل
14۔ غسل جنابت
15۔ میت کا غسل
16۔ تجہیز و تکفین
17۔ تدفین
18۔ عید الفطر
19۔ عید الاضحی
20۔ اللّٰہ کا نام لے کر جانوروں کا تذکیہ
21۔ نکاح و طلاق اور ان کے متعلقات
22۔ زکوٰۃ اور اس کے متعلقات
23۔ نماز اور اس کے متعلقات
24۔ روزہ اور صدقہ فکر
25۔ اعتماد
26۔ قربانی
27۔ حج و عمرہ اور ان کے متعلقات
سنت یہی ہے اور اس کے بارے میں یہ بلکل قطعی ہے کہ ثبوت کے اعتبار سے اس میں اور قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں ہے۔“
(میزان، ص: 10، طبع دوم، اپریل 2002ء)
1998ء میں غامدی صاحب کے دین میں صرف چالیس(40)امور ہی سنتیں تھیں۔ اس کے بعد 2002ء میں 40 سنتوں کے اس دین کو 27 سنتوں میں تبدیل کردیا۔
اور چونکہ غامدی صاحب خود داڑھی نہیں رکھتے تو دونوں بار داڑھی کا زکر نہیں کیا جو کہ ضرور ہونا چاہیے تھا۔
4۔ ”دین کے مصادر و ماخذ قرآن کے علاوہ دین فطرت کے حقائق، سنت ابراہیمی اور قدیم صحائف ہیں۔“
5۔ رجم کے متعلق غامدی صاحب رقم طراز ہیں:
”استاد امین احسن اصلاحی نے اس کے بارے میں بلکل صحیح لکھا ہے۔ یہ روایت بلکل بیہودہ روایت ہے۔“
( برھان، ص: 62)
غامدی کی مفہومِ قرآن میں تحریف
بیان: ڈاکٹر مرتضیٰ بن بخش حفظہ اللہ
جمع و ترتیب: اُمِّ عبداللّٰہ و اَمتہ الرحمٰن
غامدی صاحب قرآن کی معنوی تحریف کرنے کے عادی ہیں چاہے وہ لغوی اعتبار سے ہو یا معنیٰ کے اعتبار سے۔
قرآن سے متعلق ان کے چند نظریات درجِ ذیل ہیں:
1۔ غامدی صاحب قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ کا ترجمہ یوں لکھتے ہیں:
” کہہ دو کہ وہ اللّٰه سب سے الگ ہے۔“
(البیان، ص: 261)
مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ اس آیت کا یہ ترجمہ ہرگز نہیں ہے جو غامدی صاحب کرتے ہیں۔
اس آیت کا ترجمہ ہے:
”کہہ دو کہ اللّٰه ایک ہے۔“
غامدی صاحب احد کے لفظ کا ترجمہ نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں یہ تشریح ہے۔ ترجمے کی جگہ اگر تشریح کی ہے تو دو چار لفظ اور بڑھا دیتے، احد کا ترجمہ تو کرتے۔ ایک کا لفظ کہیں تو ہونا چاہیے تھا نا۔
غامدی صاحب (بقول ان کے) جو تشریح کرتے ہیں اس سے اللّٰه تعالیٰ ایک ہے اس کا کوئی دوسرا نہیں کے معنیٰ بنتے ہیں جبکہ جمہور علماء جو ترجمہ کرتے ہیں اس کے معنیٰ بنتے ہیں کہ وہ اللّٰه تعالیٰ ایک ہے اس جیسا کوئی اور نہیں۔
دونوں معنوں میں واضح فرق ہے۔ نمبر کے اعتبار سے بھی ذات کے اعتبار سے بھی صفات کے اعتبار سے بھی ربوبیت کے اعتبار سے بھی۔۔۔
2۔ غامدی صاحب سورة الله‍ب کی آیت تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ کا ترجمہ لکھتے ہیں:
” ابو لہب کے بازو ٹوٹ گئے۔“
(البیان: 260)
علماء ید کا ترجمہ ہاتھ سے کرتے ہیں۔ عربی زبان میں انگلیوں سے لے کر کندھے تک کے حصے کو ید کہتے ہیں جسے حرفِ عام میں ہاتھ کے معنیٰ میں ہی لیا جاتا ہے۔ غامدی صاحب نے بازو کہہ دیا چلیں مشکل نہیں ہے۔ آگے غامدی اس آیت کی تفسیر کرتے ہیں:
”یعنی اسکےاعوان وانصار ہلاک ہوئے۔“
(البیان،ص:269)
سورة الله‍ب کا شانِ نزول ہر مسلمان جانتا ہے کہ اس سورہ میں ابو لھب کی ہلاکت کا ذکر ہے اگر کوئی نہیں جانتا تو غامدی صاحب ہی نہیں جانتے۔ یہ آیت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تھی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غلبہ کئی سالوں بعد ملا تھا۔۔۔ انصار کب ہلاک ہوئے؟؟
اس زمانے میں ہلاک ہوئے جب یہ آیت نازل ہوئی تھی یا اس کے بعد ہوئے؟ لیکن جس دن یہ آیت نازل ہوئی اس کے بعد ابو لھب خود ہلاک ہوگیا۔ ہدایت کی توفیق نہیں ہوئی۔ یہ ہلاکت ہے اس کی۔ آیات بینات دیکھتے ہوئے بھی جھوٹا کلمہ نہیں پڑھ سکا
یعنی اس سورة کے نازل ہونے کے بعد آپ ﷺ کو جھٹلانے کے لٸے جھوٹا کلمہ پڑھ لیتا لیکن اس کی توفیق بھی نہیں ہوئی اور اس کی توفیق اللّٰه کی قسم سے ہو بھی نہیں سکتی تھی کیوں کہ تبت یدا ابی لہب، اس دن سے سے وہ ہلاک ہو چکا تھا۔
3۔ غامدی صاحب سورہ فیل کی آیت نمبر 4 کا ترجمہ لکھتے ہیں:
تَرْمِيْهِمْ بِحِجَاْرَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ
”تو پکی ہوئی مٹی کے پتھر انہیں مار رہا تھا۔“
(البیان، ص: 240)
اصل ترجمہ ہے:
”جو ان پر پکی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے۔“
سورہ الفیل کا شان نزول کون نہیں جانتا۔ یہ پتھر کس نے مارے تھے؟ ابابیل پرندوں نے مارے تھے۔ مگر غامدی صاحب ترجمہ کرتے ہیں تو سمجھ آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پتھر مار رہے تھے۔ نئی چیز تجدید کرنی ہے۔ترجمے میں تجدید کردو، روشن خیالی اسے کہتے ہیں۔
اور تفسیر میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ترمیھم یعنی قریش مار رہے تھے۔ وای کیا تجدید کی ہے یعنی جو خود بھاگ گئے تھے وہی مار رہے تھے۔
4۔غامدی صاحب سورہ المدثر کی آیت كَلَّا بَلْ لا يَخافُونَ الْآخِرَةَ کی تشریح میں لکھتے ہیں:
”خوف سے مراد توقع ہے۔“
(البیان، ص:81)
اصل ترجمہ:
ہرگز نہیں، بات اصل میں یہ ہے کہ ان کو آخرت کا خوف نہیں ہے۔
يَخافُونَ کا ترجمہ کیا گیا ہے خوف سے کیونکہ عربی میں خوف کے لیے خائف کا لفظ استعمال ہوتا ہے لیکن غامدی صاحب کی تشریح سے معنی بنتے ہیں کہ یہ لوگ آخرت کی توقع نہیں رکھتے۔
غامدی صاحب تو عربی کے ماہر ہیں کچھ کریں نہ کریں معنوی تحریف ضرور کرتے ہیں۔ آج کل کی روشن خیالی کہتی ہے کہ تجدید ضروری ہے جس پر غامدی صاحب من و عن عمل کرتے ہیں۔
5۔ غامدی صاحب قُلْ هُوَ الَّـذِىْ ذَرَاَكُمْ فِى الْاَرْضِ (سورة الملک: 24) کا ترجمہ کرتے ہیں:
”ان سے کہے دو وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں بویا“
(البیان، ص:25)
اصل ترجمہ ہے:
”کہہ دو اسی نے تمہیں زمین میں پھیلایا ہے۔“
عربی میں ذَرَاَ کا معنیٰ ہے پھیلایا۔ تو ذَرَاَكُمْ یعنی تمہیں زمین میں پھیلایا۔ کسی بھی مستند مفسر کا ترجمہ اٹھا کر دیکھ لیں یہی ترجمہ ہے۔ جبکہ غامدی صاحب کا ترجمہ کہتا ہے کہ اللّٰه تعالیٰ نے تمہیں زمین میں بویا۔ ہوگئی نا معنوی تحریف جس کے یہ ماہر ہیں۔
یہ عربی کے ماہر ہیں اور منطق کے بھی ماہر ہیں اور عقل کے بھی کافی مضبوط ہیں جو بھی یہ راستہ اختیار کرتے ہیں ٹھوکر لگتی ہے تو کیسے لگتی ہے !!
6۔ اپنی تفسیر البیان میں اصرار سے کہتے ہیں کہ سورة النصر مکی سورت ہے۔ حالانکہ اہلِ علم اور سلف کے تمام مفسرین کے نزدیک یہ سورت مدنی ہے۔ اور اسی پر اجماع ہے کہ یہ مدنی سورت ہے اور فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی۔
لیکن بات یہ ہے کہ جب تک نئی بات نہیں ہوگی، مخالفت نہیں ہو گی عام مسلمانوں کی تو روشن خیالی کیسے ہو گی۔۔۔
7۔ غامدی صاحب کہتے ہیں کہ:
”اس قرآن کے الفاظ کی دلالت اس کے مفہوم پر بلکل قطعی ہے۔
یہ جو کچھ کہنا چاہتا ہے پوری قطعیت کے ساتھ کہتا ہے اور کسی معاملے میں بھی اپنا مدعا بیان کرنے سے ہرگز قاصر نہیں رہتا۔ اس کا مفہوم وہی ہے جو اس کے الفاظ قبول کر لیتے ہیں۔ وہ نہ اس سے مختلف ہے نہ متبائن۔ اس کے شہر ستانِ معانی تک پہنچنے کا ایک ہی دروازہ ہے اور وہ اس کے الفاظ ہیں۔
وہ اپنا مفہوم پوری قطعیت کے ساتھ واضح کرتے ہیں۔“
(میزان، ص: 24، طبع دوم)
قرآن مجید کو بہترین طریقے سے سمجھنے کے لئے چار اصول ہیں:
1) قرآن
2) 2) حدیثِ رسول ﷺ
3) 3) صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے اقوال
4) 4) اور ان کے بعد جو سلف کے اقوال ہیں۔
5) جبکہ غامدی صاحب کہتے ہیں کہ قرآن کے الفاظ کی دلالت اس کے مفہوم پر بلکل قطعی ہے مطلب ہے کہ جو لفظ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے اس کا مفہوم اس لفظ کے اندر ہے باہر نہیں ہے۔
کس اعتبار سے ؟ ثبوت کے اعتبار سے؟ نہیں وہ تو ہم جانتے ہیں کہ اس کا ایک ایک لفظ قطعی ثابت ہے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں اور اگر کوئی شک کرے کہ ”اَلْحَمْدُ“ قرآن مجید کا حصہ نہیں تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ چاہے ایک لفظ کا منکر ہو۔
قرآن قطعی طور پر تو ثابت ہے لیکن کیا قطعی طور پر ہر ایک لفظ کا معنٰی بھی وہی ہے؟؟ مثال کے طور پر قرآن مجید میں ایسے الفاظ بھی موجود ہیں جن کا معنٰی معروف ہے جیسے سماء، ارض، جبال، شمس، قمر یعنی آسمان، زمین، پہاڑ، چاند اور سورج تو ان کے دوسرے معنٰی بھی ہیں صرف لفظی معنیٰ نہیں ہیں۔
الصلاة کے کیا معنی ہیں؟ نماز بھی ہے دعا بھی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
6) وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ
7) ترجمہ: ”نماز قاٸم کرو“
8) لیکن کیسے نماز قاٸم کرو؟ کیا طریقہ موجود ہے؟ آپ نماز کا طریقہ قرآن سے نکال سکتے ہیں؟
ایک مثال اور لیتے ہیں کہ قرآن میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ چور مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹ دو۔ تو کیا قرآن آپ کو بتا رہا ہے کہ کونسا ہاتھ کاٹنا ہے؟ کہاں سے کاٹنا ہے؟ کب کاٹنا ہے؟ اس لفظ کے اندر موجود ہے؟ مگر غامدی صاحب کہتے ہیں قطعی طور پر موجود ہے۔
سبحان الله! کوئی بازو کاٹ لے کوئی کہنی سے کاٹ لے کوئی دایاں کاٹ لے کوئی بایاں کاٹ لے کوئی ہتھیلی سے کاٹ لے کیوں کہ معنی تو قطعی طور پر موجود ہے
9)اگر غامدی صاحب کے طریقے پر قرآن کی تفسیر کی جائےتو اختلاف ہوگا کہ نہیں؟مگر واہ رے ان کی روشن خیالی کہ جس کا جو دل چاہے معنیٰ اخذ کرلے
⚫جاویداحمد غامدی کے فقہ سےمتعلق نظریات⚫

جاوید احمد غامدی صاحب کے نظریات دینِ اسلام کے نظریات سے مختلف ہیں۔ ذیل میں چند مثالیں پیش کی جا رہی ہیں جو غامدی صاحب کے نظریات کو سمجھنے میں کارگر ثابت ہوں گی۔ ان شاءاللّٰه
1۔ غامدی صاحب فرماتے ہیں:
زکوٰۃ کا نصاب منصوص اور مقرر نہیں۔
( قانون عبادات، صفحہ: 119، طبع دوم، اپریل 2005ء)
اسلامی شریعت میں زکوٰۃ کا نصاب منصوص اور مقرر شدہ ہے۔
2۔ غامدی کہتے ہیں:
اسلام میں موت کی سزا صرف دو جرائم (قتلِ نفس اور فساد فی الارض) پر دی جاسکتی ہے۔
(برہان، صفحہ: 143، طبع چہارم، جون 2006ء)
اسلامی شریعت میں موت کی سزا بہت سے جرائم پر دی جاسکتی ہے۔
3۔ غامدی کے نزدیک:
دیت کا قانون وقتی اور عارضی تھا۔
(برہان، صفحہ: 18۔19، طبع چہارم، جون 2006ء)
دیت کا حکم اور قانون ہمیشہ کے لیے ہے۔
4-غامدی کے نزدیک:
مرتد کے لیے قتل کی سزا نہیں ہے۔
(برہان، ص: 140، طبع چہارم جون 2006)
5۔ غامدی صاحب کے مطابق:
مرتد کے لئے قتل کی سزا نہیں ہے۔
(برہان، صفحہ: 140، طبع چہارم، جون 2006ء)
اسلام میں مرتد کے لئے قتل کی سزا ہمیشہ کے لیے ہے۔
6۔ نام نہاد، آزاد خیال غامدی صاحب کہتے ہیں:
شادی شدہ اور کنوارے زانی دونوں کے لیے ایک ہی حد سو کوڑے ہیں۔
(برہان، صفحہ: 299-300، طبع چہارم، جون 2006ء)
جبکہ شادی شدہ زانی کی سزا ازروئے سنت سنگساری ہے۔
7۔ غامدی صاحب فرماتے ہیں:
شراب نوشی پر کوئی شرعی سزا نہیں۔
(برہان، صفحہ: 138، طبع چہارم، جون 2006ء)
شراب نوشی کی شرعی سزا ہے جو اجماع کی رُو سے 80 کوڑے مقرر ہے۔
8۔ غامدی صاحب کہتے ہیں:
سور کے کھال اور چربی وغیرہ کی تجارت اور ان کا استعمال شریعت میں ممنوع نہیں۔
(میزان، صفحہ: 168، طبع دوم، اپریل 2002ء؛ ماہنامہ اشراق، صفحہ: 79، اکتوبر 1998ء )
سور نجس العین ہے لہٰذا اس کی کھال اور اجزائے بدن کی تجارت جمہور علماء کے نزدیک حرام ہے۔
9۔ جاوید غامدی کہتے ہیں:
کھانے کی صرف چار چیزیں ہی حرام ہیں؛ خون، مردار، سور کا گوشت اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ۔
(میزان، صفحہ:311، طبع چہارم، جون 2006ء)
ان چار چیزوں کے علاوہ اور بہت سی کھانے کی چیزیں حرام ہیں۔ جیسے کُتے، درندوں، شکاری پرندوں اور گدھے کا گوشت حرام ہے۔
10۔غامدی صاحب کہتےہیں:
اگر میت کی اولاد میں صرف بیٹیاں وارث ہوں تو انکو والدین یا بیوی(یا شوہر)کےحصوں سے بچے ہوئےترکےکا تہائی حصہ ملےگا۔ انکو کل ترکے 2/3 نہیں ملےگا۔
(میزان،صفحہ:168،طبع دوم،اپریل2002ء)
میت کیاولاد میں صرف بیٹیاں ہی ہوں توانکو کُل ترکےکا دو تہائی حصہ دیاجائےگا۔
11۔ غامدی صاحب فرماتے ہیں:
غیر مسلم بھی مسلمانوں کے وارث ہوسکتے ہیں۔
(میزان، صفحہ: 171، طبع چہارم، جون 2006ء)
کسی زمانے کا کوئی کافر کسی مسلمان کا کبھی وارث نہیں ہو سکتا۔
12۔ جاوید احمد غامدی کہتے ہیں:
عورت کے لئے دوپٹہ یا اوڑھنی پہننا شرعی حکم نہیں۔
(ماہنامہ اشراق صفحہ: 47، مئی 2002ء)
عورت کے لئے دوپٹہ یا اوڑھنی پہننے کا شرعی حکم قرآن کی سورۃ النور کی آیت 31 میں موجود ہے۔
13۔غامدی صاحب کہتےہیں:
موسیقی اورگانابجانا بھی جائزہے۔
(ماہنامہ اشراق،صفحہ:8۔19،مارچ2007ء)
اسلام میں موسیقی اورگانابجانا جائزنہیں ہے۔
14۔غامدی کےمطابق:
عورت مردوں کی امامت کراسکتی ہے۔
(ماہنامہاشراق،صفحہ:35۔46،مئی 2005 ء)
عورت مردوں کی امامت نہیں کروا سکتی۔
15۔ آزاد خیال غامدی صاحب فرماتے ہیں:
اسلام میں جہاد و قتال کا کوئی شرعی حکم نہیں۔
(میزان، صفحہ: 264، طبع دوم، اپریل 2002ء)
جہاد و قتال ایک شرعی فریضہ ہے۔
⚫جاوید احمد غامدی کا منہج⚫
’جاوید احمد غامدی کا عملی رد'
1۔دین کےمصادر و ماخذ قرآن کےعلاوہ دین فطرت کےحقائق،سنت ابراہیمی اورقدیم صحائف ہیں
(میزان،ص48،طبع دوم،پریل2002ء)
جمہورعلماء کامنہج ہےکہ دین کےماخذ قرآن حکیم،سنت،اجماع اورقیاس ہیں جبکہ غامدی کامنہج کہتاہےکہ حدیث کاانکارکردو
2۔ ”اس قرآن کے الفاظ کی دلالت اس کے مفہوم پر بلکل قطعی ہے۔ یہ جو کچھ کہنا چاہتا ہے پوری قطعیت کے ساتھ کہتا ہے اور کسی معاملے میں بھی اپنا مدعا بیان کرنے سے ہرگز قاصر نہیں رہتا۔ اس کا مفہوم وہی ہے جو اس کے الفاظ قبول کر لیتے ہیں۔ وہ نہ اس سے مختلف ہے نہ متبائن۔
اس کے شہر ستانِ معانی تک پہنچنے کا ایک ہی دروازہ ہے اور وہ اس کے الفاظ ہیں۔ وہ اپنا مفہوم پوری قطعیت کے ساتھ واضح کرتے ہیں۔“
(میزان، ص: 24، طبع دوم)
قرآن مجید کو بہترین طریقے سے سمجھنے کے لئے چار اصول ہیں:
1) قرآن
2)حدیثِ رسولﷺ
3)صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کےاقوال
4)اور انکےبعد جو سلف کےاقوال ہیں۔
5) جبکہ غامدی صاحب کہتےہیں کہ قرآن کےالفاظ کی دلالت اس کےمفہوم پر بلکل قطعی ہے۔تمام مسلمان مانتےہیں کہ قرآن مجید قطعی طور پر ثابت ہےلیکن اسکےمعنیٰ بھی قطعی طورپرثابت ہیں کیا؟؟
6) 3۔ ’’عہد رسالت میں رجم کے واقعات، کعب بن اشرف کا قتل، عذابِ قبر اور شفاعت کی روایتیں، امرت ان قاتل الناس، اور من بدل دینہ فاقتلوہ جیسے احکام اسی لیے الجھنوں کا باعث بن گئے کہ انہیں قرآن میں اصل سے متعلق کر کے سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔
حدیث کے فہم میں اس اصول کو ملحوظ رکھا جائے تو اس کی بیشتر الجھنیں بالکل صاف ہو جاتی ہیں۔‘‘
7) (میزان، ص: 64، طبع سوم، مئی 2008ء، لاہور)
8) دین کا کوئی بھی حکم قرآن سنت و حدیث سے لیا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے اور کسی کا مسئلے کا حل نہ ملے تو اجماع اور قیاس کی راہ اختیار کی جاتی ہے
مگر غامدی صاحب کہتے ہیں کہ اصل اصول تو یہ ہے کہ قرآن پر پیش کریں اگر قرآن پاک کے مطابق ہے تو لیں ورنہ چھوڑ دیں۔ یہ منہج ہے ان کا قرآن کے فہم کے بارے میں۔
9) 4۔ ’’حدیث سے کوئی اسلامی عقیدہ یا عمل ثابت نہیں ہوتا۔“
10) (میزان، ص: 24، طبع دوم، اپریل 2002ء)
11)حدیث سےبہت سےعقائد و عوامل ثابت ہیں۔ دین کےاحکام حدیث سےثابت ہیں جبکہ غامدی صاحب حدیث کاانکار کرتےہیں۔ کیا یہ قرآن سے نماز کا طریقہ نکال کر دکھا سکتےہیں؟ایک رکن نہیں نکال سکتےیہ نماز کا
12)5۔’دین میں معروف و منکرکاتعین فطرت انسانی کرتی ہے“
13) (میزان،ص: 46،طبع دوم،اپریل 2002ء)
14) معروف و منکر کا تعین عقل اور شریعت دونوں کر سکتی ہیں لیکن وہ عقل جو عقل سلیم ہو قرآن و سنت سے غذا ملی ہوئی ہو۔ جو عقل قرآن و حدیث کے حدود کے اندر رہنے والی ہو۔ معروف وہی ہے جو اللّٰه تعالیٰ نے اور آپ ﷺ نے بیان فرمایا۔ منکر وہی ہے جس سے ہمیں آگاہ کیا گیا ہے روک دیا گیا
جبکہ غامدی صاحب کہتے ہیں صرف فطرت کر سکتی ہے یہاں انہوں ںے عقل کی جگہ فطرت کا لفظ استمال کر کے خود کو معتزلہ ہونے سے بری کرلیا ہے۔ معتزلہ کے نزدیک معروف و منکر (التحسین و التقبیح) یہ شریعت نہیں کرسکتی صرف عقل کرسکتی ہے اور اشعائر کہتے ہیں صرف شریعت کرسکتی ہے۔
15) 6۔۔’’ایک تعلیمی کانفرنس کے دوران جہاں وزیر اعظم شوکت عزیز بھی تقریب میں موجود تھے، جاوید غامدی جو حال ہی میں اسلامی نظریاتی کونسل آف پاکستان کے رکن مقرر کئے گئے تھے
انھوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ قرآن اور اسلامیات کی تعلیمات بچوں کو دوسری جماعت کے بجائے پانچویں جماعت کے بعد شروع کی جانی چاہیے۔ جس سے وزیر اعظم شوکت عزیز نے اختلاف کیا۔“
16) (روزنامہ نوائے وقت مؤرخہ 5 جون 2006ء)
17)انس بن مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب میں 2سال کاتھا تو میری ماں مجھے کلمہ توحید پڑھاتی تھی لا الہ الا اللہ۔امام مالک بن انس رحمہ اللہ معروف عالم دین سلف صالحین میں سےتھےانکی ماں 5سال کی عمر میں انکے استاد ربیعہ رح کی مجلس میں بھیجا کرتی تھی چھوٹی سی پگڑی سر پہ باندھ کر۔
لوگوں نے کہا کیوں بچے کو پریشان کرتی ہو اتنی سی عمر میں بھیجتی ہو کہا اسلئے بھیجتی ہوں تاکہ علم سے پہلے ادب سیکھ جائے۔ میڈیکل سائنس بھی کہتی ہے ماہرینِ تربیت اور علماء کرام بھی کہتے ہیں کہ انسانی بچے کا ذہن شروع کے 5 سال میں جو سیکھتا ہے 80/85 فیصد وہ بنیاد ہوتی ہے۔
آج ہمارےبچےادب توکیاعلم سےبھی دوررکھےجاتے ہیں مگرغامدی صاحب کہتےہیں پانچویں جماعت کےبعد اسلامی تعلیمات شروع کی جانی چاہیئے۔دہشتگردی عام ہےغلط دین پڑھایاگیاہے۔اگر قرآن و سنت اورمنہج قرآن کےمطابق تعلیم دی جائےتو کیسےگمراہ ہوگا؟لیکن جب منہج ہی کھوکھلا ہےتو صحیح سمت میں کیسےجاسکتےہیں
⚫غامدیت اور پرویزیت؛ دو فتنے!!⚫

ہم سب جانتے ہیں کہ پرویزیت ایک فتنہ ہے۔ فتنۂ انکار حدیث جو کہ غلام احمد پرویز کی طرف منسوب ہے جس نے مکمل انکار کیا احادیث کا۔ غامدی صاحب اور پرویز صاحب میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔ آئیے مشاہدہ کرتے ہیں۔
1۔ دونوں ہی کھانے پینے کی صرف چار چیزوں کو شرعی طور پر حرام مانتے ہیں۔
2۔ دونوں ہی قرآن مجید کی معنوی تحریف کرتے ہیں اور اس کے عادی معلوم ہوتے ہیں۔
3۔ دونوں ہی حدیث کو دین کا حصہ نہیں مانتے۔
4۔ دونوں ہی حدیث کی حجت کو تسلیم نہیں کرتے۔
5۔دونوں کا دعویٰ ہےکہ حدیث کی حفاظت اور اشاعت کاکوئی اہتمام نہیں کیاگیا۔
6۔دونوں ہی اجماع امت کوحجت نہیں مانتے۔
7۔دونوں ہی قرآن مجید کی حدود اورسزاؤں کو آخری اورانتہائی سزائیں کہتےہیں۔
8۔دونوں ہی مرتد کے سزائے قتل کےمنکرہیں۔
9۔دونوں ہی شادی شدہ زانی کےلیے رجم کی حد کو نہیں مانتے۔
10۔ دونوں ہی زکوٰۃ کی شرح اور نصاب کو حتمی تصور نہیں کرتے۔
11۔ دونوں ہی خود کو کفر کی ضد سے بچانے کے لئے کسی کی تکفیر کے قائل نہیں۔
12۔ دونوں ہی عورت کے شرعی پردے کے منکر ہیں۔
13۔ دونوں ہی جہاد کے منکر ہیں۔
14۔ دونوں ہی دینی اصطلاحات کے معنی بدلتے ہیں۔
غامدی صاحب جس طرح اصطلاحات کے معنیٰ تبدیل کرتے ہیں وہ واضح کیا جا چکا ہے۔ پرویز صاحب کے تعلق سے اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ بعض ایسی اصطلاحات ہوتی ہیں جن کو نص سمجھا جاتا ہے جیسے اسم مگر پرویز صاحب نے ان اصطلاحات میں بھی تبدیلی کردی
مثال کے طور کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں طائر کے معنیٰ کبوتر انسان یا قبیلے کے نام کے ہیں۔ وادئ نمل یعنی چیونٹیوں کی وادی اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ ایک قوم تھی۔ اتنی واضح اصطلاحات میں تحریف کی جرات بھی کوئی کرتا ہے۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
آخر میں، غامدیت ایک فتنہ ہے۔ دلائل بیان ہوچکے۔ ان کے اقوال پیش کئے گئے اور چند وضاحتیں بھی قرآن و سنت کی روشنی میں کی گئیں ہیں۔ جن کا ضمیر زندہ ہے جو حق کو سمجھنا چاہتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ ان مسائل کو سمجھیں غور کریں اور اگر آپ کو یہ مسائل غلط لگتے ہیں
تو کل کا انتظار نہ کریں فوراً رجوع کریں توبہ کریں اور اگر ابھی بھی کوئی ابہام یا اشکال باقی ہے تو اللّٰه کے لئے مزید دیر نہ کریں۔ موت کا فرشتہ آتا ہے اور روح لے کر ہی جاتا ہے پھر توبہ کا موقع نہیں ملتا اور نہ ہی غور و فکر کا موقع ملتا ہے۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
اللّٰه تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللّٰه تعالیٰ ہم سب کو مسائل سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ قرآن و سنت پہ چلنے کی، سلف صالحین کے راہ پہ چلنے اور انکے اقوال پہ عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العلمین۔

• • •

Missing some Tweet in this thread? You can try to force a refresh
 

Keep Current with Haya Ahmed

Haya Ahmed Profile picture

Stay in touch and get notified when new unrolls are available from this author!

Read all threads

This Thread may be Removed Anytime!

PDF

Twitter may remove this content at anytime! Save it as PDF for later use!

Try unrolling a thread yourself!

how to unroll video
  1. Follow @ThreadReaderApp to mention us!

  2. From a Twitter thread mention us with a keyword "unroll"
@threadreaderapp unroll

Practice here first or read more on our help page!

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3/month or $30/year) and get exclusive features!

Become Premium

Don't want to be a Premium member but still want to support us?

Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal

Or Donate anonymously using crypto!

Ethereum

0xfe58350B80634f60Fa6Dc149a72b4DFbc17D341E copy

Bitcoin

3ATGMxNzCUFzxpMCHL5sWSt4DVtS8UqXpi copy

Thank you for your support!

Follow Us on Twitter!

:(