Discover and read the best of Twitter Threads about #الف_نگری

Most recents (22)

اپنی کتاب The Story Hunter میں Eduardo Galeano لکھتے ہیں:
سن 1959 میں میکسیکو کی ریاست چیاپاس میں پہلا بشپ پہنچا اسکا نام فرنینڈو بینیٹیز تھا اگرچہ وہ پرتگالی استعمار کے لئے مقامی لوگوں کی آزادی کو مذہبی کارڈ استعمال کر کے سمیٹنے کے لیے لایا گیا بشپ تھا
لیکن
جب اس نے دیکھا کہ
+
مذہب کا استعمال کرکے لوگوں کے حقوق سلب کئے جا رہے ہیں۔ آزادی کے نام پر انکو محکوم بنایا جا رہا ہے تو اس نے اس سب سے لاتعلق ہوتےہوئےکہا کہ اس کا نام آزادی کیسے ہو سکتا ہے جبکہ یہ بنیادی طور پر دوسرے انسانوں کو نیچا دکھانے کی کوششیں ہوں!

اس کے بعد باقی تمام بشپ، فرنینڈو سے ناراض
2
ہو گئے اور اسے عہدے سے بے دخل کر دیاگیا لیکن اس نے ملک نہ چھوڑا اور وہاں کے باشندوں سے گھلنے ملنے لگا اور زور دیتا رہا کہ وہ کسی کے سامنے سر نہ جھکائیں،
آزاد رہیں ،غلام نہیں"
اس شروعات کے برسوں بعد لوگوں نے حملہ آوروں کیخلاف بغاوت کی اور فرنینڈو کو غریبوں کے بشپ کا خطاب دیا!
3
Read 10 tweets
نواب راحت سعید خان ہندوستان کے صوبے اتر پردیش کے گورنر رہے۔ انگریز حکومت نے انہیں یہ عہدہ عطا کیا۔
نواب چھتاری اپنی یاداشتیں لکھتے ہوئے انکشاف کرتے ہیں کہ
"ایک بار انہیں سرکاری
امور کےلئے لندن بلایاگیا
ایک انگریز دوست نے نواب صاحب سے کہا “آیئے! آپکو ایک ایسی جگہ کی سیر کراوں جہاں میرے خیال میں آج تک کوئی ہندوستانی نہیں گیا لیکن وہاں جانےکےلیے حکومت سے اجازت لینی ضروری تھی خیر دو روز بعد انگریز دوست اجازت نامہ لے آیا اور کہا”ہم کل صبح چلیں گے، اگلی صبح
نواب صاحب اور وہ انگریز منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ شہر سے نکل کر جنگل شروع ہو گیا۔سڑک کے دونوں جانب نہ کوئی ٹریفک اور نہ کوئی پیدل مسافر!آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد ایک بہت بڑا دروازہ نظر آیا، پھر دور سامنے ایک نہایت وسیع وعریض عمارت دکھائی دی۔ عمارت کے چاروں طرف فوجی پہرہ
Read 15 tweets
واشنگٹن کے میٹرو اسٹیشن پر وائلن بجاتے ایک شخص کی تصویر..!
اسے ایک سوشل تجربے کے لیے سی سی ٹی وی سے دیکھا جا رہا تھا۔ یہ شخص راہگیروں کے لیے تقریباً 45 منٹ تک مشہور میوزک بجاتا رہا۔ اس دوران میٹرو پر سوار ہونے کے لیے کم و بیش ایک ہزار سے زائد لوگ گزرے،
45 منٹ کے دوران صرف سات
+
راہگیروں نے کھڑے ہو کر چند لمحے کےلیے سنا اور پھر آگے بڑھ گئے ۔ کچھ نے اسے پیسے بھی دیے۔
آخر میں، اس نے 45 منٹ کے اندر ($32) جمع کر لیے!!
دلچسپ بات یہ تھی کہ..
وائلن بجانے والا شخص "جوشوا بیل" تھا جو کہ دنیا کے عظیم ترین موسیقاروں میں سے ایک ہے.. وہ جو وائلن بجاتا رہا
+
اس کی قیمت 3.5 ملین ڈالر تھی...
اس واقعے سے چند روز پہلے جوشوا نے بوسٹن میں شو کیا تھا ، جس کے تمام ٹکٹ فروخت ہو گئے تھے ، سب سے کم قیمت ٹکٹ سو ڈالرز کا تھا۔
بہت سے ایوارڈز جیتنے والے موسیقار نے نامناسب جگہ اپنا ٹیلنٹ پیش کیا اور لوگوں نے اس ٹیلنٹ کو نہیں
+
Read 4 tweets
وہ قانون جس سے فطرت چلتی ہے!!

شیر شکار میں کامیاب نہیں ہوتا سوائے ایک چوتھائی کوششوں کے، یعنی وہ 75% میں ناکام! صرف 25 فیصد میں کامیاب ہوتا ہے۔
باوجود زیادہ تر شکاریوں کی کامیابی کے اس کم تناسب کے، شیر کے لیے شکار اور شکار کی کوششوںسے مایوس ہونا ناممکن ہوتا ہے۔۔
+
یہ بار بار کرتا رہتا ہے ، جب تک کامیاب نہیں ہوتا لیکن مایوس ہوکر کوشش کرناچھوڑتا کیوں نہیں؟
شائد بھوک!
جیسا کہ کچھ سوچتے ہیں
مگر
اسکی بنیادی وجہ بھوک نہیں ہے بلکہ جانوروں کو ایک قانون کی سمجھ ہے یہ وہ قانون ہے جسکے ذریعے فطرت کام کرتی ہے.
مچھلی کے آدھے انڈے ضائع ہو جاتے ہیں
+
نوزائیدہ ریچھوں میں سے نصف بلوغت سے پہلے مر جاتے ہیں۔
زیادہ تر درختوں کے بیج پرندے کھاتے ہیں...
ایسی کئی مثالیں ہیں۔
مگر
صرف ایک انسان ہی اس آفاقی فطری قانون کو نہیں سمجھتا اور چند کوششوں میں ناکامی سے اپنے آپکو ناکام انسان سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔
لیکن
سچ یہ ہے
+
Read 5 tweets
"جاہل معاشرے کےلئے باغی ایسا ہی ہے جو کسی اندھے کے راستے کو روشن کرنے کےلئے اپنے آپکو آگ لگا لے"

نپولین کی قیادت میں مصر میں فرانسیسی مہم کے بعد محمد کریم کو گرفتار کرکے موت کی سزا سنائی گئی لیکن نپولین نے اسے کہاکہ
مجھے افسوس ہے کہ میں نے ایک ایسے شخص کو پھانسی کی سزا سنادی جس
نے اپنی ہمت سے ملک کا دفاع کیا اور میں نہیں چاہتا کہ تاریخ مجھے ایسے یاد رکھے کہ میں نے اپنے وطن کے دفاع کرنے والے ہیروز کو پھانسی دی تھی۔اس لئے میں دس ہزار سونے کے بدلے آپکو معاف کرتا ہوں اور یہ بھی میرے سپاہیوں کو مارنے کے بدلہ میں جرمانے کے طور پر ادا کرنا ہوگا"
محمد کریم
+
نے کہا: میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے۔ لیکن میرے پاس سونا کے سوداگروں کےساتھ ایک لاکھ سے زائد کا قرض ہے۔
نپولین نےکہا:
"میں تمھیں اپنا مال جمع کرنے کےلئے کچھ مہلت دیتا ہوں"
وہی اپنے ملک کےلئے لڑنے والا بیڑیوں میں جکڑے ہوئے اور غاصب فرانسیسی کے نرغے میں رہتے ہوئے بازار گیا۔
اسے امید+
Read 5 tweets
ہمارے گھر کے قریب ایک بیکری ہے.
اکثر شام کے وقت کام سے واپسی پر میں وہاں سے صبح ناشتے کےلئے کچھ سامان لیکر گھر جاتا ہوں.آج جب سامان لیکر بیکری سے باہر نکل رہا تھاکہ ہمارے پڑوسی عرفان بھائی مل گئے. وہ بھی بیکری سے باہر آرہے تھے.
میں نے سلام دعا کی اور پوچھا
"کیا لیا عرفان بھائی؟+
کہنے لگے
"کچھ نہیں ثاقب بھائی کچھ چکن پیٹس اور جلیبیاں لی بیگم اور بچوں کےلئے"
میں نے ہنستےہوئے کہا
"کیوں؟آج کیابھابھی نے کھانا نہیں پکایا"
کہنے لگے
"نہیں نہیں ثاقب بھائی! یہ بات نہیں ہے دراصل آج دفتر میں شام کے وقت کچھ بھوک لگی تھی تو ساتھیوں نے چکن پیٹس اور جلیبیاں منگوائیں۔
+
میں نے وہاں کھائے تو سوچا بیچاری گھر میں جو بیٹھی ہے وہ کہاں کھانے جائیگی، اسکےلئے بھی لے لوں. یہ تو مناسب نہ ہوا نہ کہ میں خود تو آفس میں جس چیز کا دل چاہے وہ کھالوں اور بیوی بچوں سے کہوں کہ وہ جو گھر میں پکے صرف وہی کھائیں"
میں حیرت سے انکا منہ تکنے لگا کیونکہ میں نے آج تک اس
+
Read 11 tweets
العزبن عبدالسلام،
عالموں کے سلطان"جن کا ایک فتویٰ جو تاریخ میں امر ہو گیا۔

ملک المظفر بادشاہ سیف الدین قتوز،اس وقت کے اپنے ملک کے حاکم، تاتاریوں کے حملے کے پیش نظرفوج تیار کرنے کےلیے عوام پر ٹیکس لگانے کاسوچتے ہیں۔

متوقع شدید جنگ، حملے اور تباہی کا خطرہ ہے، اس نازک صورتحال
+
کیوجہ سے ٹیکس لگانے کافیصلہ کیاگیا۔
بادشاہ نے شیخ العزبن عبدالسلام سے رائے لی تو انہوں نے کہا:
"دو شرائط ہیں"
پہلی شرط::
اگر دشمن، ملک پرحملہ کرتا ہےتو پوری دنیا کو اسکا مقابلہ کرناچاہیے(یعنی عالم اسلام) اور دفاعی ضرورت پوری کرنےکےلئے رعایا سے وہ چیز لینا جائز ہے جو انکے زیر
+
استعمال ہو (یعنی زکوٰۃ سے اوپر)
لیکن
بشرطیکہ خزانے میں کوئی چیز باقی نہ رہے۔

دوسری شرط زیادہ مشکل تھی،
شیخ نے کہا:
"اورجو کچھ تمہارے پاس جائیداد اور آلات ہیں انہیں بیچ دو۔(یعنی حکمران،شہزادے اور وزراء اپنی ملکیت کوبیچ دیں)
اور تم خواص میں سے ہرایک صرف اپنے گھوڑے اور ہتھیار
+
Read 5 tweets
اﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﮏ ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯽ لیکر ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺁﯾﺎﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎکہ "بھائی ذرا اﺱ مرغی ﮐﻮ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ٹکڑے کردو"
ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵﻧﮯ ﮐﮩﺎ"ﻣﺮﻏﯽ ﺭکھ ﮐﺮچلے ﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﮬ گھنٹے ﺑﻌﺪ ﺁﮐﺮ لیجانا"
اتفاق سے شہر
+
ﮐﺎ قاضی ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ پر آ گیا اور ﮐﮩﺎ کہ"ﯾﮧ ﻣﺮﻏﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ"
ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ نے جواب دیا کہ"
یہ مرغی میری نہیں بلکہ کسی اور کی ہے اور میرے پاس ابھی کوئی اور مرغی بھی نہیں جو آپکو دے سکوں"
قاضی نے کہا کہ"کوئی بات نہیں یہی مرغی مجھے دے دو +
مالک آئے تو کہنا کہ مرغی اڑ گئ ہے"
دوکاندار نے کہا"ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ اس نے مجھے ذبح شدہ مرغی دی تھی وہ بھلا کیسے اڑ سکتی؟
قاضی نے کہا "میری بات غور سے سنو! بس یہ مرغی مجھے دے دو اسکے مالک سے یہی کہو کہ تیری مرغی اڑ گی ہے۔وہ زیادہ سے زیادہ تمہارے خلاف مقدمہ لیکر میرے پاس +
Read 15 tweets
لندن کے ایک امام صاحب!
لندن میں ایک امام مسجد تھے۔ روزانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا اُنکا معمول تھا۔لندن میں لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔
ایک مرتبہ یہ امام بس پر سوار+
ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر نشست پر بیٹھ گئے۔ ڈرائیور کےدیئے ہوئے بقایا کو جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھا تو پتہ چلا کہ بیس پینس (pence) زیادہ ہیں۔
پہلے امام صاحب نے سوچا کہ یہ 20p وہ اترتے ہوئےڈرائیور کو واپس کر دینگے۔
پھر ایک سوچ آئی کہ اتنے تھوڑے سے پیسوں
+
کی کون پرواہ کرتا ہے، ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاؤنڈ کماتی بھی تو ہے۔ ان تھوڑے سے پیسوں سے اُنکی کمائی میں کیا فرق پڑے گا؟
میں ان پیسوں کواللہ کیطرف سے انعام سمجھ کر جیب میں ڈالتا ہوں اور چپ ہی رہتا ہوں۔ اسی کشمکش میں کہ واپس کروں یا نہ کروں، امام صاحب کا سٹاپ
+
Read 8 tweets
ابراہم لنکن کا والد ایک کاریگر انسان تھا۔
وہ کسان بھی تھا،جولاہا بھی او ر موچی بھی۔جوانی میں کارڈین کاؤنٹی کے امراء کے گھروں میں جاتا تھا اورانکے خاندان کے جوتے سیتا تھا۔1861ء میں ابراہام لنکن امریکہ کا صدر بن گیا۔اس وقت امریکی سینٹ میں جاگیرداروں، تاجروں، صنعتکاروں اور
1/16
اورسرمایہ کاروں کا قبضہ تھا۔یہ لوگ سینیٹ میں اپنی کمیونٹی کے مفادات کی حفاظت کرتے تھے۔ابراہم لنکن صدر بناتو اس نے امریکہ میں غلامی کاخاتمہ کر دیا۔ ایک فرمان کے ذریعے باغی ریاستوں کے غلاموں کو آزاد کرکے فوج میں شامل کرلیا۔امریکی اشرافیہ لنکن کی اصلاحات سے براہراست متاثر ہو رہی2/16
تھیں۔چنانچہ یہ لوگ ابراہم لنکن کیخلاف ہو گئے۔ یہ ابراہم لنکن کی شہرت کو بھی نقصان پہنچاتے تھے اوراسکی کردار کشی کابھی کوئی موقع ضائع نہیں کرتےتھے۔یہ لوگ سینٹ کے اجلاس میں بھی عموماً ابراہم لنکن کامذاق اڑاتے تھےلیکن لنکن کبھی اس مذاق پر دکھی نہیں ہوا۔وہ کہتا تھا
"میرے جیسے
3/16
Read 16 tweets
تاریخ کی کتابوں میں ایک واقعہ درج ہے کہ ایک بدو کی دلہن کو جس گھوڑے پر بٹھا کر لوگ لائے تھے۔دلہن کے گھوڑے سے اترتے ہی اس بدو نے تلوار سے گھوڑے کی گردن الگ کردی.لوگوں نے اس سے ایسا کرنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ
"میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ میری بیوی کے اترنے کے فورا بعد ہی1/6
کوئی اور اس گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ جائے اوردلہن کی سواری کی وجہ سے تاحال گھوڑے کی پیٹھ گرم ہو اور کوئی غیر مرد اس حرارت کو محسوس کرئے"

اسی طرح ایک اور واقعہ ہےکہ
"ایک عورت نے اپنے شوہر کے خلاف عدالت میں کیس دائر کیا کہ اسکے ذمہ میرے حق مہر کے500 دینار ہیں. عدالت نے شوہر کوبلا2/6
کر پوچھا تو اس نے انکار کر دیا.عدالت نے گواہوں کو طلب کیا اور ان سے گواہی لیتے وقت عورت کاچہرہ پہچاننے کےلئے عورت کو نقاب اتارنے کا کہا.
اس پر اسکا شوہر جلدی سے کھڑا ہوکر کہنے لگا کہ قاضی صاحب میں تسلیم کرتا ہوں کہ مجھ پر میری بیوی کے 500 دینار لازم ہیں۔ بس آپ نقاب نہ اتروائیں3/6
Read 6 tweets
پرانے زمانے میں مال برداری اور پبلک ٹرانسپورٹ کےلئے بیل گاڑیاں ھوا کرتی تھیں۔ ہر بیل گاڑی کےساتھ ایک کتا ضرور ھوتا تھا۔ جب کہیں سنسان بیابان میں مالک کو رکنا پڑتا تو اس وقت وہ کتا سامان کی رکھوالی کیا کرتاتھا۔
جس نے وہ بیل گاڑی چلتی دیکھی ھوگی تو اس کو ضرور یاد ہوگا کہ وہ کتا
1/6 Image
بیل گاڑی کے نیچے نیچے ہی چلا کرتا تھا۔
اُسکی ایک خاص وجہ ہوتی تھی کہ جب کتا چھوٹا ہوتا تھا تو مالک سفر کے دوران اُس کتے کو گاڑی کے ایکسل کے ساتھ نیچے باندھ دیا کرتا تھا تو پھر وہ بڑا ھو کر بھی اپنی اسی جگہ پر چلتا رہتا تھا۔

ایک دن کتے نے سوچا کہ جب مالک گاڑی روکتا ہے تو سب سے2/6
پہلے بیل کو پانی پلاتا ہے اور چارا ڈالتا ہے پھر خود کھاتا ہے اور سب سے آخر میں مجھے کھلاتا ہے۔
حالانکہ
گڈھ تو ساری میں نے اپنے اوپر اُٹھائی ھوتی ہے۔ دراصل اس کتے کو گڈھ کے نیچے چلتے ہوئے یہ گمان ہو گیا تھا کہ یہ گڈھ اس نے اُٹھا رکھی ہے۔ وہ اندر ہی اندر کُڑھتا رہتا ہے۔
ایک دن 3/6
Read 6 tweets
پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک بادشاہ سلامت نے رات کو گیدڑوں کی آوازیں سنی تو صبح وزیروں سے پوچھا کہ
"رات کو یہ گیدڑ بہت شور کررہے تھے،
کیا وجہ ہے؟"
اس وقت کے وزیر عقل مند ہوتے تھے۔انھوں نے کہا، "جناب کھانے پینے کی چیزوں کی کمی ہوگی اس لیے فریاد کر رہے ہیں"
تو حاکم وقت نے
1/6 Image
آرڈر کیا کہ ان کا بندوبست کیا جائے۔
اب وزیر صاحب نے اس میں سے کچھ مال گھر بھجوا دیا اور کچھ رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کر دیا۔

اگلی رات کو پھر وہیں آوازیں آئیں تو صبح بادشاہ نے وزیر سے فرمایا کہ
"کل آپ نے سامان نہیں بھجوایا کیا؟
تو وزیر نے فوری جواب دیا کہ
2/6
جی بادشاہ سلامت بھجوایا تو تھا۔ اسپر بادشاہ نے فرمایا کہ "پھر شور کیوں؟
تو وزیر نے کہا
"جناب سردی کی وجہ سے شور کررہےہیں"
تو بادشاہ نے آرڈر جاری کیا کہ
"بستروں کا انتظام کیا جائے"
صبح پھر موجیں لگ گئیں وزیر کی۔
حسب عادت کچھ بستریں گھر بھیج دیئے اور کچھ رشتہ داروں اور دوستوں
3/6
Read 6 tweets
"اللہ کی ﻗﺪﺭﺕ ﮐﯽ ﻋﺠﺐ ﻧﺸﺎﻧﯽ"

ﮔﻮﻟﮉﻥ ﭘﻠﻮﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮨﮯ۔ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﺍﻻﺳﮑﺎ ﺳﮯﮨﻮﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﺗﮏ 4000 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﺮﮐﮯ1/7
ﮨﺠﺮﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ. ﺍسﮐﯽ ﯾﮧ ﭘﺮﻭﺍﺯ 88 ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺤﯿﻂﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ,ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﮭﮩﺮﺗﺎ. ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟﮐﻮﺋﯽ ﺟﺰﯾﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭﯾﮧ ﺗﯿﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟﺳﮑﺘﺎ۔ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﺴﺘﺎﻧﺎ ناممکن 2/7
ﺟﺐﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﭘﺮ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﯽ ﺗﻮ انکو ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺳﻔﺮ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯﻟﺌﮯ88 ﮔﺮﺍﻡ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ (fat) ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ۔
جبکہ حقیقت میں اسکے پاس پرواز کے ایندھن کے طور پر 70 گرام چکنائی 3/7
Read 7 tweets
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عمررسیدہ بزرگ اپنے بیٹے کے ہمراہ کسی دوسرے گاؤں میں کام کی غرض سے جانے کے لیے نکلا۔راستے میں ایک جنگل پڑتا تھا۔دونوں نے شام ڈھلنے سے پہلے جنگل تو عبور کر لیا مگر ابھی بھی گاؤں کافی دور تھا اور درمیان میں ایک چھوٹا سا پہاڑی 👇
سلسلہ بھی حائل تھا۔اوپر سے ستم یہ کہ باپ بیٹا تھکن سے بھی چور چور ہو چکے تھے۔ یہی سوچتے کہ اب کیا کرنا چاہیے سفر جاری رکھا جائے جو کہ بظاہر ناممکن لگ رہا تھا یا پھر کہیں قیام کیا جائے ان دونوں نے سفر جاری رکھا۔سوچوں میں غرق باپ بیٹا کچھ ہی دور چلے ہونگے کہ حد نگاہ کے اختتام پر👇
انہیں ایک گھر کی موجودگی کاشائبہ ساہوا۔ گھرکی موجودگی کے اس احساس نے جیسے ان دونوں میں کوئی برق سی بھر دی اور وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔جب قریب پہنچے تودونوں کی خوشی کی انتہا نہ رہی کہ واقعی اس وسیع و عریض بظاہر ویران میدان میں ایک کچا گھر واقع تھا۔جسکے احاطے میں👇
Read 24 tweets
ﺍﺻﻐﺮ ﺳﻮﺩﺍﺋﯽ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﻗﻮﻣﯽ ﻧﻈﻢ ﻟﮑﮫﮐﺮ ﻻﺗﮯ۔ﺟﻠﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﻧﻈﻢ ﻟﮑﮫ ﮐﺮﻻﺋﮯ،
جسکے ﺍﯾﮏ ﻣﺼﺮﻋﮧ ﻧﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ کے تار کو چھو👇
ﭼﮭﻮﻟﯿﺎ۔
ﺁﭖ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﺼﺮﻉ ﮐﯿﺴﮯ آپکے ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟﺁﯾﺎ،
ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ:
”ﺟﺐ ﻟﻮﮒ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ، ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ
ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ لیکن پاکستان کا مطلب کیاہے؟
تو میرے ذہن
ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﮐﮧ
” ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮐﯿﺎﮨﮯ؟
ﯾﮧ ﻧﻌﺮﮦ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻃﻮﻝ ﻭﻋﺮﺽ ﻣﯿﮟﺍﺗﻨﺎ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ تحریک پاکستان اور یہ نعرہ لازم وملزوم ہو گئے۔
اسی لئے قائد اعظم نے کہا تھا کہ
Read 13 tweets
"اہل عرب جب شادی بیاہ کرتے تھے تو قدیم رواج کے مطابق دعوت کی تقریب میں شامل مہمانوں کی تواضع کےلیے بھنے ہوئے گوشت کے ٹکڑے کو روٹی کے اندر لپیٹ کرپیش کرتے تھے۔
اگر کسی تقریب میں گھرکے سربراہ کوپتا چلتاکہ اس شادی میں شریک افراد کی تعداد دعوت میں تیار کیے گوشت کے ٹکڑوں کی تعداد سے👇
زیادہ ہے ، یا زیادہ ہوسکتی ہے ، تو وہ کھانے کے وقت دو روٹیاں (گوشت کے بغیر) ایک دوسرے کے ساتھ لپیٹ کر اپنے اہلِ خانہ، رشتہ داروں اور انتہائی قریبی دوستوں میں تقسیم کرتے جبکہ گوشت روٹی کے اندر لپیٹ کر صرف باہر سے آئے ہوئے اجنبیوں کو پیش کیا جاتا تھا.
ایسا ہی ایک بار غریب شخص کے👇
ہاں شادی کی تقریب تھی جس میں اس شخص نے دعوت کے دن احتیاطاً بغیر گوشت کے روٹی کے اندر روٹی لپیٹ کر اپنے گھر والوں،رشتہ داروں اور متعدد قریبی قابلِ بھروسہ دوستوں کو کھانے میں پیش کی،تاکہ اجنبیوں کو کھانے میں روٹی کے ساتھ گوشت مل سکے اورکسی بھی قسم کی شرمندگی سے بچاجاسکے.
جنہیں👇
Read 7 tweets
"مامتا تو وکھری وکھری نہیں ہوتی"

کل فیکے کمہار کے گھر کے سامنے ایک چمکتی ہوئی گاڑی کھڑی تھی۔سارے گاؤں میں اس کا چرچا تھا۔جانے کون ملنے آیا تھا؟
میں جانتا تھافیکا پہلی فرصت میں آ کر مجھے سارا ماجرا ضرور سناۓ گا۔
وھی ھوا شام کو تھلے پر آکر بیٹھا ھی تھا کہ فیکا چلا آیا۔👇
کہنے لگا۔"صاحب جی کئی سال پہلے کی بات ھے آپ کو یاد ھے ماسی نوراں ہوتی تھی وہ جو بھٹی پر دانے بھونا کرتی تھی۔جسکا اِکو اِک پُتر تھا وقار"
میں نے کہا"ہاں یار میں اپنے گاؤں کے لوگوں کو کیسے بھول سکتا ھوں"
اللہ آپکابھلا کرے صاحب جی،وقار اور میں پنجویں جماعت میں پڑھتے تھے۔
سکول میں👇
اکثر وقار کے ٹِڈھ میں پیڑ ھوتی تھی۔ اک نُکرے لگا روتا رہتا تھا۔ماسٹر جی ڈانٹ کر اسے گھر بھیج دیتے تھے کہ جا حکیم کو دکھااور دوائی لے۔اک دن میں آدھی چھٹی کے وقت وقار کے پاس بیٹھا تھا۔میں نے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھااور اچار کھولا۔
صاحب جی اج وی جب کبھی بہت بھوک لگتی ھے نا توسب👇
Read 17 tweets
یہ 1282 ہجری کی بات ہے. سعودی عرب کے بریدہ شہر میں منیرہ نامی ایک نیک وصالح خاتون نے مرنے سے پہلے اپنے زیورات بھائی کے حوالے کئےکہ میری وفات کے بعد ان زیورات کو بیچ کر ایک دکان خرید لیں.پھراس دکان کو کرائے پر چڑھائیں اور آمدن کو محتاجوں پر خرچ کر دیں.
بہن کی وفات کے بعد بھائی نے
وصیت پر عمل کرتے ہوئے انکے زیورات بیچ کر بہن کے نام پر 12ریال میں ایک دکان خرید لی(اس زمانے میں 12 ریال کی بڑی ویلیو تھی) اور اسے کرائے پر چڑھا دیا۔کرائے کی رقم سے محتاجوں کیلئے کھانے پینے کی اشیاء خرید کر دی جاتی رہی یہ سلسلہ دہائیوں جاری رہا۔ دہائیوں بعد دکان کا ماہانہ کرایہ 15
ہزار ریال تک پہنچ چکا تھا،اور اس رقم سے ضرورت مندوں کیلئے اچھی خاصی چیزیں خرید کر دی جاتی تھیں۔ پھر وہ دن آیا کہ سعودی حکومت نے بریدہ کی جامع مسجد میں توسیع کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ دکان توسیع کی زد میں آ رہی تھی۔چنانچہ حکومت نے 5 لاکھ ریال میں یہ دکان خرید لی.
دکان کی دیکھ بھال
Read 7 tweets
"چشم کشا"
ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﻓﻼﺋﯿﭧ ﮨﻤﻮﺍﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯾﺎ،ﻣﯿں ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺏ ﺑﻨﺪ ﮐﯽ اور ﮔﺮﻡ ﺟﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﻼﯾﺎ۔ ﺑﺰﺭﮒ خاتون
ﺗﮭﯿﮟ، ﻋﻤﺮ ﺳﺎﭨﮫ ﺍﻭﺭ ﺳﺘﺮ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﮨﻮ ﮔﯽ Image
ﻭﮦ ﺷﮑﻞ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﯽ ﻟﮑﮭﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﻑﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮﮐﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ”ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﻋﺮﺑﯽ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ“ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ
ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ”ﻧﮩﯿﮟ‘‘ ﯾﮧ ﺍُﺭﺩﻭ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ“ ﻭﮦ
ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﯿﮟ، ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ
ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎﯾﺎ،ﻣﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺟﮭﻼ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ” ﺗﻢ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮨﻮ“ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺮﻡ ﺟﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ”ﺟﯽ ﺑﺎﻟﮑﻞ“
ﻭﮦ ﺣﻘﯿﻘﺘﺎً ﺧﻮﺵ ﮨﻮیئں، ﻓﻼﺋﯿﭧ ﻟﻤﺒﯽ +
Read 24 tweets
خلیل الرحمن قمر صاحب لکھتے ہیں کہ میں جب چھوٹا تھا تو بڑا انا پرست تھا.غربت کے باوجود کبھی بھی یوزڈ کپڑے نہیں پہنتاتھا۔ ایک بار میرے ابا کو کپڑے کاسوٹ گفٹ ملا تو میں نے اُن سے کہا مجھے کوٹ سلوانا ہے۔تو ابا جی نے اجازت دے دی اور ہاف سوٹ سے میں نے گول گلے والا کوٹ_سلوا لیا جسکا+
اُن دنوں بڑا رواج تھا۔۔
وہ کوٹ پہن کر مَیں چچا کے گھر گیا تو چاچی اور کزنز نے فَٹ سے پوچھا: ”اویے_خیلے_اے_کوٹ_کتھو_لیا_ای؟
میں نے کہا:”سوایا ہے چاچی“لیکن وہ نہ مانے میں نے قسمیں بھی کھاٸیں۔لیکن اُنکو اعتبار نہ آیا خالہ،پھوپھو کے گھر گیا تو وہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا میں گھر آیا
اور کوٹ اُتار کر پھینک دیا اور رونے لگ گیا۔۔
حالات کچھ ایسے تھے کہ کوٸی بھی ماننے کو تیار ہی نہیں تھاکہ خیلہ بھی نیا کوٹ سلوا سکتا ہے۔
پڑھنے لکھنے اور جاب کےبعد جب میں ایک بنک کے بورڈ آف ڈاٸریکٹرز کا ممبر بنا۔تو بورڈ آف ڈاٸریکٹرز کی ایک میٹنگ میں اچھے سے ڈراٸی کلین کیا ہوا لنڈے
Read 5 tweets
اسلام سے قبل اﯾﮏ ﻟﮍﮐﺎ
ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﮬﻮﺍ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻔﮑّﺮ ﺷﯿﻮﺍﻧﺎ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ:
" ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻣﻌﺒﺪ ﮐﮯ ﮐﺎﮬﻦ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﻋﻈﯿﻢ ﺑُﺖ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﯼ
ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺳﯽ ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﮮ۔
ﺁﭖ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎ ﺩﯾﮟ۔ "

ﺷﯿﻮﺍﻧﺎ ﻟﮍﮐﮯ کے ﺳﺎﺗﮫ ﻓﻮﺭﺍً ﻣﻌﺒﺪ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮬﮯ؟
ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺑﭽﯽ ﮐﮯ ﮬﺎﺗﮫ ﭘﺎﺅﮞ
ﺭﺳﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﮑﮍ ﻟﺌﮯ ﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﺮﯼ ﮬﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍﮮ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺌﮯ
ﮐﭽﮫ ﭘﮍﮪ ﺭﮬﯽ ﮬﮯ۔
ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﺟﻤﻊ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺑُﺖ ﺧﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﮬﻦ ﺑﮍﮮ ﻓﺨﺮ ﺳﮯ ﺑُﺖ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺍﯾﮏ +
Read 11 tweets

Related hashtags

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3.00/month or $30.00/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!