Discover and read the best of Twitter Threads about #عمرانیات

Most recents (6)

ناقابلِ فراموش واقعہ
کہا جاتا ہے کہ منگول کمانڈر نویان جب ایک شہر فتح کرنے کے بعد گلیوں بازاروں سے گزر رہا تھا ۔ وہاں موجود کچھ لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیتا اور کچھ کو معاف کردیتا ۔
منگول فوجی لوگوں کی گردنیں دبوچ کر نویان کے سامنے لاتے ۔ وہ اپنے مشہور انداز میں ان کے جسموں👇 Image
میں خنجر گھونپتا اور آگے بڑھ جاتا
اچانک وہاں 1 آدمی نویان کے قدموں میں گر کر چیخنے لگا۔سپاہیوں کے اٹھانے پر وہ شخص نویان سے بولا ۔
حضور میرے جرم اتنے زیادہ ہیں کہ آپ چاہتے ہوئے بھی معاف نہیں کرسکتے
میں نے لوگوں کو لوٹا ، ستایا ، برباد کیا ہے ۔ آپ تلوار سے میری گردن کاٹ دیں۔👇
نویان ایک منٹ کے لیے رکا۔ باچھو کے ڈھول بجانے پر اس نے آنکھیں بند کی اور کچھ سوچنے لگا ۔ پھر اچانک اس نے تلوار آدمی کی گردن پر رکھتے ہوئے کہا۔
سپاہیوں کیا دنیا میں ایسا کوئی ہے جو اس مجرم کو بچا سکے؟
Read 4 tweets
1956 میں ایک پاکستانی فلم بنی جس کا نام سرفروش تھا اس فلم کے مرکزی کردار سنتوش کمار اور صبیحہ خانم تھے۔فلم میں سنتوش کمار صبیحہ خانم کے گھر چوری کرنے جاتے ہیں۔ چوری کے دوران فجر کی اذان ہوجاتی ہے وہ نماز پڑھنے کھڑے ہوجاتے ہیں صبیحہ خانم اُٹھ جاتی ہیں اور حیرت سے یہ منظر دیکھ👇 Image
رہی ہوتی ہیں بس اس ادا پر ان کو سنتوش سے پیارہوجاتا ہے،بھائی پہلے زمانے کی فلموں میں ایسا ہی ہوتا تھا بہرحال صبیحہ خانم نے سنتوش سے پوچھا کہ یہ کیا؟ تو سنتوش نے وہ تاریخی ڈائیلاگ ادا کئے جس کو ہماری قوم نے پلّو میں باندھ لیا اور اسے اپنے نظام میں شامل کرلیا وہ ڈائیلاگ تھے👇
”چوری میرا پیشہ ہے اور نماز میرا فرض“ اس ڈائیلاگ کو اتنی پزیرائی ملی کہ چور، رشوت خور، ذخیرہ اندوز ، بھتے خور ، ڈاکو سب اس پر پوری طرح عمل پیرا ہیں۔ ریسٹورانٹ والے ہوں یا کسی بھی کاروبار کے لوگ ہوں ہاتھ میں تسبیح ماتھے پر نماز کا گٹّھاریسٹورانٹ سے قریبی مسجد میں ہر نماز 👇
Read 6 tweets
1969ء میں لیونارڈ کیسلی نامی آسٹریلوی کسان نے اپنے چند ایکڑز کھیت کھلیان کو آسٹریلیا سے آزاد ایک خود مختار ملک بنانے کا اعلان کر دیا.

اپنے آپ کو نئے ملک کا بادشاہ ڈکلیئر کر دیا نئی کرنسی چھاپ دی،نئے قوانین بنائے،لیکن آسٹریلیا نے انہیں سیریس نہیں لیا ان کے خلاف کوئی کارروائی👇 Image
بھی نہیں کی۔

1977ء میں اس نے آسٹریلیا کی فوج کو جنگ کا چیلنج کر دیا آسٹریلیا کی فوج ان سے لڑنے نہیں پہنچی اس نے یکطرفہ جیت کا بھی اعلان کر دیا.
آسٹریلیا کی حکومت اور فوج نے انہیں سیریس نہیں لیا،جب یہ اپنی موت کے قریب پہنچا تو ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ کوئی خواہش رہ گئی ہے؟👇
اس نے جواب دیا کہ برسوں سے میری ایک ہی خواہش ہے کہ کاش آسٹریلیا کی حکومت مجھے سیریس لیتی۔

ملک،قوم اور فرد کی زندگی میں بھی کچھ کیسز ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں سیریس لیکر ہم خود درد سر بناتے ہیں انہیں اگنور کرنا ہی ان کی موت ہوتی ہے۔👇
Read 4 tweets
جمہوری حکومت

*برطانوی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل برنارڈ منٹگمری نے ریٹائرمنٹ کے بعد برطانوی وزیر اعظم سے ملاقات میں درخواست کی کہ میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں، ریٹائرمنٹ کے بعد سوائے پنشن کے کوئی ذریعہ آمدنی نہیں۔ کرائے کے مکان میں رہتا ہوں، بار بار مکان کی تبدیلی میرے لئے👇👇
بہت تکلیف دہ ہے۔ گزارش ہے مجھے ایک مکان اور تھوڑی سی زرعی زمین الاٹ کر دیں تاکہ میں زندگی کے باقی ایام پرسکون طریقے سے گزار سکوں۔*

*وزیراعظم نے تحمل سے ساری بات سنی اور پھر جواب دیا:*
*مسٹر منٹگمری، یقینا آپ ہمارے قومی ہیرو ہیں۔ عالمی جنگ میں آپ نے تاج برطانیہ کے لئے شاندار👇👇
خدمات دی ہیں جس کی ساری قوم معترف ہے لیکن جنرل صاحب، آپ کو اس قومی خدمت ہر ماہ معقول معاوضہ دیا جاتا رہا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ حکومت نے کسی مہینے آپ کو تنخواہ ادا نہ کی ہو یا پھر کبھی آپ کی تنخواہ لیٹ ہو گئی ہو۔ اب جبکہ آپ ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور ریاست کے لئے کوئی خدمت👇👇
Read 6 tweets
ایک نوجوان نے شرط رکھی کہ وہ اس لڑکی سے شادی کرے گا جو اچھا کھانا پکانا جانتی ھو گی ،،،
آخر اس کے چچا نے ھمت کی اور اس کو اپنی بیٹی سے شادی کی پیش کش کر دی ،،
نوجوان نے اپنی شرط چچا کو یاد دلائی جس پر چچا نے اس کو اگلے دن اپنے گھر مدعو کیا ،،،
جوان جب چچا کے گھر پہنچا تو چچا👇👇
گھر کے باھر اس کا انتظار کر رھا تھا ،، وہ اسے سیدھا مویشیوں کے باڑے میں لے گیا اور خوب موٹا تازہ پلا ھوا مینڈھا اس کو دکھا کر کہا کہ بیٹا جی ذرا اس کو ذبح کر کے گوشت بنا لے لاؤ تا کہ تیرے مستقبل کی دلہن اس کو تیرے سامنے ھی پکا کر ھمیں کھلائے- اور کہا کہ بیٹا میں نے بھی👇👇
مینڈھا ذبح کر کے اپنے چچا کی بیٹی کو دیا تھا جس نے اسے بہترین طریقے سے پکا کر مجھے کھلایا تھا اور ھماری شادی ھو گئ تھی -
نوجوان کا رنگ پیلا پڑ گیا وہ خجالت کے ساتھ بولا کہ چچا جان زمانہ تبدیل ھو گیا ھے ، آج کے جوان مینڈھے ذبح کرنا بھول گئے ھیں -
آئستہ بولو بیٹا ، اللہ کا ڈالا 👇
Read 5 tweets
ﻣﺪﺭﺳﮯ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻬﮯ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻮﺩﻭﺩ ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﻮ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮐﺎ ﺷﻐﻒ ﺗﻬﺎ ﺍﺏ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﺍﻇﮩﺮ ﻣﻦ ﺍﻟﺸﻤﺲ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﺎﻋﺮ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﺎ ﺟﻮﮌ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮨﮯ 👇
ﺟﯿﺴﮯ ﺷﮑﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﮨﺮﻥ ﮐﺎ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﺴﻮﺍﻧﯽ ﺟﻤﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﺩﻟﺪﺍﺩﮦ ﺗﻬﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮨﻢ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﮯ ﺗﻬﮯ ﮐﮧ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻮﺩﻭﺩ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺍﯾﮏ ﺣﺴﯿﻦ ﺩﻭﺷﯿﺰﮦ ﭘﮧ ﭘﮍﯼ ﮐﭽﻪ ﺍﺷﺎﺭﻭﮞ 👇
ﺗﻠﻤﯿﺤﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﭼﻼﻧﮯ ﮐﯽ ﺳﻌﯽ ﻻﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻧﻈﺮ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﮐﭽﻪ ﺑﻨﺒﻨﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮨﻢ ﻧﮯ ﮐﺎﻥ ﻗﺮﯾﺐ ﮐﯿﮯ ﺗﻮ ﺳﻨﺎ ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﺗﻬﮯ ﺍﮮ ﺑﯽ ﺑﯽ ﺧﺪﺍ ﺗﺠﻬﮯ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﮕﮧ 👇
Read 4 tweets

Related hashtags

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3.00/month or $30.00/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!