Discover and read the best of Twitter Threads about #قلمدان

Most recents (10)

پاکستان اور اسرائیل کی حقیقت
پاکستان اور اسرائیل دو ایسی ریاستیں ہیں جو ایک ہی نظریے پر بنی ہیں
پاکستان اسلام کے نظریے پہ جبکہ اسرائیل یہودیت اور سہونیت کے نظریے پہ یہ دونوں نظریات ایک دوسرے کے الجھ ہیں
اور انکا ٹکراؤ ہمیشہ ہر دور میں رہا ہے
قیام پاکستان کے اوائل میں ہی اس بات 👇
کا اعلان کردیا گیا تھا کہ پاکستان اسرائیل جیسی مملکت کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا
یہ بات کسی اور نے نہیں بلکہ خود
بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے کی تھی
اول دن سے ہی اسرائیل پاکستان سے خائف تھا
اور پاکستان کا وجود اس کے لئے باعث تسلیم نہیں تھا
پاکستان کے پہلے وزیراعظم 👇
لیاقت علی خان کو اور بڑی رقم بطور امداد دینے کا لالچ دیا گیا تھا جو کہ اس وقت اربوں کی مالیت تھی اور یہ شرط رکھی گئی تھی کہ وہ ایک بار اپنے منہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے الفاظ بیان کردیں
لیکن اس وقت لیاقت علی نے یہ بات بڑی سختی سے واضع کی تھی کہ ایسا ہونا کبھی بھی ممکن نہیں ہے👇
Read 8 tweets
غامدی کا عقیدہ
(حصہ اوّل)
بیان: ڈاکٹر مرتضیٰ بن بخش
جمع و ترتیب: اُمِّ عبداللّٰہ و اَمتہ الرحمٰن
#Ghamidi
#JavedGhamidi
#GhamidiCenter
#JavedAhmadGhamidi
#ghamidisaab
#GhamidiCIL
#قلمدان
#searchthetruth
@SearchTheTruth5 Image
فتنہ پرست،نام نہاد،روشن خیال غامدی کی اہم تصانیف:
البنیان(قرآن مجیدکاترجمہ و تفسیر)
میزان(دین کی تفہیم سےمتعلق)
برہان(تنقیدی مضامین کامجموعہ)
آئیے دیکھتے ہیں غامدی صاحب کا عقیدہ کیا ہے۔۔۔
1۔ غامدی صاحب سے سوال کیا گیا کہ کیا جنت میں صرف مسلمان ہی جائیں گے یا کوئی نیک غیر مسلم بھی جا سکتا ہے؟
جواب میں فرماتے ہیں:
Read 121 tweets
بھولنا بیماری نہیں اچھی ذہانت کی علامت
نئی تحقیق کا انکشاف
ہمارا دماغ ہزاروں لاکھوں خلیوں پر مشتمل ہے جس میں ان گنت واقعات کی یادوں کا خزانہ موجود ہے
کبھی انسان ان یادوں میں سے کچھ کو بھول بھی جاتا ہے جو پریشان کن نہیں
ہماری ایک نسل پرائمری کی اردو کتاب میں شان الحق حقی کی ایک 👇
دلچسپ نظم "بھائی بھلکڑ " پڑھ کر بڑی ہوئی ہے
ہمارے معاشرے میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو کئی باتیں بھول جاتے ہیں
جنہیں لوگ مذاقا بھائی بھلکڑ یا کمزور دماغ پکارتے ہیں
لیکن نئی تحقیق نے اس بات کی نفی کردی ہے کہ بھولنا کوئی بیماری ہے
آئرلینڈ میں ہونے والی اس نئی تحقیق سے یہ 👇
دعوہ سامنے آیا ہے کہ بھولنا کوئی بیماری نہیں بلکہ یہ ممکنہ طور پر سیکھنے کی ایک قسم ہو سکتی ہے
ٹرینیٹی کالج میں ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مخصوص یادوں تک رسائی کے حوالے سے ہماری صلاحیت میں ماحولیاتی تبدیلیاں موحولیاتی فیڈ بیک اور قابل پیشگوئی جیسے عناصر کے باعث آتی ہے👇
Read 8 tweets
دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا اس میں کتا سے مراد "کُتا" "dog" ہی لیا، سمجھا، اور پڑھا بھی جاتا ہے، لیکن آج نئی بات علم میں آئی تو ہماری علمیت کا جنازہ نکل گیا
یہ لفظ کُتا نہیں بلکہ کَتا ہے جس سے مراد کپڑے دھونے کا وہ ڈنڈا ہے جسے دھوبی ساتھ لیے پھرتا ہے۔
"وضاحت"
👇
اصل لفظ کتکہ ہے جو بگڑ کر کتا بن گیا۔
پرانے وقتوں میں کپڑے گھاٹ پر دھوئے جاتے تھے اور کپڑوں کو صاف کرنے کیلئے دھوبی اک بھاری بھرکم ڈنڈے کا استعمال کیا کرتا تھا، جس کو کتکہ کہا جاتا تھا۔ وہ کتکہ گھاٹ پر نہیں رکھا جاتا تھا کیوں کہ کوئی اور اٹھا لے گا اور گھر لانے میں بے جا مشقت👇
کرنی پڑتی ۔ اسلئے دھوبی وہ کتکہ راستے میں مناسب جگہ چھپا دیتا اور اگلے دن نکال کر پھر استعمال کر لیتا۔ اس طرح کتکہ نہ گھر جا پاتا اور نہ گھاٹ پر رات گزارتا۔
دھوبی کا کتکہ ۔ نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔
جو نئے دور میں بگڑ کر کتا بن گیا۔۔
🤣🤣🤣
منقول..
#قلمدان
#قلمکار
#قاسم_ملک
Read 3 tweets
"غلط بات ہم سے برداشت نہیں ہوتی"

یہ جملہ بہت عام ہوتا جا رہا ہے اور لوگ فخریہ کہتے ہیں اسے۔۔۔
ارے بھائی صاحب صحیح بات میں برداشت کرنے جیسا ہوتا کیا ہے۔۔
مطلب کہ اگر آپ غلط بات برداشت نہیں کر سکتے تو آپ نے اخلاقیات بردباری اور تحمل مزاجی کا سارا درس اپنے پاوں تلے
روند دیا۔۔۔ کردار کی بلندی اسی میں ہے کہ ناگوار بات کو تحمل سے سنا جائے اور دلیل کے ساتھ اسکی نفی کی جائے نا کہ اینٹ اٹھا کر اسکے سر پر یہ کہتے ہوئے مار دی جائے کہ " ہم غلط بات برداشت نہیں کرتے"

مثال دے کر سمجھاتا ہوں🤔

اگر آپ کتے کو کتا کہیں گیں تو اسے برا نہیں لگے گا اور وہ
آپکو کچھ کہے گا بھی نہیں۔۔ لیکن اگر آپ انسان کو کتا کہیں گیں تو اسے برا لگنا چاہیے لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ بھونکنا اور کاٹنا شروع کر دے۔۔ بلکہ تحمل مزاجی سے جواب دینا چاہئے🙄

"ہم ظلم برداشت نہیں کرتے"
بتاتا چلوں کہ صحیح جملہ یہ تھا جو کہ زمانے کی گردش کا شکار ہوگیا☝️
Read 4 tweets
تاریخ کی سب سے طاقتور ترین معذرت

جب حضرتِ ابوذرؓ نے بلالؓ کو کہا
"اے کالی کلوٹی ماں کے بیٹے اب تو بھی میری غلطیاں نکالے گا
بلال یہ سن کر غصے اور افسوس سے بے قرار ہو کر یہ کہتے ہوے اٹھے خدا کی قسم میں اسے ضرور بالضرور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے اٹھاؤں گا
یہ سن👇
کر اللہ کے رسول کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ نے ارشاد فرمایا
ابوذر! کیا تم نے اسے ماں کی عار دلائی
تمھارے اندر کی جہالت اب تک نہ گئی

اتنا سننا تھا کہ ابوذر یہ کہتے ہوے رونے لگے: یا رسول اللہ! میرے لیے دعائے مغفرت کر دیجئے، اور پھر روتے ہوے مسجد سے نکلے
باہر آکر اپنا رخسار مٹی👇
پر رکھ دیا اور بلال سے مخاطب ہو کر کہنے لگے
"بلال! جب تک تم میرے رخسار کو اپنے پاؤں سے نہ روند دو گے میں اسے مٹی سے نہ اٹھاؤں گا یقیناً تم معزز و محترم ہو اور میں ذلیل و خوار
یہ دیکھ کر بلال روتے ہوے آئے اور ابوذر سے قریب ہو کر ان کے رخسار کو چوم لیا اور بے ساختہ گویا ہوے
خدائے👇
Read 5 tweets
"بھیڑیا" واحد ایسا جانور ہے جو اپنی آزادی پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کرتا اور کسی کا غلام نہیں بنتا جبکہ شیر سمیت ہر جانور کو غلام بنایا جا سکتا ہے۔

بھیڑیا کبھی ﻣٌﺮﺩﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ کھاتا اور یہی جنگل۔۔۔👇👇👇
کے بادشاہ کا طریقہ ہے اور نہ ہی بھیڑیا محرم مؤنث پر جھانکتا ہے یعنی باقی جانوروں سے بالکل مختلف بھیڑیا اپنی ماں اور بہن کو شہوت کی نگاہ سے دیکھتا تک نہیں۔

بھیڑیا اپنی شریک حیات کا اتنا وفادار ہوتا ہے کہ اس کے علاؤہ۔۔۔👇👇👇
کسی اور مؤنث سے تعلق قائم نہیں کرتا۔ اسی طرح مؤنث بھیڑیا کے ساتھ وفاداری کرتی ہے۔
بھیڑیا اپنی اولاد کو پہنچانتا ہے کیونکہ ان کے ماں و باپ ایک ہی ہوتے ہیں۔

جوڑے میں سے اگر کوئی ایک مرجائے تو دوسرا مرنے والی جگہ۔۔۔👇👇👇
Read 5 tweets
1/ حضرت رابِعہ بصریہ رح کی پیدائش 95ھ سے 99ھ کے دوران کسی سال بصرہ، عراق میں ہوئی۔ آپ کی ابتدائی زندگی کی زیادہ تر تفصیلات شیخ فریدالدین عطار کے حوالے سے ملتی ہیں۔ رابعہ بصری رح سے جڑے بےشمار روحانی کرامات کے واقعات ہیں ،جن میں اگرچہ کچھ سچے ہیں لیکن کچھ خود ساختہ اختراعات
2/ بھی ہیں۔

رابعہ بصری اپنے والدین کی چوتھی بیٹی تھیں ،اسی لئے آپ کا نام رابعہ یعنی ”چوتھی“ رکھاگیا۔ وہ ایک انتہائی غریب لیکن معززگھرانے میں پیداہوئیں۔ رابعہ بصری کے والدین کی غربت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ جس شب رابعہ بصری پیدا ہوئیں، آپ کے والدین کے پاس نہ تو
3/ دیاجلانے کے لئے تیل تھا اور نہ آپ کو لپیٹنے کے لئے کوئی کپڑا۔ آپ کی والدہ نے اپنے شوہر یعنی آپ کے والد سے درخواست کی کہ پڑوس سے تھوڑا تیل ہی لے آئیں تاکہ دیا جلایا جاسکے لیکن آپ کے والد نے پوری زندگی اپنے خالقِ حقیقی کے علاوہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلایا تھا، لہٰذا وہ پڑوسی
Read 36 tweets
ھندوستان کی تاریخ میں دو چہرے ایسے سیاہ ہیں، جنہیں دنیا کی کوئی طاقت سفید نہ کر سکی اور ابدی ذلتیں ان کا مقدر بنیں۔ ان میں سے ایک تو میر جعفر ہے اور دوسرا میر صادق۔
ہمارے حلقے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ دونوں کم و بیش ایک ہی عمر کے تھے اور ایک ہی وطن کے رہائشی ۔ بلکہ دونوں 1/17
آپس میں رشتہ دار بھی، مگر ایسا ہے نہیں۔ میر جعفر کا وطنی تعلق بنگال سے تھا اور میر صادق کا حیدر آباد دکن سے۔
میر جعفر کی پیدائش 1691 میں ہوئی اور تاریخِ وفات 5 فروری 1765 ہے۔ جب کہ میر صادق 4 مئی 1799 کو واصلِ جہنم ہوا۔

میر جعفر، بنگال کی مسلم حکومت میں فوج کا سردار۔ 2/17
بعد میں ترقی پا کر فوج کا سپہ سالار ہو گیا۔ مسلم حکومت کی سربراہی اس وقت نواب سراج الدولہ کے ہاتھ میں تھی۔
بنگال کو اکبر بادشاہ کے دور حکومت میں 1592ء میں مغلیہ سلطنت کا حصہ بنایا گیا تھا۔ مغلیہ سلطنت کمزور ہوئی تو کئی صوبے آزاد ہو گئے جن میں بنگال بھی شامل تھا۔
سراج 3/17
Read 17 tweets
1/ مسئلہ فلسطین، امت مسلمہ کے ان اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، جس نے گزشتہ کئی عشروں سے امت مسلمہ کو بے چین کررکھا ہے۔ ارض فلسطین جسے انبیاء کی سرزمین کہا جاتا ہے اور بیت المقدس جو مسلمانوں کا قبلہ اوّل ہے اس وقت سے غاصب صیہونی ریاست کے قبضے میں ہے، جب سے ایک عالمی
2/ سازش کے تحت برطانیہ اوراس کے ہم نواؤں کی کوششوں سے دنیا بالخصوص یورپ کے مختلف علاقوں سے متعصب یہودیوں کو فلسطین کی زمین پر بسایا گیا۔

صیہونیوں کے اس سرزمین پر آتے ہی وہاں کے مقامی فلسطینی باشندوں کو کنارے لگادیا گیا اور آہستہ آہستہ فلسطینیوں پر ظلم و ستم اس سطح پر پہنچ
3/ گئے کہ فلسطینیوں کو ہاتھ اپنے ہی ملک میں تیسرے درجے کا شہری بننا پڑا یا مجبور ہوکر انہیں ترک وطن کرنا پڑا۔

مسلمانوں کے قبلہ اول پر اسرائیل نے غاصبانہ قبضہ کیا ہواہے اور چن چن کر مسلمانوں کو گولی کے نشانے پر رکھ کر قتل کیا جارہا ہے اور دنیا خاموش ہے اور انسانی حقوق کے
Read 10 tweets

Related hashtags

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3.00/month or $30.00/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!