Discover and read the best of Twitter Threads about #ہماکازاویہ

Most recents (20)

اپنی سوشل میڈیا ایپس کی بلاک لسٹ پہ نظر ڈالیں۔
بلاک ہونے والوں کی کثیر تعداد اس بنیاد پہ بلاک کی گئی ہو گی کہ انھوں نے آپ کی کسی مسلکی،سیاسی یا معاشرتی پوسٹ کے جواب میں آپ کو دلیل کے بجاۓ گالی یا بددعا دی ہوگی
بحیثیت خاتون مجھےاسی زبان میں جواب دینے کے بجاۓ بلاک کرنا آسان لگتا ہے
یہی لوگ جب قریب المرگ ہوتے ہیں تو ان کی اور ان کے اپنوں کی خواہش ہوتی ہے کہ تمام لوگ انھیں ک خطاؤں کو معاف کریں اور اللہ کریم ان کے گناہوں کو معاف کر دے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام عمر انھیں اپنی زبان پہ قابو پانا نصیب نہیں ہوتا لیکن مرتے دم ان کی دعا ہوتی ہے کہ ان کےلیے سب دعا کریں
اب سب سے تکلیف دہ مرحلہ ہے کہ لوگ آپ کو کیوں معاف کریں۔ کیا اس لیے کہ اب آپ فوت ہونے لگے ہیں یا آپ وفات پا چکے ہیں؟
کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ آپ نے اس دنیا فانی سے جانا ہے؟ کیا آپ کو سزا و جزا، جنت و جہنم کی حقیقت معلوم نہ تھی؟
Read 8 tweets
نہ جنوں رہا ۔۔۔۔

کچھ لوگ دنیا دار نہیں ہوتے یا شاید دنیا ان کے لیے بنی ہی نہیں ہوتی۔
وہ بھی ایسا ہی انسان تھا۔
دیکھنے میں عام سا۔
خاموش رہنے والا۔
محفل میں ہو تو شاید کسی کا دھیان بھی اس کی طرف نہ جاۓ۔ لیکن اسے خود کو نمایاں کرنے کا شوق بھی نہیں تھا۔
میں اپنی کلاس کی خود اعتماد لڑکی جس کو ہر موضوع پہ دسترس حاصل تھی۔ اساتذہ کی تعریفیں میرا اعتماد اور بڑھا دیتیں۔ ایسی چکا چوند میں کہاں کسی پہ نظر ٹھہرنی تھی۔ وہ میرا ہم جماعت ضرور تھا لیکن اتنا غیر اہم کہ شاید ہی کسی نے اسے بولتے سنا ہو۔
اساتذہ بھی اسے ایسے ہی نظر انداز کر دیتے جیسے ہم سب کرتے تھے۔ کسی نے بتایا کہ وہ کسی مزدور کا بیٹا ہے۔ایسے لوگوں کی کیا تربیت اور کیا شخصیت۔ وہ نظریں جھکاۓ گزرتا اور ہم سب اسے کسی کلاس میں پڑے بنچ کی طرح جماعت کا حصہ سمجھنے لگے۔
Read 14 tweets
افسانہ ۔۔

ان سے میری پہلی ملاقات چہل قدمی کے دوران ہوئ۔کالج کی چھٹیوں میں روزانہ واک معمول کا حصہ تھی۔ سبزے پہ چہل قدمی کرتے اندازہ ہی نہ ہوا کہ کتنی دیر ہو گئی کہ یکدم سانس کی تکلیف شروع ہو گئی۔ پولن سیزن میں واک ہمیشہ اذیت دیتی ہے
لیکن درختوں اور پودوں کو نئے رنگوں میں دیکھنا اتنا خوشنما لگتا ہے کہ میں باز نہیں آتی۔
ایک تنے سے ٹیک لگا کے سانس بحال کرنے کو کوشش جاری تھی کہ کسی نے پانی کی بوتل بڑھائ۔ پہلی نظر میں وہ کوئ فرشتہ لگا۔ شکریہ ادا کرتے ہوۓ بوتل واپس کی تو جناب نے شبلی کے نام تعارف کروایا۔
شکل سے وہ انتہائ معقول لگ رہے تھے لیکن ہمیں شبلی سے شبلی فراز یاد آۓ اور جیسے منہ میں کونین گھُل گئی۔پھر انھیں مولانا شبلی نعمانی سے تشبیہ دے کے سکون ملااور انھیں مولانا کا خطاب دے ڈالا۔وہ بھی صاحب جیسے برسوں سے منتظر تھے۔ایک ہی سانس میں نام،رہائش اور سانس کی تکلیف کی وجہ پوچھ لی
Read 19 tweets
آپ کی تیرہ سالہ بیٹی کے لیے چوالیس سال کے مسلمان کا رشتہ آۓ تو کیا آپ صرف مسلمان ہونے کی بنا پہ رشتہ قبول کر لیں گے؟
لیکن یہی رشتہ ایک مسیحی یا ہندو گھرانے سے آپ کی بیٹی کے لیے آۓ تو۔۔
آپ نہ صرف ان کو بے عزت کرکے گھر سے نکالیں گے بلکہ آپ شاید ان کے گھر بھی تباہ کرنے کی کوشش کریں
آخر دوسرے مذہب سے ہو کر بھی انھوں نے یہ گستاخی کرنے کا کیوں سوچا؟
اب اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیں کہ کیا اس ملک کی اقلیتوں کو بھی ایسا سوچنے کا حق ہے یا نہیں ؟
کم عمری کی شادی پہ سزا کا قانون بھی ہے اور نکاح بالجبر پہ بھی سزا ہے
لیکن بات جب دوسرے مذہب کے لوگوں کی آتی ہے تو ہم فوراً اسلام کی آڑ لیتے ہیں۔
ان تمام لوگوں کو جنھیں کم عمر بچیوں کو مسلمان کر کے نکاح کرنے کا ثواب کمانے کا شوق ہے، وہ ادھیڑ عمر مسلمان خواتین یا بیوہ و طلاق یافتہ خواتین کا سہارا بن کے سنت پہ عمل کرنے کی ہمت کیوں نہیں کرتے؟
Read 6 tweets
انگریزی کی کلاس میں ایک لیکچرر نے پوچھا کہ اگر آپ کے پاس چوائس ہوتی تو آپ کیا بننا پسند کرتے؟
سب سے انوکھا جواب ایک لڑکے کا تھا کہ میں لڑکی بننا پسند کرتا۔
یہ جواب بہت سے حقائق واضح کر گیا۔
ہمارے ہاں لڑکی ہونے کا مطلب ہے کہ نازک اندام،سگھڑ، پڑھائ کے ساتھ گھریلو امور میں ماہر ہونا
اس میں کچھ قصور افسانہ نگاروں اور شاعروں کا ہے جنھوں نے محبوب یا ہیروئن کا ایسا تصور پیش کیا کہ فی زمانہ اس سانچے میں ڈھلنے کے لیے دن کے چوبیس گھنٹے بھی کم لگتے ہیں۔
رہی سہی کسر فلمی ہیروئنز نے پوری کر دی۔سب کی آئیڈیل مخروطی آنکھوں،ڈمپل والی سروقد، گھنیری پلکوں والی ہیروئنیں ہیں
اب اس مقابلے کی فضا میں عام لڑکی کے لیے برابری کرنا کتنا مشکل ہے، کوئ ہم سے پوچھے۔

لمبے چمکدار بالوں کو قابو رکھنے کے لیے خاص شیمپو چاہیے۔ اب چاہے گرمی میں آپ جو بھی کریں،بالوں کا ٹوکرا سنبھالنے کو گھنٹہ لگتا ہے ۔
Read 11 tweets
سن 2019کا ذکر ہے کہ ہماری زندگی بڑی اچھی گزر رہی تھی۔روزصبح واک کی جاتی پھر یوگا۔ جز وقتی سکول ملازمت بھی جاری تھی کہ اچانک 2020 نے اپنے جلوے دکھانا شروع کیے۔پہلے سکول بند ہوۓ اور پھر پارکس۔
ہمیں چہل قدمی صرف پارک میں پسند تھی،اس لیے گھر میں واک کرنے کا خیال ہمیں کچھ بھایا نہیں۔
روزانہ خبروں میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ سنتے تو حیران ہوتے کہ آخر ہر بیماری ہم سے اپنا تعارف کرواۓ بنا نہیں جاتی تو اب بےگانگی کیوں
گھر والے سارا دن چیزوں کو disinfect کرتے اور ہم کھانےکی کوئ نئی ترکیب آزماتے کہ لاک ڈاؤن پہ باہر جانے پہ پابندی ہے،کھانے پہ نہیں۔
انھی دنوں میں ہماری اپنے انکل سے ملاقات ہوئ اور کچھ دن بعد انکشاف ہوا کہ وہ بھی متاثرین میں شامل ہیں۔
گھر والوں کو علامات نظر نہیں آئیں،وہ مطمئن لیکن ہمیں اپنے مدافعتی نظام پہ بھروسہ تھا۔زبردستی ٹسٹ کروانے پہ سارا گھرانہ مثبت ظاہر ہو گیا۔ساتھ ہی حکم ملاکہ دو ہفتے نظر بند رہیں
Read 15 tweets
کل ندیا اطہر @naddiyyaathar نے ایک میٹنگ کی ویڈیو میں شریک افراد کے بارے میں پوچھ لیا کہ سعد رفیق اور احسن اقبال کے درمیان کون بیٹھا ہے۔
تصویر میں سردار ایاز صادق کو دیکھ کر بہت سی پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔ ہم سب بہن بھائ کٹر لیگی تھے
لیکن الیکشن 2013 سے پہلے جانے کیا ہوا کہ آدھی عوام عمران خان کے گُن گانے لگی۔پہلے تو ان کو ARY محب وطن اور جیو غدار لگا پھر انھیں نون لیگ بھی نااہل لگنے لگی۔ چونکہ بہنوں کے گھر دوسرے شہروں میں ہیں اس لیے براہ راست بحث تو ممکن نہیں ہوتی تھی
لیکن فیملی واٹس ایپ گروپ پہ خوب بھڑاس نکالی جاتی تھی۔ہمیں تب سیاست میں کچھ خاص دلچسپی نہیں تھی سواۓ اس کے کہ شیر ہی جیتے۔
الیکشن کی رات ہم سب جاگتے رہے اور ٹی وی پہ نتائج دیکھتے رہے۔میاں صاحب کی جیت کا اعلان ہوا تو بقول “دشمنوں” کے آتش بازی ٹی وی سے زیادہ واٹس ایپ گروپ میں ہوئ۔
Read 7 tweets
تپتی گرمی میں کسی تندور پہ قطار لگی ہوئی ہو اور کہیں سے ایک خاتون یا کوئی بچی روٹی لینے آجائے تو تندور والا قطار میں پہلے سے لگے مردوں میں سے کسی سے بھی پوچھے یا اجازت لیئے بغیر پہلے اس عورت یا بچی کو روٹی دے دیتا ہے.
کسی بینک میں بل جمع کروانے کی قطار ہو تو وہاں بھی مردوں پر ترجیح کسی بھی آجانے والی خاتون کو دی جاتی ہے۔ کسی سڑک کنارے کوئی کار یا موٹر سائکل خراب ہوجائے اور اُس پر فیملی یا لیڈیز موجود ہوں تو گزرنے والے عام طور پر اُن کی مدد کیلئے ضرور رکتے ہیں،
بائیک والے اپنی موٹر سائیکل سے پیٹرول نکال کر اُن کو پیش کردیتے ہیں. کہیں سامان یا وزن اٹھانے کا معاملہ درپیش ہو تو بھی صنف نازک کو خصوصی احترام اور مدد دینا ہماری تہذیب کا بنیادی وصف ہے اور کم و بیش یہی معاملہ زندگی کے ہر شعبہ کا ہے میرے اس معاشرے میں ،
Read 6 tweets
ایک شخص جو دنیا کے خوبصورت افراد میں شامل تھا،
جس کا نام پچاس طاقتور ترین مسلمانوں کی لسٹ میں تھا،
جس نے اپنے کردار سے دنیا بھر کو اپنے ملک سے روشناس کروایا۔
جس نے معاشرے میں ہونے والی بے انصافیوں کے خلاف آواز اٹھائ اور ایک سیاسی پارٹی بنائ۔
جس نے اپنے اپنے شعبے میں ماہرترین افراد کو ڈھونڈ کے انھیں اپنا ساتھی بنایا تاکہ وہ ملک میں ایک نظام نافذ کر سکے۔
جس نے ریٹائر ہونے کے بعد پیسے کمانے کے بجاۓ وہ وقت عوام کو خود پہ ہونے والے ظلم کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے صرف کیا۔
جس کے اقوام متحدہ میں خطاب سننے کے لیے تمام سربراہان ممالک نے اپنی مصروفیات ترک کر دیں اور اس کی تقریر کو دنیا بھر کے چینلز پہ براہ راست دکھایا گیا۔
جس کی متاثر کن شخصیت کے باعث دوسرے ممالک میں سیاسی تنازعات میں اسے بطور ثالث منتخب کیا جاتا ہے،
Read 5 tweets
زہرہ مظفر گڑھ میں پیدا ہوئ۔غربت کی وجہ سے والدین نے بچوں کو امیر گھرانوں میں ملازم رکھوانے کا ارادہ کیا تاکہ بچوں کی پرورش بھی ہو گی اور کچھ پیسے بھی مل جائیں گے۔
آٹھ سال کی عمر میں زہرہ کو حسان صدیقی اور ان کی اہلیہ نے گھر میں بیٹے کی دیکھ بھال کے لیے منتخب کیا
اور اسے اپنے گھر راولپنڈی لے آۓ۔
حسان صدیقی کا قیمتی طوطوں کی خرید و فروخت کا کاروبار تھا اور اس نے گھر میں بھی طوطے رکھے ہوۓ تھے۔
زہرہ اپنی بساط کے مطابق گھر کے کام کاج کرنے لگی۔ ابھی اس گھر میں آۓ اسے صرف چار ماہ ہوۓ کہ یہ اندوہناک سانحہ پیش آیا۔
طوطوں کے پنجرے کی صفائ کرتے پنجرے سے دو قیمتی طوطے اُڑ گئے۔ حسان کو پتہ چلا تو وہ آپے سے باہر ہو گیا۔ تھپڑوں، گھونسے اور لاتوں سے تشدد کے باوجود اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تو اس نے سزا دینے کے لیے آٹھ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی تاکہ زہرہ کبھی ایسی غلطی نہ کر سکے۔
Read 6 tweets
طاقتور ترین ملک کے دارالحکومت میں ذہین ترین سائنس کے افراد کی کانفرنس تھی۔ صرف صدر صاحب کا انتظار تھا۔
دنیا پہ تمام وسائل پہ قبضہ ہو چکا تھا۔ لوگوں کو ذہنی غلام بنانے کا منصوبہ بھی مکمل ہو چکا تھا۔
سائنسدان بے تاب تھے کہ آج ان کی سالوں کی محنت رنگ لائ۔
ایسی دوا بنا لی گئی جس سے انسان کی سوچ تک کو پڑھ کے کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔
صدر صاحب کے آنے پہ سب تعظیماً کھڑے ہوۓ۔ بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہی صدر نے اپنے نائب کو دیکھا۔ جو فوراً اٹھ کے پروجیکٹر کے پاس گیا اور سکرین پہ دنیا کا نقشہ دکھائ دینے لگا۔
نائب نے مختلف ملکوں کے حوالے سے بتانا شروع کیا کہ کیسے وہاں پہ ویکسین کے بہانے سے ذہن سازی کا کام شروع کیا گیا اور اب ہر ملک میں نوجوانوں کی ایک فورس تیار کی جا چکی ہے جو ایک ڈوز ملتے ہی حکم کی تعمیل کرتی ہے۔
اسی سلسلے میں پہلا عملی نمونہ آج پیش کیا جا رہا ہے۔
Read 10 tweets
چائنیز اس معاملے میں خوش قسمت قوم ہیں۔انھوں نے اکانومی بڑھانے کے لیے انفرادی طور پہ اپنا کردار ادا کیا۔ گھریلو صنعتوں نے بازار سے بوجھ کم کیا اور دنیا بھر میں سستی مصنوعات کی وجہ سے پہچان بنائ۔
دوسری طرف ہم وہ کاہل قوم ہیں جسے گھر میں گملے میں پودینہ، ٹماٹر، ہری مرچیں اور دھنیا اگاتے شرم آتی ہے لیکن چاہتے ہیں کہ چیزیں سستی ہو جائیں ۔
جب پلاسٹک بیگ ختم کرنے کی بات ہوئ، کتنی خواتین نے کپڑے کے تھیلے بناۓ؟
ہم صحت پہ سمجھوتہ کر سکتے ہیں لیکن پینڈو پن پہ نہیں۔
ٹڈی دل کھانے والا کالا تیتر ہم نے کھا لیا۔ اب ہم ٹڈی دل
کھائیں یا وہ فصلیں،ایک ہی بات ہے۔
چھوٹے کام ہم کرنا نہیں چاہیے اور بڑے بڑے کام ہم سے ہوتے نہیں ہے۔ ہم صرف سستی اور لاپرواہی کے ریکارڈ توڑنا چاہتے ہیں اور پھر چاہتے ہیں کہ ہم عظیم قوم بھی بنیں۔
Read 5 tweets
ہر وبا اپنا تعارف آپ ہوتی ہے۔ اسے کسی پرومو، کسی ایڈ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسے کسی پروموشن کمپین کا حصہ نہیں بننا پڑتا اور نہ ہی اس پہ گانا بنا کر اس کے بارے میں آگاہی دینی پڑتی ہے۔
ہمارے نصیب کہ ہمارے زمانے میں جو وبا آئ وہ اعلیٰ درجے کی نکمی اور نالائق ہے۔ مجال ہے اسے خود کوئ کام کرتے دیکھا ہو۔ اچانک سے آئ اور گھر کی ڈیوڑھی پہ ہی بیٹھ گئی ہے۔
بدتمیز اتنی ہے کہ ڈاکٹر بھی بجاۓ علاج کرنے کے مریض کو گھر رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
اب ایسی وبا کس کام کی جس کے مریض ثبوت کے ساتھ سوشل میڈیا پہ اپنی تصاویر ہیش ٹیگ کے ساتھ نہیں لگا سکتے۔
اسی سُستی کی وجہ سے اس کے مریضوں کی تعداد پاکستان میں خاطر خواہ بڑھ نہیں سکی۔ مریض کم تو گویا غیر ملکی امداد بھی کم۔
Read 9 tweets
انسانی تاریخ سے زیادہ کوئ کہانی دُکھی نہیں ہے۔

دولت مند قارون کی ہی مثال لیں۔ جس کے خزانوں کی صرف کنجیاں اٹھانے کے لیے طاقتور ترین لوگوں کا گروہ چنا جاتا تھا۔اس نے سونے اور جواہرات کے محلات بنائے لیکن آخر میں اسے مرنا پڑا۔
اس کی دولت اس کے ساتھ ہی دھنس گئی۔
جنگجو چنگیز خان کی کہانی پڑھیں۔
تاریخ کا سب سے بڑا قاتل جس نے تقریباً ساٹھ لاکھ سے زائد افراد قتل کیے۔ جس کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے محلات لرزتے تھے۔ اسے بھی چونسٹھ برس کی عمر میں ملک الموت کا منہ دیکھنا پڑا۔
اس کی بہادری اس کے کسی کام نہ آئ۔
مذہبی تاریخ دیکھیں تو اپنے زمانے کا حکمران یزید سرِ فہرست ہے۔
اقتدار کے لیے اس نے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کو شہید کر دیا۔ لیکن اس کے بعد کیا اسے آبِ حیات نصیب ہوا؟
نہیں۔
امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے تین سال بعد اسے بھی مرنا پڑا۔
Read 10 tweets
وہ تمام لوگ جن کی مائیں خالصتاً دیسی علاج پہ یقین رکھتی ہیں، ہمارے غم کو سمجھ سکتے ہیں۔
یہ کہانی تب کی ہے جب بچپن سے ہماری والدہ ہماری آنکھوں میں سرمہ اور بالوں میں تیل لگایا کرتی تھیں۔ ہمیں شاید اتنا برا نہ لگتا اگر کوئ اور بھی اس حلیے والی ہماری کلاس میں ہوتی۔
ہم اپنی جماعت کی واحد دو چٹیا اور سرمہ بھری آنکھوں والی طالبہ تھے۔ یوں ہمارے نام سے زیادہ ہمارا حلیہ ہماری پہچان بنا۔
لڑکپن تک اتنی جرات تو آ ہی چکی تھی کہ ہم والدہ سے درخواست کر سکتے کہ صرف چھٹی والے دن ہمارے بالوں کی مالش کر دیا کریں۔
لیکن والدہ وہ بھی پنجابی، کہاں سمجھ سکتی ہیں۔اس معاملے میں والد صاحب کو فریق بنا کے تھوڑی آزادی ملتی تو اس پہ بھی والدہ ناراض رہتیں اور بات بال گرنے سے شروع ہوتی اور آج کل کی اولاد کے ناہنجار ہونے پہ ہی ختم ہوتی۔
والدہ ہمارے لمبے بال دیکھ دیکھ کر خوش ہوتیں اور ہم منہ بسورتے رہتے
Read 14 tweets
ہر مذہب کی بنیاد اس کا ایک خاص عقیدہ ہے۔
مسیحیت سے الوہیت مسیح کا تصور الگ کر دیا جاۓ تو مسیحی شناخت قائم نہیں رہتی۔
یہی اصول یہودیت میں بھی رائج ہے۔
مذہب سے ہٹ کر دیکھیں تو مذہبی گروہ بھی ایک خاص تصور پہ قائم ہے۔
اہل تشیع حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہُ اور اہل بیت کے بارے میں ایک خاص نظریہ رکھتے ہیں جو ان کی بنیادی شناخت کہلاتا ہے۔
امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بنیادی شناخت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی ماننے پہ ہے۔ اس یقین کے بغیر آپ مسلمان نہیں بن سکتے۔
اب وہ دانشور جو مذہب کو کلچر کے لبادے میں دیکھنا چاہتے ہیں، ان کی عقلِ سلیم یہ بات سمجھے کہ ایک مذہب جس کا ایمان خاتم النبیین پہ ہو،
Read 6 tweets
میری جان کے چین شبلی
تم کو بہت دعا
آج جمعہ ساتویں رمضان کی اور پہلی مئی کی ہے۔ چند گھڑی دن چڑھا ہے۔ میں یہ خط لکھ کر بھیجتا ہوں۔ خود بھی پڑھو اور خان صاحب کو بھی پڑھا دو۔
وہی عالم ارواح ہے، وہی میں ہوں۔ اٹھتے ہی احمد فراز سے مڈ بھیڑ ہو گئی۔
مرے ہوؤں کا نام نہی لیتا اور بچھڑے ہوؤں میں سے کچھ گنِے نہیں۔ بولے کہ سنو غالب: ایک خط شبلی کو لکھو اور کہو کہ خان صاحب کو بھی پڑھائیں۔
تم ہی بتاؤ تم کو کب کسی نے انکار کیا ہے۔ دن کو فیض سےدل بہلاؤ،شام کو کہیں باہر گھوم آؤ۔ یہ حکومتی کارندے تمھارا دم بھرتے ہوں گے
لیکن خدا لگتی کہو کہ تم نے جو اس دن اردو کے ساتھ جو سلوک کیا، اس پہ کچھ ندامت بھی ہے یا نہیں۔اگرچہ یہ میری طبیعت کے منافی ہے۔ اس لیے درگزر سے کام لیا لیکن یہاں وہ غدر مچا کہ االامان الحفیظ۔ یہاں کے اخبار نے تمھاری غلطیوں کو ایسا چمکا دیا کہ سب ششدر رہ گئے۔
Read 7 tweets
پاکستان میں کسی بھی قریبی رشتہ دار کی شادی ہو، ہم سب سے پہلے تیاری کر لیتے ہیں۔اس سلسلے میں تمام جذباتی ہتھکنڈے استعمال کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں اور یوں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔
اس سال سکول میں Work placement کی وجہ سے ہم پاکستان کی خبروں پہ زیادہ دھیان نہ دے سکے۔
ہماری بڑی کزن کے دونوں بیٹوں کی شادی طے ہو گئی اور یہاں حسب معمول سب نے شرکت کی ہامی بھر لی۔
ہماری کولیگ کو انھی دنوں میں چھٹیاں چاہیے تھی اور ہم ٹھہرے حاتم طائ۔اسے بے فکر رہنے کا کہہ کے اپنا نام اس کے متبادل کے طور پہ لکھوا دیا۔
چھٹی والے دن گھر تذکرہ کرنے پہ اندازہ ہوا کہ یہ وہی وقت ہے جب پاکستان میں شادی ہے۔گھر والوں کو تو بہانہ مل گیا۔فوراً فیصلہ ہوا کہ ہم شادی میں شرکت نہیں کر سکتے لہذا ہم یہیں رہے گے اور باقی سب پاکستان روانہ ہوں گے۔
ہمیں تو پہلے اپنے کانوں پہ یقین نہ ہوا۔
Read 15 tweets
جب MBA میں داخلہ لینے کا وقت آیا تو احتیاطاً کافی یونیورسٹیوں میں apply کر دیا۔

قسمت دیکھیں کہ مانچسٹر میں رہنے والوں کو لندن میں داخلہ مل گیا۔اب گھر والوں کو احساس ہوا کہ اتنی نکمی لڑکی کہیں رہنے کے لائق نہیں ہے۔
امی نے سب سے پہلے لندن میں مقیم ماموں کو فون کر کے ہماری لاپرواہی اور نالائقی کا ایسا نقشہ کھینچا کہ جیسے کرہ ارض پہ موجود وہ واحد انسان ہیں جن کے ہاں رہ کر ہی میں تعلیم اور تربیت دونوں حاصل کر سکتی ہوں۔ ماموں بخوشی وارڈن کا رول ادا کرنے پہ تیار ہو گئے۔
اور رہائش کے لیے اپنا گھر پیش کیا سو اڑُنے سے پہلے پرَ کُتر دیے گئے۔
والدہ نے سامان میں ہدایات کی ایک گٹھڑی بھی باندھ دی جس میں یونیورسٹی سے سیدھا گھر آنا اور ماموں کو شکایت کا کوئ موقع نہ دینے سے خاندان کی عزت تمھارے ہاتھ میں جیسے جذباتی فقرات بھی شامل تھے۔
Read 16 tweets
سمسٹر بریک میں جب پاکستان چھٹی گزارنے گئی۔ابا کے دوست نے قریبی گاؤں میں سکول کھولا اور ابا کے حکم پہ مجھے وہاں پڑھانے کا حکم مل گیا۔
ارد گرد کھلی فضا لیکن پنجابی بولنے والے بچوں کو انگریزی سکھانا سب سے مشکل کام ثابت ہوا۔
اسمبلی کے دوران ایک بچی نے کہا: teacher: may I sit down
میں نے کہا: why
ٹیچر: لتاں دکھدیاں نے۔
ایک پانچویں جماعت کی بچی نے کلاس فیلو کو دھمکی دی کہ میری چیزوں کو ہاتھ لگایا تو میں two چپیڑیں ماروں گی۔
سارا دن ہنستے اور سمجھاتے گزر جاتا۔ کولیگز کو بھی ساری گرامر مجھ سے پوچھنی تھی۔(وجہ کڑی ولایت تو آئ اے)
انگریزی رسم الخط سکھانا بھی ایک عجیب تجربہ تھا۔ پرنسپل کا اصرار کہ تمام کلاسز کا writing pattern ایک جیسا ہونا چاہیے۔
C لکھنا سکھاتے ہوۓ اتنا کہہ دیا کہ جیسے آدھا چاند ہوتا ہے۔
ایک نے کہا: ٹیچر حمید نے چاند کی ماں بہن ایک کر دی ہے۔
Read 6 tweets

Related hashtags

Did Thread Reader help you today?

Support us! We are indie developers!


This site is made by just two indie developers on a laptop doing marketing, support and development! Read more about the story.

Become a Premium Member ($3.00/month or $30.00/year) and get exclusive features!

Become Premium

Too expensive? Make a small donation by buying us coffee ($5) or help with server cost ($10)

Donate via Paypal Become our Patreon

Thank you for your support!